Blogs

Our community blogs

  1. اتنا آساں کہاں سامانِ بقا ہو جانا
    دل میں احساسِ فنا کا بھی فنا ہو جانا

    عشق دراصل ہے بے لوث وفا ہو جانا
    عشق کی راہ میں خود سے بھی جدا ہو جانا

    انکے ماتھے پہ لکیریں نہیں آنے پائیں
    انکے ہاتھوں کی لکیروں کی حنا ہو جانا

    ہونٹ ناراض تھے، آنکھیں تھیں مجسم الفت
    انکے بس میں ہی نہیں مجھ سے خفا ہو جانا

    لاکھ کرتی ہو کسی بت کی پرستش دنیا
    کیسے ممکن ہے بھلا بت کا خدا ہو جانا

    بنتا ہے ایک مرض موت کا باعث ورنہ
    ہر مرض کے لئے ممکن ہے شفا ہو جانا

    اسکو ایماں کہو یا عشقِ حقیقی جاوید
    مرحلہ کوئی ہو راضی برضا ہو جانا

    aqal.jpg

  2. لمحہ بھر اپنا خوابوں کو بنانے والے
    اب نہ آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والے

    کیا ملے گا تجھے بکھرے ہوئے خوابوں کے سوا
    ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے

    سب نے پہنا تھا بڑے شوق سے کاغذ کا لباس
    اس قدر لوگ تھے بارش میں نہانے والے

    مر گئے ہم تو یہ کتبے پر لکھا جائے گا
    سو گئے آپ زمانے کو جگانے والے

    در و دیوار پر حسرت سی برستی ہے محسن!
    جانے کس دیس گئے پیار نبھانے والے

     

    18619965_1355210007861510_2181347456266809950_n.jpg

  3. l_

    Chief of Army Staff General Qamar Javed Bajwa on Saturday said all challenges will be overcome by staying united and steadfast as a nation, while wishing the country on the occasion of Eid-ul-Fitr, said the Inter-Services Public Relations (ISPR). 

    "Pak Army stands shoulder to shoulder with victims of terrorism and fire," the ISPR quoted the army chief as saying. 

    The statement added that General Bajwa shares the "grief of fellow Pakistanis on Eid".

    Earlier today, at least 152 people were burnt to death and scores injured after an oil tanker caught fire in Bahawalpur's Ahmedpur East town.

    More than 117 people were injured in the incident.

    Dozens of people were killed on June 23 when bombs exploded in Quetta and Parachinar. In a separate gun attack, four policemen were martyred in Karachi on the same day. 



  4. While the men's team failed to lift the ICC Champions Trophy, the Indian women's cricket team kick-started their 2017 World Cup campaign with an astounding win over England at County Ground in Derby. While India secured a comprehensive 35-run victory, it was skipper Mithali Raj who eteched her name in the history books with yet another personal feat.

    Put in to bat, the Indian team got off to a brilliant start with both the openers Punam Raut (86) and Smriti Mandhana (90) providing a 144-run stand to their side. Their partnership was eventually broken by Heather Knight who got Mandhana out caught by Danielle Hazell in the 27th over.

    While England would've fancied a comeback after Mandhana's dismissal, they were soon left bearing the brunt of Mithali's blazing willow. The Indian captain slammed a 73-ball 71 including eight boundaries to keep the scoreboard ticking for her side.

    A seventh consecutive fifty for the @BCCIWomen skipper, Mithali Raj! 🇮🇳

    ➡️ https://t.co/zAcLPQA9Tu #ENGvIND #WWC17 pic.twitter.com/vqD4BAA8t1

    — Cricket World Cup (@cricketworldcup) June 24, 2017


    It was Mithali's seventh consecutive half-century, bettering the likes of Lindsay Reeler (Australia), Ellyse Perry (Australia) and Charlotte Edwards (England), all of whom slammed six back-to-back fifties each in the past.

    In her last seven ODIs including this one against England, Mithali has scored - 71 vs England, 62* vs South Africa, 54 vs South Africa, 51* vs South Africa, 73* vs Bangladesh, 64 vs South Africa and 70* vs Sri Lanka. Also, this is Mithali's 47 ODI fifty, which is also the highest in women's cricket history. Meanwhile, the India skipper is also just 148 runs away from becoming the first women's cricketer ever to slam 6000 ODI runs.

    Superb batting performance by the @BCCIWomen's team! Keep it up @SmritiMandhana, Poonam Raut and @RajMithali

    — sachin tendulkar (@sachin_rt) June 24, 2017


    Thanks to her blitz alongside the fifties from Mandhana and Raut, India managed to post a competitve total of 281 runs at the loss of just three wickets in 50 overs. In reply, England fell short by 35 runs before being bowled out in 47.3 overs.

    Fran Wilson (81) and Heather Knight (46) tried to get England's chase on track, but both of them got run-out thanks to some brlliance in the field by India. With figures of 3-47, off-spinner Deepti Sharma turned out to be the most effective bowler for India. Seamer Shikha Pandey, too, impressed with her tally of two wickets at the expense of 35 runs.

    Captain #MithaliRaj posts a record seventh consecutive half-century in ODIs  - India 235/2 #WWC17 #ENGvIND Follow - https://t.co/wTDfX8Vsu8

    — BCCI Women (@BCCIWomen) June 24, 2017


    The Indian team will now take on West Indies in their second group game at the County Ground in Taunton on 29 June.


  5. ایک صاحب اور ان کی بیوی پر کسی جادوگر نے انتہائی سخت جادو کا وار کیا یہ جادوگر اس جادو پر باقاعدہ پہرہ بھی دیا کرتا اور کسی عامل کو اس کا توڑ نہ کرنے دیتا۔ وہ صاحب فرماتے ہیں کہ ان کی بیوی کے ہاں اول تو حمل ہی نہ ٹھہرتا اور اگر ٹھہر بھی جاتا تو ساقط ہوجاتا اگر کسی طریقہ 9 ماہ پورے ہوتے تو بچے کی پیدائش مردہ حالت میں ہوتی۔ یہ صاحب انتہائی باکردار اور پانچ وقت کے نمازی تھے اور بچوں کو مسجد میں قرآن بھی پڑھایا کرتے تھے۔ بہت علاج کروائے بڑے سے بڑا عامل بلوایا اور علاج کروایا اور ایڑی چوٹی کا زور لگادیا مگر نتیجہ صفر نکلتا۔ ایک دن ایک انتہائی درویش باعمل عالم اور عامل کے پاس جانا ہوا۔ یہ صاحب اپنے استخارہ کے لیے مشہور تھے اور ان کا استخارہ ایک منٹ کا ہوا کرتا تھا۔ ایک منٹ میں سارا کچا چٹھا کھول کے رکھ دیتے۔ اللہ نے بہت عطا کیا تھا ان کو… اب یہ پریشانی لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولوی صاحب نے بتایا کہ یہ کسی عام زور آور جادوگر کا وار نہیں بلکہ یہ تو کسی خبیث العین (جادو کی دنیا کا انتہائی غلیظ اور ماہر جادوگر) کا وار ہے اور یہ میرے بس سے باہر ہے۔ میں اس عمر میں اتنی سخت محنت نہیں کرسکتا۔ اس کا توڑ بھی کوئی خبیث العین ہی کرسکتا ہے۔یہ چونکہ مجبور تھے اس لیے پوچھنے لگے کہ کچھ تو حل ہوگا۔ مولوی صاحب فرمانے لگے کہ سندھ کے فلاں علاقے فلاں جگہ پر ایک گاؤں کے باہراسی خبیث العین نے ان دنوں ڈیرہ لگایا ہے تو فوراً اس کے پاس چلا جا۔

    یہ صاحب فوراً سندھ روانہ ہوگئے اور جیسے ہی اس گاؤں کے باہر پہنچے تو دور سے ایک آگ کا دہکتاالاؤ لگا ہوا دکھائی دیا۔ انہوں نے بزرگوں کی بتائی ہوئی نشانی دیکھ کر اس کی طرف بڑھنا شروع کیا‘ دور سے دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی آگ کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور اردگرد اس کے ماننے والوں کا جمگٹھا ہے۔ ابھی ایک ایکڑ دور تھے کہ وہ شخص اچھل کر کھڑا ہوگیا اور زور زور سے چلانے لگا کہ وہ دیکھو آگیا‘ جادو کا ڈسا… وہ آگیا قرآن پڑھانے والا… یہ اس کے پاس پہنچے اور اپنا مقصد بتایا۔ اب خبیث العین خوشی سے پاگلوں کی طرح ناچنے لگا اور بولا جاؤ فلاں کے پاس… جاؤ فلاں کے پاس… یہ گرہ جولگی ہے کھلواؤ اپنے مولویوں سے… غرض اس نے مولوی صاحبان کے ساتھ ساتھ ان صاحب کو بھی برا بھلا کہا اور بڑے بڑے خدائی کے دعوے بھی کیے اور جادو توڑنے سے انکار کردیا۔

    یہ صاحب واپس آئے اور اپنے رب کو پکارا کہ یااللہ! یہ بھی مخلوق ہے تو چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا‘ یہ ظالم مجھ پر غالب آگئے ہیں اور ظلم کرنے سے باز نہیں آرہے اور رو رو کے اللہ کے حضور التجائیں کیں۔ دفعتاً دل میں القا ہوا کہ جادو کا توڑ تو آقا ﷺ نے معوذتین سے کیا تھا اور جادو بھی انتہائی سخت بلکہ آخری درجے کا تھا جب آقاﷺ نے معوذتین سے یہ جادو توڑا تو میں بھی معوذتین ہی پڑھتا ہوں۔

    اب انہوں نے اللہ کا نام لیا اور اسی رات سے باوضو ہوکر مسجد میں جاکر معوذتین اس جادو کی توڑ کی نیت سے پڑھنی شروع کی۔ یہ پوری رات پڑھتے رہے اور وقتاً فوقتاً دن کو بھی ورد چلتا رہتا ہر وقت باوضو رہنے لگے‘ غالباً چھٹے دن رات کو اونگھ آگئی اور اچانک خون کی پوری بالٹی ان کے اوپر جیسے کسی نے گرا دی ہو۔ یہ بہت پریشان ہوئے اٹھے مسجد کے ساتھ ہی کنواں تھا وہاں نہائے دھوئے اور کپڑے بھی پاک کیے‘ مسجد دھوئی۔ اب سوچا بی بی کی بھی خبر لوں‘ گھر پہنچے تو وہاں بھی یہی حال تھا اور بیوی انتہائی پریشان تھی۔ بیوی کو دلاسہ دیا اور فرمانے لگے کہ بھلی مانس اب کچھ ہلچل ہوگئی ہے‘ انشاء اللہ اب کام بن جائے گا۔

    ایک نئے ولولے سے اسی رات سے پھر دوبارہ مسجد میں عمل شروع کردیا نویں دن پھر وہی ہوا اونگھ آئی اور دونوں میاں بیوی پر خون کی بالٹی گرادی گئی۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری اور پڑھنا جاری رکھا۔ تیرہویں دن صبح کے وقت وہی سندھ والا خبیث العین مسجد میں داخل ہوا اور آتے ہی پیروں میں گر کے معافیاں مانگنے لگا۔ ان صاحب نے اسے بولا کہ تو مجھ سے کیوں معافیاں مانگ رہا ہے؟ کہنے لگا کہ اللہ کے واسطے مجھے معاف کردیجئے‘ پھر بتاؤں گا۔ انہوں نے معاف کردیا اور وجہ پوچھی۔ کہنے لگا کہ آپ میاں بیوی پر جادو میں نے کیا تھا جب آپ مسجد میں عمل کرنے بیٹھے تومیں بھی آپ کے مقابلے پر بیٹھ گیا اور روزانہ میرا کیا ہوا جادو مجھ پر ہی الٹا چلنے لگا اور میرے مؤکل میرے دشمن ہوگئے۔ یہ صاحب فرمانے لگے کہ اگر یہ بات تو نے مجھے پہلے بتا دی ہوتی تو تجھے میں کبھی معاف نہ کرتا۔ بہرحال یہ جادوگر معافی مانگ کر اپنی جان بچا کر واپس سندھ لوٹ گیا۔ کیونکہ اگر وہ معافی نہ مانگتا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا مگر جادوگر کی صلح کا اعتبار بھی نہ کیا اور اکتالیس دن مسلسل عمل کرتے رہے اس کے بعد اللہ نے ان کو نرینہ صحت مند اولاد سے نوازا اور دو سے زائد بیٹے عطا فرمائے اور بندش ہمیشہ کیلئے ٹوٹ گئی۔

    جادو کا حتمی علاج 
    قرآن پاک کی آخری دو سورتیں جنہیں معوز تین کہا جاتا ہے 
    سحر کے علاج میں مغز کی حثیت رکھتی ہیں -
    یعنی سورہ فلق اور سورہ والناس -
    انہیں گیارہ گیارہ مرتبہ صبح و شام پڑھنا چاہئے اور بچوں پر پڑھ کر دم کرنا چاہئے - یہ بے نظیر و بے مثال عمل ہے -
    انہیں آیات کے پڑھنے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سحر سے شفاء ملی -

  6. محبت کے اصولوں سے
    کبھی الجھا نہیں کرتے
    یہ الحاد حقیقت ھے،
    سنو ایسا نہیں کرتے
    بہت کم ظرف لوگوں سے
    بہت محتاط رھتے ھیں
    بنا سوچے سمندر میں
    یونہی اترا نہیں کرتے
    تیری ساقی سخاوت پہ میں
    سانسیں وار دوں لیکن
    میرے کامل کا فرماں ھے 
    کبھی بہکا نہیں کرتے
    محبت سے ضروری ھے 
    غم دنیا کا افسانہ
    محبت کے حسیں قصوں میں
    کھو جایا نہیں کرتے
    جسے دیکھو ،
    اسے سوچو ، 
    جسے سوچو ، 
    اسے پاؤ
    جسے نہ پا سکو… 
    اسکو کبھی دیکھا نہیں کرتے
    مجھے تائب ،
    وفا بردار لوگوں سے شکایت ھے
    بہت تنقید کرتے ھیں ،
    مگر اچھا نہیں کرتے

  7. Hameeda Ismail
    Latest Entry

    ﺳﺎﻗﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺷﺮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻠﺨﯽ ﮐﯽ هے ﮐﻤﯽ
    ﻻ ﺟﺎﻡ ..... ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩِ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﭽﻮﮌ ﺩﻭﮞ .....

    FB_IMG_1483158457844.jpg

  8. 1.jpg

     

    1891

    میں پیدا ہونے والے مہاراجا بھوپندر سنگھ آف پٹیالہ نے 1938 ء میں وفات پائی تو اس کی پانچ بیویاں ، 88 اولادیں اور 350 سے زیادہ داشتائیں تھیں۔

    بھوپندر سنگھ مہاراجہ اعلیٰ سنگھ کی نسل میں سے تھا۔ اس خاندان کے سربراہ نے تاریخی ہیروں اور دیگر نایاب جواہرات پر مشتمل خزانہ چھوڑا تھا۔ اس نے ایک بڑی ریاست قائم کی تھی اور اپنی اولاد کو اقتدار دے گیا تھا۔

    مہاراجہ بھوپندر سنگھ بہت قابل انسان تھا۔ اس کے وزیر اور افسر نہایت لائق افراد تھے۔ ہندوستان کے ہر علاقے کا لائق ترین شخص چن کر اس کا وزیر بنایا گیا تھا۔ اس کے وزیر ساری زندگی اس کے وفادار رہے۔ آزاد ہندوستان کا سفیر برائے چین، مصر اور فرانس سردار کے ایم پانیکر اس کا بااعتماد وزیر خارجہ تھا۔ ایک سابق بھارتی وزیراعلیٰ کرنل رگھبیر سنگھ بھی پٹیالہ کا وزیر داخلہ رہ چکا تھا۔ نواب لیاقت حیات خان کئی سال پٹیالہ کا وزیراعظم رہا۔ قانون کا وزیر الٰہ آباد کا ممتاز وکیل ایم اے رائنا تھا۔ دیوان جرمنی داس زراعت، صنعت اور جنگلات کا وزیر ہونے کے علاوہ مہاراجا کی صحت کے امور کا انچارج تھا۔ بھوپندر سنگھ نے

    ریاست کا انتظام چلانے میں اپنی مدد کے لیے نہایت لائق افراد کو منتخب کیا تھا۔

    2.jpg

    مہاراجا بھوپندر سنگھ کا باپ مہاراجہ سر راجندر سنگھ سی سی ایس آئی شراب نوشی کے ہاتھوں صرف 28 سال کی عمر میں مر گیا تھا۔ مہاراجا کے مشیر اس امر کا خا ص خیال رکھتے تھے کہ وہ اپنے باپ دادا کی طرح شراب کا عادی نہ ہو جائے۔ اسے ایک انگریز ٹیوٹر نے بچپن سے تعلیم و تربیت دی تھی۔ اس کے علاوہ اسے ہندو اور سکھ ٹیوٹر بھی تعلیم و تربیت دیا کرتے تھے۔ 18سال کی عمر میں وہ بہت سی خوبیوں کا مالک بن چکا تھا۔

    جب وہ بالغ ہوا تو اس کے درباریوں نے اسے عورت اور شراب کے مزے سے آشنا کروانا چاہا۔ تاہم مہاراجا ان تمام ترغیبات سے بچا رہا۔ چونکہ مہاراجا کے بگڑنے ہی میں درباریوں کا مفاد تھا اس لیے جلد ہی مہاراجا ان کی سازشوں کا شکار ہو گیا۔

    3.jpg

     

    درباری ولن اسے نوجوان عورتوں کے ذریعے بھٹکانے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ نوجوان تھا اس لیے ایسی 
    ترغیبات سے زیادہ عرصہ نہ بچ سکا۔ ان عورتوں کو ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لایا جاتا تھا۔ وہ بہت کم عمر اور نہایت حسین ہوا کرتی تھیں۔ جب وہ مرا تو اس کے حرم میں تقریباً 322 عورتیں تھیں۔ ان میں سے صرف دس مہارانیاں تسلیم کی گئی تھیں، تقریباً پچاس کو رانی کہا جاتا جبکہ باقی سب کنیزیں تھیں۔ وہ سب مہاراجا کے اشارے کی منتظر رہتی تھیں۔ وہ دن یا رات کے کسی بھی لمحے ان کے ساتھ قربت اختیار کر سکتا تھا۔

    چھوٹی چھوٹی بچیوں کو محل میں لایا جاتا اور انہیں پالا پوسا جاتا یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جاتیں۔ انہیں مہاراجا کی پسند کے مطابق تربیت دی جاتی تھی۔ محل میں شروع شروع میں ان لڑکیوں کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔ انہیں صرف مہاراجا کو سگریٹ اور شراب پیش کرنے یا دوسری خدمات ادا کرنے کا کہا جاتا تھا۔ مہارانیاں ان کو آغوش میں لیتی اور چومتی تھیں۔ پہلے وہ لڑکیاں محض کنیزیں ہوتی تھیں لیکن مہاراجا کو پسند آنے پر ان کا رتبہ بڑھتا جاتا یہاں تک کہ وہ اعلیٰ ترین رتبے پر پہنچ کر مہارانی کہلاتیں۔ جب مہاراجا کسی عورت کو مہارانی منتخب کر لیتا تو حکومت ہندوستان کو اس امر کی اطلاع دیتا اور حکومت اس عورت کو مہارانی تسلیم کر لیتی۔ اس کے بطن سے جنم لینے والے لڑکے کو مہاراجا کا جائز بیٹا تصور کیا جاتا اور اسے شہزادے کے حقوق دیے جاتے تھے۔

    8.jpg

     

     مہارانیوں اور داشتاؤں میں اور بھی فرق تھے۔ مہارانیوں کو دوپہر اور رات کا کھانا اور چائے سونے کے برتنوں میں پیش کیے جاتے تھے۔ رانیوں کو چاندی کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ ان کو پچاس اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔ اعلیٰ تر رتبے کی آرزو مند دیگر عورتوں کو پیتل کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ ان کو بیس اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔ خود مہاراجا کو ہیرے جڑے سونے کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ اسے 150 سے زیادہ اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔

     

    4.jpg

    مہاراجا ، مہارانیوں اور شہزادوں یا شہزادیوں کی سالگرہ پر عظیم الشان تقریبات برپاکی جاتیں۔ دو سو پچھتر یا تین سو مہمانوں کے لیے میز لگائی جاتیں۔ مردوں میں صرف مہاراجا، اس کے بیٹے، داماد اور چند خاص مدعوئین ہوتے جبکہ عورتوں میں صرف مہارانیاں اور محل کی چند منتخب عورتیں ہوتیں۔ ان تقریبات میں اطالوی، فرانسیسی اور انگریز بیرے اور خانساماں ہوتے تھے اور کھانے اور شرابیں نہایت مزیدار ہوتے۔ پکوانوں کو بڑی بڑی پلیٹوں میں لا کر اوپر تلے رکھ دیا جاتا۔ یہ ڈھیر کھانے والوں کے منہ تک پہنچ جاتا تھا۔ بعض اوقات دس سے بیس پلیٹوں تک کی قطاریں بن جاتی تھیں۔ کھانے کے بعد موسیقی کی محفل ہوتی، جس میں مختلف ریاستوں سے بلوائی گئیں رقاصائیں مہاراجا، مہارانیوں اور مہمانوں کا جی بہلاتیں۔ ایسی تقریبات صبح سویرے انجام کو پہنچتیں۔ اس وقت تک سب لوگ نشے میں دھت ہو چکے ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ کئی سال جاری رہا۔ محل میں ایسی عورتیں بھی تھیں جنہیں یورپ، نیپال اور قبرص سے لایا گیا تھا۔ محل کی عورتوں نے ایسا لباس اور ہیرے جواہرات پہنے ہوتے تھے کہ دنیا میں ان کی مثال ملنا ناممکن تھی۔ تقریب کے اختتام پر مہاراجا عورتوں میں سے چند ایک کو منتخب کر لیتا اور انہیں لے کر اپنے محل میں چلا جاتا۔ یہ عورتیں مہاراجا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بہت سی ترکیبیں استعمال کرتی تھیں۔ مہاراجا کے دل میں ان سب کے لیے نرم گوشہ تھا۔ وہ روزانہ اپنے معائنے کے لیے آنے والے ڈاکٹروں کو اپنی بیماریوں کے بارے میں بتاتی تھی۔

    5.png

     

    یہ عورتیں بعض اوقات مہاراجا کی محبت اور فرقت میں خودکشی کرنے کی دھمکی دیتیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان میں سے  چند ایک نے کمرے کی چھت سے رسی باندھ کر اس کے ذریعے خودکشی کی کوشش بھی تھی۔ جب کوئی عورت تنہائی کا شکوہ کرتی تو مہاراجا خوفزدہ ہو جاتا۔ عموماً وہ اس سے ملتا اور ہر ممکن طریقے سے اسے دلاسا دینے کی کوشش کرتا۔ مہاراجا کے حرم میں ایسی بدنصیب عورتیں بھی تھیں جنہیں زندگی میں ایک مرتبہ بھی مہاراجا سے ہم آغوش ہونے کا موقع نہیں ملا تھا۔ مہاراجا کو اپنی ساری مہارانیوں، رانیوں اور دیگر عورتوں سے محبت تھی اور وہ سب کے ساتھ برابر کا محبت بھرا سلوک روا رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ عورتیں بھی جواباً اسے اپنا واحد مرد مانتی تھیں۔

    6.jpg

    وہ جب بھی یورپ جاتا کم از کم ایک درجن عورتوں کواپنے ساتھ لے کر جاتا تھا۔ ہندوستان سے باہر ان مہارانی، رانی اور کنیز والی تفریق ختم ہو جاتی۔ ان کے کھانوں، کپڑوں اور رہائش میں کوئی فرق نہ رہتا۔ موتی باغ محل کا پروٹوکول پیرس اور لندن میں ایک طرف رکھ دیا جاتا تھا۔

    مہارانیاں اور دوسری عورتیں موتی باغ کہلانے والے بڑے محل کے عقب میں واقع مختلف محلات میں رہتی تھیں۔ موتی باغ محل مہاراجا کی رہائش گاہ تھا۔ باہر سے کسی شخص کا محل کے ان اندرونی حصوں میں داخل ہونا انتہائی مشکل تھا۔ اگر کوئی شخص موتی باغ محل میں داخل ہونا چاہتا تو پہلے اسے تقریباً آدھا میل لمبا باغ عبور کرنا پڑتا، پھراسے بے شمار کمروں اور متعدد ہال کمروں سے گزرنا پڑتا۔ محل میں ہر بیس قدم کے فاصلے پر فوجی گارڈ موجود ہوتے۔ ان سب مراحل سے گزرنے کے بعد وہ شخص ایک چھوٹے گیٹ تک پہنچتا، جہاں سے داخلی محلات میں پہنچا جا سکتا تھا۔ اندرونی محل میں مہاراجا  سے ملنے کے لیے آنے والوں کو شفاف اور قیمتی ریشمی لباس میں ملبوس اور ہیرے جواہرات سے لدی پھندی نہایت حسین و جمیل عورتیں مہاراجا کے خصوصی احکامات کی تعمیل میں مسکراہٹوں سے نوازتیں اور شراب پیش کرتیں۔ پنجابی لباس میں ملبوس چند عورتیں مہمانوں کو سگریٹ پیش کرتیں جبکہ ساڑھی میں ملبوس چند دیگر عورتیں شراب اور پھل پیش کرتیں۔ پٹیالہ کے دربار کی شان و شوکت کے سامنے الف لیلوی شان و شوکت ماند تھی۔

    مہاراجا اپنی عورتوں سے حسد نہیں کرتا تھا اور اپنے مہمانوں کو ان سے گھلنے ملنے کی اجازت دے دیتا تھا۔ تاہم وہ گھٹیا پن اور بدتمیزی کو ذرا بھی برداشت نہیں کرتا تھا۔ مہاراجا کے پیروں میں درجنوں عورتیں پڑی رہتی تھیں۔ چند عورتیں اس کی ٹانگیں دبا رہی ہوتیں اور چند عورتیں پیغامات ادھر سے ادھر پہنچا رہی ہوتیں۔ مہاراجا کی پسندیدہ عورت اس کی دیوی ہوتی اور سب کی نگاہیں اس پر جمی ہوتیں۔ عموماً وہ مہاراجا کے گھٹنے کے پاس بیٹھی ہوتی۔ اس نے نہایت خوبصورت سرخ رنگ کا شفاف لباس پہنا ہوتا، ناک میں سونے کا کوکا، گلے میں موتیوں کا ہار اور کلائیوں میں ہیروں کے کنگن ڈالے ہوتے۔ حرم کی عیاشانہ زندگی اور ہمسایہ ریاستوں اور ہندوستان کے وائسرائے کے ساتھ چپقلشوں کی وجہ سے مہاراجا کو ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ فرانس کے مشہور ڈاکٹروں پروفیسر ابرامی اور ڈاکٹر آندرے سے لچوٹز نے ریڑھ کی ہڈی میں انجکشن لگا کر بلڈ پریشر کو گھٹانے کا نیا طریقہ دریافت کیا تھا۔ مہاراجا نے انہیں فرانس سے پٹیالہ بلوا لیا۔ مہاراجا علاج کے لیے یورپ بھی گیا لیکن بلڈ پریشر کنٹرول نہ ہو سکا، جس کا خاص سبب یہ تھا کہ اس نے ڈاکٹروں کی ہدایت کے برعکس عورتوں اور شراب کو نہیں چھوڑا۔ مہاراجہ صرف 47 برس کی عمر میں چل بسا۔

     

    7.jpg

  9. ????
    Masala Beef Pulao With Shami Kabab 
    My Mama's Recipe <3
    May The Soul Of My Mother Rest In Peace, Aameen

     

    ___________________________

    MASALA=BEEF=PULAO (Recipe)
    Recipe & Made By Dua Fasih 

     

     

    FOR PULAO STOCK (YAKHNI)

     

    Ingredients:

    Beef,   Half Kg
    Fennel seeds (Sonf), 2 Table Spoon
    Whole Dry Coriander , 2 Table Spoon
    Salt, To Taste
    Whole Garlic, 6 to 7 cloves
    Whole Ginger, 1 to 2 Inch
    Whole Medium Size Onion, 1 (cut in 4 pieces)
    Black Pepper Corns, 8 to 10
    Water, 7 to 8 Glass 

     

    Method,
    Take a pot add all ingredients and cook until meat is tender (make sure we need 2 cups Remaining Beef Yakhni to add in Pulao), Then seive the yakhni and separate the meat and yakhni, Discard all remaining ingredients, (if you use to make potli you can do so, but i don't prefer :)

     

    FOR MASALA BEEF PULAO

     

    Ingredients:

    Basmati Rice, Half Kg OR 3/4 KG (sock in water)
    Onion (Sliced) 2 to 3
    Cinnamon Sticks, 2
    Green Cardamom, 4 to 5
    Black Cardamon, 2
    Cumin Seeds, 1 Tea Spoon
    Bay Leaf, 1
    Black Pepper Corns 8 to 10
    Aniseed (Baadyaan ka phool), 2
    Cloves, 2 to 3
    Fresh Ginger Garlic Paste, 2 Table Spoon
    Tomatoes, 2 (Medium Size)
    Fresh Mint Leaves, Half Bunch 
    Green Chili, 8 to 10 (cut in to two pieces)
    Garam Masala Powder, 1 Tea Spoon
    Salt, To Taste
    Oil OR Ghee, 1 Cup
    Zarda Color , a small pinch (mix with 2 Table spoon of kewra water)
    * * *Cook beef With Stock (Yakhni) * * *

     

    Method,
    Heat oil in a pot add all Whole Garam Masala & onion, When onion become golden brown then add ginger garlic paste and saute, Then add Beef, tomatoes, mint, salt, garam masala powder and green chili and cook till tomatoes are tender. Add Yakhni cover led n cook for 4 to 5 mins in full flame, then add pre-soaked rice (adjust the rice and water ratio according to you) Let this cook on high heat for 2-3 minutes then reduce the heat to medium and keep cooking it, until the water diminishes, giving it a stir every now with slow hand and then to make sure all the rice is cooked evenly and perfectly.

    Once you find there is very little water left in the rice, reduce the heat to the lowest point possible. then add kewra n food color mixture Seal your pan by using a tight lid or wetting a kitchen towel and placing it over the pan then placing a lid on top of it. Leave the rice to continue steaming on very low heat for a good 10 mins. Switch off, and serve :)

     

     

     

    BeefMasalaPulaoWithShamiKabab.jpg

  10. Ayesha Mirza
    Latest Entry
    Quote

     

    آج بازار میں پابجولاں چلو

    چشمِ نم ، جانِ شوریدہ کافی نہیں

    تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں

    آج بازار میں پابجولاں چلو

    دست افشاں چلو ، مست و رقصاں چلو

    خاک بر سر چلو ، خوں بداماں چلو

    راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو

    حاکم شہر بھی ، مجمعِ عام بھی

    تیرِ الزام بھی ، سنگِ دشنام بھی

    صبحِ ناشاد بھی ، روزِ ناکام بھی

    ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے

    شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے

    دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے

    رختِ دل باندھ لو دل فگارو چلو

    پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو

     

    13435366_1806134046285193_7557522680415405624_n.jpg

     

     

  11. Meerab Raza
    Latest Entry

    اے میرے دل!!

    "درد کی لے دھیمی رکھ"

    آج پھر رقصاں ہیں سلگتی یادیں

    سر دشت جاں، کسی وحشت کی طرح

    پھر ٹکرایا ہے فصیل_جاں سے

    کسی گم گشتہ محبت کا جنوں

    دونوں ہاتھوں میں اٹھاۓ ہوۓ

    انا کا بے جان وجود

    ایک ہارے ہوۓ لشکر کے سپاہی کی طرح

    میں چپ چاپ کھڑا، دیکھ رہا ہوں

    پھیلے ہوۓ ہر سمت تباہی کے مناظر

    اے میرے دل_______!!

    "درد کی لے دھیمی رکھ"

    اے میرے دشمن_جاں______!!

    مجھے جینے دے!

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Blog Statistics

    13
    Total Blogs
    8,755
    Total Entries