Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

  • entries
    144
  • comments
    338
  • views
    15,840

About this blog

Welcome All

Entries in this blog

Hareem Naz

 

کُن سے لَا تک کا سفر

کچھ لوگ کنویں کی طرح ہو تے ہیں جن میں سے ہر کوئی استطاعت بھر پانی نکالتا ہے سیراب ہوتا چلا جاتا ہے۔اور پھر وہ دن بھی آتے ہیں کہ کنواں خود پیاسا ہوجا تا ہے مگر پھر بھی مشکیں بھر بھر بانٹتا ہے۔صحرا نوردوں کو پیا سوں کو آوازیں لگاتا ہے آؤ اور پیاس بجھاؤ۔
مگر اس کنویں کا سیراب ہونا لوگوں کے ہاتھوں نہیں اللّٰہ کے ہاتھوں ہوتا ہے۔کبھی باراں رحمت برسا کر تو کبھی زمین کے بند دروازے کھول کر اسے سیراب کر دیا جاتا ہے۔
جو بس دینا جانتے ہیں ،بانٹنا جا نتے ہیں انکو سیراب کر نے والی ذات اوپر والی ہوتی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ پیاس کیا ہو تی ہے، پیاسا رہنا کیسا لگتا ہے ۔۔
اسی لیے تو وہ بے غر ض ہو جاتے ہیں۔اپنی پرواہ کیے بغیراوروں کی پیاس مٹاتے چلے جاتے ہیں ۔لوگ انکے کنارے سستاتے ہیں ڈول بھر بھر پانی نکالتے ہیں اور اسے تنہا چھوڑے چلے جاتے ہیں۔
کنواں بے غرض رہتا ہے۔پھر ایک موسم ایسا بھی آتا ہے وہ سوکھ جاتا ہے پیاس کی شدت سے اور پیاس کی وہ شدت اسے بانٹنا سکھاتی ہے۔
ہر غم ہر خوشی کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصد کو ئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ زندگی پرت در پرت نئے باب کھولتی جاتی ہے نئی آزمائش ،نیا کچوکہ ،نیا درد ،نیا سبق ۔
ہم مصیبت میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو بدنصیب تصور کرتے ہیں مگر اصل خوش نصیب ہی وہی ہوتے ہیں جنہیں نفی کے پانی سے سینچا جا تا ہے ،ٹھکرائے جاتے ہیں رلائے جاتے ہیں۔مصیبت در مصیبت ۔یہی وہ لوگ ہیں جو آسمان کے سب سے روشن ستارے ہوتے ہیں ۔
مگر کیا کمال کی بات ہے آسمان پہ سب سے زیادہ چمکتا ستارہ دیکھنے والوں کو سب سے زیادہ بھاتا ہے۔مگر اس ستارے کے درد سے کوئی واقف نہیں ہوتا جتنی اس میں آگ ہوتی ہے جتنا اسے جلایا جاتا ہے وہ اتنا ہی روشن اتنا ہی شاندار۔بھٹکنے والوں کو منزل دکھانے والا ہوتا ہے۔
دردملتا رہتا ہے اسے درد دیا جاتا رہتا ہے جب تک اندر کی آگ بھڑک نہ اٹھے۔ جب تک وہ اصل حقیقت جان نہ لے :-)
اور اصل حقیقت جاننے کے بعد جو بے نیازی آتی ہے وہ دائمی ہوتی ہے۔انسان سمجھ لیتا ہے وہ جان لیتا ہے مٹی کے یہ پتلے جن کو وہ من میں بٹھا کر پوجتا ہے۔اسے کچھ دے نہیں سکتے۔وہ زبردستی کسی کے دل میں اپنی قدر دانی اپنی محبت پیدا نہیں کر سکتا۔وہ دیکھ لیتا ہے کہ جب رگوں میں سما جانے والے درد کی تضحیک ہوتی ہے تو کیسا لگتا ہے۔کون ہے رب العزت کے سوا؟کون ہے خیر خواہ کون ہے اپنا جو سسکتے ہوئے دل کی سسکیاں بھی سنتا ہے ؟کون جانتا ہے اس ذات کے سوا جان پہ بیتنے والے عذاب کو؟وہ انتظار کر تا رہتا ہے کرتا رہتا ہے پر اسکی ذات پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔اور پھر اسکے دل میں سوراخ بننے لگتے ہیں جن سے وہ تمام چیزیں بہنے لگتی ہیں جن کی وہ پرستش کرتا رہا۔سب غیر مٹنے لگتا ہے لا الہ الااللّٰہ کی صدا گونجنے لگتی ہے 
" کیا تم یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے۔انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان والے کہنے لگے کہ اللّٰہ کی مدد کب آئے گی ؟سن رکھو کہ اللّٰہ کی مدد قریب ہی ہے "
(البقرہ:214)
وہ سیکھتا ہے کہ جب دھکے ملتے ہیں تو کیسا لگتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے پیاسوں کی پیاس پھر یا تو وہ کنواں بن جا تا ہے یا سب سے روشن چمکدار ستارہ رستہ دکھانے والا
بے نیاز بے غرض ۔
اگر آپ تکلیف کی بھٹی میں مسلسل جلائے جارہے ہیں تو اطمینان رکھیں وہ نیلی چھتری والا بہترین پلانر ہے۔
جو انسان غم کی چکی میں پس کر بنتا ہے وہ سکھ کی چادر اوڑھ کر کبھی نہیں بن سکتا۔کہ کوئلے کو ہیرا بننے کےلیے ٹنوں بوجھ تلے دبنا پڑتا ہے۔
" جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارےقبول کرتا ہوں ۔اس لیے لوگوں کو بھی چاہیئے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی انکی بھلائی کا باعث ہے "
(البقرہ:186)
منقول
--------------

 

Hareem Naz

یہ خلا ہے عرشِ بریں نہیں، کہاں پاؤں رکھوں زمیں نہیں

ترے دَر پہ سجدے کا شوق ہے، جو یہاں نہیں تو کہیں نہیں

 

 

کسی بُت تراش نے شہر میں مجھے آج کتنا بدل دیا

میرا چہرہ میرا نہیں رہا، یہ جبیں بھی میری جبیں نہیں

 

 

ہے ضرور اِس میں بھی مصلحت، وہ جو ہنس کے پوچھے ہے خیریت

کہ محبتوں میں غرض نہ ہو، نہیں ایسا پیار کہیں نہیں

 

 

وہیں درد و غم کا گُلاب ہے، جہاں کوئی خانہ خراب ہے

جسے جُھک کے چاند نہ چُوم لے، وہ محبتوں کی زمیں نہیں

 

 

تری زُلف زُلف سجاؤں کیا، تجھے خواب خواب دِکھاؤں کیا

میں سفر سے لوٹ کے آؤں، مجھے خود بھی اس کا یقیں نہیں

Hareem Naz

محبت کے اصولوں سے
کبھی الجھا نہیں کرتے
یہ الحاد حقیقت ھے،
سنو ایسا نہیں کرتے
بہت کم ظرف لوگوں سے
بہت محتاط رھتے ھیں
بنا سوچے سمندر میں
یونہی اترا نہیں کرتے
تیری ساقی سخاوت پہ میں
سانسیں وار دوں لیکن
میرے کامل کا فرماں ھے 
کبھی بہکا نہیں کرتے
محبت سے ضروری ھے 
غم دنیا کا افسانہ
محبت کے حسیں قصوں میں
کھو جایا نہیں کرتے
جسے دیکھو ،
اسے سوچو ، 
جسے سوچو ، 
اسے پاؤ
جسے نہ پا سکو… 
اسکو کبھی دیکھا نہیں کرتے
مجھے تائب ،
وفا بردار لوگوں سے شکایت ھے
بہت تنقید کرتے ھیں ،
مگر اچھا نہیں کرتے

Hareem Naz

 

🌹 ٹوٹا ہوا گلاس 🌹
عربی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خوبصورت تحریر

" یہ ایک سعودی طالبعلم کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے جو حصول تعلیم کے لیے برطانیہ میں مقیم تھا وہ طالبعلم بیان کرتا ہے کہ مجھے ایک ایسی انگریز فیملی کے ساتھ ایک کمرہ کرائے پر لے کر رہنے کا اتفاق ہوا جو ایک میاں بیوی اور ایک چھوٹے بچے پر مشتمل تھی۔ ایک دن وہ دونوں میاں بیوی کسی کام سے باہر جا رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگر آپ گھر پر ہی ہیں تو ہم اپنے بچے کو کچھ وقت کے لیے آپ کے پاس چھوڑ دیں ؟ میرا باہر جانے کا کوئ ارادہ نہیں تھا اس لیے میں نے حامی بھر لی وہ بچہ مجھ سے کافی مانوس تھا کچھ دیر کھیلنے کے بعد وہ مجھ سے اجازت لے کر کچن میں گیا اور تھوڑی ہی دیر بعد مجھے کسی برتن کے ٹوٹنے کی آواز آئ اور ساتھ ہی بچے کی چیخ سنائ دی میں جلدی سے کچن میں گیا اور دیکھا کہ شیشے کے جس گلاس میں بچہ پانی پی رہا تھا وہ اس کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ چکا تھا اور بچہ ڈر کر اپنی جگہ سہما کھڑا تھا میں نے بچے کو تسلی دی اور کہا کہ تم پریشان نہ ہو اور امی واپس آئیں تو ان سے کہنا کہ گلاس انکل سے ٹوٹ گیا تھا پھر میں نے سوچا کہ اگلے دن ایک گلاس لا کر کچن میں رکھ دوں گا۔ یہ ایک معمولی واقعہ تھا اور میرے خیال میں پریشانی والی کوئ بات نہیں تھی، جلد ہی وہ دونوں میاں بیوی واپس آگئے اور میں نے بچے کو ان کے حوالے کر دیا وہ عورت جب کچن میں گئ اور گلاس ٹوٹا ہوا پایا تو بچے سے پوچھا بچے نے اس کو وہی بتایا جو کہ میں اس کو سمجھا چکا تھا، اسی شام کو وہ بچہ میرے پاس بہت افسردہ حالت میں آیا اور مجھے کہا کہ انکل میں نے امی کو سچ بتا دیا ہے کہ وہ گلاس آپ نے نہیں بلکہ میں نے توڑا ہے ،،،،،
اگلی صبح میں یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا کہ میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے اس بچے کی ماں کھڑی تھی اس نے مجھے صبح بخیر کہا اور نہایت سائستگی سے میرا نام لے کر کہا کہ ہم آپ کو ایک نفیس اور شریف آدمی سمجھتے ہیں مگر آپ نے ہمارے بچے کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دے کر اپنا وقار خراب کر لیا ہے ہم نے آج تک کسی بھی معمولی یا بڑی بات پر اپنے بچے سے جھوٹ نہیں بولا نہ کبھی اس کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دی ہے لہذا ہم آپ کو مزید اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے برائے مہربانی آپ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اپنے لیے کسی دوسری رہائش کا بندوبست کر لیجیے۔
میرے پیارے مسلمان بھائیو آئیے ہم ایک لمحہ کے توقف کے ساتھ اپنا ہلکا سا احتساب کریں کہ ہم میں سے تقریباً ہر بندہ صبح سے لے کر شام تک معمولی باتوں پر کتنی دفعہ جھوٹ بولتا ہے اور کتنی دفعہ ہمارے بچے جھوٹ بولتے ہیں جس پر ہمیں کوئ ملال نہیں ہوتا۔
الله ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں ہر حال میں سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

17 - 1.png

Hareem Naz

 

Aankhon ki bandgi nigahain Jhuka k Chal,

Shanun se Gir gia hai Dopata Utha K Chal,

Qomun ki zindgi Teri Aaghosh Men Pali.

Qomun ki zindgi Ka Muqadar Jaga k chal,

Ankhon K Teer Tery Badan Se Paray Rahen,

Sharm_o_Haya Ko Apna Lubada Bana K Chal,

Gar Ho sakay To Serat_e_Zohra Pe Kar Amal,

Is Zindgi Ko yon Na Tamasha Bana k Chal,

Ban Ja Sheaar_e_Azamat_e_Aslaaf ka NIshan,

Har Ek Gunah Se Daman_e_Ismat Bacha K Chal,

Mana Hawa Kharab Hai Mahool Bhe Ghaleez,

Gar Ho Sakay To Sath na Us hawa K chal,

Nasir Ko Teri Hurmat_o_ifat Azeez hai,

Is Dar_e_Namurad se us ko bacha K Chal.........

Hareem Naz


ﺑﭽﮭﮍﮮ ﺗﻮ ﻗﺮﺑﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ
ﺍﺏ ﮐﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﺧﺪﺍ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ
ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺻﺪ ﮐﺮﭼﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ
ﻧﺎﻡِ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ
ﻧﺎﺯﮎ ﻣﺰﺍﺝ ﻟﻮﮒ ﺗﮭﮯ ﮨﻢ ﺟﯿﺴﮯ ﺁﺋﯿﻨﮧ
ﭨﻮﭨﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺻﺪﺍ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ
ﺧﻮﺵ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﮦ ﻣﯿﮟ
ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺧﻔﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ
ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﯽ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﯾﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻠﮧ ﮔﺰﺍﺭ ، ﮔﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ
ﮨﻢ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺭﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺸﻖِ ﺳﺘﻢ ﺗﻮ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﻣﺼﻠﺤﺖ ﺷﻨﺎﺱ ﺟﻔﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ

17264136_409614846078190_6258751623531425006_n.jpg

Hareem Naz

suno

ﺳﻨﻮ !! ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﻨﺎ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﺍﻥ ﮐﮩﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﺎ _____ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮬﮯ

2017 - 1 (2).png

Hareem Naz

بیٹئ
ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﺌﯽ ﭨﯿﭽﺮ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﺎ ﺍﺧﻼﻕ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﻠﻤﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﺳﺐ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﺍﻕ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮉﻡ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ *؟؟*
ﻣﯿﮉﻡ ﻧﮯ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ * ﮐﭽﮫ * ﯾﻮﮞ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ، ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺩﻓﻌﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺴﯽ * ﺳﮍﮎ * ﯾﺎ ﭼﻮﮎ * ﭘﺮ * ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺁﻭﮞ ﮔﺎ ،
ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﺧﺪﺍ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮧ ﭼﮭﭩﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﭼﻮﮎ * ﭘﺮ * ﺭﮐﮫ ﺁﯾﺎ ﻣﺎﮞ ﭘﻮﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺍﺱ ﻧﻨﮭﯽ ﺳﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ، ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺻﺒﺢ ﺑﺎﭖ * ﺟﺐ * ﭼﻮﮎ ﺳﮯ ﮔﺰﺍﺭﺍ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ * ﻟﮯ ﻧﮭﯿﮟ ﮔﯿﺎ * ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮔﮭﺮ ﻻﯾﺎ * ﻟﯿﮑﻦ * ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﺍﺕ ﭘﮭﺮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﭼﻮﮎ * ﭘﺮ * ﺭﮐﮫ ﺁﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﮑﺮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﺎﺕ ﺩﻥ ﺑﺎﭖ ﺑﺎﮨﺮ ﺭﮐﮫ ﺁﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ * ﻟﮯ ﻧﮧ * ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ * ﻣﺠﺒﻮﺭﺍً * ﻭﺍﭘﺲ ﺍﭨﮭﺎ ﻻﺗﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﺗﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﻣﺎﮞ ﭘﮭﺮ ﺣﺎﻣﻠﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﻮ ﺑﯿﭩﺎ * ﻋﻄﺎ * ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﻮﺕ * ﻛﺮ ﮔﺌﯽ ،*
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﺎﺭ ﺣﺎﻣﻠﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﯿﭩﮯ * ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ * ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ،
ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﭽﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻭﮨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺑﺎﭖ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﮍﺍﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻣﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺍُﺩﮬﺮ 5 ﺑﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ 1 ﺑﯿﭩﯽ ﺳﺐ ﺑﮍﮮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ
ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﯽ ﺟﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﯽ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ؟
ﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ * ﻧﮭﯿﮟ * ﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﮮ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ * ﮨﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ *
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ 5 ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮭﺒﯽ ﮐﮭﺒﯽ ﺁ ﮐﺮ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﭘﺮﺳﯽ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﺎﭖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ * ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ " ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ

Hareem Naz

بیٹئ
ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﺌﯽ ﭨﯿﭽﺮ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﺎ ﺍﺧﻼﻕ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﻠﻤﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﺳﺐ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﺍﻕ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮉﻡ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ *؟؟*
ﻣﯿﮉﻡ ﻧﮯ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ * ﮐﭽﮫ * ﯾﻮﮞ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ، ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺩﻓﻌﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺴﯽ * ﺳﮍﮎ * ﯾﺎ ﭼﻮﮎ * ﭘﺮ * ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺁﻭﮞ ﮔﺎ ،
ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﺧﺪﺍ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮧ ﭼﮭﭩﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﭼﻮﮎ * ﭘﺮ * ﺭﮐﮫ ﺁﯾﺎ ﻣﺎﮞ ﭘﻮﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺍﺱ ﻧﻨﮭﯽ ﺳﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ، ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺻﺒﺢ ﺑﺎﭖ * ﺟﺐ * ﭼﻮﮎ ﺳﮯ ﮔﺰﺍﺭﺍ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ * ﻟﮯ ﻧﮭﯿﮟ ﮔﯿﺎ * ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮔﮭﺮ ﻻﯾﺎ * ﻟﯿﮑﻦ * ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﺍﺕ ﭘﮭﺮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﭼﻮﮎ * ﭘﺮ * ﺭﮐﮫ ﺁﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﮑﺮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﺎﺕ ﺩﻥ ﺑﺎﭖ ﺑﺎﮨﺮ ﺭﮐﮫ ﺁﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ * ﻟﮯ ﻧﮧ * ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ * ﻣﺠﺒﻮﺭﺍً * ﻭﺍﭘﺲ ﺍﭨﮭﺎ ﻻﺗﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﺗﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﻣﺎﮞ ﭘﮭﺮ ﺣﺎﻣﻠﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﻮ ﺑﯿﭩﺎ * ﻋﻄﺎ * ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﻮﺕ * ﻛﺮ ﮔﺌﯽ ،*
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﺎﺭ ﺣﺎﻣﻠﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﯿﭩﮯ * ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ * ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ،
ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﭽﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻭﮨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺑﺎﭖ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﮍﺍﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻣﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺍُﺩﮬﺮ 5 ﺑﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ 1 ﺑﯿﭩﯽ ﺳﺐ ﺑﮍﮮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ
ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﯽ ﺟﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﯽ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ؟
ﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ * ﻧﮭﯿﮟ * ﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﮮ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ * ﮨﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ *
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ 5 ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮭﺒﯽ ﮐﮭﺒﯽ ﺁ ﮐﺮ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﭘﺮﺳﯽ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﺎﭖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ * ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ " ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ

Hareem Naz

عوﺭﺕ
ﺟﺲ ﻧﮯ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﺩﻋﻮﯼ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﺮﺩ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻭﻋﻮﯼ ﺳﭻ ﮨﯽ ﮨﮯ
ﻗﺼﻮﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﻗﺼﻮﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ
ﻓﻄﺮﺕ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮨﯽ ﻧﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮬﮯ
ﻣﺮﺩ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪﯼ ﺍﮐﺘﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﺟﺐ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﭼﺎﮬﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺒﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺉ ﮬﮯ
ﻣﺮﺩ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﮐﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺮﺩ ﺁﺯﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮬﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﺣﺎﮐﻢ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ
ﺟﺐ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮﺩﮮ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﮑﯽ ﭼﮭﭙﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﮑﻮﻣﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮬﮯ
ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﺟﯽ ﮐﺐ ﺍﮐﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ
ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﭘﻨﺠﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺑﺎﻧﭩﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺑﭩﺎ ﮬﻮﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺑﭩﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺟﺐ ﮐﮧ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﺍﻟﮓ ﮬﮯ
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﺯﺑﺎﻥ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻗﯿﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﭘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮩﯽ ﻗﯿﺪ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ
ﻣﺮﺩ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮐﺘﺎﺗﺎ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﺍﺳﮯ ﮬﺮ ﻧﺌﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺍﻏﺐ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮬﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺳﺮﻭﮐﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺮﺩ ﺍﺳﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﺯﺭ ﺧﺮﯾﺪ ﻏﻼﻡ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮬﺮ ﺣﮑﻢ ﮐﮩﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﻮ
ﻣﺮﺩ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﻣﺎﻥ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻗﺪﺭ ﮐﺮﮮ ۔۔
ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﮐﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ؟؟
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮐﺘﺎﺗﯽ ؟؟
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﺷﻮﮬﺮ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮑﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺉ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺳﮑﯽ ﺳﻮﭺ ﺻﺒﺢ ﮐﮯ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﺳﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺗﮏ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺭﮨﺘﯽ ﯾﮯ
ﻭﮦ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮﯼ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﺍﻭﺭ ﻃﺎﻗﺖ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﮬﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﻦ ﭘﺎﺗﺎ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ
ﻣﺮﺩ ﺷﺎﯾﺪ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮬﮯ ﺟﺲ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺭﮨﺘﺎ ﮬﮯ
ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺖ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ
ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺩﺍﻧﮕﯽ ﺑﯿﭽﻨﺎ ﺍﮔﺮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﺩﮮ
ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻭﮨﯽ ﻋﺰﺕ ﮨﯽ ﺻﺮﻑ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﮮ ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺧﻮﺵ ﻧﺼﯿﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﮯ
ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﺒﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮬﮯ ﺗﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﮧ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﭘﺮﻭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﺳﮑﺘﯽ ﮬﮯ
ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺷﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﭽﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ
ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﺨﺖ ﺩﻝ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺳﻨﮕﺪﻝ ﮨﻮﺗﯽ ﮬﮯ ۔۔
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﮬﮯ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ
ﻋﻮﺭﺕ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﺉ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ
ﺟﺐ ﮐﮧ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﯽ ﮐﺌﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔۔
ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ .

16683524_325737317822365_845563273_n.jpg

Hareem Naz

ﺗﻢ ﺑﻦ ﺟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﯿﺴﮯ
ﯾﮧ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﺎﮞ
ﯾﮧ ﻓﺮﺍﻕ ﻟﻤﺤﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺷﺖِ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺁ ﺭﮐﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺤﺎﺏ ﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﻋﺰﯾﺰﺗﺮ
ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﻮﮞ ﺍﺟﻨﺒﯽ
ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﻭﮨﻢ ﺳﯽ
ﺗﯿﺮﮮ ﻟﻔﻆ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﻧﮓ ﻭ ﺭﻭﭖ ﮨﮯ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺑﮯ ﺳﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮ
ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻠﺴﻠﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺴﺒﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮔﻼﺏ ﺳﮯ
ﺍﺳﮯ ﺟﯿﺘﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﻨﺸﯿﮟ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺎﻡ ﻟﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﻻﮐﮯ ﺟﺒﯿﮟ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ
ﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮩﺮ ﺗﮩﮧِ ﺁﺏ ﺳﮯ
ﻭﮨﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺣﺎﺻﻞِ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺑﺎﺏ ﺗﻢ ﻧﮯ ﭼُﺮﺍ ﻟﯿﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺳﮯ !!...

16864776_161217364387913_4721838462041073976_n.jpg

Hareem Naz

Betiaya

ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺯﺧﻢ _________ ﺳﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﯿﮟ .
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺩﺭﺩ __________ ﮐﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﯿﮟ .
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺍٓﻧﮑﮫ ___________ ﮐﺎ ﺳﺘﺎﺭﺍ ﮨﯿﮟ .
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺩﺭﺩ _________ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﮬﯿﮟ .
ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ♡ ﮐﻮ __________ ﮨﺮﺍﺱ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ .
ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ♡ ﮐﻮ ﮨﺮ ﮔﺰ ______ ﺍﺩﺍﺱ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ .
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﻧﻮﺭ ___________ ﮨﯿﮟ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ .
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺑﺎﺏ __________ ﮨﯿﮟ ﭘﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ .
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺩﻝ ﮐﯽ ______ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ .
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﮔﻮﯾﺎ ﮐﮭﻠﺘﺎ _____ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ .
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﻋﮑﺲ _________ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﻭٔﮞ ﮐﺎ .
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﮨﯿﮟ ___________ ﺛﻤﺮ ﺩﻋﺎﻭٔﮞ ﮐﺎ .
ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ♡ ﮐﻮ _________ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ .
ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ♡ ﮐﻮ ﻏﻢ ﮐﯽ _____ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ _______ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﮨﯿﮟ
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﯾﮧ ﭘﺮﺍﺋﮯ ﭼﻤﻦ __ ﮐﯽ ﺑﺎﺳﯽ ﮨﯿﮟ
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ __________ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ
ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﯾﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ___ ﺧﻔﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ !

2017 - 1 (4).jpg

Hareem Naz

 

♻️ قسمت کا کھیل

احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔

جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعمال کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک ’’پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔ 

سبحان اللہ۔ قسمت بھی کیسے کیسے كهیل کھیلتی اور کھلاتی ہے!!!

Hareem Naz

 

♻️ قسمت کا کھیل

احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔

جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعمال کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک ’’پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔ 

سبحان اللہ۔ قسمت بھی کیسے کیسے كهیل کھیلتی اور کھلاتی ہے!!!

Hareem Naz

 

♻️ قسمت کا کھیل

احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔

جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعمال کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک ’’پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔ 

سبحان اللہ۔ قسمت بھی کیسے کیسے كهیل کھیلتی اور کھلاتی ہے!!!

Hareem Naz

 

♻️ قسمت کا کھیل

احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔

جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعمال کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک ’’پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔ 

سبحان اللہ۔ قسمت بھی کیسے کیسے كهیل کھیلتی اور کھلاتی ہے!!!

Hareem Naz

ﺠﺐ ﺗﻘﺎﺿﮯ ﮨﯿﮟ ........... ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ....

ﺑﮍﯼ ﮐﭩﮭﻦ ﯾﮧ ................ ﻣﺴﺎﻓﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ....

ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ .... ﺑِﭽﮫ ﮔﺊ ﮨﻮﮞ ....

ﺍُﺳﯽ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ........... ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ...

ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﺳﺐ ................... ﺑﺠﺎ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ

ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ............ ﯾﻘﯿﮟ ﺩﻻﺅﮞ ...

ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ........... ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮ ﮨﮯ ...

ﺍُﺳﮯ ﺑﮭﻼﺅﮞ ﺗﻮ .................. ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺅﮞ ......

ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﯽ ............... ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻣﯿﮟ ....

ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ................... ﮔﺰﺭ ﮔﺊ ﮨﻮﮞ ....

ﺍُﺳﮯ ﺧﺒﺮ ﺑﮭﯽ .................... ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺷﺎﯾﺪ ....

ﻣﯿﮟ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ............. ﺑﮑﮭﺮ ﮔﺊ ﮨﻮﮞ۔ !!!.....

16473312_244404382682042_4783575510740494753_n.jpg

Hareem Naz

ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺭﻭﺯ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ،

ﻣﮕﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰

ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺸﮧ ﻭﺭ ﻓﺮﯾﺒﯽ ﮨﻮﮞ ، ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟﺳﮑﺘﺎ۰۰۰

ﺑُﺮﮮ ﮨﻮ ﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﻮ ،

ﻣﺠﮭﮯ ﺍِﺱ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻄﻠﺏ

ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﺳﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ،

ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻟﮍ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰

ﯾﮩﺎﮞ ﮨﺮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﺧُﺪﺍ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ہے

ﺧُﺪﺍ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ

ﺟﮭﻮﻟﯽ ﺑﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰.

ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ

ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺍُﻟﻔﺖ

ﻓﻘﻂ ﻟﻔﻈﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ

ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻣﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰

ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮫﮐﻮ۰۰۰

ﺍﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺯﺧﻢ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﮨﯿﮟ،

میں ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰

ﺑﮭﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺎ،

ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﭼﺎﮨﺎ ﮨﮯ

ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﻮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰

ﻧﺠﺎﻧﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﺩﻣﯽ

ﺳﮯ ﺧﻮﻑ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ 

ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﻮ

ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮈﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰

ﺍﺭﮮ ﺍﻭ ﻋﺸﻖ ! ﭼﻞ ﺟﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺑﻼﺗﺎ ﮨﮯ۰۰۰

ﺣُﺴﻦ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺑِﮑﺘﺎ ﮨﮯ

ﺳُﻮﻟﯽ ﭼﮍ ﮪ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰

ﯾﮩﺎﮞ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﻟﮓ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﮯ

ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﮨﯿﮟ۰۰۰

ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﭘﮍﮪ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰

ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺯُﻟﻔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﺳﺠﺎﺗﺎ

ﮨﻭﮞ۰۰۰

ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﮓ ﻣﯿﮟ

ﻭﻋﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﯿﺮﮮ ﺟﮍ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰

ﺑﮭﻠﮯ ﺟﮭﻮﭨﺎ، ﻣﻨﺎﻓﻖ ﮨﻮﮞ،

ﺑﮩﺖ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺩﯾﮯ ﻟﯿﮑﻦ

ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺻﺪﺍ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ،

ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰

ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣﻘﯿﻤﯽ ﮨﻮﮞ

ﺟﺴﮯ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۰۰۰

ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽﺣﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ

ﺳﻮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰

ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺷﻌﺮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ

ﻣﮕﺮ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﺮ ﮔﺰ

ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻻﺝ ﺭﮐﮭﻨﯽ ﮨﮯ، ﺳﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ!!!..

Hareem Naz

آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دلراکھ ہوجائیں، کوئی اور تقاضا نہ کریںچاک وعدہ نہ سِلے، زخمِ تمنّا نہ کِھلےسانس ہموار رہے شمع کی لَو تک نہ ہِلےباتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آکر گِن جائیںآنکھ اٹھائے کوئی اُمید تو آنکھیں چھن جائیںاس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیںجس سے اِک اور ملاقات کی صورت نکلےاب نہ ہیجان و جنوں کا، نہ حکایات کا وقتاب نہ تجدید وفا کا، نہ شکایات کا وقتلُٹ گئی شہرِ حوادث میں متاعِ الفاظاب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوح کہیےآج تک تم سے رگِ جاں کے کئی رشتے تھےکل سے جو ہو گا اُسے کون سا رشتہ کہیےپھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رخسار، مِلوماتمی ہیں دِم رخصت درو دیوار، ملوپھر نہ ہم ہوں گے، نہ اقرار، نہ انکار، مِلوآخری بار مِلو

20170126180652.jpg

Hareem Naz

اسے میں کیوں بتاؤں !!

میں نے اس کو کتنا چاہا ہے؟

بتایا جھوٹ جاتا ہے !!!

کہ سچی بات کی خوشبو!!

تو خود محسوس ہوتی ہے!!!

میری باتیں، میری سوچیں

اسےخود جان جانے دو!!!

ابھی کچھ دن مجھے میری محبّت آزمانےدو!!!!

اگر وہ عشق کےاحساس کو پہچان نہ پاۓ!!

مجھے بھی جان نہ پاۓ !!!!

تو پھر ایسا کرو اے دل......!!

خود گمنام ہو جاؤ !!!!

مگر اس بے خبر کو مسکرانے دو...!

ابھی کچھ دن .....!!

مجھے میری محبّت آزمانے دو..

17+-+1.jpg

Hareem Naz

Arzoo

دل کے پنجرے سے پرندوں کو اُڑا دو صاحب

آرزؤں„„ کو „„ مسلسل „„ پالا „„ نہیں „„کرتے

15941254_1242483119153784_2534800484536632156_n.jpg