FDF Members Poetry

  • entries
    127
  • comments
    97
  • views
    3,929

Contributors to this blog

About this blog

Welcome to Members Poetry Blog. Important: Only More than 200 posts members can add entries in this blog. Regular member rank can only comment in this blog. Please do not share anything else except poetry. Thanks  Keep sharing at fundayforum.com  Have Fun !

 

شاعری

شاعری بھی بارش ہے
جب برسنے لگتی ہے ۔۔
سوچ کی زمینوں کو رنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
لفظ کو معانی کے ڈھنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
نِت نئے خیالوں کی کونپلیں نکلتی ہیں۔۔۔
اور پھر روانی پر یوں بہار آتی ہے۔۔۔
جیسے ٹھوس پربت سے گنگناتی وادی میں آبشار آتی ہے۔۔
شاعری بھی بارش ہے۔۔۔
اُن دلوں کی دھرتی پر ۔۔۔
غم کی آگ نے جن کوراکھ میں بدل ڈالا۔۔
ذہن و دل کا ہرجذبہ جیسے خاک کرڈالا۔۔
ایسی سرزمینوں پر۔۔۔
 بارشیں برسنے سے فرق کچھ نہیں پڑتا 

Entries in this blog

waqas dar

اتنا آساں کہاں سامانِ بقا ہو جانا
دل میں احساسِ فنا کا بھی فنا ہو جانا

عشق دراصل ہے بے لوث وفا ہو جانا
عشق کی راہ میں خود سے بھی جدا ہو جانا

انکے ماتھے پہ لکیریں نہیں آنے پائیں
انکے ہاتھوں کی لکیروں کی حنا ہو جانا

ہونٹ ناراض تھے، آنکھیں تھیں مجسم الفت
انکے بس میں ہی نہیں مجھ سے خفا ہو جانا

لاکھ کرتی ہو کسی بت کی پرستش دنیا
کیسے ممکن ہے بھلا بت کا خدا ہو جانا

بنتا ہے ایک مرض موت کا باعث ورنہ
ہر مرض کے لئے ممکن ہے شفا ہو جانا

اسکو ایماں کہو یا عشقِ حقیقی جاوید
مرحلہ کوئی ہو راضی برضا ہو جانا

aqal.jpg

Hareem Naz

ﺳُﻨﻮ ﺟﻮ ﻟﻤﺤﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﺝ ﺣﺎﺻﻞ

ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ،

ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﮔﻠﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺟﺎﻧﺐ

ﺑﮩﺎﺭ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺭﮐﮭﻨﺎ

ﻣﺤﺒّﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﻗﺎﺭ ﺭﮐﮭﻨﺎ ،

ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﺁﺋﮯ

ﺭﮨﮯ، ﺑﺴﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍُﺟﮍ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ

ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺟﺬﺑﮯ ﺍﺯﻝ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ

ﺍﺑﺪ ﺗﻠﮏ ﺑﮭﯽ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ

ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﺬﺑﻮﮞ ﮐﺎ

ﭘﮩﻠﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﯽ ﺟﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ

ﺫﺭﺍ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﻮ، ﺑﭽﮭﮍ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ

ﮐﮩﺎﮞ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ

ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﺍﮨﯿﮟ

ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺭﺍﮨﯽ ﻧﮧ ﻣﻞ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ ،

ﺑﮩﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﺰﺍﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ

ﻧﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﮨﺮ ﺳﻤﺖ ﮐﮭﻞ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ ،

ﻧﮧ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍُﺩﺍﺱ ﺭﮐﮭﻨﺎ

ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺟﺬﺑﮯ ﮐﺎ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﻨﺎ

ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﺁﺱ ﺭﮐﮭﻨﺎ

 

FB_IMG_1497593186207.jpg

Zarnish Ali

زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے. 
میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں. 

بلقیس خان

تمھاری یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں. 
پھر اس میں رہنے کی کوئی جگہ بناتی ہوں. 

وہ اپنے گرد اٹھاتا ہے روز دیواریں. 
میں اس کی سمت نیا راستہ بناتی ہوں. 

زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے. 
میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں. 

وہ گھول جاتا ہے نفرت کی تلخیاں آ کر. 
میں چاہتوں کا نیا ذائقہ بناتی ہوں. 

خیال و حرف تغزل میں ڈھال کر بلقیس. 
میں اپنے درد سبھی غزلیہ بناتی ہوں.

 

19105753_1375473909168453_416452918359997158_n.jpg

Hareem Naz

ہمارے بیچ کا رشتہ 
ضرورت کے سوا کچھ بھی نہیں 
ضرورت بات کرنے کی 
ضرورت بات سننے کی 
ضرورت سانس لینے کی 
ضرورت فرصتوں کے وقت کو آسان کرنے کی 
ضرورت کو محبت نام دینے سے 
ہمارے بیچ پھیلی یہ مسافت کم نہیں ہوتی 
یہ اپنا پن فقط بیگانگی پہ دھول جیسا ھے 
میں گھنٹوں بات کرتا ھوں 
تمہارے فرصتوں کے وقت کو آسان کرتا ھوں 
میرا اس پہ یہ دعوی'،کہ مجھے تم سے محبت ہے ،
تمہارا بھی یہی اسرار کہ مجھ سے پیار کرتی ھو 
سو ہم آسانیوں سے جھوٹ کی عادت نبھانے میں 
مہارت سیکھ لیتے ہیں 
ضرورت کو محبت مان لیتے ہیں 
مگر سچ ہے 
ضرورت کی قسم سچ ھے 
ہمارے بیچ کا رشتہ 
شروع دن سے ضرورت ھے

Hareem Naz

خزاؤں کی اداسی ہے جو اب تک دل میں چھپائی ہے
بہاروں کا حسین موسم کہیں سے ساتھ لانا تم
یہ مانا اور بھی تم کو جہاں میں ہیں بہت سے غم
مگر دنیا کے میلوں میں ہمیں بھول مت جانا تم
میرے اشعار ہیں جتنے‘ تمہارے نام کرتا ہوں
غزل میری سنو جب بھی‘ غزل میں ڈوب جانا تم
اگر تم سے کبھی کوئی میرے بارے میں پوچھے تو
فقط اتنی سی خواہش ہے‘ مجھے اپنا بتانا تم
کوئی جب الوداعی موسموں کا ذکر چھیڑے
نمی آنکھوں میں مت رکھنا‘ ہمیشہ مسکرانا تم

Hareem Naz

خزاؤں کی اداسی ہے جو اب تک دل میں چھپائی ہے
بہاروں کا حسین موسم کہیں سے ساتھ لانا تم
یہ مانا اور بھی تم کو جہاں میں ہیں بہت سے غم
مگر دنیا کے میلوں میں ہمیں بھول مت جانا تم
میرے اشعار ہیں جتنے‘ تمہارے نام کرتا ہوں
غزل میری سنو جب بھی‘ غزل میں ڈوب جانا تم
اگر تم سے کبھی کوئی میرے بارے میں پوچھے تو
فقط اتنی سی خواہش ہے‘ مجھے اپنا بتانا تم
کوئی جب الوداعی موسموں کا ذکر چھیڑے
نمی آنکھوں میں مت رکھنا‘ ہمیشہ مسکرانا تم

2017 - 1.jpg

waqas dar

عمر اک خواب سجانے میں گئی
تیری تصویر بنانے میں گئی
کٹ گئی کچھ تو غم ۓ ہجراں میں
اور کچھ ملنے ملانے میں گئی
ایک شعلہ سا کبھی لپکا تھا
زندگی آگ بجھانے میں گئی
ایسے سودے میں تو گھاٹا ہے اگر
آبرو سر کے بچانے میں گئی
تم بھی چاہو تو نہیں بن سکتی
بات جو بات بنانے میں گئی
رہ گئی کچھ تو تیرے سننے میں
اور کچھ اپنی سنانے میں گئی
عمر بھر کی تھی کمائی میری
جو تیرے بام پہ آنے میں گئی
عکس در عکس فقط حیرت تھی
عقل جب آئینہ خانے میں گئی

trap in mirror

Zarnish Ali

بروزِ حشر مِلے گا ضرور صبر کا پھل
یہاں تُو ہو نہ ہو میرا ، وہاں تو ہوگا ہی

اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ہوگا ہی
یہ رازِ بوسۂ لب ہے، عیاں تو ہوگا ہی

تمام شہر جو دھندلا گیا تو حیرت کیوں؟
دِلوں میں آگ لگی ہے ، دھواں تو ہوگا ہی

بروزِ حشر مِلے گا ضرور صبر کا پھل
یہاں تُو ہو نہ ہو میرا ، وہاں تو ہوگا ہی

یہ بات نفع پرستوں کو کون سمجھائے؟
کہ کاروبارِ جنُوں میں زیاں تو ہو گا ہی

ہم اس اُمید پہ نکلے ہیں جھیل کی جانب
کہ چاند ہو نہ ہو ، آبِ رواں تو ہوگا ہی

مَیں کُڑھتا رہتا ہوں یہ سوچ کر کہ تیرے پاس
فُلاں بھی بیٹھا ہو شاید ، فُلاں تو ہوگا ہی!

یہ بات مدرسۂ دل میں کھینچ لائی مجھے
کہ درس ہو کہ نہ ہو ، امتحاں تو ہو گا ہی

مگر وہ پھول کے مانند ہلکی پُھلکی ھے !
سو اُس پہ عشق کا پتھر گراں تو ہو گا ہی

غزل کے روپ میں چمکے کہ آنکھ سے چھلکے
یہ اندرونے کا دکھ ھے ، بیاں تو ہوگا ہی

بڑی اُمیدیں لگا بیٹھے تھے سو اب "فارس"
ملالِ بے رخئ دوستاں تو ہو گا ہی

18881973_1367494676633043_2181979836688300154_n.jpg

Zarnish Ali

تو ہی بتلا میری یادوں کو بھلانے والے
میں تیری یاد کو اس دل سے بھلاؤں کیسے

عدیم

ٹوٹ جائے نہ بھرم ہونٹ ہلاؤں کیسے
حال جیسا بھی ہے لوگوں کو سناؤں کیسے

خشک آنکھوں سے بھی اشکوں کی مہک آتی ہے
میں تیرے غم کو زمانے سے چھپاؤں کیسے

تیری صورت ہی میری آنکھ کا سرمایہ ہے
تیرے چہرے سے نگاہوں کو ہٹاؤں کیسے

تو ہی بتلا میری یادوں کو بھلانے والے
میں تیری یاد کو اس دل سے بھلاؤں کیسے

پھول ہوتا تو تیرے در پہ سجا بھی رہتا
زخم لے کر تیری دہلیز پہ آؤں کیسے

آئینہ ماند پڑے سانس بھی لینے سے عدیم
اتنا نازک ہو تعلق تو نبھاؤں کیسے

وہ رلاتا ہے رلائے مجھے جی بھر کے عدیم
میری آنکھیں ہے وہ میں اس کو رلاؤں کیسے

 

18739991_1360864253962752_5226772255103832646_n.jpg

waqas dar
کوئی وجد ہے نہ دھمال ہے ترے عشق میں
Koi wajd hy na dhamaal hy tere ishq mai

کوئی وجد ہے نہ دھمال ہے ترے عشق میں
میرا دل وقفِ ملال ہے ترے عشق میں
یہ خواب میں بھی ہے خواب کیف و سرور کا
تیرے عشق کا ہی کمال ہے ترے عشق میں
میں تو نکل ہی جاوں گا وحشتوں کہ حصار سے 
یہ تو سوچنا بھی محال ہے ترے عشق میں
سرِ دشت محوِ تلاشِ منزلِ آگہی 
کوئی آپ اپنی مثال ہے ترے عشق میں
یہ جو راکھ ہوتا ہے پتنگ میرے سامنے 
یہی رنگِ شوقِ وصال ہے ترے عشق میں
تجھے مل کہ خود سے بھی مل رہا ہوں میں شوق سے
میرا خود سے ربط بحال ہے ترے عشق میں
کئی دن سے ہیں میری ہمسفر نئی حیرتیں 
 یہ عروج ہے کہ زوال ہے ترے عشق میں

Kainat Khan

ایک بات بنتی ہے' دوسری نہيں بنتی 
شاعری بنانے سے شاعری نہيں بنتی
پُھول ہونا پڑتا ہے' دُھول ہونا پڑتاہے 
صرف لب ہلانے سے پنکھڑی نہيں بنتی
عشق ہو کہ درویشی' امن و کہ خوں ریزی 
بات جب بگڑ جائے واقعی نہيں بنتی
ایک خاص جنگل سے لکڑیاں چراتے ہیں 
ہر شجر کی ٹہنی سے بانسری نہيں بنتی
اِس قدر تسلسل سے خواب آتے جاتے ہیں 
اِن دنوں ہماری اور نیند کی نہيں بنتی
چاہے کوئی بھی لڑکی جتنی خوبصورت ہو 
جھیل میں اترنے سے جل پری نہيں بنتی
آپ سے گلہ کرنا اور وہ بھی محفل میں 
زیب ہی نہيں دیتا بات بھی نہيں بنتی
آگ ہونا پڑتا ہے ' راکھ ہونا پڑتا ہے 
اُنگلیاں رگڑنے سے روشنی نہيں بنتی
آپ اس قبیلے کے فرد ہی نہيں لگتے 
اس لیے ہماری اور آپ کی نہيں بنتی
تم تو خیر شاعر ہو اور بَلا کے شاعر ہو 
ایک وہ بھی ہیں جن سے بات ہی نہيں بنتی

Zarnish Ali

یعنی یکطرفہ تھا ہمارا عشق؟
ہم نے پالا تھا خواہ مخواہ کا دکھ!!!

شمامہ افق

مختلف ایک ہی سپاہ کا دکھ
اک پیادے کا ایک شاہ کا دکھ!!

منزلوں تک ہمارے ساتھ گیا
مختصر ایک شاہراہ کا دکھ!

دکھ ہمیں اک ادھورے رشتے کا
اسی رشتے سے پھر نبھاہ کا دکھ!!!

یعنی یکطرفہ تھا ہمارا عشق؟
ہم نے پالا تھا خواہ مخواہ کا دکھ!!!

یہ جو شہزادی لینے آئے ہیں
کیسے سمجھیں گے بادشاہ کا دکھ!

 

Zarnish Ali

ﮐﮩﻮ !
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ؟
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺴﻨﮯ ﺳﮯ، ﺭﻭﻧﮯ ﺳﮯ ؟
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﺎ ﭘﻬﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ؟
تمہاﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ
ﯾﺎ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ؟
ﮐﮩﻮ !!!!
تمہاﺭﮮ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺷﮏ ﮔﺮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ تمہیں میرے ﻟﺌﮯ ﮐﻬﺒﯽ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
ﺗﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺮﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﮑﺲ ﺍﺑﻬﺮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ، ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ شخص ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ؟
ﮐﮩﻮ !
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺴﯽ ﯾﺎﺩ ﭘﺮ ﺗﻤﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮ ﺟﺐ ﭨﻬﮩﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﮐﯿﺎ ﺑﮍﮮ ﺣﻮﺻﻠﮯ ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﭘﻠﭩﺘﯽ ﮨﮯ ؟
ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﻤﭩﺘﯽ ﮨﮯ ؟
ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ تمہاﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﻬﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﭽﻠﺘﯽ ﮨﮯ ؟
ﮐﮩﻮ کبھی ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ تمہاﺭﺍ ﺭﺑﻂ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ؟
ﺑﮩﺖ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﻬﺒﯽ ﺿﺒﻂ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ؟
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﭘﻨﺎ، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﻬﺎ ﮨﮯ ؟
ﺧﻮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻨﺎ ، ﮐﯿﺎ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ؟
ﮐﮩو !
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ؟
ﺳﻨﻮ !
ﯾﮧ ﺳﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ
تمہاﺭﮮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ
ﯾﮧ ﺳﺐ ﺁﮨﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺗﻢ ﺑﻦ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ
ﯾﮧ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﺑﯿﺘﺘﯽ ﮨﯿﮟ

Zarnish Ali

ﮐﮩﻮ !
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ؟
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺴﻨﮯ ﺳﮯ، ﺭﻭﻧﮯ ﺳﮯ ؟
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﺎ ﭘﻬﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ؟
تمہاﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ
ﯾﺎ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ؟
ﮐﮩﻮ !!!!
تمہاﺭﮮ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺷﮏ ﮔﺮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ تمہیں میرے ﻟﺌﮯ ﮐﻬﺒﯽ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
ﺗﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺮﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﮑﺲ ﺍﺑﻬﺮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ، ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ شخص ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ؟
ﮐﮩﻮ !
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺴﯽ ﯾﺎﺩ ﭘﺮ ﺗﻤﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮ ﺟﺐ ﭨﻬﮩﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﮐﯿﺎ ﺑﮍﮮ ﺣﻮﺻﻠﮯ ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﭘﻠﭩﺘﯽ ﮨﮯ ؟
ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﻤﭩﺘﯽ ﮨﮯ ؟
ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ تمہاﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﻬﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﭽﻠﺘﯽ ﮨﮯ ؟
ﮐﮩﻮ کبھی ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ تمہاﺭﺍ ﺭﺑﻂ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ؟
ﺑﮩﺖ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﻬﺒﯽ ﺿﺒﻂ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ؟
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﭘﻨﺎ، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﻬﺎ ﮨﮯ ؟
ﺧﻮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻨﺎ ، ﮐﯿﺎ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ؟
ﮐﮩو !
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ؟
ﺳﻨﻮ !
ﯾﮧ ﺳﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ
تمہاﺭﮮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ
ﯾﮧ ﺳﺐ ﺁﮨﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺗﻢ ﺑﻦ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ
ﯾﮧ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﺑﯿﺘﺘﯽ ﮨﯿﮟ

18670877_1355585174490660_2757778500907949893_n.jpg

Zarnish Ali

تو مجھے اپنے مریدین میں رکھتا بھی نہیں
میں کسی اور کی بیعت بھی نہیں کر سکتا

شبیر احرام

اے مرے دوست رعایت بھی نہیں کر سکتا
پر ترے ساتھ بغاوت بھی نہیں کر سکتا 

سامنے سے بھی تجھے کچھ نہیں کہہ سکتا میں
پیٹھ پیچھے تری غیبت بھی نہیں کر سکتا

تو مجھے اپنے مریدین میں رکھتا بھی نہیں
میں کسی اور کی بیعت بھی نہیں کر سکتا

جانتا ہوں میں خدوخال بگڑنے کا سبب
آئینہ دیکھ کے حیرت بھی نہیں کر سکتا

اب ترے شہر میں رہنا بھی مناسب نہیں ہے
اور میں اس شہر سے ہجرت بھی نہیں کر سکتا

مجھ میں ہمت بھی نہیں ہے کہ بھلا دوں تجھ کو
اور میں اس کام کی ہمت بھی نہیں کر سکتا

 

18698383_1355650357817475_8939016665565760779_n.jpg

Zarnish Ali

اے مِری ذات کے سکُوں ! آ جا 
تھم نہ جائے کہیں جنوں ' آ جا 

رات سے ایک سوچ میں گُم ہوں
کس بہانے تجھے کہوں' آ جا

ہاتھ جس موڑ پر چُھڑایا تھا
میں وہیں پر ہوں سَر نِگوں' آ جا

یاد ہے سُرخ پھول کا تحفہ ؟
ہو چلا وہ بھی نیل گُوں ' آ جا 

چاند تاروں سے کب تلَک آخر
تیری باتیں کِیا کروں ' آ جا

اپنی وَحشت سے خوف آتا ہے
کب سے ویراں ہے اَندرُوں ' آ جا

اس سے پہلے کہ مَیں اذیّت میں
اپنی آنکھوں کو نوچ لوں ' آ جا

دیکھ ! 'مَیں' یاد کر رہی ہوں تجھے
پھر میں یہ بھی نہ کر سکوں' آ جا

( فریحہؔ نقوی )

 

18485778_1350390808343430_8345289693016732172_n.jpg

waqas dar

Batate hain Shadiyun ky Chohvare Dagar Dagar

بٹتے ہیں شادیوں کے چھوہارے دگڑ دگڑ
 کرتے ہیں شہر بھر کے کنوارے دگڑ دگڑ

برسوں کا فاصلہ ہے ، اِسے طے کرو گے کیا
 یوں دوڑتے ہیں گھوڑے تمھارے دگڑ دگڑ

ویسے ہی دندناتے ہیں اُس کی گلی میں ہم
 جیسے چلے "گرائیں" ہزارے دگڑ دگڑ

پیچھے لگایا جب بھی سگِ کوئے یار کو
 میرا رقیب دڑکیاں مارے دگڑ دگڑ

غیروں کی ہو گئی ہے تو پھر کس لئے خدا
 اُس کو مری گلی سے گزارے دگڑ دگڑ

جھٹکے ہمارے بخت کو لگتے ہیں بے طرح
 کرتے ہیں آسماں پہ ستارے دگڑ دگڑ

لیڈر تمام بحرِ کرپشن میں غوطہ زن
 اور ہم بھی ہیں کنارے کنارے دگڑ دگڑ

کوئی نہیں ہے دل کا خریدار واقعی
 سارے ہی آ رہے ہیں اُدھارے دگڑ دگڑ

عشاق کی ہو دشت میں ہاؤسنگ سوسائٹی
 پھرتے ہیں شہر میں کیوں بچارے دگڑ دگڑ

لو نیویں نیویں ہو کے چلے بزم سے عدو
 کچھ تو بھی اپنی چال دکھا رے دگڑ دگڑ

رکھتے نہیں ہیں ہاتھ بریکوں پہ زینہار
 لکھتے ہیں شعر نغزگو سارے دگڑ دگڑ

نویدظفرکیانی

 

Jannat malik

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

اس رینگتی حیات کا کب تک اُٹھائیں بوجھ
بیمار اب اُلجھنے لگے ہیں طبیب سے

ہر غم پہ ہے مجمئہ عُشاق منتظر
مقتل کی راہ ملتی ہے کوئے حبیب سے

اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ
جیسے کوئی نبھا رہا ہو رقیب سے

اے روحِ عصر جاگ، کہاں سو رہی ہے تُو
آواز دے رہے ہیں پیمبر صلیب سے

FB_IMG_1494919318543.thumb.jpg.873234316c9dbea0876783a96531e6cb.jpg

waqas dar

بھـــــــــر کے لایا تھا جو دامن میں ستارے صاحب 
لے گیا لوٹ کے سب خواب  ہمـــــــــــــارے صاحب

آپ آسودہ ہیں اس حلقـــــــــــہ ء یاراں میں تو پھر 
یاد آئیں گے کہــــــــــــاں درد  کے مــــــارے صاحب

ہجـــر میں سانس بھی رک رک کے چلا کرتی ھے 
مجھ کو دے جائیں  نا کچھ سانس اُدھا رے صاحب

کچھ خطاؤں کی ســـــــــزا عشق کی صورت پائی 
 ہم نے دنیا میں ہی کچھ قــــــــــرض اتا رے صاحب

ہم جو نکلے کبھی بازار میں کاســــــــــــــہ لے کر 
 بھیک میں بھی تو ملے درد کے دھــــــا رے صاحب

اب بھی جلتے ہیں تری یاد میں اشکوں کے چــراغ 
شب کو معلوم ہیں سب زخم  ہمـــــــا رے صاحب

میـــــــــرا رشتوں کی تجارت پہ تو ایماں ہی نہ تھا 
بک گئے خـــــــــــــاک کی قیمت یہ ستارے  صاحب

یاد کے دشت میں ہم پھــــــــــرتے ہیں یوں آبلہ پا 
 آ کے دیکھو تو کبھی پاؤں ہمــــــــــــــــــارے صاحب

بارہا اســـکو بچھـــــــــــــــڑتے ھوئے کہنا چـــــاہا 
 روٹھ کر بھی نہیں ہوتے ہیں گـــــــــــزار ے صاحب

لا کے قدموں میں سبھی چــــاند ستارے رکھ دیں
لوٹ کر آنا کبھی شہــــــــر ہمــــــــــــا رے صاحب

آنـــکھ سے دل کی زبــــاں صـــــــاف ســـنائی دیتی
تم ہی سمجھے نـــــہ محبت  کے اشـــارے صاحب

love stars.jpg

waqas dar

جب سے یہ فاصلے بڑھائے ہیں

آپ ہی آپ پاس آئے ہیں

قاصدوں جان مانگ لو چاہے

گر خبر آپ ان کی لائے ہیں

ہم کو لکھا کہ جا چلا جا تو

کیسے جائیں کہ تیرے سائے ہیں

ایک میں ہی نہیں مکیں اپنا

آپ مہمان بن بلائے ہیں

خاک آئے کوئی حسین نظر

آپ جب آنکھ میں سمائے ہیں

آپ تو دے کے زخم بھول گئے

ہم نے مرہم وہ سب بنائے ہیں

عشق کے روگ نے ستایا تھا

اب طبیبوں کے ہم ستائے ہیں

آپ کو زندگی کہا کیونکہ

زندگی کو بھی ہم نہ بھائے ہیں

کون کافر کرے جفا ابرک

وہ خیالوں میں مسکرائے ہیں

مانتا ہوں وفا نہیں لازم

خواب کیوں باوفا دکھائے ہیں

3c80695.jpg

Safa mughal

مجھے معلوم ہے کہ "میں"
زمانے بھر کی آنکھوں میں
بڑی شدت سے چبھتی ہوں
میری باتیں ، میری سوچیں
زمانے بھر کی سانسوں میں بڑی تکلیف بھرتی ہیں
مجھے معلوم ہے کہ "میں"
" کبھی کچھ تھی ، نہ اب کچھ ہوں"
مگر پھر بھی زمانہ سرد آنکھوں سے مجھے کیوں تکتا رہتا ہے
کسی کو کیا
میں جو لکھوں ، جہاں لکھوں
" کسی کو جان جاں لکھوں "
یا نہ لکھوں
جلا دوں شاعری اپنی
یا اس کو طاق پر رکھوں
کسی کو اس سے کیا مطلب
کسی کو مجھ سے کیا مطلب
تو اب جو لوگ مجھ کو اپنا کہتے ہیں
مجھے نفرت سے تکتے ہیں
کہ میں نے اب تلک
سارے زمانے کی نگاہوں کو فقط پیاسا ہی رکھا ہے
انھیں تسکیں نہیں بخشی
مگر بخشوں تو کیوں بخشوں
کسی لمحے جو میں سوچوں
بھلا کیوں نہ کروں ایسا
زمانے بھر کی آنکھوں میں نمی بھردوں
زمانے بھر کی سانسوں میں کمی کردوں
مگر کیسے کروں ایسا
"زمانہ اپنی ہی موت آپ مر جائے تو اچھا ہے"
کہ میں اس کی ان آنکھوں کو نکالوں گی
- تو دکھ ہوگا

girly.jpg

Jannat malik

دنیا سے ہٹ کر اپنی ہی دنیا بنا لی ہم نے
محفلوں میں بات نہ بنی تنہائی سجا لی ہم نے

خوابوں کو حقیقت کے خوف نے مارا جب
تو دل میں ہی قبریں بنا لی ہم نے

مردہ حسرتوں کی جگہ دل میں کم پڑی تو 
اپنی روح ہی قبرستانوں میں بسا لی ہم نے

مال و دولت کی حرص کو پاوں تلے رکھ کر 
فقیرانہ زندگی گزاری ہم نے 

پیار و محبت سے بات چلی جو عشق حقیقی تک پہنچی 
مانی تیری ایک بھی نہ عشق مجازی ہم نے 

دکھ درد و غم کا مسلسل آنا جانا رہا 
سرخ جھنڈی خوشیوں کو دکھا دی ہم نے 

رشتوں میں احساس جگانے کے لیے 
غیروں سے دوستی نبھا لی ہم نے

دن بھر سوچوں کا ہجوم رہا 
شب بھر جاگ کے گزاری ہم نے 

اے دل مضطرب تیری بے چینیاں بجا ہیں آج
کہ چلنے نہ دی تیری من مانی ہم نے 

کمبخت موت کے انتظار میں 
ساری عمر گنوادی ہم نے 

دعا و صبر کا رہا ساتھ ہمیشہ 
حرام موت سے زندگی بچا لی ہم نے 

ہر پل اذیت میں رہے طاہر ہم 
عمر بھر خود کو سزا دی ہم نے 

 

FB_IMG_1493741193021.jpg

Hareem Naz

ﻭﮦ ﺩﻟﻨﻮﺍﺯ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﻈﺮ ﺷﻨﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﺮﺍ ﻋﻼﺝ ﻣﺮﮮ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﮍﭖ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺯﺑﺎﮞ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﻣﮕﺮ
ﻣﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺎﯾﺎﻥِ ﺍﻟﺘﻤﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﺮﮮ ﺟﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﺎﻧﭗ ﮐﺎﻧﭗ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﺮﮮ ﻣﺰﺍﺝ ﮐﻮ ﺁﺳﻮﺩﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺱ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﺗﺮﮮ ﻗﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﮮ ﺗﮭﮯ
ﺍﺏ ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ
ﮔﺰﺭ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﺠﺐ ﻣﺮﺣﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﺪﮦ ﻭ ﺩﻝ
ﺳﺤﺮ ﮐﯽ ﺁﺱ ﺗﻮ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺁﺱ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﮈﺭ ﮨﮯ ﺗﺮﯼ ﺁﺭﺯﻭ ﻧﮧ ﻣﭧ ﺟﺎﺋﮯ
ﺑﮩﺖ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﺮﯼ ﺍﺩﺍﺱ ﻧﮩﯿﮟ

Hareem Naz

ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﻮ ، ﯾﻮﮞ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﭘﺮ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺧﻮﺵ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﭘﮩﺮﮮ ﻣﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﺩﻡ ﻏﺮﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ
ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺯﻋﻢ ﮐﮯ ﻧﺮﻏﮯ ﻣﯿﮟ ، ﺍﻧﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﮑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ
ﺍﮎ ﻣﺪﺕ ﺳﮯ ﻏﻠﻄﺎﮞ ﭘﯿﭽﺎﮞ، ﺗﻢ ﺭﺑﻂ ﻭ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﮯ ﺩﮬﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺍﻟﺠﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ، ﭘﭽﮭﺘﺎﻭﮮ ﮐﮯ ﺍﻧﮕﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﺤﺼﻮﺭ ﺗﻼﻃﻢ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ، ﮔﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﻟﯿﮯ
ﻃﻮﻓﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﻨﺒﮭﻠﮯ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮐﮩﻨﮯ ﮐﻮ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﻟﯿﮯ
ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺳﮯ ﺗﻢ ﮨﻢ ﻣﮩﺮ ﺑﺎ - ﻟﺐ ، ﺟﮓ ﺑﯿﺖ ﮔﺌﮯ ﺗﮏ ﺑﺎﺕ ﮐﯿﮯ
ﺳﻨﻮ ﮐﮭﯿﻞ ﺍَﺩُﮬﻮﺭﺍ ﭼﮭﻮﮌﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺑﻨﺎ ﭼﻞ ﭼﻠﮯ ﺑﻨﺎ ﻣﺎﺕ ﮐﯿﮯ
ﺟﻮ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮏ ﺟﺎﺋﯿﮟ ، ﻭﮦ ﺳﺎﺋﮯ ﺭﮎ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﭼﻠﻮ ﺗﻮﮌﻭ ﻗﺴﻢ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﺮﯾﮟ ، ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺟﮭﮏ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ