Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

  • entries
    74
  • comments
    276
  • views
    3,578

About this blog

بسم الله الرحمن الرحيم

اسلام وعلیکم
بزم میں آنےوالےتمام احباب کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید

یہ بزم اردو شاعری سے محبت کرنے والوں کے لیے ھے یہان اپ اپنی پسندیدہ غزلیں اشعار نظمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ پوسٹ پر کمنٹ کر کے اپنے ذوق کا اظہار کیجیے.. تمام ممبرز سے گزارش ہے کہﮔﺮﻭﭖ ﮐﮯ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﻮ ﺳﺎﺯﮔﺎﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﻣﻤﺒﺮﺍﻥ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ
نامناسب تصویری کمنٹس سے اجتناب ضروری ہے۔
☆ اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے کی اجازت ھے لیکن ایسی پوسٹز اور کمنٹس کرنے کی اجازت نہیں کہ جن سے لڑائی اور بحث کا خدشہ ھو۔۔

☆ بزم کے ماحول کو خوشگوار بنانے میں تعاون کریں---- شکریہ

●●●●●●●●●○○○○○○○○○●●●●●●●●

Entries in this blog

Zarnish Ali

Hum

ﭘﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮨﻢ ﻣﻠﯿﮟ ﻧﮧ ﻣﻠﯿﮟ ﺍﮎ ﺫﺭﺍ ﺭﮐﻮ
ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﻮﮞ

12745844_973744046008110_7607184931172221501_n.jpg

Zarnish Ali

لمحہ بھر اپنا خوابوں کو بنانے والے
اب نہ آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والے

کیا ملے گا تجھے بکھرے ہوئے خوابوں کے سوا
ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے

سب نے پہنا تھا بڑے شوق سے کاغذ کا لباس
اس قدر لوگ تھے بارش میں نہانے والے

مر گئے ہم تو یہ کتبے پر لکھا جائے گا
سو گئے آپ زمانے کو جگانے والے

در و دیوار پر حسرت سی برستی ہے محسن!
جانے کس دیس گئے پیار نبھانے والے

 

18619965_1355210007861510_2181347456266809950_n.jpg

Zarnish Ali

تجھ سے بچھڑوں تو تری ذات کا حصہ ہو جاؤں
جس سے مرتا ہوں اسی زہر سے اچھا ہو جاؤں

تم مرے ساتھ ہو یہ سچ تو نہیں ہے لیکن
میں اگر جھوٹ نہ بولوں تو اکیلا ہو جاؤں

میں تری قید کو تسلیم تو کرتا ہوں مگر
یہ مرے بس میں نہیں ہے کہ پرندہ ہو جاؤں

آدمی بن کے بھٹکنے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔مزا آتا ہے
میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ فرشتہ ہو جاؤں

وہ تو اندر کی اداسی نے بچایا۔۔۔۔۔۔۔ورنہ
ان کی مرضی تو یہی تھی کہ شگفتہ ہو جاؤں

احمد کمال پروازی

 

18555860_1355211627861348_2601155107729793790_n.jpg

Zarnish Ali

ہمارے دل میں کہیں درد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟
ہمارا چہرہ بھلا زرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟

سُنا ہے آدمی مر سکتا ہے بچھڑتے ہوئے 
ہمارا ہاتھ چھوؤ ، سرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟

سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے 
ہمارے رخ پہ کہیں گرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟

کوئی دلوں کے معالج ، کوئی محمد بخش
تمام شہر میں کوئی مرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟

وہی ہے درد کا درماں بھی افتخار مغل
کہیں قریب وہ بے درد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟

ڈاکٹر افتخار مغل (مرحوم)

 

3.jpg

Zarnish Ali

گر ترے شعر میں شامل ہی نہیں سوز و گداز

’’ ہجو ‘‘

خاک در خاک تری ہجرت و ایثار پہ خاک
خاک در خاک ترے سب درو دیوار پہ خاک

بستیاں خوں میں نہاتی ہیں چمن جلتے ہیں
خاک در خاک تری گرمی ء گفتار پہ خاک

اس سے بہتر تھا کہ اقرار ہی کرلیتا تو !
خاک در خاک تری جراءت ِ انکار پہ خاک

شام تک دھول اڑاتے ہیں سحر تک خاموش
خاک در خاک ترے کوچہ و بازار پہ خاک

خون آلود مصلّے ، صفیں لاشوں سے اٹی
خاک در خاک ترے جبّہ و دستار پہ خاک

آئنے عکس میسر نہیں تجھ کو بھی تو پھر
خاک در خاک ترے جوہرِ زنگار پہ خاک

لحنِ دل تو بھی اسی شور میں شاداں ہے تو پھر
خاک در خاک ترے نغمہ و مزمار پہ خاک

کنجِ محرومی سے نکلو کسی جنگل کی طرف
خاک در خاک پڑے شہرِ ستمگار پہ خاک


خاک در خاک ترے لہجہ و تکرار پہ خاک

 

14067478_1422324647784529_776419363335894367_n.jpg

Zarnish Ali

یہی سوز دل ہے تو محشر میں جل کر
جہنم اُگل دے گا مجھ کو نگل کر

پڑی مجھ پہ اوچھی وہ تلوار چل کر
گئی کس طرف موت کمبخت ٹل کر

نہ وحدت سے طلب نہ کثرت سے مطلب
نہ گھٹ کر ہوں قطرہ نہ دریا ابل کر

تری بات بھی تیر ہے ناوک افگن
گڑی میرے دل میں زیاں سے نکل کر

جو شام شبِ ہجر دیکھی تو سمجھے
قضا سر پہ آئی ہے صورت بدل کر

جہاں میں نہ کی قدر غم جب کسی نے
پشیماں ہوا میرے دل سے نکل کر

رخ اس بت کا شاید نکلتا ہے پتھر
کہ قدموں پہ گرتی ہیں نظریں پھسل کر

جلا تھا مرا دل جو پروانہ آسا
کہا میں نے بھی شمع رو ان کو جل کر

جلانے کو دل داغ سینہ ہے حاضر
مگر تو ہی اے داغ پہلے پہل کر

جو کھینچے گا بھی تیر سینے سے ظالم
تو پیکاں سے لے جائے گا دل بدل کر

انہیں آتے دیکھا تو دوڑیں نگاہیں
گئیں آنکھیں ان سے بھی آگے نکل کر

یہ میری طرف پاوٓں محفل میں کیسے
ذرا آدمیت سے بیٹھو سنبھل کر

عزیز اس قدر نقد جاں کیوں ہے اے دل
خدا دے جو ہمت تو نذر اجل کر

وہ بسمل ہوں جو ہاتھ قاتل نے کھینچا
گلے پر مرے گر پڑی تیغ اُگل کر

میرا دل بھی آئینہٓ انجمن ہے
دکھاتا ہے سو رنگ صورت بدل کر

قدم جب خوشی نے در دل پہ رکھا
صدا غم نے دی دیکھ ظالم سنبھل کر

امیؔر اہل مسجد سے اظہار تقویٰ
ابھی آئے ہو میکدے سے نکل کر

 

16387405_1598453166838342_5270221248155931935_n.jpg

Zarnish Ali

تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
جیسے ویراں ہورہ گزارِحیات
جیسے خوابوں کے رنگ پھیکے ہوں
جیسے لفظوں سے موت رِستی ہو
جیسے سانسوں کے تار بکھرے ہوں
جیسے نو حہ کناں ہو صبح چمن
تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
جیسے خوشبو نہیں ہو کلیوں میں
جیسے سُونا پڑا ہو شہرِ دل
جیسے کچھ بھی نہیں ہو گلیوں میں
جیسے خوشیوں سے دشمنی ہو جائے
جیسے جذبوں سے آشنائی نہ ہو
تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
جیسے اک عمر کی مسافت پر
بات کچھ بھی سمجھ نہ آئی ہو
جیسے چپ چپ ہوں آرزو کے شجر
جیسے رک رک کے سانس چلتی ہو
جیسے بے نام ہو دعا کا سفر
جیسے قسطوں میں عمر کٹتی ہو
تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
جیسیاک خوف کے جزیرے میں
کوئی آواز دے کے چھپ جائے
جیسے ہنستے ہوئے اچانک ہی
غم کی پروا سے آنکھ بھر جائے
تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
ارشد ملک

112.jpg

Zarnish Ali

! آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گِراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے سے
کیسے کیسے گُماں گزرتے ہیں

رفتگاں کے بکھرے سایوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے

کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنُما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں

نام جو کٹ گئے ہیں اُن کے حرف
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشانوں پر
چاک سے لائینیں لگاتے ہیں

! پھر دسمبر کے آخری دن ہیں

ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
ڈائری ایک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے

کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گردِ ماضی سے اٹ گئے ہونگے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سِمٹ گئے ہونگے

ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
اک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری دوست دیکھتے ہونگے
اُن کی آنکھوں کے خواب دانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا

اور کچھ بے نِشاں صفحوں سے
!.... نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا

?

 

11.jpg

Zarnish Ali

وہ لکھتا ہے

وہ لکھتا ہے
بہت بے ساختہ لکھتا ہے
پھر لکھ کر مٹاتا ہے
مٹا کر یہ سمجھتا ہے
کہ اس نے
دل کی حالت کو عیاں ہونے سے روکا ہے
اسے معلوم ہی کب ہے
کہ جو دل پر گزرتی ہے
وہ حالت چھپ نہیں سکتی
اسے اظہار تک آنے میں کتنی دیر لگتی ہے
وہ کب روکے سے رکتی ہے
وہ رستہ ڈھونڈ لیتی ہے
کبھی اشکوں کی صورت میں
کبھی آہوں کی صورت میں
کبھی آنکھوں کی ویرانی سے ظاہر ہونے لگتی ہے
وہ ناداں جانتا کب ہے
اسے معلوم ہی کب ہے
کہ یہ دل ہے!
یہ اپنی بات کہنا جانتا ہے
بات کرنے کے ہنر سے خوب واقف ہے____

15541374_1228882720532700_1088527038770779020_n.jpg

Zarnish Ali

tum milty ho ...

ﺗُﻢ ﻣِﻼﺗﮯ ﮬﻮ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ
ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ
_________________________
ﯾﮧ ﺟﻮ ﻣُﺠﮫ ﭘﺮ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ !!
ﺁﭖ ﮬﯽ ﮐﯽ ﺑﮩﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ ____
ﺁﭖ ﭼﺎﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ
ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ ____
ﺗُﻢ ﻣِﻼﺗﮯ ﮬﻮ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ
ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ
ﮐﺴﯽ ﮐﮭﻮﻧﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺠﮯ ﺍِﺳﮯ
ﺩﻝ ﺑﮍﺍ ﺑﮯ ﻣُﮩﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ _______
ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻟﻐﺰﺷﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﯿﺠﮯ ﻣُﻌَﺎﻑ
ﺳﺎﺋﯿﮟ ! ﯾﮧ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ
ﮐُﻞ ﻣِﻼ ﮐﺮ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻣﯿﺮﺍ
ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣُﺴﺘَﻌﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ ____
ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﻨﺎ ﮬﯽ ﺩﯾﺠﮯ ﻣُﺠﮭﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ
ﺭﻭﺯ ﺁﻧﺴُﻮ ﮐﻤﺎ ﮐﮯ ﻻﺗﺎ ﮬُﻮﮞ
ﻏﻢ ﻣﺮﺍ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ
ﻭُﺳﻌﺖِ ﺭﺯﻕ ﮐﯽ ﺩُﻋﺎ ﺩﯾﺠﮯ
ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ
ﺧﺎﺭ ﺯﺍﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮬﻮ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ ﮬُﻮﮞ
ﭘﯿﺮﮬﻦ ﺗﺎﺭ ﺗﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ ___
ﮐﺒﮭﯽ ﺁﮐﺮ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ
ﮐﯿﺴﺎ ﺍُﺟﮍﺍ ﺩﯾﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ

15391160_1191341107581735_3879056242559710326_n.jpg

Zarnish Ali

baat to kar ...

ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻣﺤﺒﺖ ! ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮐﺮ
ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﮮ ﭼﺸﻢِ ﺩﺭﺩ ﺁﺷﻨﺎ
ﺍِﮎ ﺑﻮﻧﺪ ﺑﺮﺱ
ﺍِﮎ ﺍﺷﮏ ﭼﮭﻠﮏ
ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻧﻈﺮ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮐﺮ
ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﺭﮐﮫ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮧ ﺩﻝ ﺭﮐﮫ ﺩﻭﮞ
ﺩﻝ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﺮﺍ
ﺟﻮ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﺋﮯ
ﯾﮧ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ
ﺍﮎ ﻟﻔﻆِ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﻮﻝ ﺫﺭﺍ
ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻔﻆ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭﮞ
ﺩﻝ ﺩﺭﺩ ﺳﺮﺍﺏ ﮐﻮ ﺁﺏ ﺳﮯ ﺑَﮭﺮ
ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﭘﮧ ﺁﻧﮑﮫ ﺗﻮ ﺩَﮬﺮ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﮭﺮﻭﮞ
ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻣﺤﺒﺖ ! ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮐﺮ
ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ

15267575_1178981558817690_8988977140965258206_n.jpg

Zarnish Ali

khamosh mohabat

ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ
ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ
ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﻭﮦ ﮔﻢ ﮨﮯ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻧﮧ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﭘﻮ
ﻧﮧ ﺯﺍﻭﯾﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ
ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻭﮦ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ
ﮐﻦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ
ﺗﻢ ﺑﺲ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ
ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻭ
ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ، ﺍُﺱ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ
ﯾﺎﺩﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ
ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ
ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ
ﺳﻮﭼﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﺑﺎﮞ ﺩﻭ
ﭘﻮﭼﮫ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ !
ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ
ﮐﯿﺎ !!!
ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ
ﮐﯿﺎﺗﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ !

15317731_1178982385484274_2592655281767979997_n.jpg

Zarnish Ali

ﮨﻢ ﻏﻢ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﻟﮩﺠﮯ ﺳﮯ ﺑﻬﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻠﻮﻧﮯﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﻭﺍﺳﻄﮯﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﺮ ﻣﻮﮌ ﭘﮧ ﺁﻧﺴﻮ ﻟﺌﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﮞ
ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﺳﮯﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﯽ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﺫﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﯿﺪ ﺭﮨﮯ ﺑﺮﺳﻮﮞ
ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻧﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺍﮎ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﻓﻀﺎﺋﯿﮟ
ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺑﮯ ﺩﺭﺩ ﺳﮯﻟﻤﺤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮍﮰ ﮨﯿﮟ
ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﮭﺮﺧﻮﺩ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺟﺲ ﺳﺎﺯ ﭘﮧ ﻧﺎﭼﮯ ﺩﻝِ ﺑﺮﺑﺎﺩﮐﯽ ﺣﺴﺮﺕ
ﺍﺱ ﺳُﺮ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺭﻭﺯ ﺭﯾﺎﺿﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺭﺷﺘﮧ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺗﺠﮫ ﺳﮯﻣﺮﯼ ﺟﺎﮞ
" ﺳﻮ ﭼﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻋﺪﺍﻭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ "
ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺰﯾﺮﻭﮞ ﭘﮧ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ
ﺑﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﭘﮧ ﻗﻨﺎﻋﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﻭﯾﺮﺍﻧﯽ ﺩﻝ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﮧ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﮯ
ﺗﻢ ﺑﻮﻝ ﮐﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﺮﭘﺎ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ
ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻓﻘﻂ ﺗﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﻣﭧ ﺟﺎﺗﮯﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﻧﻘﺶ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯﺳﺐ ﮐﮯ
ﮐﭽﮫ ﻋﮑﺲ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﮨﯽ ﺗﻮ ﮨﺠﺮﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭﻭﮞ ﭘﮧ ﺩﯾﺎ ﺭﻭﺯ ﺟﻼ ﮐﺮ
ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ

13626643_1805199733049532_7382226812157772284_n.jpg

Zarnish Ali

Mobhabat zindagi hai

ﻣﺤﺒﺖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺐ ﺩﺑﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﺴﯽ ﺩﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺋﮯ
ﺑﮩﺖ ﺁﮨﺴﺘﮕﯽ ﺳﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﮮ
ﺗﻮ ﺍُﺱ ﺩﺳﺘﮏ ﮐﮯ ﺟﺎﺩُﻭ ﺳﮯ
ﺩَﺭﻭﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺭﻧﮕﺖ ﺑﺲ ﺍِﮎ ﭘَﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﮯ
ﻓﻀﺎ ﮐﯽ ﻧﻐﻤﮕﯽ ﺍِﮎ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻠﺘﯽ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﺳﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﯽ ﺟﮭﻠﻤﻞ ﻣﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺳﺮﺳﺮﯼ ﺳﮯ ﺍِﮎ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﯽ ﮨَﻮﺍ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ
ﮐﺴﯽ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﮐﯽ ﺻُﻮﺭﺕ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﻟﮩﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺍﮎ ﻟﻤﺤﮧ، ﺯﻣﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﭘﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪّ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ
ﯾﮧ ﮐُﮭﻠﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﺘﮧ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﻨﺰﻝ ﻧﺸﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﯾﻘﯿﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺍﻓﻀﻞ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺍﮎ ﺍﯾﺴﺎ ﮔﻤﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻮﮌ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺳﻔﺮ ﺧﻮﺩ ﻧﺎﺯ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍِﮎ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﯿﺞ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ " ﺯﻧﺪﮔﯽ " ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍُﺳﮯ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺌﮯ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ
" ﻣﺤﺒﺖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ
ﺩِﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﻔﺮﯾﻖ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﻮ ﻣﺎﮦ ﻭ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﮔِﻨﺘﯽ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻣﻌﻨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ
ﺟﻮ ﺍَﺏ ﺗﮏ ﺗﮭﮯ "
ﺳِﻤﭧ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﺭﺷﺘﮯ
ﺍﮎ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺵ ﻧﮕﺎﮨﯽ ﻣﯿﮟ
ﮐﮧ ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨُﻤﮑﺘﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﮕﻮﮞ ﭼﺎﺩﺭ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ
ﮨﻤﺎﺭﮮ " ﮨﺴﺖ " ﮐﺎ ﭘﯿﮑﺮ ﺳﻨﻮﺭﺗﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﭘُﺮﺍﻧﮯ، ﺁﺷﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍَﻥ ﺑﻨﮯ ﻣﻨﻈﺮ
ﮐﺌﯽ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻠﺘﮯ،
ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﻟﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﻠﯿﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺯﻣﯿﮟ ﭼﮩﺮﮦ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﮯ، ﺁﺳﻤﺎﮞ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﻭﻓﺎ ﺻﻮﺭﺕ
ﮐﺴﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﮐُﻠﯿﺌﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﮬﻠﺘﯽ
ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻧﺸﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺟﻮ ﮨﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﮯ
ﯾﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺭُﻭﭖ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ
ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻭﮦ ﯾﮑﺘﺎ ﮨﮯ
ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍِﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﺍ ﺑﮭﯽ، ﻣﺤﺒﺖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﺍﺯﻝ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ، ﺍَﺑﺪ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﺍِﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﺪ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ، ﺍِﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﮩﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ

13891807_1811189822450523_8869266281625380860_n.jpg

Zarnish Ali

ﮬﺮ ﺟﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﯽ ﮐﯽ ﭼﺎﮬﺖ ﺗﮭﮯ
ﮬﻢ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﺗﮭﮯ
ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻠﻤﻼﺗﯽ ﮬُﻮﺋﯽ
ﮬﻢ ﻏﺰﻝ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﺗﮭﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﺩﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﻦ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﺎ
ﮬﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﺍﺯ ﻗﺎﻣﺖ ﺗﮭﮯ
ﺟﯿﺴﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﮯ
ﮬﻢ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺗﻨﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﮯ
ﭘﺎﺱ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﺩُﻭﺭ ﺩُﻭﺭ ﺭﮬﮯ
ﮬﻢ ﻧﺌﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺗﮭﮯ
ﺍِﺱ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ
ﻏﻢ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﮯ
” ﺑﺸﯿﺮ ﺑﺪﺭ

13912798_1812448432324662_5529421181695195176_n.jpg

Zarnish Ali

ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺑﺎﺏ ﺳﺎﺭﮮ
ﻭﮦ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻼﺏ ﺳﺎﺭﮮ
ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﻭﻓﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻨﺎﯾﺘﻮﮞ ﮐﺎ
ﻭﮦ ﭨﻮﭨﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﺋﺘﻮﮞ ﮐﺎ
ﺣﺴﺎﺏ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﮔﻼﺏ ﺭﺕ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﻗﺼّﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ
ﺗﻮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﮨﻢ ﺗﻢ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯿﮟ
ﺗﻮ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺑﺤﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﯾﮧ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﻻﺯﻭﺍﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ

13903210_1812947125608126_6051782632137342358_n.jpg

Zarnish Ali

ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﺯﺧﻢ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
ﺩﻭﺍ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ
ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺣﺸﺖ ﮨﻮ
ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﺩﺭﺩ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺍﺫﯾﺖ ﮨﻮ
ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﻧﺎﻡ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
ﺟﺴﮯ ﻟﯿﻨﺎ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮨﻮ
ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﮨﺠﺮ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
ﺟﻮ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺭﻓﺎﻗﺖ ﮨﻮ
ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
ﺟﺴﮯ ﺍُﮌﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﻮ
ﻣﺮﮮ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﻮﭼﻮ
ﺗﻮﺟﮧ ﺧﺎﺹ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺗﻢ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ
ﺑﺲ ﺍِﺱ ﮐﺎ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺗُﻢ

13902609_1812948475607991_6975863311180166786_n.jpg

Zarnish Ali

رقص...

میخانہ جس طرح تری آنکھوں میں کرے رقص
 اے کاش یہ دیوانہ تری بانہوں میں کرے رقص

 ہلچل مچائے سینے میں ترے لبوں کا تھر تھرانہ
 ہلیں لب ترے جیسے کنول لہروں میں کرے رقص

 اپنا تو وطیرہ ہے یہی غم میں بھی مُسکراؤ
 زیرپا جیسے رقاصہ کوئی زنجیروُںمیں کرے رقص

 تیرے بولنے سے ہلچل ہوئی فضا میں چار سوُ
 ساری دُنیا تری شہد بھری باتوں میں کرے رقص

 بس گئی تصویر تری ان آنکھوں میں اس طرح
 تیرا سایہ مرے کمرے کی دیواروں میں کرے رقص

 آئے تو میرے رُو برُو تو لگے ہے اس طرح
 جیسے درد بھی مرے دل کے زخموُں میں کرے رقص

 جھومے تیرے خیال کی رعنائیوں سے دل
 پھولوں بھری ٹہنی جیسے بہاروں میں کرے رقص

C__Data_Users_DefApps_AppData_INTERNETEXPLORER_Temp_Saved Images_384683_162338327204669_1933309951_n.jpg

Zarnish Ali

Dawa hai ka nahi....

ﻏﻢِ ﮨﺠﺮﺍﮞ ﮐﯽ ﺗﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺩﻭﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ
ﺟﺎﮞ ﺑﻠﺐ ﮨﮯ ﺗﺮﺍ ﺑﯿﻤﺎﺭ ، ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺗﻮ ﺩﻝ ﻟﮯ ﮐﮯ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ
ﺟﮭﺎﻧﮏ ﻟﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻢ ﺑﺨﺖ ﺫﺭﺍ ، ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﺨﻤﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﯼ ﺁﮨﭧ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ
ﯾﮧ ﻣﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺩﮬﮍﮐﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﺪﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﻧﺎ ، ﮔﺰﺭ ﺟﺎﻧﺎ ، ﺗﻐﺎﻓﻞ ﮐﺮﻧﺎ
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ
ﺍﮨﻞ ﺩﻝ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﮈﮬُﻮﻧﮉﺍ ، ﺍُﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ
ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ، ﺧﺪﺍ ﮨﮯ ، ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﻢ ﺗﻮ ﻧﺎﺣﻖ ﻣﺮﯼ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺮﺍ ﻣﺎﻥ ﮔﺌﮯ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﺗﻢ ﺳﮯ ، ﺑﺠﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﺁﺑﺮﻭ ﺟﺎﺋﮯ ﻧﮧ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﻧﺼﯿﺮ
ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ، ﯾﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ

14079742_1815300685372770_1962677059779868916_n.jpg

Zarnish Ali

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی ، کچھ تھا تیرا خیال بھی
 دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

 

 بات وہ آدھی رات کی ، رات وہ پورے چاند کی
 چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی

 سب سے نظر بچا کہ وہ مجھ کو ایسے دیکھتا
 ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی

 دل کو چمک سکے گا کیا ، پھر بھی ترش کے دیکھ لیں
 شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی

 اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا
 اب جو پلٹ کے دیکھئیے ، بات تھی کچہ محال بھی

 مری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
 ہاتھ دعا سے یوں گرا ، بھول گیا سوال بھی

 اس کی سخن طرازیاں مرے لئے بھی ڈھال تھیں
 اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی

 گاہ قریب شاہ رگ ، گاہ امید دائم و خواب
 اس کی رفاقتوں میں رات ، ہجر بھی تھا وصال بھی

 اس کے بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے
 جسم کی خواہش پہ تھے روح کے اور جال بھی

 شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا
 موج ہوائے کوئے یار ، کچھ تو مرا خیال بھی

C__Data_Users_DefApps_AppData_INTERNETEXPLORER_Temp_Saved Images_14494833_1073561449347707_3293434024253823917_n.png

Zarnish Ali

haseen tar hai...

وہ آئینوں سے جو بے خبر ہے ، حسین تر ہے
 وہ جس پہ ٹھہری ہوئی نظر ہے ، حسین تر ہے

جو دھوپ اوڑھے ہوئے بھی سایہ تو دے رہی ہے
 وہ شاخ کتنی ہی بے ثمر ہے ، حسین تر ہے

 

 جو سر پہ دستِ کرم ہے ان کا تو رنج کیسا
 پھر عمر جتنی بھی مختصر ہے ، حسین تر ہے

وہ شہر ان کا کمال سے بھی کمال ہے پر
 وہ ان کے در کی جو رہگزر ہے ، حسین تر ہے

فشارِ جاں بھی قرارِ جاں ہی لگے ہے اب تو
 جو مجھ پہ طاری ترا اثر ہے ، حسین تر ہے

جو حق پہ بولے، زبان کھولے، سکوت توڑے
 مرے لیے تو وہ معتبر ہے ، حسین تر ہے

یہاں وہاں ہے ، اِدھر اُدھر ہے ، کدھر کدھر ہے
 ترا تصّور جدھر جدھر ہے ، حسین تر ہے

FB_20161022_21_54_11_Saved_Picture.jpg

Zarnish Ali

ﮨﻢ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﯿﻮﮞ ﺧﻮﺍﺏ ﺍﺩﮬﻮﺭﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔؟؟
ﮐﯿﻮﮞ ﯾﺎﺩ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔۔؟؟
ﮐﯿﻮﮞ ﺩﺭﺩ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔؟؟
ﮐﯿﻮﮞ ﺍﮐﺜﺮ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﯽ ﭼﻠﻤﻦ ﻣﯿﮟ
ﺍﮎ ﺟﺎﻻ ﺳﺎ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﯿﻮﮞ ﻗﺪﻡ ﻟﮍﮐﮭﮍﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔؟؟
ﮨﻢ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﯿﻮﮞ ﭘﻠﮑﯿﮟ ﻧﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔۔؟؟
ﮨﻢ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﮐﺜﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﮑﯽ
ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺯﮨﺮ ﺍﮔﻠﺘﯽ ﮨﮯ
ﮐﯿﻮﮞ ﮨﺠﺮ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔۔؟؟
ﺟﺐ ﻭﺻﻞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﮐﯿﻮﮞ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﻮﺍﻧﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔؟؟
ﮐﯿﻮﮞ ﺩﺭﺩ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺳﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔؟؟
ﮨﻢ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﯿﻮﮞ ﺧﻮﺍﺏ ﺍﺩﮬﻮﺭﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔

14199183_1821533798082792_812183209742378369_n.jpg

Zarnish Ali

ﻣﺮﯼ ﺗﮭﻢ ﺗﮭﻢ ﺟﺎﻭﮮ ﺳﺎﻧﺲ ﭘﯿﺎ
ﻣﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮫ ﮐﻮ ﺳﺎﻭﻥ ﺭﺍﺱ ﭘﯿﺎ
ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻦ ﺳﻦ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮎ ﺍﭨﮭﮯ
ﺗﺮﺍ ﻟﮩﺠﮧ ﺑﮩﺖ ﺍﺩﺍﺱ ﭘﯿﺎ
ﺗﺮﮮ ﭘﯿﺮ ﮐﯽ ﺧﺎﮎ ﺑﻨﺎ ﮈﺍﻟﻮﮞ
ﻣﺮﮮ ﺗﻦ ﭘﺮ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺎﺱ ﭘﯿﺎ
ﺗُﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﺑﮭﯽ، ﺗُﻮ ﺑﺎﻃﻦ ﺑﮭﯽ
ﺗﺮﺍ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﭘﯿﺎ
ﺗﺮﯼ ﻧﮕﺮﯼ ﮐﺘﻨﯽ ﺩﻭﺭ ﺳﺠﻦ
ﻣﺮﯼ ﺟﻨﺪﮌﯼ ﺑﮩﺖ ﺍﺩﺍﺱ ﭘﯿﺎ
ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮐﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﺯﻟﻮﮞ ﺳﮯ
ﺗُﻮ ﺍﻓﻀﻞ، ﺧﺎﺹ ﺍﻟﺨﺎﺹ ﭘﯿﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺭﺩ ﻗﺒﻮﻝ ﺳﺠﻦ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﮨﺴﺘﯽ ﺭﺍﺱ ﭘﯿﺎ

 

14344195_1830021267234045_3776607359786001390_n.jpg

Zarnish Ali

ﺗﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ***
ﺯﺭﺍ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ
ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺍﮎ ﺍﮎ ﻭﺭﻕ ﭘﺮ
ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺮﺵ ﭘﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ
ﺗﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﮬﯽ ﮬﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮬﻮﺍ
ﻣﯿﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮬﻮﮞ ﺑﮯ ﻧﻮﺍ
ﺗﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺏ ﻣﯿﮟ
ﺯﺭﺍ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ
ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻟﺘﺠﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺭﮐﺘﯽ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ
ﺗﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﮐﮯ ﮔﮭﭗ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻼ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺟﻼ
ﻧﮩﯿﮟ ﺭﺍﺱ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ
ﺟﻮ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯽ ﻧﮧ ﮨﻨﺴﯽ ﺧﻮﺷﯽ
ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﮱ
ﻣﯿﺮﮮ ﭼﺎﻧﺪ ﺗﺎﺭﮮ ﮐﺪﮬﺮ ﮔﮱ
ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﻏﻢ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ
ﻟﺌﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﺲ ﺣﺴﺎﺏ ﻣﯿﮟ
ﺟﻮ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﯽ ﺳﻮ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﯽ
ﺗﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺏ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺷﮏ ﺗﺮ
ﮬﮯ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﺗﺮ ﺑﺘﺮ ...
ﻭﮦ ﺩﻝ ﻣﯿﺮﺍ ﺯﺧﻢ ﺍﮮ ﺟﮕﺮ
ﻣﯿﺮﯼ ﺍﮐﮭﮍﯼ ﺍﮐﮭﮍﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﮬﮯ
ﺑﺲ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺁﺱ ﮬﮯ ...
ﺑﺲ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻞ ﺳﮑﺎ
ﻭﮨﯽ ﺳﺎﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮬﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮬﻮﮞ ﺗﯿﺮﺍ ﻣﻨﺘﻈﺮ
ﺗﻮ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ
ﺗﻮ ﮬﯽ ﺫﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮬﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺏ ﻣﯿﮟ
ﻭﮦ ﺑﺎﺭﺷﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﯽ
ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮬﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺑﮩﮧ ﮔﺌﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﻭﺣﺸﺘﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺴﺮﺗﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﯿﮟ
ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺳﮑﺎ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﺳﮑﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﮯ ﺍﮮ ﺧﺪﺍ
ﺍﻧﮩﯽ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﻣﯿﮟ
ﮬﻢ ﮐﮭﻮ ﮔﮱ ﮨﯿﮟ ﮐﻮ ﺑﮧ ﮐﻮ
ﺗﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺏ ﻣﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺏ ﻣﯿﮟ

14359162_1830475983855240_3785754716532321427_n.jpg

Zarnish Ali

ﺩﻝ ﮐﯽ ﻧﯿﺖ ﺛﺒﻮﺕ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮬﮯ
ﺍﺏ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺛﺒﻮﺕ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮬﮯ
ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﺁﺩﻣﯿﺖ ﺛﺒﻮﺕ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮬﮯ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﻮ
ﺑﺮﺑﺮﯾﺖ ﺛﺒﻮﺕ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮬﮯ
ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻝ .. ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
ﺍﺏ ﯾﮧ ﻣﯿﺖ ﺛﺒﻮﺕ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮬﮯ
ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺻﻠﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﺍﻣﺮﯾﺖ ﺛﺒﻮﺕ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮬﮯ
ﮐﺮﺑﻼ ﺍﯾﮏ ﮬﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﮐﮧ ﻣﺸﯿﺖ ﺛﺒﻮﺕ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮬﮯ
ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺗﮭﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺩﻝ ﮐﯽ
ﺍﺏ ﻣﺤﺒﺖ ﺛﺒﻮﺕ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮬﮯ
ﭘﮩﻠﮯ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ
ﺍﺏ ﯾﮧ ﻋﺎﺩﺕ ﺛﺒﻮﺕ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮬﮯ
ﺍﺏ ﮐﮯ ﺻﺤﺮﺍ ﺳﮯ ﮬﻢ ﭘﻠﭧ ﺁﺋﮯ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﺣﺸﺖ ﺛﺒﻮﺕ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮬﮯ
ﮐﻮﻥ ﺑﮯﻋﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﻮﻝ !
ﮬﻢ ﺳﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺛﺒﻮﺕ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮬﮯ
) ﻓﺎﺧﺮﮦ ﺑﺘﻮﻝ

14370127_1830479927188179_3392505034113839407_n.jpg