News Ticker
  • “We cannot expect people to have respect for law and order until we teach respect to those we have entrusted to enforce those laws.” ― Hunter S. Thompson
  • “And I can fight only for something that I love
  • love only what I respect
  • and respect only what I at least know.” ― Adolf Hitler
  •  Click Here To Watch Latest Movie Jumanji (2017) 

Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

Urooj Butt

Sweet Friend

Your Song

My Favorite Songs
797/1000

Community Reputation

797 Excellent

About Urooj Butt

  • Rank
    Poetry Moderator
  • Birthday May 1

Profile Information

  • Gender
    Female
  • Location
    Gujrat
  • Interests
    listening Songs n watching Movies

Contact Methods

Recent Profile Visitors

4,033 profile views
  1. جب کبھی تجھ سے اجتناب کیا
    ہم نے خود کو بہت خراب کیا

  2. GAME SET MATCH Don't try to fix me I don't need to be saved don't bring me your religion or tell me to be brave don't offer me a shoulder I have two of my own my back is strong and I can do all of this alone. Don't try understand me if you don't have the time to walk with me just one more mile to understand this soul of mine don't offer me your Jesus. don't point out all my sin take a look at yourself first for I wont let you in. Don't come to me with promises I've heard it all before I did not ask for any help so don't knock on my door for time has shown me one great truth you are all the same I am nothing more to you than another fucking game ~ Jack Skeleton (C)
  3. The time has come to say goodbye just let this go be done with us We can't make this go We can't make this right This rift between us Is just too wide We cannot cross This great divide I'm saying goodbye I'm letting go ~Jill Riley
  4. THE SHIT THAT FITS Made up of the broken pieces made up from the shattered bits made up of the the little fragments made up of the shit that fits I am made from all my battles resurrected from the ground put together oh so slowly from pieces lying all around made up from the broken moments made from all my lonely days made from what I had to carry made up from those long dark ways made up from those weary moments all the times I fell apart put together on so slowly from broken pieces of my heart made from times I could not handle made from every tear I shed made from all my weakest moments made from all those times I bled put together oh so slowly pieces picked up little bits made up from those broken moments made up from the shit that fits ~ Jack Skeleton (C)
  5. تمہیں پا کر یہ احساس ہوا ہے مجھ کو کہ جو پل گزرے ہیں تم بن سب کہ جو سانس لیے ہیں تم بن سب کہ جو پھول چنے ہیں تم بن سب کہ جو راہ چلے ہیں تم بن سب کہ جو خواب دکھے ہیں تم بن سب کہ جو خواہشیں کی ہیں تم بن سب کہ جو دن رات کٹے ہیں تم بن سب کہ جو اشعار محبت کے لکھے ہیں تم بن سب کہ جو اقرار نفاست کے سنے ہیں تم بن سب کہ جو دعوے نزاکت کے کیے ہیں تم بن سب کہ جو تعویذ محبت کے لکھے ہیں تم بن سب ہے میری عمر کا بے لوث خسارا بس ہے میری منزل سے بہت دور کنارہ بس تمہیں پا کر یہ احساس ہوا ہے مجھ کو۔۔۔
  6. بوند بوند_______پیار چین نہ_________قرار خواہشیں ہیں خون خون عشق تیز________دھار آنسو جلے جلے سے ارماں بجھے بجھے سے لمحے رکے رکے سے تیرا___________انتظار انکھیں جمی جمی سی سانسیں تھمی تھمی سی تو بھی خفا خفا ہے ناراض ہے خدا بھی پھول پھول________خار درد کی__________بہار خواہشیں ہیں خون خون عشق تیز_________دھار کانٹوں بھرا ہے جنگل اک اگ ہے مسلسل اے عشق تو مسیحا اے عشق تو ہے قاتل جیت جیت_________ہار موت بار__________بار خواہشیں ہیں خون خون عشق تیز_________دھار آنسو جلے جلے سے ارماں بجھے بجھے سے لمحے رکے رکے سے تیرا___________انتظار بوند بوند__________پیار
  7. Dear Love❤
    Grab your Coat,Leave a note & Run away with me??<3

    Edited by Urooj Butt
  8. poetry

    Anabiya Haseeb sweetlines❤
  9. مانا کے ہم یار نہیں 
    لو طے ہے کے پیار نہیں
    پھر بھی نظریں نہ تم ملانا
    دل کا اعتبار نہیں
    راستے میں جو ملو تو
    ہاتھ ملانے رک جانا
    ساتھ میں کوئی ہو تمہارے
    دور سے ہی تم مسکانا
    لیکن مسکان ہو ایسی 
    کہ جس میں اقرار نہیں
    نظروں سے نہ کرنا تم بیاں
    وہ جس سے انکار نہیں
    مانا کے  ہم یار نہیں

  10. مرے دل کی خطائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں خطاؤں پر سزائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں قیامت ہیں کہاں سے میں کہاں آیا کہاں سے دل کہاں پہنچا محبت کی ہوائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں نہیں معلوم کیا روزِ جزا پیش آنے والا ہے قیامت میں سزائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں کوئی جیتا ہے ان سے اور مرتا ہے کوئی ان پر لگاوٹ کی ادائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں علاجِ عشق سے اے چارہ گر تکلیف بڑھتی ہے مرے حق میں وہ دوائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں یہی کہتا ہے سُن سُن کر وہ اہلَ غم کے نالوں کو فقیروں کی صدائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں ادھر میری طبیعت بھی نہیں رکتی نہیں تھمتی اُدھر اُن کی صدائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں چلو رندو بڑھو آؤ پیو پھر فصلِ گل آئی یہ ساقی کی صدائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں کہیں ایسا نہ ہو بڑھ جاۓ پہلے سے جنوں میرا گھٹائیں بھی ہوائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں قیامت کے جو منکر ہوں وہ دیکھیں میری آنکھوں سے حسینوں کی ادائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں دمِ بے داد وہ اے نوحؔ دل میں یہ سمجھ رکھے ہماری بد دعائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں نوحؔ ناروی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  11. ﯾﮧ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﮧ ﻭﺻﺎﻝِ ﯾﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ، ﯾﮩﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﺮﮮ ﻭﻋﺪﮮ ﭘﮧ ﺟﺌﮯ ﮨﻢ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﺟﮭﻮﭦ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﺮﯼ ﻧﺎﺯﮐﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻋﮩﺪ ﺑﻮﺩﺍ ﮐﺒﮭﯽ ﺗُﻮ ﻧﮧ ﺗﻮﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﺘﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﺮﮮ ﺗﯿﺮِ ﻧﯿﻢ ﮐﺶ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﺟﻮ ﺟﮕﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻨﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﺎﺻﺢ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﺳﺎﺯ ﮨﻮﺗﺎ، ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻤﮕﺴﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮒِ ﺳﻨﮓ ﺳﮯ ﭨﭙﮑﺘﺎ ﻭﮦ ﻟﮩﻮ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﻧﮧ ﺗﮭﻤﺘﺎ ﺟﺴﮯ ﻏﻢ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺍﮔﺮ ﺷﺮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﻏﻢ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺟﺎﮞ ﮔﺴِﻞ ﮨﮯ، ﭘﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﺑﭽﯿﮟ ﮐﮧ ﺩﻝ ﮨﮯ ﻏﻢِ ﻋﺸﻖ ﮔﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ، ﻏﻢِ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮩﻮﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﺷﺐ ﻏﻢ ﺑﺮﯼ ﺑﻼ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺑُﺮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﺮﻧﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺮ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺟﻮ ﺭُﺳﻮﺍ، ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻏﺮﻕِ ﺩﺭﯾﺎ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍُﭨﮭﺘﺎ، ﻧﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺰﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺍُﺳﮯ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﮧ ﯾﮕﺎﻧﮧ ﮨﮯ ﻭﮦ ﯾﮑﺘﺎ ﺟﻮ ﺩﻭﺋﯽ ﮐﯽ ﺑﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﭼﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﮧ ﻣﺴﺎﺋﻞِ ﺗﺼﻮّﻑ، ﯾﮧ ﺗﺮﺍ ﺑﯿﺎﻥ ﻏﺎﻟﺐ ﺗﺠﮭﮯ ﮨﻢ ﻭﻟﯽ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺟﻮ ﻧﮧ ﺑﺎﺩﮦ ﺧﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ
  12. آہن کی سُرخ تال پہ ہم رقص کر گئے تقدیر تیری چال پہ ہم رقص کر گئے پنچھی بنے تو رفعتِ افلاک پر اُڑے اہل زمیں کے حال پہ ہم رقص کر گئے کانٹوں سے احتجاج کیا ہے کچھ اس طرح گلشن کی ڈال ڈال پہ ہم رقص کر گئے واعظ ! فریبِ شوق نے ہم کو لُبھا لیا فردوس کے خیال پہ ہم رقص کر گئے ہر اعتبارِ حُسنِ نظر سے گُزر گئے ہر حلقہ ہائے جال پہ ہم رقص کر گئے مانگا بھی کیا تو قطرہء چشمِ تصرفات ساغر تیرے سوال پہ ہم رقص کر گئے
  13. اے دردِ ہجر یار غزل کہہ رہا ہوں میں بے موسمِ بہار غزل کہہ رہا ہوں مہیں میرے بیانِ غم کا تسلسل نہ ٹوٹ جائے گیسئوں ذرا سنوار غزل کہہ رہا ہوں میں راز و نیازِ عشق میں کیا دخل ہے تیرا ہٹ فکرِ روزگار غزل کہہ رہا ہوں میں ساقی بیانِ شوق میں رنگینیاں بھی ہو لا جامِ خوشگوار غزل کہہ رہا ہوں میں تجھ سا سخن شناس کو ئی دوسرا نہیں سن لے خیالِ یار غزل کہہ رہا ہوں میں ناصر کاظمی
  14. میں تھک گیا ہوں اساطیر جمع کرتے ہوئے گذشتگاں کی تصاویر جمع کرتے ہوئے میں سوچتا ہوں ابھی تک کہ کتنا پیچھے ہوں اُس ایک شام کی تاخیر جمع کرتے ہوئے کسی کی بزم میں دل کیا غزل سرا ہوتا گزر گیا میں مزامیر جمع کرتے ہوئے نظر گلاب ِ لب و رخ سے شرمسار نہیں بیاضِ آبِ طباشیر جمع کرتے ہوئے میں صوفیا کے مزاروں پہ عمر بھر منصور پھرا ہوں لفظ میں تاثیر جمع کرتے ہوئے اک ایک وصل کا اسباب جمع کرتے ہوئے گنوائیں آنکھیں کہیں خواب جمع کرتے ہوئے گرفتِ شب میں تھے سو 'چشمہ جھیل' میں اپنی یہ عمر گزری ہے مہتاب جمع کرتے ہوئے ہوئی نہ بلب کے جتنی بھی روشنی ہم سے ہزار کرمک ِ شب تاب جمع کرتے ہوئے بنا لیا ہے سمندر طلب کی نائو میں سیاہ بختی کے گرداب جمع کرتے ہوئے صدف سے چاہتے پھرتے ہیں موتیوں کی فصل کسی حباب میں تالاب جمع کرتے ہوئے خزانہ کیسی محبت کا دل کے دریا سے ملا ہے ملبہ ء غرقاب جمع کرتے ہوئے بدن کے جار میں کتنی دراڑیں آئی ہیں عجیب طرح کے تیزاب جمع کرتے ہوئے جنابِ صدر پہ پھینکا وہ دیکھئے کیا ہے کسی غریب نے اعصاب جمع کرتے ہوئے اداسیاں ہیں ، جدائی ہے اور آنسو ہیں گزر گئی یہی احباب جمع کرتے ہوئے چراغاں کر لیا بخت ِسیاہ میں منصور دکھوں کے گوہر ِ نایاب جمع کرتے ہوئے میں جل گیا گل و گلزار جمع کرتے ہوئے بدن میں سایہ ء دیوار جمع کرتے ہوئے مقابلے پہ لے آئی ہے واہموں کے ہجوم فسردگی بھی مددگار جمع کرتے ہوئے کسی نشیب ِ سیہ میں ہے گر پڑی شاید نگاہ ، صبح کے آثار جمع کرتے ہوئے خود اپنا آپ بھی کونے میں دھر دیا میں نے کہانی کے کہیں کردار جمع کرتے ہوئے برِصغیر کے لوگوں کو بھوک دی افسوس بھیانک اٹیمی ہتھیار جمع کرتے ہوئے ہزاروں روز جہنم رسید ہوتے ہیں جہاں میں درہم و دینار جمع کرتے ہوئے بدل دی تُو نے تغزل کی شکل بھی منصور غزل میں درد کے انبار کرتے ہوئے محسن نقوی ۔۔
  15. جو مخالف تھے کبھی شہر میں دیوانوں کے آج مہمان ہی لوگ ہیں ویرانوں کے تم کو آنا ہے تو آ جاؤ، ابھی زندہ ہوں پھول مرجھائے نہیں ہیں ابھی گلدانوں کے شمع کو اور کوئی کام نہ تھا محفل میں رات بھر پَر ہی جلاتی رہی پروانوں کے ایک تہمت بھی اگر اور لگائی ہم پر راز ہم کھول کے رکھ دیں گے شبستانوں کے تجھ کو معلوم نہیں گیسوئے برہم کا مزاج روگ تجھ کو بھی نہ لگ جائیں پریشانوں کے
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.