Zarnish Ali

V.I.P Member
  • Content count

    2,124
  • Points

    ♥11,789 
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    132

Your Song

My Favorite Songs
7,919/20000

Community Reputation

7,919 VIP Superstar

About Zarnish Ali

  • Rank
    Poetry Moderator
  • Birthday 08/10/1991

Profile Information

  • Gender
    Female
  • Location
    Lahore Pakistan

Contact Methods

Recent Profile Visitors

29,703 profile views
  1. لبوں پہ گیت تو آنکھوں میں خواب رکھتے تھے
    کبھی کتابوں میں ہم بھی گلاب رکھتے تھے

    کبھی کسی کا جو ہوتا تھا انتظار ہمیں
    بڑا ہی شام وسحر کا حساب رکھتے تھے

     

    18581963_1402426826511621_2142077270598366955_n.jpg

  2. اور کچھ نہیں بدلا

    آج بعد مدت کے

    میں نے اُس کو دیکھا ہے

    وہ ذرا نہیں بدلی!

    اب بھی اپنی آنکھوں میں

    سو سوال رکھتی ہے

    چھوٹی چھوٹی باتوں پہ

    اب بھی کھل کے ہنستی ہے

    اب بھی اُس کے لہجے میں

    وہ ہی کھنکھناہٹ ہے

    وہ ذرا نہیں بدلی!!

    اب بھی اُس کی پلکوں کے

    سائے گیلے رہتے ہیں

    اب بھی اُس کی سوچوں میں

    میرا نام رہتا ہے

    اب بھی میری خاطر وہ

    اُس طرح ہی پاگل ہے

    وہ ذرا نہیں بدلی!

    آج بعد مدت کے

    میں نے اُس کو دیکھا ہے

    تو مجھے بھی لگتا ہے

    میں بھی اُس کی چاہت میں

    اُس طرح ہی پاگل ہوں

    بعد اتنی مدت کے

    اور کچھ نہیں بدلا!

    جُز ہمارے رستوں کے

    اور کچھ نہیں بدلا

    # Pari

     

    18620399_1402432879844349_4890834296680740982_n.jpg

  3. کبهی یوں بهی ہو سر بزم وه
    مجهے یہ کہے کہ غزل سنا!!
    میں غزل غزل میں اسے یہ کہوں،
    میرا کوئی نہیں تیرے سوا

    19149184_1423119134442390_630097385268330710_n.jpg

  4. زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے. میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں. بلقیس خان تمھاری یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں. پھر اس میں رہنے کی کوئی جگہ بناتی ہوں. وہ اپنے گرد اٹھاتا ہے روز دیواریں. میں اس کی سمت نیا راستہ بناتی ہوں. زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے. میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں. وہ گھول جاتا ہے نفرت کی تلخیاں آ کر. میں چاہتوں کا نیا ذائقہ بناتی ہوں. خیال و حرف تغزل میں ڈھال کر بلقیس. میں اپنے درد سبھی غزلیہ بناتی ہوں.
  5. چاند اُس دیس میں نکلا کہ نہیں ! جانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں ! اے مجھے جاگتا پاتی ہُوئی رات وہ مری نیند سے بہلا کہ نہیں ! بھیڑ میں کھویا ہُوا بچہ تھا اُس نے خود کو ابھی ڈھونڈا کہ نہیں ! مجھ کو تکمیل سمجھنے والا اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں ! گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیں ! بند کمرے میں کبھی میری طرح شام کے وقت وہ رویا کہ نہیں ! میری خوداری برتنے والے! تیر اپندار بھی ٹوٹا کہ نہیں ! الوداع ثبت ہُوئی تھی جس پر اب بھی روشن ہے وہ ماتھا کہ نہیں ! پروین شاکر
  6. poetry

    nice
  7. poetry

    میر و غالب کو ٹوکتا ہوں میں سُن رکھو جون ایلیا ہوں میں
  8. بہت آسان ہے کہنا مگر کرنا بہت مشکل.........
    کہ جن کی قید میں خود ہوں, انہیں آزاد کیا کرنا

  9. حیا : ''جہان!''
    جہان : ''ہوں؟''
    حیا : ''تم مذہبی ہو؟''
    جہان : ''تھوڑا بہت۔''
    حیا : ''لگتے نہیں ہو۔''
    جہان : ''میں کیا کرتا تو مذہبی لگتا؟''
    حیا : ''یہ تو مجھے نہیں پتا۔ ویسے تم نے دعا میں کیا مانگا؟''
    جہان : ''میں نے زندگی مانگی۔''
    حیا : ''زندگی؟''
    جہان : ''انسان وہی چیز مانگتا ہے جس کی اسے کمی لگتی ہے، سو میں ہمیشہ زندگی مانگتا ہوں۔ اگر زندگی ہے تو سب خوبصورت ہے، نہیں ہے تو سب اندھیر ہے۔''
    اور جہان(میجر احمد)کی زندگی پتا ہے کون تھی
    💝حیا...مسسز حیا میجر جہان سکندر احمد💝

  10. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
    ﺍﻟﺴَّــــــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ
    صبح کی پہلی یاد 
    ہماری محبت کی محور ہوا کرتی ہے 
    کبھی کلام پاک کی خوشبو تو کبھی
    ہوا کے ساتھ تلاوت کی مہک اور کبھی تکبیر کی آوازیں مگر یہ سب وہی محسوس کرسکتا ہے جو مخلص ہو اپنے سجدوں سے اپنی وفا سے ــــ

  11. ‏جو تو ہی مقابل ہے میرے ___ تو فتح کیسی
    ساری جیتیں تجھ پر وار گئے ____ ہم ہار گئے

  12. ‏رات کی بے کراں اُداسی میں 
    ایک آہٹ پہ دل دھڑکتا ہے

    انور_زاہدی

     

    18765954_1367446269971217_2548123425558593064_n.jpg

  13. ‏قبر پہ دیپ نہ رکھ، نام کا کتبہ نہ لگا
    ہم نے مشکل سے یہ تنہائی کمائی ہوئی ہے

    راشدامین

     

    18839073_1367489233300254_7502364924104324163_n.jpg

  14. بروزِ حشر مِلے گا ضرور صبر کا پھل یہاں تُو ہو نہ ہو میرا ، وہاں تو ہوگا ہی اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ہوگا ہی یہ رازِ بوسۂ لب ہے، عیاں تو ہوگا ہی تمام شہر جو دھندلا گیا تو حیرت کیوں؟ دِلوں میں آگ لگی ہے ، دھواں تو ہوگا ہی بروزِ حشر مِلے گا ضرور صبر کا پھل یہاں تُو ہو نہ ہو میرا ، وہاں تو ہوگا ہی یہ بات نفع پرستوں کو کون سمجھائے؟ کہ کاروبارِ جنُوں میں زیاں تو ہو گا ہی ہم اس اُمید پہ نکلے ہیں جھیل کی جانب کہ چاند ہو نہ ہو ، آبِ رواں تو ہوگا ہی مَیں کُڑھتا رہتا ہوں یہ سوچ کر کہ تیرے پاس فُلاں بھی بیٹھا ہو شاید ، فُلاں تو ہوگا ہی! یہ بات مدرسۂ دل میں کھینچ لائی مجھے کہ درس ہو کہ نہ ہو ، امتحاں تو ہو گا ہی مگر وہ پھول کے مانند ہلکی پُھلکی ھے ! سو اُس پہ عشق کا پتھر گراں تو ہو گا ہی غزل کے روپ میں چمکے کہ آنکھ سے چھلکے یہ اندرونے کا دکھ ھے ، بیاں تو ہوگا ہی بڑی اُمیدیں لگا بیٹھے تھے سو اب "فارس" ملالِ بے رخئ دوستاں تو ہو گا ہی
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.