News Ticker

Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

Search the Community

Showing results for tags 'nazm' in content posted in Shair-o-Shaa'eri.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

  • Ishq_janoon_Dewanagi
  • Uzee khan
  • Beauty of Words
  • Tareekhi Waqaiyaat
  • Geo News Blog
  • The Pakistan Tourism
  • My BawaRchi_KhaNa
  • Mukaam.e.Moahhabt
  • FDF Members Poetry
  • Sadqy Tmhary
  • FDF Online News
  • Pakistan
  • Dua's Kitchen
  • Raqs e Bismil

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Articles

Categories

  • Records

Calendars

  • Community Calendar
  • Pakistan Holidays

Genres

  • English
  • New Movie Songs
  • Old Movies Songs
  • Single Track
  • Classic
  • Ghazal
  • Pakistani
  • Indian Pop & Remix
  • Romantic
  • Punjabi
  • Qawalli
  • Patriotic
  • Islam

Categories

  • Islam
  • Online Movies
    • English
    • Indian
    • Punjabi
    • Hindi Dubbed
    • Animated - Cartoon
    • Other Movies
    • Pakistani Movies
  • Video Songs
    • Coke Studio
  • Mix Videos
  • Online Live Channels
    • Pakistani Channels
    • Indian Channels
    • Sports Channels
    • English Channels
  • Pakistani Drama Series
    • Zara Yaad ker
    • Besharam (ARY TV series)
  • English Series
    • Quantico Season 1
    • SuperGirl Season 1
    • The Magicians
    • The Shannara Chronicles
    • Game of Thrones

Found 33 results

  1. ! پھڑ ونجھلی بدل تقدیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا تیری اک ذات نال وسدا جہان اے تن من کیتا اساں تیتھوں قربان اے ! سچے پیار دے گواہ پنج پیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا اکھاں تینوں ویکھیا تے ہو گیاں تیریاں میریاں تے سانہواں ہن رہیاں نہیں میریاں ! وِسے من وچ تیری تصویر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا بھلا ہووے رانجھنا بختاں دے تارے دا راہ جہنے دسیا اے تخت ہزارے دا ! میری جند جان تیری جاگیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھا مجھیاں دا چاک نئیں توں جگ تیرا چاک اے دنیا دا روپ تیرے جوڑیاں دی خاک اے ! تیرے جوڑیاں اچ ہووے گی اخیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا کیدو بھانویں دیندا رہوے پہرا ساڈے پیار دا سنگ تیرا ہووے تے کی خوف اے سنسار دا ! وے میں رسماں دی توڑاں گی زنجیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا بنا ساقی جس طرح میخانیاں دے حال نیں تیرے بنا بیلے دیاں رونقاں محال نیں ! مر جاواں جے میں بدلاں ضمیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا
    Heer Ranjha Ranjha Wallpaper vanjli
  2. سال بہ سال ، یہ سال بدل جاتے ہیں ایّامِ زیست کمال ، زوال بدل جاتے ہیں اِک لمحہ خاص بھی ہوجاتے ہیں خاک لوگ بھی کیا کیا ، کمال بدل جاتے ہیں مُحبتیں ، عشق ، نفرتیں ، دائمی جُدائیاں دھیرے دھیرے سب خیال بدل جاتے ہیں تشنہ لبیِ مانندِ دشت صحرا جاتی نہی جواب مل جائیں تو سوال بدل جاتے ہیں سمجھ جاؤں ، جب فریب یار و اغیار کے سب یہ میرے پھر نئی چَال بدل جاتے ہیں مطلب ہوجائیں پورے ، جب بے وفاؤں کے حسبِ ضرورت ، یہ حال بدل جاتے ہیں پہلو میں روز ، نئے لوگ بدلتے ہوئے یہ لوگ سمتیں جنوب سے شمال بدل جاتے ہیں خواہشِ وصلِ حُسن کو جب مل جائے تعبیر پھر نظریں ، زاویہ جمال بدل جاتے ہیں جفا ، دھوکہ ، فریب ، جھوٹ ، خود غرضی مطلب ، ضرورتیں ، رویّے ، اشکال بدل جاتے ہیں
  3. nazm

    بہت یاد آتی ہیں __ باتیں پرانی یہی زندگی ___ قہقہے شادمانی ہمیشہ حسینوں سے آنکھیں لڑانی سدا کامیابی، سدا کامرانی بہت یاد آتی ہیں باتیں پُرانی وہ دن رات کوئے نگاراں کے پھیرے وہ کمرے فیروزاں وہ زینے اندھیرے وہ زلفوں کے حلقے وہ بانہوں کے گھیرے وہیں مدتوں جا کے راتیں بیتانی بہت یاد آتی ہیں __ باتیں پرانی سجی خلوتوں میں کبھی شغلِ مینا وہ محبوب خوش ادا خوش قرینہ کبھی اس کے ہاتھوں سے ضد کر کے پینا کبھی اپنے ہاتھوں سے اسکو پلانی بہت یاد آتی ہیں __ باتیں پرانی وہ سردی کی راتیں _ وہ جاڑے کا جوبن لحافوں میں کم سِن دلوں کی وہ دھڑکن چھڑانا اُن ہاتھوں سے اپنا وہ دامن وہ آنگن میں مہکی ہوئی رات رانی بہت یاد آتی ہیں __ باتیں پرانی نہ وہ دل نہ وہ دل کی نادانیاں ہیں نہ وہ ہم نہ _ وہ بزم سامانیاں ہیں نہ وہ دوستوں کی گل افشانیاں ہیں نہ وہ فکرِ رنگیں کی جولانیاں ہیں گئی شعر گوئی رہی نوحہ خوانی وہ بیتی جوانی__ وہ بیتی جوانی بہت یاد آتی ہیں __ باتیں پرانی
  4. حسن کی جنس خریدار لیے پھرتی ہے ساتھ بازار کا بازار لیے پھرتی ہے در بدر حسرت دل دار لیے پھرتی ہے سر ہر کوچہ و بازار لیے پھرتی ہے عدم آباد میں آنے کا سبب ہے ظاہر جستجوئے کمر یار لیے پھرتی ہے دل سوزاں سے نہیں کوئی نشان ظلمت مشعل آہ شب تار لیے پھرتی ہے آتے ہی فصل خزاں بلبل شیدا بہکی ہر طرف گل کی جگہ خار لیے پھرتی ہے دیر و مسجد میں تمنائے زیارت کس کی تم کو اے کافر و دیں دار لیے پھرتی ہے دشت میں قیس کو کیا آئے نظر جب لیلیٰ ساتھ میں گرد کی دیوار لیے پھرتی ہے دور ساغر میں نہیں کف سر بادہ ساقی دخت رز شیخ کی دستار لیے پھرتی ہے خون فرہاد سے بے چین ہے روح شیریں بے ستوں سے بھی گراں بار لیے پھرتی ہے گل سے کیوں کہہ نہیں دیتی ہے پیام بلبل اپنے سر باد صبا بار لیے پھرتی ہے مانتا ہی نہیں لیلیٰ کہ کرے کیا لیلیٰ ساتھ میں قیس کو ناچار لیے پھرتی ہے صدمہ پہنچا کسی گل کو کہ چمن میں بلبل خوں میں ڈوبی ہوئی منقار لیے پھرتی ہے کشتۂ ناز کی تربت نہ ملے گی بلبل پھول منقار میں بے کار لیے پھرتی ہے طائر دل کو ہوائے خم زلف صیاد صورت مرغ گرفتار لیے پھرتی ہے جنبش پا سے ہے گلیوں میں قیامت برپا ساتھ محشر تری رفتار لیے پھرتی ہے کوہ کن خود تو سبک دوش ہوا، پر شیریں سر پہ الزام کا کہسار لیے پھرتی ہے دشت غربت میں نہیں پھرتا ہوں خود آوارہ گردش چرخ ستم گار لیے پھرتی ہے ساتھ دنیا کا نہیں طالب دنیا دیتے اپنے کتوں کو یہ مردار لیے پھرتی ہے حسرت دید اثرؔ حضرت آتشؔ کی طرح پیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے
  5. حدودِ جاں سے گزر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا کوئی جنوں کی نظر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا وفا کا پودا شجر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا نصیب اس کا ثمر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا زمیں والوں میں گھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ترا فرشتہ بشر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا کہیں نہ کوئی شجر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا جو دھوپ کا ہی سفر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی تو پھرتے ہو دوستوں میں عزیز کوئی جداُ نہیں ہے کوئی اِدھر سے اُدھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا وہ جس کی خاطر زمانے بھر کو بنا رہے ہو تم اپنا دشمن وہی نہ اپنا اگر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی سنا ہے یہ لفظ تم نے تمہیں محبت ملی نہیں ہے کسی کی بانہوں میں گھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا یہ خوش نصیبی ہے شہر بھر میں تمھارا دشمنُ نہیں ہے کوئی کبھی کسی کا جو ڈر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا یہ فاصلہ سا ابھی تلک جو ہمارے دونوں کے درمیاں ہے یہ فاصلہ مختصر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا محبتوں میں تو پتھروں کو بھی موم ہوتے سناُ ہے لیکن تمھارے دل پہ اثر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی تو مشکل نہیں پڑی ہے زمانے والو نبھا رہے ہو کبھی نشانے پہ سر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا پھر ایک لیلیٰ گھری ہوئی ہے نئے زمانے کی تلخیوں میں، پھر ایک وعدہ امر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی تو چہرے بدل بدل کے معیار اپنا بنا رہے ہو کوئی نہ حد نظر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا یہ کیا بچھڑنا کہ شام ہوتے ہی اپنے پیاروں میں لوٹ آنا کبھی جو لمبا سفر ہوا تو !!! محبتوں کا پتہ چلے گا۔۔
  6. nazm

    اسے میں نے ہی لکھا تھا کہ لہجے برف ہوجاٰئیں تو پھر پگھلا نہیں کرتے پرندے ڈر کر اڑ جائیں تو پھر لوٹا نہیں کرتے یقیں اک بار اٹھ جائے کبھی واپس نہیں آتا ہواؤں کا کوئی طوفاں بارش نہیں لاتا اسے میں نے ہی لکھا تھا جو شیشہ ٹوٹ جائے تو کبھی پھر جڑ نہیں پاتا جو راستے سے بھٹک جائیں وہ واپس مڑ نہیں پاتا اسے کہنا وہ بے معنی ادھورے خط اسے میں نے ہی لکھا تھا !!اسے کہنا کے دیوانے مکمل خط نہیں لکھتے۔ ۔ ۔
  7. ﺗﻢ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺗﻢ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﭘﯿﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺯﮨﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﮐﮯ ﺟﯿﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﻟﮯ ﮐﻮ ﺻﺒﺢ ﮐﮯ ﺍﺟﺎﻟﮯ ﮐﻮ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻠﻤﻼﺗﮯ ﺁﻧﭽﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﮯ ﯾﻮﮞ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺗﻢ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮ۔۔ ﭼﮭﭗ ﮐﮯ ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﻮﮞ ﭼﮭﭙﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺑﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺲ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﯽ ﺣﻖ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺗﻢ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﻨﺘﯽ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﺟﮭﺮﻭﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺍﻥ ﮔﻨﺖ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮩﮯ ﺟﻮﺍﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺲ ﺍﻟﺠﮭﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ۔۔ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺗﻢ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺗﻢ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﮔﮩﺮﯼ ﮔﮩﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﺭﺑﯿﮟ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭼﮭﭗ ﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﭘﯿﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﯿﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ !!!...ﺗﻢ۔۔۔۔۔۔۔ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮ۔۔
  8. وہ اک معصوم سی لڑکی جو اڑتی تھی ہوا بن کر پرندوں کی صدا بن کر بہاروں کی ادا بن کر ستارے جسکی آنکھوں میں سراپا رقص رہتے تھے تبسم کے حسیں چشمے __جہاں دن رات بہتے تھے امنگیں جسکی باندی تھیں حسن تھا پیرہن جسکا تھے موسم جسکی مٹھی میں تھا گرویدہ چمن جسکا ابھی کل اسکو جو دیکھا سر دامان تنہائی نہ وہ چہرہ نظر آیا نہ وہ صورت نظر آئی نہ وہ ہنسی سنائی دی نہ وہ مسکاں سجھائی دی نہ وہ تارے نظر آئے_ نہ وہ رم جھم دکھائی دی وہ آنکھیں جن میں سے دن رات بس خوشیاں چھلکتی تھیں وہ لب کہ جنکے ہلنے سے سبھی کلیاں مہکتی تھیں وہاں اب ایک حسرت تھی فقط انجان وحشت تھی مگر خاموش آنکھوں میں جو میں نے جھانک کر دیکھا وہاں اک عکس پھیلا تھا کسی کا نام لکھا تھا پھر ان خاموش آنکھوں نے جو دیکھا غور سے مجھ کو تو وہ سب ان کہی باتیں فقط اک پل میں کہہ ڈالیں اسی پل اک صدا گونجی کہ جیسے بجلی سی لپکی تجھے اب کیا پرکھنا ہے تجھے کب تک پرکھنا ہے ___یہ خاموشی تمہارا نام لیتی جاتی ہے پیہم تجھے اب عمر بھر اس خامشی کا بھرم رکھنا ہے.
  9. nazm

    مجھے آنسوؤں کی طلب نہیں مجھے زندگی کی تلاش ھے جسے ڈھونڈ کر بھی نہ پا سکا مجھے پھر اسی کی تلاش ہے مجھے دشمنوں میں نہ ڈھونڈنا مجھے دوستوں میں تلاشنا میں محبّتوں کا سفیر ہوں مجھے دوستی کی تلاش ہے میری راہ عزم تلاش میں کوئ زندگی کا رفیق ہو کو ئ آنسو ؤ ں کا چراغ دے مجھے رو شنی کی تلاش ہے میں بلند یو ں کا ضمیر ہوں میں رفا قتو ں کا پزیر ہوں مجھے نفرتوں کی زمین پر محبّتو ں کی تلاش ہے
  10. nazm

    ﺗﻢ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﭘﯿﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺯﮨﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﮐﮯ ﺟﯿﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﻟﮯ ﮐﻮ ﺻﺒﺢ ﮐﮯ ﺍﺟﺎﻟﮯ ﮐﻮ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻠﻤﻼﺗﮯ ﺁﻧﭽﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﮯ ﯾﻮﮞ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺗﻢ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮ۔۔ ﭼﮭﭗ ﮐﮯ ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﻮﮞ ﭼﮭﭙﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺑﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺲ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﯽ ﺣﻖ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺗﻢ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﻨﺘﯽ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﺟﮭﺮﻭﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺍﻥ ﮔﻨﺖ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮩﮯ ﺟﻮﺍﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺲ ﺍﻟﺠﮭﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ۔۔ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺗﻢ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺗﻢ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﮔﮩﺮﯼ ﮔﮩﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﺭﺑﯿﮟ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭼﮭﭗ ﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﭘﯿﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﯿﺘﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺗﻢ۔۔۔۔۔۔۔ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮ۔۔
  11. nazm

    ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺁ ﺳﮑﯽ ﻧﮧ ﻧﺒﮭﺎﻧﯽ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﺍﺏ ﭘﮍ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﻼﻧﯽ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﺮ ﺑﺴﺮ ﻓﺮﯾﺐ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﻧﮑﺎ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﯾﮧ ﭘﯿﺎﺭ، ﺣﺴﻦ، ﻋﺸﻖ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﮐﻦ ﮐﻦ ﺭﻓﺎﻗﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﯾﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯿﮟ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﮔﺬﺭﯼ ﺭُﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺯﺧﻢ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺑﮭﺮﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﺎﻧﯽ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﯾﺎ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﮞ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﭙﺎﻧﯽ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﮦ ﺁﺝ ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﮔﮭﺮ، ﮨﺮ ﻣﻮﮌ، ﮨﺮ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮭﺎﻧﯽ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ۔ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻓﺮﺻﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﯽ ﮬﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺳﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ۔۔
  12. nazm

    سوچ کے کرنا کوئی ، پیمان جاناں وقت نہی رہتا سدا ، مہربان جاناں موسم ، وقت ، قسمت سب تُم جیسے کب بدل جائیں ، گردش دوران جاناں ممکن نہی ہے ہجرت ، روحِ قلوب سے دل وہ بِن بام و در کا ، زندان جاناں صحرا ، دشت ، شب ، ہُو کا عالم ہجر میں ہوا ہے دل ، بیابان جاناں اغراض ہوتے ہیں عنایتوں کے پیچھے یونہی لوگ نہیں ہوتے مہربان جاناں درخت پہ لکھے نام مٹ جاتے ہیں کتنے ہی انمٹ ہوں ، نشان جاناں دو دن جواں رُت پہ زعم بے معنی کون رہا ہے عمر بھر جوان جاناں کاروبار میں ہوتا ہے ، نفع در نفع عشق تو ہے سراسر نُقصان جاناں خوابِ مُحبت ہے ، سب خواب غفلت زندگی تو ہے سخت امتحان جاناں عشق عنوان ِ ہوس ہے دور جدید کا بن جاتے ہیں لوگ اب حیوان جاناں ادائیگیِ سود و اصل کے ، باوجود عشق ادا کرتا ہے تاعمر لگان جاناں قید سے کب کہیں کوئی جا سکا عشق مانگتا ہے ہونا قُربان جاناں ہجر مار ڈالے ، پتھر دلوں کو بھی عاشق بھی تو ہیں ، انسان جاناں آنکھ جھیل ، لب گُلاب ، قد دراز سُنہری رنگت ، آبرو کمان جاناں جہاں بتائے ، چند لمحے وصال کے یاد کرتا ہے وہ ، کچّا مکان جاناں میرے حال کی ہے تفسیر تیری زیرِ لب مچلتی ، مُسکان جاناں اظہار ہر بات کا لازم تو نہیں ہے سمجھ دھڑکنوں کی زبان جاناں
  13. nazm

    دِلِ گمشدہ! کبھی مل ذرا کسی خشک خاک کے ڈھیر پر یا کسی مکاں کی منڈیر پر دِلِ گمشدہ! کبھی مِل ذرا جہاں لوگ ہوں، اُسے چھوڑ کر کسی راہ پر، کسی موڑ پر دِلِ گمشدہ! کبھی مِل ذرا مجھے وقت دے، مری بات سُن مری حالتوں کو تو دیکھ لے مجھے اپنا حال بتا کبھی کبھی پاس آ! کبھی مِل سہی مرا حال پوچھ! بتا مجھے مرے کس گناہ کی سزا ہے یہ؟؟؟ تُو جنون ساز بھی خود بنا مری وجہِ عشق یقیں ترا مِلا یار بھی تو، ترے سبب وہ گیا تو ، تُو بھی چلا گیا؟؟؟ دِلِ گمشدہ؟؟؟ یہ وفا ہے کیا؟؟؟ اِسے کِس ادا میں لکھوں بتا؟؟؟ اِسے قسمتوں کا ثمر لکھوں؟؟؟ یا لکھوں میں اِس کو دغا، سزا؟؟؟
  14. nazm

    ! ﮐﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﺧــــــــﺮ ﺳﺮﺍﺏ ﭨﻮﭨﯿﮟ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﻋﺠﯿﺐ ﺷﮯ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺩﺷﺖِ ﺍﻣﮑﺎﮞ ﮐﯽ ﺍِﮎ ﻣﺴﺎﻓﺖ، ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺳﺘﮧ، ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺭﻭﺯ ﻭ ﺷﺐ ﮐﺎ ﻃﻠﺴﻢ ﭨﻮﭨﮯ ﻧﮧ ﻭﺍﮨﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺟﮩﺎﻥِ ﻓﺎﻧﯽ ﺑﺲ ﺍﮎ ﻓﺴﺎﻧﮧ، ﺑﺲ ﺍﮎ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻧﮧ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ، ﻧﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﺻﻮﺭﺕ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﻮ ﮨﻮﺵ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﭨﻮﭨﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﺧﺮ ﺳﺮﺍﺏ ﭨﻮﭨﯿﮟ
  15. مری تھم تھم جاوے سانس پیا مری آنکھ کو ساون راس پیا تجھے سن سن دل میں ہوک اٹھے ترا لہجہ بہت اداس پیا ترے پیر کی خاک بنا ڈالوں مرے تن پر جتنا ماس پیا تُو ظاہر بھی، تُو باطن بھی ترا ہر جانب احساس پیا تری نگری کتنی دور سجن مری جندڑی بہت اداس پیا میں چاکر تیری ازلوں سے تُو افضل، خاص الخاص پیا مجھے سارے درد قبول سجن مجھے تیری ہستی راس پیا
  16. nazm

    !وہ لڑکی.۔۔۔۔۔۔۔ چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے ,گلاب چہرے پہ مسکراہٹ !وہ ساحلوں کی ہوا سی لڑکی.۔۔۔ جو راہ چلتی تو ایسا لگتا کہ جیسے لہروں پہ چل رہی ہو وہ اِس تیقن سے بات کرتی کہ جیسے ساری دنیا اسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہو جو اپنے رستے میں دل بچھاتی ہوئی نگاہوں سے ہنس کے کہتی، تمھارے جیسے بہت سے لوگوں سے میں یہ باتیں .بہت سے برسوں سے سن رہی ہوں .میں ساحلوں کی ہوا ہوں نیلے سمندروں کے لئے بنی ہوں وہ کل ملی تو اُسی طرح تھی ,چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے گلاب چہرے پہ مسکراہٹ کہ جیسے چاندی پگھل رہی ہو !مگر،۔۔۔۔۔ جو بولی تو اُس کے لہجے میں وہ تھکن تھی ,کہ جیسے !!صدیوں سے دشتِ ظلمت میں جل رہی ہو،۔۔۔
  17. ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﻧﻈﻢ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣِﻞ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ !....ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺑﺎﻧﮩﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﯽ ﮐﺴﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﮯ ﭘﺎؤﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺸﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﺱ ﻗﺰﺡ ﺍُﺗﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺻﺤﯿﻔﮧ ﺭِﺣﻞ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ !......ﻗﺮﺁﮞ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺷﺎﻋﺮ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺧﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﻮﻧﭽﮭﮯ !.......ﺩﻻﺳﮧ ﻟﻔﻆ ﮐﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﮬﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﺴﯽ ﺧﻮﺍﮬﺶ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﯽ !......ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺿﺪ ﮐﻮ ﭘُﻮﺭﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺳﺘﺎﺭﮮ ، ﭼﺎﻧﺪ، ﺳُﻮﺭﺝ ، ﺭﻭﺷﻨﯽ، ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩَﺭ ﭘﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺩﮬﺮ ﺩﯾﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮ !.... ﮔُﻞِ ﻓﺮﺩﺍ ! ﺍﺑﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺟﺎﻭ ﮐﮩﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐِﮭﻞ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﻧﻈﻢ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣِﻞ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ
  18. nazm

    ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﮕﺰﺍﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﺟﯿﺴﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻧﮓ ﭘﮭﯿﮑﮯ ﮨﻮﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻮﺕ ﺭﺳﺘﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺎﺭ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮐﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﻮﻧﺎ ﭘﮍﺍ ﮨﻮ ﺷﮩﺮ ﺩﻝ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺟﺬﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎﺋﯽ ﻧﺎﮞ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﮎ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﭘﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﺎﮞ ﺁﺋﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﮨﻮﮞ ﺁﺭﺯﻭ ﮐﮯ ﺷﺠﺮ ﺟﯿﺴﮯ ﺭﮎ ﺭﮎ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﺲ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮯ ﻧﺎﻡ ﮨﻮ ﺩﻋﺎ ﮐﺎﺳﻔﺮ ﺟﯿﺴﮯ ﻗﺴﻄﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺮ ﮐﭩﺘﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﮎ ﺧﻮﻑ ﮐﮯ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﮮ ﮐﮯ ﭼﮭﭗ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮨﯽ ﻏﻢ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺍ ﺳﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﮭﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻮﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔۔۔
  19. nazm

    یہ جو قربتوں کا خمار ہے مرے اجنبی، مرے آشنا تو مصر کے آئینہ خانے میں ترے خال و خد کے سوا مجھے کہیں اور کچھ نہ دکھائی دے یہ عذابِ طوق و رسن میرا کسی قصرِ خواب و خیال تک مرے ذہن کو نہ رسائی دے مجھے راستہ نہ سجھائی دے تو یہ چھت جو اپنے سروں پہ ہے یہ جو بام و در کے حصار ہیں یہ جو رت جگوں کی بہار ہے یہ جو قربتوں کا خمار ہے تو اِسی پہ کیا شبِ عمر کی، سبھی راحتوں کا مدار ہے ؟ مرے اجنبی، مرے آشنا کہ دھواں دھواں سی جو ہے فضا یہ تھمی تھمی سی جو ہے ہوا یہ جو شور ہے دلِ زار کا کبھی اِس پہ غور کیا ہے کیا ؟ مرے اجنبی، مرے آشنا کبھی کاش تجھ سے میں کہہ سکوں کہ یہ ساعتیں ہیں کٹھن بہت مرے زخم جاں کے طبیب آ مرے تن بدن سے بھی ربط رکھ مری روح کے بھی قریب آ مرے اجنبی، مرے آشنا
  20. میں جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوں نہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہے نہ خال و خد کا جمال اس میں، نہ زندگی کا کمال کوئی جو کوئی اُس میں ہُنر بھی ہوگا تو مجھ کو اس کی خبر نہیں ہے نہ جانے پھر کیوں! میں وقت کے دائروں سے باہر کسی تصوّر میں اُڑ رہا ہوں خیال میں، خواب و خلوتِ ذات و جلوتِ بزم میں شب و روز مرا لہو اپنی گردشوں میں اسی کی تسبیح پڑھ رہا ہے جو میری چاہت سے بے خبر ہے کبھی کبھی وہ نظر چرا کر قریب سے میرے یوں بھی گزرا کہ جیسے وہ باخبر ہے میری محبتوں سے دل و نظر کی حکایتیں سن رکھی ہیں اس نے مری ہی صورت وہ وقت کے دائروں سے باہر کسی تصوّر میں اُڑ رہا ہے خیال میں، خواب و خلوتِ ذات و جلوت ِ بزم میں شب و روز وہ جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہے مگر نہیں جانتا یہ وہ بھی کہ ایسا کیوں ہے میں سوچتا ہوں، وہ سوچتا ہے کبھی ملے ہم تو آئینوں کے تمام باطن عیاں کریں گے حقیقتوں کا سفر کریں گے
  21. بُلا کر اپنے حُجرے میں کہا اک پِیر نے مجھ سے کہو، کس بات کا غم ہے مِری آنکھوں سے غمِ دریا کچھ ایسے پھوٹ کر نکلا کلیجہ پھٹ پڑا میرا کہا کہ تیرے سینے سے بلا ئیں آن چمٹی ہیں محبت بے بہا دےکر ملا نہ کچھ تجھے اب تک میرا تعویذ لے جا تُو بہت گہرا اثر ہو گا ترے جو نہ ہوئے اب تک تری تسبیح کریں گے وہ تجھے اپنا بنا لیں گے ذرا سا دیر سوچا پھر جھکائے سر چلا آیا محبت بھیک ہے کوئی؟ کہ در در مانگنے جاؤں جنھیں میری محبت بھی مرے اطراف نہ لائے انہیں تعویذ لائیں گے؟ محبت سے بڑا طلسم محبت سے بڑا جادو نہیں ہے کوئی دھرتی پہ محبت سے یہ ہیں آگے؟؟؟؟؟ ذرا سوچو بھلا ایسے بھی ممکن ہے؟
  22. لاکھ ضبطِ خواہش کے بے شمار دعوے ہوں اُس کو بھُول جانے کے بے پناہ اِرادے ہوں اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا فیصلہ سُنانے کو کتنے لفظ سوچے ہوں دل کو اس کی آہٹ پر برَملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے پھر وفا کےصحرا میں اُس کے نرم لہجے اور سوگوار آنکھوں کی خُوشبوؤں کو چھُونے کی جستجو میں رہنے سے رُوح تک پگھلنے سے ننگے پاؤں چلنے سے کون روک سکتا ہے آنسوؤں کی بارش میں چاہے دل کے ہاتھوں میں ہجر کے مُسافر کے پاؤں تک بھی چھُو آؤ جِس کو لَوٹ جانا ہو اس کو دُور جانے سے راستہ بدلنے سے دُور جا نکلنے سے کون روک سکتا ہے
  23. ﭼﻠﻮ صنم ! ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻧﺌﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﺏ ﻧﮯ ﯾﮩﯽ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎﺋﯽ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﮨﻢ ﺳﮯ ﮔﺴﺘﺎﺧﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ، ﮨﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﺍﺳﮑﮯ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
  24. سنو، اک بات کہنی ہے ابھی تک آرزو کے سب سنہری پھول کھلتے ہیں ابھی کلیاں چٹکتی ہیں، ابھی تارے چمکتے ہیں ہوائے شام میں اب بھی مہک محسوس ہوتی ہے ابھی ساحل کی گیلی ریت پر ٹوٹے گھروندوں کا ذرا سا نقش باقی ہے ابھی تک آنکھ میں بیتے ہوئے لمحوں کا زند٥ عکس باقی ہے لبوں پر کرب بکھرا ہے، لہو میں رقص باقی ہے ابھی تم ہاتھ مت چھوڑو تمناؤں کے آنگن میں ابھی برسات باقی ہے ابھی ہے دھند آنکھوں میں ابھی تم ہاتھ مت چھوڑو ابھی قصہ ادھورا ہے ابھی الجھی کہانی ہے ابھی الزام سہنے ہیں ابھی تہمت اٹھانی ہے ابھی رستے بدلنے ہیں ابھی ایقاں بکھرنا ہے ابھی تو دھول اڑنی ہے ابھی خوابوں کو مرنا ہے ابھی ہے آگ سانسوں میں،ابھی آنکھوں میں پانی ہے ابھی تم ہاتھ مت چھوڑو چلو کچھ دیر دونوں ساتھ چلتے ہیں
  25. ﺩﮬﻤﺎﻝ ﺩُﮬﻮﻝ ﺍُﮌﺍﺋﮯ ، ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻭﺟﺪ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ، ﺗﻮ ، ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﮩﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺟﻠﺘﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﮐﮯ ﺗﮩﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻼﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﭙِﺶ ﺗﻮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﻮ ﺁﮒ ﺍﺷﮏ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺩﮐﺎﻥِ ﻭﺻﻞ ﺗﻮ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﺍُﺩﺍﺱ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮨﺠﺮ ﮐﻤﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﺎﻝ ﻭ ﺧﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﯿّﺪ ﮨﻮ ﺳﻨﮓ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﭘﮕﮭﻞ ﮐﮯ،ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻗﺪﻡ ﻗﺪﻡ ﻭﮦ ﺩﮬﻤﮏ ﮨﻮ،ﺯﻣﯿﮟ ﺩﮬﮍﮎ ﺍُﭨّﮭﮯ ﻓﻠﮏ ﻏﺒﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﻋﺼﺎﺋﮯ ﺟﺬﺏ ﮐﯽ ﺿﺮﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﻧﺌﮯ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺩﺭﺩ ﺍُﭨﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺭﮦ ﺭﮦ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮧﺀ ﺷَﻖ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﺎ ﺍُﭘﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺩﺑﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﮯ ﻣﻠﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﮨﭩﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻋﺎﺷﻖ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺩﺷﺖ ﻧﻮﺭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺧﺎﮎ ﺍُﮌﺍﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺻﺪﺍ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺻﺪﺍ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﻓﻘﯿﺮ ﻧﺎﺩ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻋﮑﺲ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺷﺒﯿﮩﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻓﻠﮏ ﻓﺮﯾﺐ ﮨﻮﮞ ﺑﺎﺗﯿﮟ،ﺯﻣﯿﮟ ﻓﺮﯾﺐ ﻋﻤﻞ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺭﻣﺰ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﻏُﺒﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﺁﺋﮯ ﺟﻮ ﺯﺭ ﮐﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﻏِﻨﺎ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﮕﻮﻟﮧ ﻭﺍﺭ ﻭﮦ ﺟﺘﻨﺎ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﮧ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﮮ ﺯﻣﯿﮟ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﮭﻤﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺯِ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮨﮯ ﻧﯿّﺮ ﺍﻻﺅ ﺭﻭﺡ ﺟﻼﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ !!