Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

Search the Community

Showing results for tags 'poetry' in content posted in Shair-o-Shaa'eri.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

  • Ishq_janoon_Dewanagi
  • Uzee khan
  • Beauty of Words
  • Tareekhi Waqaiyaat
  • Geo News Blog
  • My BawaRchi_KhaNa
  • Mukaam.e.Moahhabt
  • FDF Members Poetry
  • Sadqy Tmhary
  • FDF Online News
  • Pakistan
  • Dua's Kitchen
  • Raqs e Bismil

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Articles

Categories

  • Records

Calendars

  • Community Calendar
  • Pakistan Holidays

Genres

  • English
  • New Movie Songs
  • Old Movies Songs
  • Single Track
  • Classic
  • Ghazal
  • Pakistani
  • Indian Pop & Remix
  • Romantic
  • Punjabi
  • Qawalli
  • Patriotic
  • Islam

Categories

  • Islam
  • Online Movies
    • English
    • Indian
    • Punjabi
    • Hindi Dubbed
    • Animated - Cartoon
    • Other Movies
    • Pakistani Movies
  • Video Songs
    • Coke Studio
  • Mix Videos
  • Online Live Channels
    • Pakistani Channels
    • Indian Channels
    • Sports Channels
    • English Channels
  • Pakistani Drama Series
    • Zara Yaad ker
    • Besharam (ARY TV series)
  • English Series
    • Quantico Season 1
    • SuperGirl Season 1
    • The Magicians
    • The Shannara Chronicles
    • Game of Thrones

Found 612 results

  1. دل دے اندر خانہ کعبہ، ساڈا ہویا گھر وِچ حَج آپ اِمام تے آپ نمازی، آپے بانگاں دیواں اَج نیڑے آ کے ویہڑے ساڈے وَسنا ای تے وَس چمکاں مار نہ دُوروں سانُوں، اینویں نہ پیا گَج تیرا اِک علاج میں دَسّاں، جا کے شِیشہ ویخ اپنا کُجھ تے نظر نہ آوے، سانُوں دَسنا ایں بَج آپے لاوے عِشق عدالت، آپے پھائیاں پاوے آپ وکیل تے آپے مُلزم، آپے بَنیا اپنا جَج لَے میں پنجواں بال کے چَلّی، رکِھیں میرِیاں شَرماں تُوں لجپال سداؤندا واصفؔ، پالِیں میری لَج
  2. ہے سکوں اتنا کہ آزار کی ضد کرتے ہیں ہم وہ مجرم ہیں کہ خود دار کی ضد کرتے ہیں تھک گیا ہوں در و دیوار سے کہتے کہتے اب تو یہ غم کسی غمخوار کی ضد کرتے ہیں ہم اصولوں کے نہیں ہم ہیں اناؤں والے سر کٹا دیتے ہیں دستار کی ضد کرتے ہیں ہے تباہی کہ ہمیں راس نہیں آزادی ہم وہ در ہیں کہ جو دیوار کی ضد کرتے ہیں کوئی سمجھے تو مری دھرتی کی مشکل کو ذرا بے وفا سب ہیں وفادار کی ضد کرتے ہیں بہ خوشی تخت نشیں اب وہ کئے جاتے یہاں زندہ بستی میں جو مردار کی ضد کرتے ہیں خود کو بیچ آئے جو اغیار کے ہاتھوں سارے ہم سے وہ بھی یہاں کردار کی ضد کرتے ہیں ہاتھ آ جائے کوئی عیب ہمارا ان کے سر قلم کرنے کو تلوار کی ضد کرتے ہیں ہے گھٹن اتنی کہ لفظوں کا بھی دم گھٹتا ہے لوگ سادہ ہیں کہ اشعار کی ضد کرتے ہیں مانا غفلت میں ہے ڈوبی یہ مری قوم مگر اب بھی زندہ ہیں جو انکار کی ضد کرتے ہیں اپنے ہاتھوں ہی بدلنا ہے زمانہ ابرک کون کہتا ہے کہ بے کار کی ضد کرتے ہیں اتباف ابرک
  3. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  4. Mai Ishq Ki Shidat Sy Pereshan Bohat Hun میں عشق کی شدت سے پریشان بہت ہوں اے جاں تری چاہت سے پریشان بہت ہوں ہاں شورشِ ہجراں سے یہ دل شاد بہت تھا ہاں وصل کی راحت سے پریشان بہت ہوں چاہوں تو تجھے چھوڑ دوں میں غیر کی خاطر بس نکتہ وحدت سے پریشان بہت ہوں انصاف کی دنیا ہے فقط خواب کی دنیا یا رب میں حقیقت سے پریشان بہت ہوں جگنو، یہ چاند، تارے، بہاریں صدایئں دیں اف، میں تیری شہرت سے پریشان بہت ہوں ! غنچہ یا کوئی پھول کہوں، پنکھڑی کہوں ہونٹوں کی نزاکت سے پریشان بہت ہوں کیوں اے دل کم فہم تو مانے ہے انا کی؟ آمر کی حکومت سے پریشان بہت ہوں ہر ایک عمل پہ کہے 'یوں تو نہیں، یوں۔۔۔' ناصح تیری عادت سے پریشان بہت ہوں لڑکی ہوں، پگھل جاتی ہوں نظروں کی تپش سے میں حسن کی نعمت سے پریشان بہت ہوں وہ جان تکلم نہ بنا لے مجھے مداح اس زور خطابت سے پریشان بہت ہوں دنیا یہ فقط تجھ پہ جیا! کیوں ہے مہربان لہجوں کی ملاحت سے پریشان بہت ہوں
  5. ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﺟﮭﻮﭦ ﻭﮦ ﮨﻢ ﺳﮯ، "ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮐﺘﻨﺎ,,, ﯾﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﺑﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ -----🌠🌠
  6. ! پھڑ ونجھلی بدل تقدیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا تیری اک ذات نال وسدا جہان اے تن من کیتا اساں تیتھوں قربان اے ! سچے پیار دے گواہ پنج پیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا اکھاں تینوں ویکھیا تے ہو گیاں تیریاں میریاں تے سانہواں ہن رہیاں نہیں میریاں ! وِسے من وچ تیری تصویر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا بھلا ہووے رانجھنا بختاں دے تارے دا راہ جہنے دسیا اے تخت ہزارے دا ! میری جند جان تیری جاگیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھا مجھیاں دا چاک نئیں توں جگ تیرا چاک اے دنیا دا روپ تیرے جوڑیاں دی خاک اے ! تیرے جوڑیاں اچ ہووے گی اخیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا کیدو بھانویں دیندا رہوے پہرا ساڈے پیار دا سنگ تیرا ہووے تے کی خوف اے سنسار دا ! وے میں رسماں دی توڑاں گی زنجیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا بنا ساقی جس طرح میخانیاں دے حال نیں تیرے بنا بیلے دیاں رونقاں محال نیں ! مر جاواں جے میں بدلاں ضمیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا
    Heer Ranjha Ranjha Wallpaper vanjli
  7. وہ گھر بتاتے ہوئے ڈر گئی مرے بارے پھر آج اُس نے انگوٹھی کہیں چھپا لی ہے پرانی ڈائری اک، آج شب نکالی ہے اسے پڑھا ہے تری یاد بھی منا لی ہے لگا چکا ہے ستاروں کو آج باتوں میں وہ تیری بات ترے چاند نے گھما لی ہے تُو اپنی تلخ زباں اس پہ جھاڑتا کیوں ہے؟ ارے یہ ماں ہے، بہت پیار کرنے والی ہے فقیر لوگ عجب بادشاہ ہوتے ہیں کہ کائنات ہے مٹھی میں، جیب خالی ہے وہ گھر بتاتے ہوئے ڈر گئی مرے بارے پھر آج اُس نے انگوٹھی کہیں چھپا لی ہے یہ تم سدا کے لئے اب بچھڑ رہے ہو کیا؟ نہیں؟ تو پھر مِری تصویر کیوں بنا لی ہے؟
  8. Pakistan - Aye pak watan tuj pe jaan qurbaan چاند میری زمیں پھول میرا وطن چاند میری زمیں پھول میرا وطن میرے کھیتوں کی مٹی میں لعلِ یمن چاند میری زمیں پھول میرا وطن چاند میری زمیں پھول میرا وطن میرے ملاح لہروں کے پالے ہوئے میرے دہکاں پسینوں کے ڈھالے ہوئے میرے مزدور اس دور کے کوہکن چاند میری زمیں پھول میرا وطن چاند میری زمیں پھول میرا وطن میرے فوجی جوان جراتوں کے نشان میرے اہلِ قلم غظمتوں کی زباں میرے محنت کشوں کے سنہرے بدن چاند میری زمیں پھول میرا وطن چاند میری زمیں پھول میرا وطن میری سرحدوں پہ پہرا ہے ایمان کا میرے شہروں پہ سایہ ہے قرآن کا میرا اک اک سپاہی ہے خیبرشکن چاند میری زمیں پھول میرا وطن چاند میری زمیں پھول میرا وطن میرے دہکاں یونہی ہل چلاتے رہیں میری مٹی کو سونا بناتے رہیں گیت گاتے رہیں میرے شعلہ بدن چاند میری زمیں پھول میرا وطن چاند میری زمیں پھول میرا وطن
  9. سال بہ سال ، یہ سال بدل جاتے ہیں ایّامِ زیست کمال ، زوال بدل جاتے ہیں اِک لمحہ خاص بھی ہوجاتے ہیں خاک لوگ بھی کیا کیا ، کمال بدل جاتے ہیں مُحبتیں ، عشق ، نفرتیں ، دائمی جُدائیاں دھیرے دھیرے سب خیال بدل جاتے ہیں تشنہ لبیِ مانندِ دشت صحرا جاتی نہی جواب مل جائیں تو سوال بدل جاتے ہیں سمجھ جاؤں ، جب فریب یار و اغیار کے سب یہ میرے پھر نئی چَال بدل جاتے ہیں مطلب ہوجائیں پورے ، جب بے وفاؤں کے حسبِ ضرورت ، یہ حال بدل جاتے ہیں پہلو میں روز ، نئے لوگ بدلتے ہوئے یہ لوگ سمتیں جنوب سے شمال بدل جاتے ہیں خواہشِ وصلِ حُسن کو جب مل جائے تعبیر پھر نظریں ، زاویہ جمال بدل جاتے ہیں جفا ، دھوکہ ، فریب ، جھوٹ ، خود غرضی مطلب ، ضرورتیں ، رویّے ، اشکال بدل جاتے ہیں
  10. اَپنی آنکھوں کے سمندر میں اُتر جانے دے تیرا مجرم ہوں مجھے ڈوب کے مرجانے دے اے نئے دوست میں سمجھوں گا تجھے بھی اپنا پہلے ماضی کا کوئی زخم تو بھر جانے دے آگ دنیا کی لگائی ہوئی بجھ جائے گی کوئی آنسو میرے دامن پہ بکھر جانے دے زخم کتنے تیری چاہت سے ملے ہیں مجھ کو سوچتا ہوں کہ کہوں تجھ سے مگر جانے دے زندگی! میں نے اسے کیسے پرویا تھا نہ پوچھ ہار ٹوٹا ہے تو موتی بھی بکھر جانے دے ان اندھیروں سے ہی سورج کبھی نکلے گا رات کے سائے ذرا اور نکھر جانے دے
  11. اپنی تنہائی مِرے نام پہ آباد کرے کون ہوگا جو مُجھے اُس کی طرح یاد کرے دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھُلا در اِس کا وہ مُسافر اِسے ہر سمت سے برباد کرے اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہُوں میں روز اِک موت نئے طرز کی ایجاد کرے اتنا حیراں ہو مِری بے طلبی کے آگے وا قفس میں کوئی در خود میرا صیّاد کرے سلبِ بینائی کے احکام ملے ہیں جو کبھی روشنی چُھونے کی خواہش کوئی شب زاد کرے سوچ رکھنا، بھی جرائم میں ہے شامل اب تو وہی معصوم ہے، ہربات پہ جو صاد کرے جب لہو بول پڑے اُس کی گواہی کے خلاف قاضی شہر کچھ اِس بات میں ارشاد کرے اُس کی مُٹّھی میں بہت روز رہا میرا وجود میرے ساحر سے کہو اب مجھے آزاد کرے
  12. پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہے جذبہ عشق سرِ دار مجھے کھینچتا ہے میں محبت کے مضافات کا باشندہ ہوں کیوں ترا شہرِ پُر اسرار مجھے کھینچتا ہے یہ بھی حیرت ہے عجب، خود مری تمثال کے ساتھ آئینہ بھی پسِ دیوار مجھے کھینچتا ہے دم بھی لینے نہیں دیتا ہے مسافت کاجنون پَا برہنہ وہ سرِ خار مجھے کھینچتا ہے پھر کوئی تیر ہدف کرتا ہے مشکیرہ کو پھر کوئی دستِ کماں دار مجھے کھینچتا ہے بولیاں جس کی لگے میں کوئی یوسف تو نہیں کس لئے مصر کا بازار مجھے کھینچتا ہے ہے کوئی گریہ کن حرف پسِ خیمہ جاں پھر کوئی نالہ آزار مجھے کھینچتا ہے تجھ کو معلوم ہے شاہدؔ بھی ہے مغرور بہت کیوں ترا حُسن انادار مجھے کھینچتا ہے
  13. Kisi ki yaad dil me hai koi Ehsas baqi hai Badalte mosamon k darmian Ek Raaz baqi hai Abhi me safar me hon Milay gi manzil mujhe Magar in raston k darmian Ek saath baqi hai kahin pe sham dhalti hai kahin raat hoti hai Abhi to chand hai Chandni raat baqi hai Chale Aao kisi din tum hamara haal B dekho Hamara jism murda hai magar Ek saans baqi hai... Umeed hai phr B milega wo hamain Ek din KHUDA par hai bharosa KHUDA ki zaat baqi hai...!
  14. زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری تجھ سے کیا کہتے، تیرے پاس جو آتے گزری دن جو گزرا تو کسی یاد کی رَو میں گزرا شام آئی، تو کوئی خواب دکھا تے گزری اچھے وقتوں کی تمنا میں رہی عمرِ رواں وقت ایساتھا کہ بس ناز اُٹھاتے گزری زندگی جس کے مقدر میں ہو خوشیاں تیری اُس کو آتا ہے نبھانا، سو نبھاتے گزری زندگی نام اُدھر ہے، کسی سرشاری کا اور اِدھر دُور سے اک آس لگاتے گزری رات کیا آئی کہ تنہائی کی سرگوشی میں ہُو کا عالم تھا، مگر سُنتے سناتے گزری بار ہا چونک سی جاتی ہے مسافت دل کی کس کی آواز تھی، یہ کس کو بلاتے گزری www.fundayforum.com
  15. روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں مل کے ان کی نگاہ جادو سے دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں مجھ کو دکھلا کے راہ کوچہء یار کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے دل میں گویا سما گئیں آنکھیں محفل یار میں بہ ذوق نگاہ لطف کیا کیا اٹھا گئیں آنکھیں حال سنتے وہ میرا کیا حسرت وہ تو کہئے سنا گئیں آنکھیں
  16. اَدائیں حشر جگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خیال حرف نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بہشتی غنچوں میں گوندھا گیا صراحی بدن گلاب خوشبو چرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بدن بنانے کو کرنوں کا سانچہ خلق ہُوا خمیر ، خُم سے اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے قدم ، اِرم میں دَھرے ، خوش قدم تو حور و غلام چراغ گھی کے جلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے یہ جھاڑو دیتی ہیں پلکوں سے یا حسیں حوریں قدم کی خاک چرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جھلک دِکھانے کی رَکھیں جو شرط جوئے شیر ہزاروں کوہ کن آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جنہوں نے سایہ بھی دیکھا وُہ حور کا گھونگھٹ مُحال ہے کہ اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے چمن کو جائے تو دَس لاکھ نرگسی غنچے زَمیں پہ پلکیں بچھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے یہ شوخ تتلیاں ، پیکر پری کا دیکھیں تو اُکھاڑ پھینکیں قبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے غزال قسمیں ستاروں کی دے کے عرض کریں حُضور! چل کے دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حسین اِتنا کہ منکر خدا کا لگتا ہے بت اُس کو کلمہ پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ پنکھڑی پہ اَگر چلتے چلتے تھک جائے تو پریاں پیر دَبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے گُل عندلیب کو ٹھکرا دے ، بھنورے پھولوں کو پتنگے شمع بجھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے اُداس غنچوں نے جاں کی اَمان پا کے کہا یہ لب سے تتلی اُڑائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خطیب پہلے پڑھیں حُسنِ حور پر آیت پھر اُس کا عکس دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جو آنکھ کھلتی ہے غنچوں کی شوخ ہاتھوں پر تو اَمی کہہ کے بُلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ بھیگی پنکھڑی پہ خشک ہونٹ رَکھے ذِرا تو پھول پیاس بجھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حسین تتلیاں پھولوں کو طعنے دینے لگیں کہا تھا ایسی قبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے ذِرا سا بوسے پہ راضی ہُوا تو سارے گلاب نفی میں سر کو ہلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے غزال نقشِ قدم چوم چوم کر پوچھیں کہاں سے سیکھی اَدائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حریر ، اَطلس و کمخواب ، پنکھڑی ، ریشم دَبا کے ہاتھ لگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بشارت اُس کی نُجومی سے سنتے ہی فرعون حنوط خود کو کرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے شریر مچھلیاں کافِر کی نقل میں دِن بھر مچل مچل کے نہائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جو کام سوچ رہے ہیں جناب دِل میں اَبھی وُہ کام بھول ہی جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے زَمیں پہ خِرمنِ جاں رَکھ کے ہوشمند کہیں بس آپ بجلی گرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ چاند عید کا اُترے جو دِل کے آنگن میں ہم عید روز منائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے عقیق ، لولو و مرجان ، ہیرے ، لعلِ یمن اُسی میں سب نظر آئیں ، وُہ اتنا دلکش ہے جفا پہ اُس کی فدا کر دُوں سوچے سمجھے بغیر ہزاروں ، لاکھوں وَفائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے ہمیں تو اُس کی جھلک مست مور کر دے گی شراب اُس کو پلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے صراحی جسم کی جھومے تو جام رَقص کریں دَرخت وَجد میں آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بدل کے ننھے فرشتے کا بھیس جن بولا مجھے بھی گود اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے نُجومی دیر تلک بے بسی سے دیکھیں ہاتھ پھر اُس کو ہاتھ دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے ہزار جنّوں کو بند کر دے ایک بوتل میں تو اُف بھی لب پہ نہ لائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے سنا ہے ملکۂ جنّات رو کے کہنے لگی مرے میاں کو چھڑائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جو مڑ کے دیکھے تو ہو جائیں دیوتا پتھر ’’نہیں‘‘ بھی کہنے نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خطیب دیکھے گزرتا تو تھک کے لوگ کہیں حُضور خطبہ سنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے اَگر لفافے پہ لکھیں ، ’’ملے یہ ملکہ کو‘‘ تو خط اُسی کو تھمائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے چرا کے عکس ، حنا رَنگ ہاتھ کا قارُون خزانے ڈُھونڈنے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حسین پریاں چلیں ساتھ کر کے ’’سترہ‘‘ سنگھار اُسے نظر سے بچائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے صنم کدے میں جو پہنچے تو چند پہنچے صنم دُعا کو ہاتھ اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے گلی میں شوخ کی دائم مشاعرے کا سماں شجر بھی شعر سنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے گلی سے اُس کی گزر کر جو شاعری نہ کرے تو اُس کو اُردو پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے کمر کو کس کے دوپٹے سے جب چڑھائے پینگ دِلوں میں زَلزلے آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے کبوتر اُس کے قریب آنے کے لیے بابو پیام جعلی بنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے اُسی کے نام سے اِہلِ سلوک پہنچے ہُوئے نمازِ عشق پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جسے وُہ مست کرے حشر میں بھی نہ اُٹھے بلا سے حوریں اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے غُبارِ راہ ہُوا غازہ اَپسراؤں کا نہا نہا کے لگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خدا کے سامنے گن گن کے جھکنے والے سخی قیام بھول ہی جائیں ، ’’وُہ‘‘ اِتنا دِلکش ہے جہاں پہ ٹھہرے وُہ خوشبو کی جھیل بن جائے گلاب ڈُوبتے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ ہنس کے کہہ دے جو حوروں پہ پردہ ساقط ہے دُکان شیخ بڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے نقاب اُٹھائے تو سورج کا دِن نکلتا ہے چراغ دیکھ نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے گلاب ، موتیا ، چنبیلی ، یاسمین ، کنول اُسے اَدا سے لُبھائیں ، وُہ اتنا دلکش ہے شراب اور ایسی کہ جو ’’دیکھے‘‘ حشر تک مدہوش شرابی آنکھ جھکائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے شباب ہے کہ ہے آتش پرستی کی دعوت بدن سے شمع جلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حجاب اُتارے تو پھر بھی اُسے ثواب ملے کہ رِند جام گرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
  17. تر ی پنا ہو ں میں سات رنگو ں کا جال ہوگا کمال ہوگا مرے سنور نے کا سلسلہ جب بحال ہوگا کمال ہوگا یہ جھیل آنکھیں جو کھینچتی ہیں نظر کی ڈوریں محبّتوں سے اگر میں ان میں اتر گئی تو وصال ہوگا کمال ہوگا وہ رہبر ِ کاروان ِ الفت میں نقش ِِ مقصود ِ دلبری ہوں سو اب دم ِ وصل وحشتوں کا زوال ہوگا کمال ہوگا نوید ِ شاہ ِ محب کو سن کر تمام درباری جھومتے ہیں خبر اڑی ہے کہ اس برس بھی دھما ل ہوگا کمال ہوگا میں بچ بچا کے غلا ظتو ں سے بس اس بھروسے پہ چل رہی ہوں صنم جو میرا نصیب ہوگا غزال ہوگا کمال ہوگا نگاہ ِ من میں جواں محبّت کا ابر ِ بارا ں ہے محو ِ رقصا ں جمال ِ حسن ِ نظر میں جو یر غما ل ہوگا کمال ہوگا برستی بارش اور اسکی یادیں پھر اس پہ یہ جنو ری کا موسم حرا تمھارا جو ایسے موسم میں حال ہوگا کمال ہوگا ڈاکٹر حرا ارشد
  18. poetry

  19. تمہیں کس نے کہا پگلی مجھے تم یاد آتی ہو ؟؟؟ بہت خوش فہم ہو تم بھی تمہاری خوش گمانی ہے میری آنکھوں کی سرخی میں تمھاری یاد کا مطلب ؟؟ میرے شب بھر کے جگنے میں تمہارے خواب کا مطلب ؟؟ یہ آنکھیں تو ہمیشہ سے ہی میری سرخ رہتی ہیں تمہیں معلوم ہی ہو گا اس شہر کی فضا کتنی آلودہ ہے تو یہ سوزش اسی فضا کے باعث ہے تمہیں کس نے کہا پگلی کہ میں شب بھر نہیں سوتا مجھے اس نوکری کے سب جھمیلوں سے فرصت ملے تو تب ہے نا میری باتوں میں لرزش ہے میں اکثر کھو سا جاتا ہوں تمہیں کس نے کہا پگلی ؟ محبت کے علاوہ اور بھی تو درد ہوتے ہیں فکرِ معاش، سکھ کی تلاش ایسے اور بھی غم ہیں اور تم ان سب غموں کے بعد آتی ہو تمہیں کس نے کہا پگلی ؟ مجھے تم یاد آتی ہو یہ دنیا والے پاگل ہیں ذرا سی بات کو یہ افسانہ سمجھتے ہیں مجھے اب بھی یہ پاگل تیرا دیوانہ سمجھتے ہیں تمہیں کس نے کہا پگلی ؟ مگر شاید مگر شاید میں جھوٹا ہوں !.... میں ریزہ ریزہ ٹوٹا ہوں
  20. یار کو ہم نے جا بجا دیکھا کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا کہیں ممکن ہوا کہیں واجب کہیں فانی کہیں بقا دیکھا دید اپنے کی تھی اسے خواہش آپ کو ہر طرح بنا دیکھا صورتِ گُل میں کھل کھلا کے ہنسا شکل بلبل میں چہچہا دیکھا شمع ہو کر کے اور پروانہ آپ کو آپ میں جلا دیکھا کر کے دعویٰ کہیں انالحق کا بر سرِ دار وہ کھنچا دیکھا تھا وہ برتر شما و ما سے نیاز پھر وہی اب شما و ما دیکھا کہیں ہے بادشاہ تخت نشیں کہیں کاسہ لئے گدا دیکھا کہیں عابد بنا کہیں زاہد کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا کہیں وہ در لباسِ معشوقاں بر سرِ ناز اور ادا دیکھا کہیں عاشق نیاز کی صورت سینہ بریاں و دل جلا دیکھا
  21. تمہاری یاد کی خوشبو، کمال کرتی ہے خلوصِ دل سے مری دیکھ بھال کرتی ہے مجھے یہ جوڑ کے رکھتی ہے ہجر میں تجھ سے یہ زندگی مرا کتنا خیال کرتی ہے اکیلا گھومنے نکلوں تو راستے کی ہوا تمہارے بارے میں مجھ سے سوال کرتی ہے تمہارے غم میں سسکتی ہوئی یہ تنہائی تمام رات بڑی قیل و قال کرتی ہے توقعات ، مجھے توڑ پھوڑ دیتی ہیں اُمید ، مجھ کو ہمیشہ نڈھال کرتی ہے خُدا گواہ ، میں زندہ بدست مردہ ہوں شبِ فراق ، بُرا میرا حال کرتی ہے ,,,,, اگر یہ سچ ہے ، محبّت ہے زندگی تو پھر یہ کیوں میرا جینا محال کرتی ہے
  22. جان ملوک جہی تے جھلاں، کیسے کیسے قہراں نوں۔ جنم دہاڑا تیرا ہووے، تحفے ونڈاں غیراں نوں۔ ،ساڈے ورگی ہی کوجھی ہے، قسمت ساڈے پنڈاں دی جہڑا بندہ پڑھ جاندا ہے، تر جاندا ہے شہراں نوں۔ ،کی سمجھاں برہا نے اس نوں، کی کی اگاں لائیاں نے تپش ہجر دی ٹھنڈھی کردا، پھردا سخر دپہراں نوں۔ ،ایہہ وی ہوکے. ہاواں. لگن جل وچ وسدے جیواں دے جد وی کنڈھے بہ کے دیکھاں، اچیاں اچیاں لہراں نوں۔ ،اوہ وی مینوں تکّ رہی سی، حسرت بھریاں نظراں نال میتھوں وی نہ ٹھلاں پئیاں، اکھوں وگیاں نہراں نوں۔ ،کاہنوں سر تے چکی پھردا، بوجھل پنڈ عذاباں دی منگ حیاتی دے وچ لیندی، جے اوہ میتھوں مہراں نوں۔ ،اوکھ نہیں ہے تینوں کوئی، سارے لوکی جانن 'نور' پھیر بھلا کیوں ہتھ نہیں تونہہ، پاؤندا دھکڑ بحراں نوں۔ نور محمد نور
  23. ﷽ میڈا عشق وی توںﷺ ، میڈا یار وی توںﷺ میڈا دین وی توں ﷺ، ایمان وی توں ﷺ میڈا جسم وی توںﷺ ،میڈا روح وی توںﷺ میڈا قلب وی توںﷺ ،جِند جان وی توں ﷺ میڈا قبلہ ، کعبہ ، مسجد، مندر مُصحف تے قرآن وی توں ﷺ میڈے فرض ، فریضے ، حج ، زکاتاں صوم ،صلوت ، تے ازان وی توںﷺ میڈی زہد ، عبادت ، طاعت ، تقوٰی علم وی توںﷺ، عرفان وی توں ﷺ میڈا زکر وی توںﷺ ، میڈی فکر وی توںﷺ میڈا زوق وی توںﷺ ، وجدان وی توںﷺ میڈا سانول ، مٹھڑا ، شام سلونا من موہن جانان وی توںﷺ میڈا مُرشد ہادی پیر طریقت شیخ حقائق دان وی توںﷺ میڈی آس اُمید تے کھٹیا وٹیا تکیہ مان تران وی توں ﷺ مینڈا دھرم وی توںﷺ ، مینڈا بھرم وی توںﷺ مینڈا شرم وی توں ﷺ ، مینڈا شان وی توںﷺ میڈا دکھ ، سُکھ ، روون ،کھلن وی توں ﷺ میڈا درد وی توں ﷺ، میڈا درمان وی توںﷺ میڈا خوشیاں دا اسباب وی توں ﷺ میڈے سُولاں دا سامان وی توںﷺ میڈا حُسن بھاگ سہاگ وی توں ﷺ میڈا بخت تے نام نشان وی توں ﷺ میڈے ٹھڈرے ساہ تے مونجھ مونجھاری ہنجھڑوں دے طوفان وی توں ﷺ میڈے تلک ،تلوے ، سیندھاں ، مانگاں ناز ، نہوڑے ، تان وی توں ﷺ میڈی میہندی ، کجل ، مساگ وی توں میڈی سُرخی ، بیڑا ، پان وی توں میڈی وحشت ، جوشِ جنون وی توں ﷺ میڈا گریہ ، آہ ، ٖ فغان وی توں ﷺ میڈا اول ،آخر ، اندر ، باہر ظاہر تے پنہان وی توں ﷺ میڈا بادل ،برکھا ، کِھمناں ،گاجاں بارش تے باران وی توں ﷺ میڈا مُلک ملہیر ، تے مارو تھلڑا روہی ، چولستان وی توں ﷺ جے یارﷺ ، فرید قبول کرے سرکار وی توں ،سُلطان وی توں نہ تاں کہتر ، کمتر ، احقر ، ادنٰی لا شۓ ، لا امکان وی توں کلام صوفیانہ حضرت بابا غُلام فرید علیہ الرحمہ میڈا عشق وی توں
  24. جہیڑی عشق دی کھیڈ رچائی اے اے میری سمجھ نا آئی اے ویکھن نوں لگد ا سادا اے اے عشق بڑا ای ڈھڈا اے اے ڈھڈا عشق نچا دیوے پیراں وچ چھالے پا دیوے عرشاں دی سیر کرا دیوے اے رب دے نال ملا دیوے چُپ رہ کے بندہ تَر جاندا جے بولے سولی چڑھ جاندا جہیڑا عشق سمندر ور جاندا او جنیدا وسدا مر جاندا ایس عشق توں کوئی وی بچیا نئیں پر ہر اک وچ اے رچیا نئیں ایس عشق سے کھیڈ نرالے نئیں فقیراں ناں ایدے پالے نئیں اے راتاں نوں جگا دیندا اکھیاں وچ جھریاں لا دیندا اے ہجر دی اگ وچ ساڑ دیندا اے بندہ اندروں مار دیندا ویکھن نوں لگدا سادا اے پر عشق بڑا ای ڈھڈا اے
  25. ویکھ نی ماں میں بدل گیا واں روٹی ٹھنڈی کھا لینا واں گندے کپڑے پا لینا واں غصہ سارا پی جانا واں ہر دکھ تے لب سی جانا واں ساریاں گلاں جر لینا واں ٹھنڈا ہوکا بھر لینا واں پر کسے نوں کجھ نئیں دسدا ہر ویلے میں ریہندا ہنسدا اندر جھاتی کوئ نا پاوے دکھ تیرا منوں کھائ جاوے تیرے باجھ منوں کوئ نا پُچھدا ہن تے میں کسے نال نئیں رُسدا ویکھ نی ماں میں بدل گیا واں