News Ticker
  • “We cannot expect people to have respect for law and order until we teach respect to those we have entrusted to enforce those laws.” ― Hunter S. Thompson
  • “And I can fight only for something that I love
  • love only what I respect
  • and respect only what I at least know.” ― Adolf Hitler
  •  Click Here To Watch Latest Movie Jumanji (2017) 

Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

Search the Community

Showing results for tags 'ایک'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

  • Ishq_janoon_Dewanagi
  • Uzee khan
  • Beauty of Words
  • Tareekhi Waqaiyaat
  • Geo News Blog
  • The Pakistan Tourism
  • My BawaRchi_KhaNa
  • Mukaam.e.Moahhabt
  • FDF Members Poetry
  • Sadqy Tmhary
  • FDF Online News
  • Pakistan
  • Dua's Kitchen
  • Raqs e Bismil
  • HayDay Game

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Articles

Categories

  • Records

Calendars

  • Community Calendar
  • Pakistan Holidays

Genres

  • English
  • New Movie Songs
  • Old Movies Songs
  • Single Track
  • Classic
  • Ghazal
  • Pakistani
  • Indian Pop & Remix
  • Romantic
  • Punjabi
  • Qawalli
  • Patriotic
  • Islam

Categories

  • Islam
  • Online Movies
    • English
    • Indian
    • Punjabi
    • Hindi Dubbed
    • Animated - Cartoon
    • Other Movies
    • Pakistani Movies
  • Video Songs
    • Coke Studio
  • Mix Videos
  • Online Live Channels
    • Pakistani Channels
    • Indian Channels
    • Sports Channels
    • English Channels
  • Pakistani Drama Series
    • Zara Yaad ker
    • Besharam (ARY TV series)
  • English Series
    • Quantico Season 1
    • SuperGirl Season 1
    • The Magicians
    • The Shannara Chronicles
    • Game of Thrones

Found 7 results

  1. ایک بات بنتی ہے' دوسری نہيں بنتی شاعری بنانے سے شاعری نہيں بنتی پُھول ہونا پڑتا ہے' دُھول ہونا پڑتاہے صرف لب ہلانے سے پنکھڑی نہيں بنتی عشق ہو کہ درویشی' امن و کہ خوں ریزی بات جب بگڑ جائے واقعی نہيں بنتی ایک خاص جنگل سے لکڑیاں چراتے ہیں ہر شجر کی ٹہنی سے بانسری نہيں بنتی اِس قدر تسلسل سے خواب آتے جاتے ہیں اِن دنوں ہماری اور نیند کی نہيں بنتی چاہے کوئی بھی لڑکی جتنی خوبصورت ہو جھیل میں اترنے سے جل پری نہيں بنتی آپ سے گلہ کرنا اور وہ بھی محفل میں زیب ہی نہيں دیتا بات بھی نہيں بنتی آگ ہونا پڑتا ہے ' راکھ ہونا پڑتا ہے اُنگلیاں رگڑنے سے روشنی نہيں بنتی آپ اس قبیلے کے فرد ہی نہيں لگتے اس لیے ہماری اور آپ کی نہيں بنتی تم تو خیر شاعر ہو اور بَلا کے شاعر ہو ایک وہ بھی ہیں جن سے بات ہی نہيں بنتی
  2. شام سمے ایک اُونچی سیڑھوں والے گھر کے آنگن میں چاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاند انشاء جی ان چاہنے والی، دیکھنے والی آنکھوں نے ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، کیسا کیسا دیکھا چاند ہر اک چاند کی اپنی دھج تھی، ہر اک چاند کا اپنا روپ لیکن ایسا روشن روشن، ہنستا باتیں کرتا چاند ؟ درد کی ٹھیس بھی اٹھتی تھی، پر اتنی بھی، بھرپور کبھی؟ آج سے پہلے کب اترا تھا دل میں میرے گہرا چاند ! ہم نے تو قسمت کے در سے جب پائے، اندھیرے پائے یہ بھی چاند کا سپنہ ہوگا، کیسا چاند کہاں کا چاند ؟ انشاء جی دنیا والوں میں بےساتھی بے دوست رہے جیسے تاروں کے جھرمٹ میں تنہا چاند، اکیلا چاند ان کا دامن اس دولت سے خالی کا خالی ہی رہا ورنہ تھے دنیا میں کتنے چاندی چاند اور سونا چاند جگ کے چاروں کوٹ میں گھوما، سیلانی حیران ہوا اس بستی کے اس کوچے کے اس آنگن میں ایسا چاند ؟ آنکھوں میں بھی، چتون میں بھی، چاندہی چاند جھلکتے ہیں چاند ہی ٹیکا، چاند ہی جھومر، چہرہ چاند اور ماتھا چاند ایک یہ چاندنگر کا باسی، جس سے دور رہا سنجوگ ورنہ اس دنیا میں سب نے چاہا چاند اور پایا چاند امبر نے دھرتی پر پھینکی نور کی چھینٹ اداس اداس آج کی شب تو آندھی شب تھی، آج کدھر سے نکلا چاند انشاء جی یہ اور نگر ہے، اس بستی کی رِیت یہی ہے سب کی اپنی اپنی آنکھیں، سب کا اپنا اپنا چاند اپنا سینے کے مطلع پر جو بھی چمکا وہ چاند ہوا جس نے مَن کے اندھیارے میں آن کیا اُجیارا چاند چنچل مسکاتی مسکاتی گوری کا مُکھڑا مہتاب پت جھڑ کے پیڑوں میں اٹکا، پیلا سا اِک پتہ چاند دکھ کا دریا، سُکھ کا ساگر، اس کے دم سے دیکھ لئے ہم کو اپنے ساتھ ہی لے کر ڈوبا اور اُبھرا چاند روشنیوں کی پیلی کرنیں، پورب پچھم پھیل گئیں تو نے کس شے کےدھوکے میں پتھر پہ دے ٹپکا چاند ہم نے تو دونوں کو دیکھا، دونوں ہی بےدرد کٹھور دھرتی والا، امبر والا، پہلا چاند اور دوجا چاند چاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کسی کا ہوتا ہے ؟ چاند کی خاطر زِد نہیں کرتے، اے میرے اچھے انشاء چاند ابن انشاٰء
  3. کوکا کولا پینے کے بعد پہلے ایک گھنٹے میں کیا ہوتا ہے؟ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کوکا کولا انتہائی شوق سے پیتی ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کوکا کولا پینے کے بعد پہلے ایک گھنٹے میں آپ کے جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ اور اس کے کتنے منفی اثرات ہیں؟ صحت کی ایک ویب سائٹ The Renegade Pharmacist نے اس حوالے سے چند ایسے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جن سے لوگ آج تک ناواقف تھے- پہلے 10 منٹ: کوکا کولا میں موجود 10 چائے کے چمچ چینی آپ کے جسمانی نظام پر براہ راست اثر انداز ہوگی- تاہم آپ کے فوراً قے نہیں آئے گی کیونکہ اس مشروب میں موجود فاسفورک ایسڈ چینی کے ذائقے میں کمی واقع کردیتا ہے جس سے اتنی بھاری مقدار میں پایا جانے والا میٹھا بھی با آسانی سے آپ کے جسم میں حل ہوجاتا ہے- یہ تمام کام کوکا کولا پینے کے پہلے 10 منٹ میں انجام پا جاتے ہیں- پہلے 20 منٹ: کوکا کولا پینے بعد پہلے 20 منٹ میں آپ کے خون میں موجود شوگر کی سطح میں اس حد تک اضافہ ہوجاتا ہے کہ جس کی وجہ سے آپ کے جسم میں موجود انسولین کو خاص مقدار کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور یہ پورے جسم کے لیے نقصان دہ ہوجاتا ہے- دوسری جانب آپ کا جگر جسم موجود شوگر کو اضافی چربی میں تبدیل کرنا شروع کردیتا ہے- پہلے 40 منٹ: کوکا کولا میں پایا جانے والا کیفین آپ کے خون میں مکمل طور پر شامل ہوجاتا ہے- جس کی وجہ سے آپ کے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوجاتا ہے اور خون میں اضافی شوگر کی وجہ سے آپ کے جگر کے نظام میں بےقاعدگی پیدا ہوجاتی ہے- اس کے علاوہ دماغ کو موصول ہونے والے سگنلز میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے- پہلے 45 منٹ: کوکا کولا پینے کے بعد پہلے 45 منٹ میں آپ کے جسم میں موجود کیمیکل جسے dopamine کہا جاتا ہے٬ کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے- اس کیمیکل کا تعلق دماغ سے ہوتا ہے اور اضافی پیداوار دماغ کو نقصان پہنچاتی ہے- یہ سب سے ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ہیروئن کا نشہ کر رکھا ہو- 60 منٹ میں: کوکا کولا میں موجود فاسفورک ایسڈ آپ کی زیریں آنتوں میں کیلشیم٬ میگنیشم اور زنک کو ایک جگہ اکھٹا کردیتا ہے- جس کی وجہ سے آپ کا میٹابولزم کو بڑھا دیاتا ہے- اضافی شوگر اور مصنوعی میٹھے کی وجہ سے بننے والا یہ مرکب آپ کے مثانے پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے- اور آپ کے پیشاب کے ساتھ اضافی کیلشیم بھی خارج ہوجاتا ہے- 60 منٹ بعد: کوکا کولا پینے کے ایک گھنٹے کے بعد پیشاب کے ذریعے آپ کے جسم سے کیلشیم٬ میگنیشم٬ زنک٬ سوڈیم٬ پانی اور الیکٹرو لائٹ کی وہ مقدار بھی خارج ہوجاتی ہے جس کی آپ کے جسم کو ضرورت ہوتی ہے- مزید نقصانات: کوکا کولا کی وجہ سے شوگر کی سطح میں ہونے والا اضافہ آپ کی طبعیت میں چڑچڑا پن اور اکتاہٹ پیدا کرسکتا ہے - اس کے علاوہ آپ کے دانتوں اور ہڈیوں کو کمزور بنا سکتا ہے اور ساتھ ہی آپ کے جسم میں پانی کی کمی بھی پیدا ہوسکتی ہے-
  4. ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے دھوپ آنگن میں‌ پھیل جاتی ہے فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں‌ میز پر گرد جمتی جاتی ہے سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر اب کسے رات بھر جگاتی ہے سوگئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو زندگی خواب کیوں‌ دکھاتی ہے آپ اپنے سے ہم سخن رہنا ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے کیا ستم ہے کہ اب تِری صورت غور کرنے پہ یاد آتی ہے کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے جون ایلیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  5. سب اداس لوگوں کی ایک سی کہانی ہے ایک جیسے لہجے ہیں ، ایک جیسی تانیں ہیں شہر یار پر سب کی ایک سی اڑانیں ہیں سب اداس لوگوں کے بے مراد ہاتھوں پر ایک سی لکریں ہیں سب کے زرد ہونٹوں پر قرب کی مناجاتیں ، وصل کی دعائیں ہیں بے چراغ راتوں میں ، بے شمار شکنوں کے ایک سے فسانے ہیں کھکھلاتے لمحوں میں بے وجہ اداسی کے ایک سے بہانے ہیں اشک آنکھ میں رکھ ، کھل کے مسکرانے کی ایک جیسی تشریحیں ، ایک سی وضاحت ہے ایک جیسے شعلوں میں سب کے خواب جلتے ہیں ایک جیسی باتوں پر سب کے دل دھڑکتے ہیں
  6. حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا ’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگےتو کیا مانگے؟‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صحت‘‘۔میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘ صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتےرہتے ہیں‘ مثلاً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارےدل کو کمزور کر دیتے ہیں مگر ہم جب تیزچلتے ہیں‘ جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘ ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘ مثلاً دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘ مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘ ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑےہوتے ہیں- یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے نه اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نه نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘ مثلاً ہمارا جگرجسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحدعضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے‘ سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘ اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘ آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کردیتے ہیں جب کہ ہمارے بدن میں ایسےہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔ ہم روزانہ سوتے ہیں‘ ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘ ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی مگر جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘ ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک صحت کاتخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے‘ ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں‘دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیےتیار ہیں‘ ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسوکے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘ ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘ لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘آنکھوں کاقرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘ آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں‘ دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘ انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے‘قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘ شوگر‘ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیںاور آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کرپھریں گے مگرآپ کو شفا نہیں ملے گی‘ منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘ ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘ ہم اس عظیم مہربانی پراللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘ ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘ ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘ دوڑ لگا سکتے ہیں‘ جھک سکتے ہیں اور ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘ کانوں سے سن‘ ہاتھوں سے چھو‘ ناک سے سونگھ اور منہ سے چکھ سکتے ہیں تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘ اس کے کرم کے قرض دار ہیں اور ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘ ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ ...اسی لئیے ربِ کریم قرآن میں کہتے ہیں ➰ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے
  7. ایک دفعہ قبیلہ بنوسُلَیم کا ایک بوڑھا ضعیف آدمی مسلمان ہوا،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دین کے ضروری احکام ومسائل بتائے اورپھر اس سے پوچھا کہ تیرے پاس کچھ مال بھی ہے ؟اس نے کہا: ”خدا کی قسم بنی سُلَیم کے تین ہزار آدمیوں میں سب سے زیادہ غریب اورفقیر میں ہی ہوں۔“حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی طرف دیکھا اورفرمایا:”تم میں سے کون اس مسکین کی مدد کرے گا“۔حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اٹھے اورکہا:یا رسول اللہ!میرے پاس ایک اونٹنی ہے جو میں اس کو دیتا ہوں“۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جو اب اس کا سرڈھانک دے۔“سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اٹھے اوراپنا عمامہ اتارکرا س اعرابی کے سرپر رکھ دیا۔پھر حضور نے فرمایا: ”کون ہے جو اس کی خوراک کا بندوبست کرے؟“ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اعرابی کو ساتھ لیا اوراس کی خوراک کاانتظام کرنے نکلے۔چند گھروں سے دریافت کیا لیکن وہاں سے کچھ نہ ملا۔پھر حضرت فاطمة الزہرارضی اللہ عنہا کے مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔پوچھا کون ہے۔انہوں نے ساراواقعہ بیان کیا اورالتجاکی کہ ”اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اس مسکین کی خوراک کا بندوبست کیجیے“۔سیدہ عَالَم نے آبدیدہ ہوکر فرمایا:”اے سلمان رضی اللہ عنہ خدا کی قسم آج ہم سب کو تیسرا فاقہ ہے۔دونوں بچے بھوکے سوئے ہیں لیکن سائل کوخالی ہاتھ جانے نہ دوں گی۔جاﺅ یہ میری چادرشمعون یہودی کے پاس لے جاﺅ اورکہو فاطمہ بنت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی یہ چادر رکھ لو اوراس غریب انسان کو تھوڑی سی جنس دے دو۔“سلمان اعرابی کو ساتھ لے کر یہودی کے پاس پہنچے۔ اس سے تمام کیفیت بیان کی وہ حیران رہ گیا اور پھر پکار اٹھا ”اے سلمان !خد اکی قسم یہ وہی لوگ ہیں جن کی خبر توریت میں دی گئی ہے ۔گواہ رہنا کہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے باپ (صلی اللہ علیہ وسلم )پر ایمان لایا“۔اس کے بعد کچھ غلّہ حضرت سلمان کودیا اورچادر بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو واپس بھیج دی،وہ لے کر ان کے پاس پہنچے ۔سیدہ نے اپنے ہاتھ سے اناج پیسا اورجلدی سے اعرابی کے لیے روٹی پکاکر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو دی۔انہوں نے کہا: ”اس میں سے کچھ بچوں کےلئے رکھ لیجیے ۔“جواب دیا: ”سلمان جو چیز خداکی راہ میں دے چکی وہ میرے بچوں کے لیے جائز نہیں۔“حضرت سلمان رضی اللہ عنہ روٹی لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔حضور نے وہ روٹی اعرابی کو دی اورفاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے ۔ان کے سر پر اپنا دستِ شفقت پھیرا‘آسمان کی طرف دیکھا اور دعاکی: ”بارِ الٰہا فاطمہ (رضی اللہ عنہا)تیری کنیز ہے ،اس سے راضی رہنا۔“ (تذکارِ صحابیات)