News Ticker
  • “We cannot expect people to have respect for law and order until we teach respect to those we have entrusted to enforce those laws.” ― Hunter S. Thompson
  • “And I can fight only for something that I love
  • love only what I respect
  • and respect only what I at least know.” ― Adolf Hitler
  •  Click Here To Watch Latest Movie Jumanji (2017) 

Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

Search the Community

Showing results for tags 'نہیں'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

  • Ishq_janoon_Dewanagi
  • Uzee khan
  • Beauty of Words
  • Tareekhi Waqaiyaat
  • Geo News Blog
  • The Pakistan Tourism
  • My BawaRchi_KhaNa
  • Mukaam.e.Moahhabt
  • FDF Members Poetry
  • Sadqy Tmhary
  • FDF Online News
  • Pakistan
  • Dua's Kitchen
  • Raqs e Bismil
  • HayDay Game

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Articles

Categories

  • Records

Calendars

  • Community Calendar
  • Pakistan Holidays

Genres

  • English
  • New Movie Songs
  • Old Movies Songs
  • Single Track
  • Classic
  • Ghazal
  • Pakistani
  • Indian Pop & Remix
  • Romantic
  • Punjabi
  • Qawalli
  • Patriotic
  • Islam

Categories

  • Islam
  • Online Movies
    • English
    • Indian
    • Punjabi
    • Hindi Dubbed
    • Animated - Cartoon
    • Other Movies
    • Pakistani Movies
  • Video Songs
    • Coke Studio
  • Mix Videos
  • Online Live Channels
    • Pakistani Channels
    • Indian Channels
    • Sports Channels
    • English Channels
  • Pakistani Drama Series
    • Zara Yaad ker
    • Besharam (ARY TV series)
  • English Series
    • Quantico Season 1
    • SuperGirl Season 1
    • The Magicians
    • The Shannara Chronicles
    • Game of Thrones

Found 30 results

  1. تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا لکھ نماز ، کروڑاں سجدے پھُوڑی اُتّے مَتھے بَھجدے ذکر جَلی وِچ تسبی رولی پر عیباں دی گنڈھ نہ کھولی منبر تے لمیاں تقریراں پاپی مَن دِیاں سو تفسیراں ڈھینچوں سِکھیا عقل دا کھوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا گھت مُصلّی، خیریں سَلّا چِلّے کیتے پڑھ پڑھ اللہ گلّاں دا کھڈکار نگلّا من ریہا جَھلّے دا جَھلّا عقل نے کِیتا کم اولّا اپنے سِر وِچ ماریا کھّلا پاپاں دے وِچ ہو گیا سوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا ویکھن والے ویکھ نہ سَکّے نظراں دِتّے سو سو دَھکّے کَن وچارے سُن سُن تَھکّے بولن والے ہوٹھ نہ اَکّے اَج تَن تیرتھ، کل تن مَکّے کِسے وی تھائیں مِلے نہ سکّے ٹیں ٹیں کردا فقہ دا طوطا !!... تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا
  2. میں چاہنے والوں کو مخاطب نہیں کرتا اور ترک تعلق کی میں وضاحت نہیں کرتا میں اپنی جفاؤں پہ نادم نہیں ہوتا میں اپنی وفاؤں کی تجارت نہیں کرتا خوشبو کسی تشہیر محتاج نہیں ہوتی سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا احساس کی سولی پہ لٹک جاتا ہوں اکثر میں جبر مسلسل کی شکائیت نہیں کرتا میں عظمت انسان کا قائل تو ہوں محسن لیکن کبھی بندوں کی میں عبادت نہیں کرتا محسن نقوی

    © fundayforum.com

  3. تو مجھے اپنے مریدین میں رکھتا بھی نہیں میں کسی اور کی بیعت بھی نہیں کر سکتا شبیر احرام اے مرے دوست رعایت بھی نہیں کر سکتا پر ترے ساتھ بغاوت بھی نہیں کر سکتا سامنے سے بھی تجھے کچھ نہیں کہہ سکتا میں پیٹھ پیچھے تری غیبت بھی نہیں کر سکتا تو مجھے اپنے مریدین میں رکھتا بھی نہیں میں کسی اور کی بیعت بھی نہیں کر سکتا جانتا ہوں میں خدوخال بگڑنے کا سبب آئینہ دیکھ کے حیرت بھی نہیں کر سکتا اب ترے شہر میں رہنا بھی مناسب نہیں ہے اور میں اس شہر سے ہجرت بھی نہیں کر سکتا مجھ میں ہمت بھی نہیں ہے کہ بھلا دوں تجھ کو اور میں اس کام کی ہمت بھی نہیں کر سکتا
  4. الله سے بهترین دوست کوئی نہیں هے. جو هر وقت موجود رہتا هےبلکه ایسا لگتا هے که منتظر هوتا هے کبهی نہیں کہتا که اب سب نے ٹهکرا دیا تو میں یاد آگیا طے شده ملاقات کے وقت کہاں تهے میں نہیں سن سکتا ابهی میرے پاس وقت نہیں تمهارے درد سننے کے لیے.. میری مانتے هو جو میں تمهاری مانوں میری سنتے هو جو میں تمهاری سنوں جب میں بلاتا هوں تو منه پهیر کے چل پڑتے هو کچھ بهی نہیں کہتا بالکل بهی شکوه نہیں کرتا بس سنتا رہتا هے اور اپنی محبت کی آغوش میں لےکے دل و روح کو سکون سے بهر دیتا هے
  5. حال پوچھتی نہیں دنیا زندہ لوگوں کا فراز چلے آتے ہیں جنازے پہ بارات کی طرح
  6. ہمارے دل میں کہیں درد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ ہمارا چہرہ بھلا زرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ سُنا ہے آدمی مر سکتا ہے بچھڑتے ہوئے ہمارا ہاتھ چھوؤ ، سرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے ہمارے رخ پہ کہیں گرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ کوئی دلوں کے معالج ، کوئی محمد بخش تمام شہر میں کوئی مرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ وہی ہے درد کا درماں بھی افتخار مغل کہیں قریب وہ بے درد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ ڈاکٹر افتخار مغل (مرحوم)
  7. ‎نگاہ پھیر کے،،،،،،،، عذرِ وصال کرتے ہیں ‎مجھے وہ الٹی چھری سے حلال کرتے ہیں ‎زبان قطع کرو،،،،،،،،، دل کو کیوں جلاتے ہو ‎اِسی سے شکوہ، اسی سے سوال کرتے ہیں ‎نہ دیکھی نبض، نہ پوچھا مزاج بھی تم نے ‎مریضِ غم کی،،، یونہی دیکھ بھال کرتے ہیں ‎میرے مزار کو وہ ٹھوکوں سے ٹھکرا کر ‎فلک سے کہتے ہیں یوں پائمال کرتے ہیں ‎پسِ فنا بھی،،،، میری روح کانپ جاتی ہے ‎وہ روتے روتے جو آنکھوں کو لال کرتے ہیں ‎اُدھر تو کوئی نہیں جس سے آپ ہیں مصروف ‎اِدھر کو دیکھیے،،،،،،، ہم عرض حال کرتے ہیں ‎یہی ہے فکر کہ ہاتھ آئے تازہ طرزِ ستم ‎یہ کیا خیال ہے،، وہ کیا خیال کرتے ہیں ‎وہاں فریب و دغا میں کمی کہاں توبہ ‎ہزار چال کی،، وہ ایک چال کرتے ہیں ‎نہیں ہے موت سے کم اک جہان کا چکر ‎جنابِ خضر،،،،، یونہی انتقال کرتے ہیں ‎چھری نکالی ہے مجھ پر عدو کی خاطر سے ‎پرائے واسطے،،،،،،،،،،، گردن حلال کرتے ہیں ‎یہاں یہ شوق، وہ نادان، مدعا باریک ‎انھیں جواب بتا کر،،، سوال کرتے ہیں ‎ہزار کام مزے کے ہیں داغ،،،، الفت میں ‎جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
  8. وحشت میں منت کش صحرا نہیں ہوتے کچھ لوگ بکھر کر بھی تماشا نہیں ہوتے جاں دیتے ہیں جاں دینے کا سودا نہیں کرتے شرمندۂ اعجاز مسیحا نہیں کرتے ہم خاک تھے پر اسے دیکھا تو بہت روئے سنتے تھے کہ صحراؤں میں دریا نہیں ہوتے اک تار گریباں کا رہے دھیان کہ سب لوگ محفل میں تو ہوتے ہیں شناسا نہیں ہوتے
  9. ترا خیال بہت دیر تک نہیں رہتا کوئی ملال بہت دیر تک نہیں رہتا اداس کرتی ہے اکثر تمہاری یاد مجھے مگر یہ حال بہت دیر تک نہیں رہتا میں ریزہ ریزہ تو ہوتا ہوں ہر شکست کے بعد مگر نڈھال بہت دیر تک نہیں رہتا میں جانتا ہوں کہ سورج ہوں ڈوب جاؤں بھی تو مجھے زوال بہت دیر تک نہیں رہتا
  10. تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے ویراں ہورہ گزارِحیات جیسے خوابوں کے رنگ پھیکے ہوں جیسے لفظوں سے موت رِستی ہو جیسے سانسوں کے تار بکھرے ہوں جیسے نو حہ کناں ہو صبح چمن تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے خوشبو نہیں ہو کلیوں میں جیسے سُونا پڑا ہو شہرِ دل جیسے کچھ بھی نہیں ہو گلیوں میں جیسے خوشیوں سے دشمنی ہو جائے جیسے جذبوں سے آشنائی نہ ہو تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے اک عمر کی مسافت پر بات کچھ بھی سمجھ نہ آئی ہو جیسے چپ چپ ہوں آرزو کے شجر جیسے رک رک کے سانس چلتی ہو جیسے بے نام ہو دعا کا سفر جیسے قسطوں میں عمر کٹتی ہو تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسیاک خوف کے جزیرے میں کوئی آواز دے کے چھپ جائے جیسے ہنستے ہوئے اچانک ہی غم کی پروا سے آنکھ بھر جائے تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے ارشد ملک
  11. گر ترے شعر میں شامل ہی نہیں سوز و گداز ’’ ہجو ‘‘ خاک در خاک تری ہجرت و ایثار پہ خاک خاک در خاک ترے سب درو دیوار پہ خاک بستیاں خوں میں نہاتی ہیں چمن جلتے ہیں خاک در خاک تری گرمی ء گفتار پہ خاک اس سے بہتر تھا کہ اقرار ہی کرلیتا تو ! خاک در خاک تری جراءت ِ انکار پہ خاک شام تک دھول اڑاتے ہیں سحر تک خاموش خاک در خاک ترے کوچہ و بازار پہ خاک خون آلود مصلّے ، صفیں لاشوں سے اٹی خاک در خاک ترے جبّہ و دستار پہ خاک آئنے عکس میسر نہیں تجھ کو بھی تو پھر خاک در خاک ترے جوہرِ زنگار پہ خاک لحنِ دل تو بھی اسی شور میں شاداں ہے تو پھر خاک در خاک ترے نغمہ و مزمار پہ خاک کنجِ محرومی سے نکلو کسی جنگل کی طرف خاک در خاک پڑے شہرِ ستمگار پہ خاک خاک در خاک ترے لہجہ و تکرار پہ خاک
  12. ﮨﺮ ﺷَﺨﺺ ﮐﯽ ﻗِﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒٌﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻣﻘﺪٌﺭ ﮐﺎ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﺟﺲ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻘﺪٌﺭ ﮐﺎ ﺗﻤﺎﺷﮧ ﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﺍﺏ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻗُﺮﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺍﻟُﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮬﻮﺍ ﻣﯿﮟ اس ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻓُﺮﺻﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ
  13. میں چاہنے والوں کو مخاطب نہیں کرتا اور ترک تعلق کی میں وضاحت نہیں کرتا میں اپنی جفاؤں پہ نادم نہیں ہوتا میں اپنی وفاؤں کی تجارت نہیں کرتا خوشبو کسی تشہیر محتاج نہیں ہوتی سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا احساس کی سولی پہ لٹک جاتا ہوں اکثر میں جبر مسلسل کی شکائیت نہیں کرتا میں عظمت انسان کا قائل تو ہوں محسن لیکن کبھی بندوں کی میں عبادت نہیں کرتا محسن نقوی
  14. وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتے اگر گمان میں انگار قبر آ جاتا پروین شاکر
  15. سفر تنہا نہیں کرتے سنو ایسا نہیں کرتے جسے شفاف رکھنا ہو اُسے میلا نہیں کرتے تیری آنکھیں اجازت دیں تو ہم کیا نہیں کرتے بہت اُجڑے ہوئے گھر پر بہت سوچا نہیں کرتے سفر جس کا مقدر ہو اُسے روکا نہیں کرتے جو مل کر خود سے کھو جائے اسے رسوا نہیں کرتے یہ اُونچے پیڑ کیسے ہیں کہیں سایہ نہیں کرتے کبھی ہسنے سے ڈرتے ہیں کبھی رویا نہیں کرتے تیر آنکھوں کو پڑھتے ہیں تجھے دیکھا نہیں کرتے چلو تم راز ہو اپنا تمہیں افشا نہیں کرتے سحر سے پوچھ لو محسن ہم سویا نہیں کرتے محسن نقوی
  16. اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا مقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کا اب کوچ کرو یارو صحرا سے کہ سنتے ہیں صحرا میں اب آئندہ محمل نہیں آنے کا واعظ کو خرابے میں اک دعوت حق دی تھی میں جان رہا تھا وہ جاہل نہیں آنے کا بنیاد جہاں پہلے جو تھی وہی اب بھی ہے یوں حشر تو یاران یک دل نہیں آنے کا بت ہے کہ خدا ہے وہ مانا ہے نہ مانوں گا اس شوخ سے جب تک میں خود مل نہیں آنے کا گر دل کی یہ محفل ہے خرچہ بھی ہو پھر دل کا باہر سے تو سامان محفل نہیں آنے کا وہ ناف پیالے سے سرمست کرے ورنہ ہو کے میں کبھی اس کا قائل نہیں آنے کا
  17. ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں بےاماں تھے، اماں کے تھے ہی نہیں ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر ہم تیری داستاں کے تھے ہی ںہیں ان کو آندھی میں ہی بکھرنا تھا بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں اب ہمارا مکان کس کا ہے؟ ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں ہو تیری خاکِ آستاں پہ سلام ہم تیرے آستاں کے تھے ہی نہیں ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں جون ایلیا
  18. اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا اس جسم کی میں جاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا تو آج میرے گھر میں جو مہماں ہے عید ہے تو گھر کا میزباں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کھولی تو ہے زبان مگر اس کی کیا بساط میں زہر کی دکاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کیا ایک کاروبار تھا وہ ربط جسم و جاں کوئی بھی رائیگاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کتنا جلا ہوا ہوں بس اب کیا بتاؤں میں عالم دھواں دھواں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا دیکھا تھا جب کہ پہلے پہل اس نے آئینہ اس وقت میں وہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا وہ اک جمال جلوہ فشاں ہے زمیں زمیں میں تا بہ آسماں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا میں نے بس اک نگاہ میں طے کر لیا تجھے تو رنگ بیکراں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا گم ہو کے جان تو مری آغوش ذات میں بے نام و بے نشاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا ہر کوئی درمیان ہے اے ماجرا فروش میں اپنے درمیاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا
  19. ﮐﯿﺎﻭﺍﻗﻌﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ؟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ۔۔۔۔۔ ﺳﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺧﻮﺷﻨﻤﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﯿﺎﮨﮯ؟؟؟ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ،ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﻂ ﻣﺮﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ،ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻋﺰﯾﺰ ﻭ ﺍﻗﺎﺭﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮ۔۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﮐﺲ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﮐﻮﻥ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ،ﺍﭘﻨﺎﺋﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭩﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ؟؟؟ ﯾﮧ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﻓﻘﻂ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔۔۔۔ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺑﯿﺸﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﮨﻮﻧﮧ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮔﮭﺮﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ، ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻣﮑﻤﻞ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺗﻮ ﺍﺻﻞ ﺟﻤﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ،ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  20. سفر منزل شب یاد نہیں لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں اولین قرب کی سرشاری میں کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں دل میں ہر وقت چبھن رہتی ہے تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار یاد آئیں بھی تو سب یاد نہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ احباب کو ہم یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں یاد ہے سیر چراغاں ناصر دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں
  21. اس نہیں کا کوئی علاج نہیں روز کہتے ہیں آپ آج نہیں کل جو تها آج وہ مزاج نہیں اس تلوان کا کچھ علاج نہیں کهوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹهرا در ہم داغ کا رواج نہیں دل لگی کیجئے رقیبوں سے اس طرح کا مرا مزاج نہیں عشق ہے بادشاہ عالم گیر گر چہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں حور سے پوچھتا ہوں جنت میں اس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں صبر بھی دل کو داغ دے لیں گے ابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں داغ دہلوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  22. ﻭﮦ ﺫﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻟﯽ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﮔﯿﻠﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺎﻃﺮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮨﯽ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﮯ !!.....ﻭﮦ ﺯﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻟﯽ ﻋﺎﻃﻒ ﺳﻌﯿﺪ
  23. میں نے کہا وہ پیار کے رشتے نہیں رہے کہنے لگی کہ تم بهی تو ویسے نہیں رہے۔۔ پُوچها کہاں گئے میرے یارانِ خوش خیال ؟ کہنے لگی کہ وہ بهی تمہارے نہیں رہے۔۔ گو آج تک دیا نہیں تم نے مجهے فریب پر یہ بهی سچ ہے تم کبهی میرے نہیں رہے۔۔ بولی کُریدتے ہو تم اُس ڈهیر کو جہاں بس راکه رہ گئی ہے شرارے نہیں رہے۔۔ پوچها تمہیں کبهی نہیں آیا میرا خیال ؟ کیا تم کو یاد یار پُرانے نہیں رہے ؟ کہنے لگی میں ڈهونڈتی تیرا پتہ مگر جن پر نشاں لگے تهے وہ نقشے نہیں رہے۔۔۔ تیرے بغیر شہرِ سُخن سنگ ہو گیا ہونٹوں پہ اب وہ ریشمی لہجے نہیں رہے۔۔ جن سے اُتر کے آتی دبے پاؤں تیری یاد خوابوں میں بهی وہ کاسنی زینے نہیں رہے۔۔ میں نے کہا جو ہو سکے کرنا ہمیں معاف تم جیسا چاہتی تهی ہم ایسے نہیں رہے۔۔ اب یہ تیری رضا ہے کہ جو چاہے سو کرے ورنہ کسی کے کیا کہ ہم اپنے نہیں رہے
  24. ﻭﮦ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ! ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺗﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺯﺍﮨﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﺁﻓﺲ ﮐﯿﻨﭩﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﭼﺎﺋﮯ ﭘﯽ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﻤﮧ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺑﺠﮭﮯ ﺑﺠﮭﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﯾﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ’’ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺝ ﻣﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺱﺟﻤﻠﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ :ﻧﻘﺎﮨﺖ ﺍﺗﺮ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ’’ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺑﺪ ﺗﻤﯿﺰ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺿﺪ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﺨﺮﮮ، ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﮯ۔۔۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﮐﻼﺱ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻧﮩﺎﯾﺎ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ، ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ﯾﺎ ﺟﻮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺴﻤﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﮯ ﮨﻮﮞ۔ﺑﺎﭖ ﮐﺎﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺻﺮﻑ ﻧﺎﻡ ﮨﯽ ﻣﻼ۔ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﭘﯿﺎﺭ۔ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﭘﺮﺍﺋﻤﺮﯼ، ﻣﮉﻝ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﭩﺮﮎ ﺗﮏ ﯾﮩﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ، ﮐﺎﭘﯿﺎﮞ، ﺑﺴﺘﮧ ﻏﺮﺽ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺻﺒﺢ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﻠﯿﻘﮯ ﺳﮯ ﺑﺴﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺴﺘﮧ ﺑﮍﯼ ﻧﻔﺎﺳﺖ ﺳﮯ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻻﮐﮫ ﺑﺎﺭ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮐﮧ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺳﻮﻧﺎ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺻﺒﺢ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﺗﻮﻟﺐ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮫ ﮐﺎ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺑﺪﻻ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﮩﻞ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮐﻤﺒﻞ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺮﺩﯼ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﮨﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﭼﮍ ﺭﮨﯽ۔۔۔ ﺍﯾﮏ 11 ﺳﮯ 13 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺗﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﭼﻼﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﻼﺋﯽ ﻣﺸﯿﻦ ﺳﮯﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﮐﺜﺮ ﮔﮭﯽ ﻟﮕﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺳﻮﮐﮭﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮨﻮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﻮﮌﺍ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺳﻼﺋﯽ ﻣﺸﯿﻦ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﺮﺗﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮍ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺳﮯ ﮨﭧ ﮐﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻼﺋﯽ ﻣﺸﯿﻦ ﮐﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﺩﻭﺭﺍﻧﯿﮧ 16 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻠﮧ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺠﮭﮯ 1500 ﺭﻭﭘﯿﮧ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍُﺳﯽ ﺭﺍﺕ 2 ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﺮﺁﻣﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﭧ ﭘﭧ ﮨﻮﺗﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ ﺫﺭﺍ ﻣﺰﯾﺪ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﭩﯽ ﮔﮭﭩﯽ ﺳﺴﮑﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ۔ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﺑﺮﺁﻣﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﻮﭨﮯ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﺎ ﭼﺸﻤﮧ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﻣﺸﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﺎﮔﮧ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮭﯽ ﮔﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻣﺎﮞ؟؟؟ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﭼﻮﻧﮏ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺳﺠﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺻﺎﻑ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔۔۔ ﻭﮦ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺛﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺻﺒﺢ ﺗﮏ ﺩﻭ ﺳﻮﭦ ﺳﻼﺋﯽ ﮐﺮﺩﻭ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﮬﺎﮔﺎ ﺳﻮﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﻝ ﺭﮨﺎ۔۔۔ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﺴﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔۔۔ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﺎ۔ ﺍُﺩﮬﺮ ﺍﯾﻒ۔ﺍﮮ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺩﮬﺮ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﺎﻝ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔ ﻓﻮﺭﯼ ﺷﮑﺮ ﭘﺎﺭﮮ ﻻ ﮐﺮ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﭩﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭘﺎﺅﮞ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﻟﭩﮑﺎﺋﮯ ﮨﯽ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﭨﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺧﻼﻑ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺁﺝ ﻧﮧ ﺟﻮﺗﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﮮ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ : ’’ ﻣﺎﮞ، ﻣﺎﮞ ، ﻣﺎﮞ ﺍﭨﮫ ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ، ﻣﺎﮞ ﮞ ﮞ ﮞ ‘‘ ﭼﯿﺦ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺭﻭﯾﺎ، ﮨﺰﺍﺭ ﻣﻨﺘﯿﮟ ﺍﻭ ﺭ ﺗﺮﻟﮯ ﮐﯿﮯ ﻣﮕﺮ ﺷﺎﯾﺪ ﻣﺎﮞ ﺍﺏ ﮐﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ۔ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﺎﺭِ ﻏﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﺧﻮﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻧﮧ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺳﺎﺋﺶ ﻭ ﺳﮑﻮﮞ ﺩﯾﺎ ’’ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺗﮭﯽ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ‘‘ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺯﺍﮨﺪ ﮐﮯ ﺩﻭﻣﻮﭨﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺭﺧﺴﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﮩﮧ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭ ﺻﺤﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﻮﺵ ﺭﮐﮭﮯ۔ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﺌﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺻﺒﺮ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ۔ ﺁﻣﯿﻦ
  25. یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں یہ درد تو نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں یہی بہت ہے کہ تم دیکھتی ہو ساحل سے کہ سفینہ ڈوب رہا ہے تو کوئی بات نہیں رکھا تھا آئینہ دل میں چھپا کے تم کو وہ گھر چھوڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں تم نے ہی آئینہ دل میرا بنایا تھا تم نے ہی توڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں بالآخر زیست کے قابل بنا ہوں میں بڑی مشکل سے پتھر دل بنا ہوں میں وہ آئے ہیں سراپائے مجسم بن کر میں گھبرا کر مجسمہ دل بنا ہوں جہاں مقتول ہی ٹھہرے ہیں مجرم یہی کچھ سوچ کے قاتل بنا ہوں میں بڑا محتاط ہوں تیری محفل میں تیری جانب سے سو غافل بنا ہوں میں میں کھا کر ٹھوکریں تیری گلیوں کی بڑا مرشد بڑا کامل بنا ہوں میں کوئی سمجھے گا کیا مجھ کو خود اپنے لیے مشکل بنا ہوں میں یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں یہ درد تو نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں