News Ticker
  • “We cannot expect people to have respect for law and order until we teach respect to those we have entrusted to enforce those laws.” ― Hunter S. Thompson
  • “And I can fight only for something that I love
  • love only what I respect
  • and respect only what I at least know.” ― Adolf Hitler
  •  Click Here To Watch Latest Movie Jumanji (2017) 

Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

Search the Community

Showing results for tags 'گیا'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

  • Ishq_janoon_Dewanagi
  • Uzee khan
  • Beauty of Words
  • Tareekhi Waqaiyaat
  • Geo News Blog
  • The Pakistan Tourism
  • My BawaRchi_KhaNa
  • Mukaam.e.Moahhabt
  • FDF Members Poetry
  • Sadqy Tmhary
  • FDF Online News
  • Pakistan
  • Dua's Kitchen
  • Raqs e Bismil
  • HayDay Game

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Articles

Categories

  • Records

Calendars

  • Community Calendar
  • Pakistan Holidays

Genres

  • English
  • New Movie Songs
  • Old Movies Songs
  • Single Track
  • Classic
  • Ghazal
  • Pakistani
  • Indian Pop & Remix
  • Romantic
  • Punjabi
  • Qawalli
  • Patriotic
  • Islam

Categories

  • Islam
  • Online Movies
    • English
    • Indian
    • Punjabi
    • Hindi Dubbed
    • Animated - Cartoon
    • Other Movies
    • Pakistani Movies
  • Video Songs
    • Coke Studio
  • Mix Videos
  • Online Live Channels
    • Pakistani Channels
    • Indian Channels
    • Sports Channels
    • English Channels
  • Pakistani Drama Series
    • Zara Yaad ker
    • Besharam (ARY TV series)
  • English Series
    • Quantico Season 1
    • SuperGirl Season 1
    • The Magicians
    • The Shannara Chronicles
    • Game of Thrones

Found 11 results

  1. دیارِ دِل کی رات میں چراغ سا جلا گیا مِلا نہیں تو کیا ہُوا ، وہ شکل تو دِکھا گیا وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دُشمناں ہُوئی وہ چھوٹی چھوٹی رنجِشوں کا لُطف بھی چلا گیا جُدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے تجھے بھی نِیند آگئی، مُجھے بھی صبر آگیا پُکارتی ہیں فُرصتیں، کہاں گئیں وہ صحبتیں؟ زمِیں نِگل گئی اُنہیں، کہ آسمان کھا گیا یہ صُبح کی سفیدِیاں ، یہ دوپہر کی زردِیاں اب آئینے میں دیکھتا ہُوں مَیں کہاں چلا گیا یہ کِس خوشی کی ریت پر ،غموں کو نِیند آگئی وہ لہر کِس طرف گئی، یہ میں کہاں سما گیا گئے دِنوں کی لاش پر پڑے رہوگے کب تلک الَم کشو ! اُٹھو کہ آفتاب سر پہ آگیا ناصؔر کاظمی
  2. یہ سال بھی اُداس رہا رُوٹھ کر گیا تجھ سے ملے بغیر دسمبر گذر گیا عُمرِ رَواں خزاں کی ہَوا سے بھی تیز تھی ہر لمحہ برگِ زرد کی صورت بکھر گیا کب سے گِھرا ہُوا ہُوں بگولوں کے درمیاں صحرا بھی میرے گھر کے دروبام پر گیا دل میں چٹختے چٹختے وہموں کے بوجھ سے وہ خوف تھا کہ رات مَیں سوتے میں ڈر گیا جو بات معتبر تھی وہ سر سے گزر گئی جو حرف سرسری تھا وہ دل میں اُتر گیا ہم عکسِ خونِ دل ہی لُٹاتے پھرے مگر وہ شخص آنسوؤں کی دھنک میں نکھر گیا محسن یہ رنگ رُوپ یہ رونق بجا مگر میں زندہ کیا رہوں کہ مِرا جی تو بھر گیا محسن نقوی
  3. مل گیا تھا تو اُسے خود سے خفا رکھنا تھا دل کو کچھ دیر تو مصروفِ دُعا رکھنا تھا میں نا کہتا تھا کے سانپوں سے اَٹے ہیں راستے گھر سے نکلے تھے تو ہاتھوں میں عصا رکھنا تھا بات جب ترکِ تعلق پہ ہی ٹھہری تھی تو پھر دل میں احساسِ غمِ یار بھی کیا رکھنا تھا دامن موجِ ہوا یوں تو نا خالی جاتا گھر کی دہلیز پہ کوئی تو دِیا رکھنا تھا کوئی جگنو تہہِ داماں بھی چھپا سکتے تھے کوئی آنسو پسِ مژگاں ہی بچا رکھنا تھا کیا خبر اُس کے تعاقب میں ہوں کتنی سوچیں ¿ اپنا انداز تو اوروں سے جدا رکھنا تھا چاندنی بند کواڑوں میں کہاں اُترے گی ¿ اِک دریچہ تو بھرے گھر میں کھلا رکھنا تھا اُس کی خوشبو سے سجانا تھا جو دل کو محسؔن اُس کی سانسوں کا لقب موجِ صبا رکھنا تھا (محسن نقوی) __________________
  4. --- احمد فراز --- سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے کتنا آسان تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے اس کی وہ جانے اس پاس وفا تھا کہ نہ تھا تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
  5. اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا جس کو گلے لگا لیا وہ دور ہو گیا کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے دیوانہ بے پڑھے لکھے مشہور ہو گیا محلوں میں ہم نے کتنے ستارے سجا دیئے لیکن زمیں سے چاند بہت دور ہو گیا تنہائیوں نے توڑ دی ہم دونوں کی انا! آئینہ بات کرنے پہ مجبور ہو گیا دادی سے کہنا اس کی کہانی سنائیے جو بادشاہ عشق میں مزدور ہو گیا صبح وصال پوچھ رہی ہے عجب سوال وہ پاس آ گیا کہ بہت دور ہو گیا کچھ پھل ضرور آئیں گے روٹی کے پیڑ میں جس دن مرا مطالبہ منظور ہو گیا
  6. ﮐﯿﺎ ﻋﺸﻖ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﺎﻋﺚِ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﯾﺎﺭﻭ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﮩﺮ ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺑﻦ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﻣﻞ ﮔﺌﮯ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺕ ﺟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﺳﺖِ ﺣﻨﺎﺋﯽ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺷﮩﻨﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﯽ ﻭﺟﮧِ ﺷﻨﺎﺳﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﭘﺎﯾﺎ ﻧﮧ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﻭﺍﺭﮔﯽ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﺻﺤﺮﺍ ﺳﻤﭧ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﮧ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﻭﮦ ﻣﺮﮮ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﭘﯿﮑﺮِ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﻮ ﺭﻭﺯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺪﮔﻤﺎﮞ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﻤﻨﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻗﺘﯿﻞؔ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﺮﺟﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ قتیل شفائی
  7. ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا ذات در ذات ہم سفر رہ کر اجنبی اجنبی کو بھول گیا صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات میں اسے شام ہی کو بھول گیا عہد وابستگی گزار کے میں وجہ وابستگی کو بھول گیا سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر ایک میں ہر کسی کو بھول گیا سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا قہقہہ مارتے ہی دیوانہ ہر غم زندگی کو بھول گیا خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا رنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا کیا قیامت ہوئی اگر اک شخص اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا سوچ کر اس کی خلوت انجمنی واں میں اپنی کمی کو بھول گیا سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن اپنی کم فرصتی کو بھول گیا بستیو اب تو راستہ دے دو اب تو میں اس گلی کو بھول گیا اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا میں بھی گویا اسی کو بھول گیا یعنی تم وہ ہو واقعی؟ حد ہے میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرے بت شکن بت گری کو بھول گیا اب تو ہر بات یاد رہتی ہے غالباً میں کسی کو بھول گیا اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔ اپنی ایذا دہی کو بھول گیا
  8. میں تھک گیا ہوں اساطیر جمع کرتے ہوئے گذشتگاں کی تصاویر جمع کرتے ہوئے میں سوچتا ہوں ابھی تک کہ کتنا پیچھے ہوں اُس ایک شام کی تاخیر جمع کرتے ہوئے کسی کی بزم میں دل کیا غزل سرا ہوتا گزر گیا میں مزامیر جمع کرتے ہوئے نظر گلاب ِ لب و رخ سے شرمسار نہیں بیاضِ آبِ طباشیر جمع کرتے ہوئے میں صوفیا کے مزاروں پہ عمر بھر منصور پھرا ہوں لفظ میں تاثیر جمع کرتے ہوئے اک ایک وصل کا اسباب جمع کرتے ہوئے گنوائیں آنکھیں کہیں خواب جمع کرتے ہوئے گرفتِ شب میں تھے سو 'چشمہ جھیل' میں اپنی یہ عمر گزری ہے مہتاب جمع کرتے ہوئے ہوئی نہ بلب کے جتنی بھی روشنی ہم سے ہزار کرمک ِ شب تاب جمع کرتے ہوئے بنا لیا ہے سمندر طلب کی نائو میں سیاہ بختی کے گرداب جمع کرتے ہوئے صدف سے چاہتے پھرتے ہیں موتیوں کی فصل کسی حباب میں تالاب جمع کرتے ہوئے خزانہ کیسی محبت کا دل کے دریا سے ملا ہے ملبہ ء غرقاب جمع کرتے ہوئے بدن کے جار میں کتنی دراڑیں آئی ہیں عجیب طرح کے تیزاب جمع کرتے ہوئے جنابِ صدر پہ پھینکا وہ دیکھئے کیا ہے کسی غریب نے اعصاب جمع کرتے ہوئے اداسیاں ہیں ، جدائی ہے اور آنسو ہیں گزر گئی یہی احباب جمع کرتے ہوئے چراغاں کر لیا بخت ِسیاہ میں منصور دکھوں کے گوہر ِ نایاب جمع کرتے ہوئے میں جل گیا گل و گلزار جمع کرتے ہوئے بدن میں سایہ ء دیوار جمع کرتے ہوئے مقابلے پہ لے آئی ہے واہموں کے ہجوم فسردگی بھی مددگار جمع کرتے ہوئے کسی نشیب ِ سیہ میں ہے گر پڑی شاید نگاہ ، صبح کے آثار جمع کرتے ہوئے خود اپنا آپ بھی کونے میں دھر دیا میں نے کہانی کے کہیں کردار جمع کرتے ہوئے برِصغیر کے لوگوں کو بھوک دی افسوس بھیانک اٹیمی ہتھیار جمع کرتے ہوئے ہزاروں روز جہنم رسید ہوتے ہیں جہاں میں درہم و دینار جمع کرتے ہوئے بدل دی تُو نے تغزل کی شکل بھی منصور غزل میں درد کے انبار کرتے ہوئے محسن نقوی ۔۔
  9. ضبط کر کے ہنسی کو بُھول گیا میں تو اُس زخم ہی کو بُھول گیا ذات در ذات ہمسفر رہ کر اجنبی، اجنبی کو بُھول گیا صبح تک وجہِ جانکنی تھی جو بات میں اُسے شام ہی کو بُھول گیا عہدِ وابستگی گزار کے میں وجہِ وابستگی کو بُھول گیا سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی اِسی کو بُھول گیا کیوں نہ ہو ناز اِس ذہانت پر ایک میں، ہر کسی کو بُھول گیا سب سے پُراَمن واقعہ یہ ہے آدمی، آدمی کو بُھول گیا قہقہہ مارتے ہی دیوانہ ہرغِم زندگی کو بُھول گیا خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا رنگ ہا رنگ اسی کو بُھول گیا کیا قیامت ہوئی اگر اِک شخص اپنی خوش قسمتی کو بُھول گیا سوچ کر اُس کی خلوت انجمنی واں میں اپنی کمی کو بُھول گیا سب بُرے مجھ کو یاد رہتے ہیں جو بَھلا تھا اُسی کو بُھول گیا اُن سے وعدہ تو کر لیا لیکن اپنی کم فُرصتی کو بُھول گیا بستیو! اب تو راستہ دے دو اب تو میں اس گلی کو بُھول گیا اُس نے گویا مُجھی کو یاد رکھا میں بھی گویا اُسی کو بُھول گیا یعنی تم وہ ہو ، واقعی؟ حد ہے میں تو سچ مُچ سبھی کو بُھول گیا آخری بُت خدا نہ کیوں ٹھہرے بُت شکن بُت گری کو بُھول گیا اب تو ہر بات یاد رہتی ہے غالباً میں کسی کو بُھول گیا اس کی خوشیوں سے جلنے والا جون اپنی ایذا دہی کو بُھول گیا
  10. جب زہر کا کسی کو پیالا دیا گیا سقراط کا یا میرا حوالا دیا گیا کیا کیا نہ یاد آئے تھے ہجر کے دُکھ مجھے جب پنچھیوں کو دیس نکالا دیا گیا توڑا ہزار بار شبوں کے غرور کو جگنو سے جب تلک اُجالا دیا گیا نیزے میں میرا جسم پِرونے کے واسطے مجھ کو فلک کے سمت اُچھالا دیا گیا دیمک زدہ زبانیں، ہوس کے اسیر لوگ مجھ کو تو عہدِ فن بھی نرالا دیا گیا شاید میں شہر کا نہیں جنگل کا ہوں مکین تلوار دی گئی ہے بھالا دیا گیا ہے صحرا تمھاری آنکھ میں کیوں نقش ہو گیا تم کو تو شہر چاہنے والا دیا گیا اک دُکھ کی پروریش کے لیے عمر بھر نثار ایندھن بدن کا، خون کا نوالا دیا گیا
  11. ہم کو نہ اب کسی سے کوئی کام رہ گیا دنیا سے ہم چلے گئے بس نام رہ گیا اب پیاس بجھانے کو یاں پانی کے علاوہ مرغوب ہوس اور خون کا جام رہ گیا حا کم تو چھپا بیٹھا ہےپتھر کےقلعوں میں مرنے کو ناحق آدمی بس عام رہ گیا چھوڑا نہ اسپتال،نہ ہی باغ و درسگاہ وحشی بھی دیکھ کے لرزہ بر اندام رہ گیا ہر جنس یہاں آپ ہی بکنے کو ہے راضی مرضی ہے خریدار کی ، یہ دام رہ گیا وعدہ کوئی وفا نہ کیا تو نے ہم سفر آمد کا منتظر کوئی ہر شام رہ گیا دولت کو، محبت کو، شہرت کو، حسن کو سب کو ہی پوجتے ہو، بس اِک رام رہ گیا؟ دِل چاہ کر بھی پا نہ سکا دید یار کی حسرت سے چھو کے تیرے در و بام رہ گیا