News Ticker
  • “We cannot expect people to have respect for law and order until we teach respect to those we have entrusted to enforce those laws.” ― Hunter S. Thompson
  • “And I can fight only for something that I love
  • love only what I respect
  • and respect only what I at least know.” ― Adolf Hitler
  •  Click Here To Watch Latest Movie Jumanji (2017) 

Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

Search the Community

Showing results for tags 'ﻋﺸﻖ'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

  • Ishq_janoon_Dewanagi
  • Uzee khan
  • Beauty of Words
  • Tareekhi Waqaiyaat
  • Geo News Blog
  • The Pakistan Tourism
  • My BawaRchi_KhaNa
  • Mukaam.e.Moahhabt
  • FDF Members Poetry
  • Sadqy Tmhary
  • FDF Online News
  • Pakistan
  • Dua's Kitchen
  • Raqs e Bismil
  • HayDay Game

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Articles

Categories

  • Records

Calendars

  • Community Calendar
  • Pakistan Holidays

Genres

  • English
  • New Movie Songs
  • Old Movies Songs
  • Single Track
  • Classic
  • Ghazal
  • Pakistani
  • Indian Pop & Remix
  • Romantic
  • Punjabi
  • Qawalli
  • Patriotic
  • Islam

Categories

  • Islam
  • Online Movies
    • English
    • Indian
    • Punjabi
    • Hindi Dubbed
    • Animated - Cartoon
    • Other Movies
    • Pakistani Movies
  • Video Songs
    • Coke Studio
  • Mix Videos
  • Online Live Channels
    • Pakistani Channels
    • Indian Channels
    • Sports Channels
    • English Channels
  • Pakistani Drama Series
    • Zara Yaad ker
    • Besharam (ARY TV series)
  • English Series
    • Quantico Season 1
    • SuperGirl Season 1
    • The Magicians
    • The Shannara Chronicles
    • Game of Thrones

Found 10 results

  1. خون میں عشق ملایا____ تو بدن جاگ اٹھا آگ پھر ایسی لگی __ہم سے بجھائی نہ گئی #eylaaf
  2. کچھ عشق کے بھید بتاؤ ناں یہ بنجر کوکھ بساؤ ناں من پریت تمہاری لاگی رے تم من کے میت ملاؤ ناں یہ عشق کتابت پریم پَتر سب نام تمہارا چاھیں رے تم نام بڑے رحمان سُنو سُبحان کرم فرماؤ ناں اِس راج سماج کی شورش سے دل موڑ لیا ھے صاحب جی تم ھاتھ ہمارا تھامو جی کچھ آیت حرف سناؤ ناں
  3. جھلیا عشق کمانا اوکھا کسے نوں یار بنانا اوکھا پیار پیار تے ہر کوئی بولے کرکے پیار نبھانا اوکھا ہر کوئی دکھاں تے ہنس لیندا ای کسی دا درد ودانا اوکھا گلاں نال نئی رتبے مل دے جوگی بھیس وتانا اوکھا کوئی کسے دی گل نئی سن دا لوکاں نوں سمجھاناں اوکھا بابا بلھے شاہ
  4. .....عشق مجازی اور عشق حقیقی بات ہو رہی تھی پیار محبت اور عشق کی۔ سب اپنی اپنی زبان میں داستان عشق بیان کر رہے تھے۔ کہ اتنے میں مجھے کسی نے کہا کہ آپ ہر بات کو اسلام کے ساتھ منسوب کر دیتے ہیں آج کیوں خاموش ہیں۔ کیا عشق اسلام میں منع ھے۔ تو میں نے عرض کی کہ اس عشق کی وجہ سے تو یہ کائنات تخلیق ہوئی ھے تو پھر اسلام میں یہ کیسے منع ہس سکتا ھے۔ میری نظر میں تو پہلا عاشق ہی رب تعالیٰ ھے اور ہم میں سے جو کوئی بھی عشق میں مبتلا ہوتا ہے وہ سنت الٰہی پوری کر رہا ہوتا ھے۔ یہ عشق بھی بڑی عجب شے ہے جوں جوں اس عشق میں داخل ہوتے جائیں آپ روبوٹ سے بنتے چلے جاتے ہیں۔ عاشق قربانی کے جذبے سے سرشار اپنے معشوق کے لئیے سب کچھ لٹانے کے لئیے ہر لمحہ تیار رہتا ھے۔ عشق کی بھی کئی قِسمیں ہیں لیکن عرف عام میں صرف دو اقسام ہیں ایک عشق مجازی اور دوسرا عشق حقیقی۔ عشق مجازی میری نظر میں صرف آداب عشق سیکھنے کی ابتدا ھے جس میں عاشق اپنے معشوق کی خوشی کے لئیے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئیے کمر بستہ رہتا ھے لیکن اس کو سب سے چھپا کر رکھنا چاہتا ھے۔ عاشق چاہتا ھے کہ میں اپنے معشوق سے بے پناہ پیار کروں اور وہ مجھ سے پیار کرے لیکن کوئی ہمارے بیچ میں نہ آئے۔ جبکہ عشق حقیقی میں عاشق اپنے معشوق سے جتنا والہانہ عشق کرتا ھے اتنا ہی دوسروں سے بھی اپنے معشوق کے لئیے پیار کا خواہاں ہوتا ھے۔ آپ دیکھیں کہ رب جلیل نے اپنے محبوب سے عشق کیا تو اس کے لئیے ایک کائنات تخلیق کی پھر جنات اور ملائکہ سب کو اس کے جدِ امجد کی تخلیق کے وقت سر بسجود ہونے کا حکم فرمایا۔ اک بر گزیدہ عابد و زاہد جس نے کروڑوں برس الله جلِ شانه کی عبادت و ریاضت کی تھی اس نے یہ کہہ کر سجدے سے انکار کر دیا کہ یا الله اس ماٹی کے پتلے کا کوئی زرہ ایسا نہیں جہاں میری جبین سجدہ تیز نہ ہوئی ہو اور نہ کوئی زرا ایسا ھے جو میرے زیر پا نہ ہوا ہو تو پھر اسے سجدہ کیوں کروں۔ بس اتنی سی بات پہ اس کی تمام عبادات ختم کر دی گئیں اور رب نے اسے رہتی دنیا تک کے لئیے ملعون قرار دے دیا۔ اک لمحے کے لئیے سوچیں کہ ہم سارے دن میں کتنی بڑی بڑی خطائیں کرتے ہیں اور ہمارے نامہء اعمال میں نیکیاں برائے نام سی ہیں اس کے باوجود ہم رحمتِ خدا وندی سے سرشار رہتے ہیں اور ابلیس کی اک خطا اسے ملعون ناتمام کر گئی وجہ کیا تھی زرا سی غور طلب بات ھے یہ وجہ صرف یہ تھی کہ مولاءِکُل نے آدم کی تخلیق تو کی ھی تھی اپنے محبوب کے ظہور کے لئیے تو یہ بات پاک پروردگار کو پسند نہ تھی کہ کوئی اس کے محبوب کے ظہور کے اسباب کی مخالفت کرے۔ بس اتنی سی وجہ کے باعث اسے ملعون قرار دے دیا گیا۔ اب آپ اسے غرور ابلیس کی سزا کہو یا حکم خدا وندی کی خلاف ورزی لیکن سچ تو یہ تھا۔ اور دیکھو الله نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے اور سب نے تبلیغ خدا وندی کے ساتھ ساتھ نجات کا زریعہ یہ بھی بتایا کہ وہ جو آخر میں اک نبی آئے گا وہ سب کا نجات دھندہ ہو گا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ الله جل شانه جہاں اپنے فرشتوں کو تسبیح کا حکم دیتے ہیں وہاں ہمیں بھی حکم ملتا ھے کہ میں اور میرے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ لہٰذا اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو۔ یہ عشق پہلا عشق ھے۔ جو میرے الله نے شروع کیا۔ اس کے بعد عشق الٰہی شروع ہوتا ھے اور اس کی تو بے شمار مثالیں ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کے دور کی اور اسی طرح آج تک چلے آرہے ہیں عاشقِ الٰہی اور عشاق محمدی۔ کوئی عاشق غازی علم دین بن جاتا ھے اور کوئی غازی غلام محمد بن جاتا ھے یہ سب عشق حقیقی کے مرتکب ہیں۔ اور ہم عشق مجازی میں ہی مر رہے ہوتے ہیں۔ کسی نے پوچھا تھا کہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر کیسے ہوتا ہے تو مجھے ایک قصہ یاد آگیا اک غریب عورت کسی رئیس کے گھر کام کرنے جاتی تھی ایک دن کسی وجہ سے اسے اپنے بیٹے کو بھی وہاں لے جانا پڑ گیا اس کے بیٹے کی نظر رئیس کی بیٹی پر پڑ گئی اور وہ اس کےحُسن کا دیوانہ ہو گیا۔ اب وہ ہر روز ماں سے ضد کرے کہ ایک جھلک مجھے اس حسن بیکراں کی دکھلا دی ورنہ میں مر جاؤں گا۔ ماں نے مجبور ہو کر اس رئیس زادی کو اپنا دکھڑا سنایا تو اس نے کہا کہ میرا باپ الله کے نیک بندوں سے بڑا پیار کرتا ھے تم اپنے بیٹے کو کہو کہ وہ جنگل میں بیٹھ جائے کچھ عرصہ میں اس کی شہرت ہو گی تو میرا باپ خود ہمیں اس کو سلام کرنے کے لئیے بھیج دے گا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو ساری بات بتا دی۔ اور وہ اس کے لئیے تیار ہو گیا اس نے کہا ماں تم مجھے رات کے اندھیرے میں کھانا دے آیا کرنا تو میں وہاں بیٹھا رہوں گا۔ اب یہ سلسلہ شروع ہو گیا کہ لوگوں میں مشہور ھو گیا کہ اک الله کا بندہ جنگل میں بیٹھا ھے اور ہر وقت الله الله کرتا ھے رئیس کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کو کہا کہ تم لوگ بھی الله کے نیک بندے کو سلام کر آؤ۔ وہ ماں بیٹی اب جنگل میں پہنچ گئیں اور اس لڑکی نے اپنے رخ روشن سے پردہ ھٹا کر انہیں مخاطب کیا کہ لو اب جی بھر کر مجھے دیکھ لو کہ تم نے یہ سارا ڈھونگ میرے ہی لئیے رچا رکھا ھے۔ لیکن وہ بندہ خدا ویسے ہی آنکھیں بند کئیے الله الله کرتا رہا۔ کئی بار کہنے کے بعد لڑکی کو غصہ آگیا اور اس نے ان کے منہ پر تھپڑ مار کر کہا کہ اب دیکھتے کیوں نہیں ہو میری طرف کے اس حسن کے آشکار ہو کر ہی آپ نے یہ ڈھونگ بنا رکھا ھے تو اب مجھے کیوں نہیں دیکھ رھے ہو۔ اس پر انہوں نے کہا بی بی جاؤ اب میں جو حسن دیکھ چکا ہوں اس کے سامنے یہ دنیاوی حسن تو اک زرہ برابر بھی نہیں۔ کیونکہ وہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف چلے گئے تھے۔ اس لئیے یاد رکھیں کہ عشق مجازی عشق حقیقی کا پہلا زینہ ھے اور اس عشق مجازی کی کامیابی آپ کو محبت کی طرف لے جاتی ھے اور اس کا فراق آپ کو عشق حقیقی کی طرف لے جاتا ھے۔
  5. .....عشق مجازی اور عشق حقیقی بات ہو رہی تھی پیار محبت اور عشق کی۔ سب اپنی اپنی زبان میں داستان عشق بیان کر رہے تھے۔ کہ اتنے میں مجھے کسی نے کہا کہ آپ ہر بات کو اسلام کے ساتھ منسوب کر دیتے ہیں آج کیوں خاموش ہیں۔ کیا عشق اسلام میں منع ھے۔ تو میں نے عرض کی کہ اس عشق کی وجہ سے تو یہ کائنات تخلیق ہوئی ھے تو پھر اسلام میں یہ کیسے منع ہس سکتا ھے۔ میری نظر میں تو پہلا عاشق ہی رب تعالیٰ ھے اور ہم میں سے جو کوئی بھی عشق میں مبتلا ہوتا ہے وہ سنت الٰہی پوری کر رہا ہوتا ھے۔ یہ عشق بھی بڑی عجب شے ہے جوں جوں اس عشق میں داخل ہوتے جائیں آپ روبوٹ سے بنتے چلے جاتے ہیں۔ عاشق قربانی کے جذبے سے سرشار اپنے معشوق کے لئیے سب کچھ لٹانے کے لئیے ہر لمحہ تیار رہتا ھے۔ عشق کی بھی کئی قِسمیں ہیں لیکن عرف عام میں صرف دو اقسام ہیں ایک عشق مجازی اور دوسرا عشق حقیقی۔ عشق مجازی میری نظر میں صرف آداب عشق سیکھنے کی ابتدا ھے جس میں عاشق اپنے معشوق کی خوشی کے لئیے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئیے کمر بستہ رہتا ھے لیکن اس کو سب سے چھپا کر رکھنا چاہتا ھے۔ عاشق چاہتا ھے کہ میں اپنے معشوق سے بے پناہ پیار کروں اور وہ مجھ سے پیار کرے لیکن کوئی ہمارے بیچ میں نہ آئے۔ جبکہ عشق حقیقی میں عاشق اپنے معشوق سے جتنا والہانہ عشق کرتا ھے اتنا ہی دوسروں سے بھی اپنے معشوق کے لئیے پیار کا خواہاں ہوتا ھے۔ آپ دیکھیں کہ رب جلیل نے اپنے محبوب سے عشق کیا تو اس کے لئیے ایک کائنات تخلیق کی پھر جنات اور ملائکہ سب کو اس کے جدِ امجد کی تخلیق کے وقت سر بسجود ہونے کا حکم فرمایا۔ اک بر گزیدہ عابد و زاہد جس نے کروڑوں برس الله جلِ شانه کی عبادت و ریاضت کی تھی اس نے یہ کہہ کر سجدے سے انکار کر دیا کہ یا الله اس ماٹی کے پتلے کا کوئی زرہ ایسا نہیں جہاں میری جبین سجدہ تیز نہ ہوئی ہو اور نہ کوئی زرا ایسا ھے جو میرے زیر پا نہ ہوا ہو تو پھر اسے سجدہ کیوں کروں۔ بس اتنی سی بات پہ اس کی تمام عبادات ختم کر دی گئیں اور رب نے اسے رہتی دنیا تک کے لئیے ملعون قرار دے دیا۔ اک لمحے کے لئیے سوچیں کہ ہم سارے دن میں کتنی بڑی بڑی خطائیں کرتے ہیں اور ہمارے نامہء اعمال میں نیکیاں برائے نام سی ہیں اس کے باوجود ہم رحمتِ خدا وندی سے سرشار رہتے ہیں اور ابلیس کی اک خطا اسے ملعون ناتمام کر گئی وجہ کیا تھی زرا سی غور طلب بات ھے یہ وجہ صرف یہ تھی کہ مولاءِکُل نے آدم کی تخلیق تو کی ھی تھی اپنے محبوب کے ظہور کے لئیے تو یہ بات پاک پروردگار کو پسند نہ تھی کہ کوئی اس کے محبوب کے ظہور کے اسباب کی مخالفت کرے۔ بس اتنی سی وجہ کے باعث اسے ملعون قرار دے دیا گیا۔ اب آپ اسے غرور ابلیس کی سزا کہو یا حکم خدا وندی کی خلاف ورزی لیکن سچ تو یہ تھا۔ اور دیکھو الله نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے اور سب نے تبلیغ خدا وندی کے ساتھ ساتھ نجات کا زریعہ یہ بھی بتایا کہ وہ جو آخر میں اک نبی آئے گا وہ سب کا نجات دھندہ ہو گا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ الله جل شانه جہاں اپنے فرشتوں کو تسبیح کا حکم دیتے ہیں وہاں ہمیں بھی حکم ملتا ھے کہ میں اور میرے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ لہٰذا اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو۔ یہ عشق پہلا عشق ھے۔ جو میرے الله نے شروع کیا۔ اس کے بعد عشق الٰہی شروع ہوتا ھے اور اس کی تو بے شمار مثالیں ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کے دور کی اور اسی طرح آج تک چلے آرہے ہیں عاشقِ الٰہی اور عشاق محمدی۔ کوئی عاشق غازی علم دین بن جاتا ھے اور کوئی غازی غلام محمد بن جاتا ھے یہ سب عشق حقیقی کے مرتکب ہیں۔ اور ہم عشق مجازی میں ہی مر رہے ہوتے ہیں۔ کسی نے پوچھا تھا کہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر کیسے ہوتا ہے تو مجھے ایک قصہ یاد آگیا اک غریب عورت کسی رئیس کے گھر کام کرنے جاتی تھی ایک دن کسی وجہ سے اسے اپنے بیٹے کو بھی وہاں لے جانا پڑ گیا اس کے بیٹے کی نظر رئیس کی بیٹی پر پڑ گئی اور وہ اس کےحُسن کا دیوانہ ہو گیا۔ اب وہ ہر روز ماں سے ضد کرے کہ ایک جھلک مجھے اس حسن بیکراں کی دکھلا دی ورنہ میں مر جاؤں گا۔ ماں نے مجبور ہو کر اس رئیس زادی کو اپنا دکھڑا سنایا تو اس نے کہا کہ میرا باپ الله کے نیک بندوں سے بڑا پیار کرتا ھے تم اپنے بیٹے کو کہو کہ وہ جنگل میں بیٹھ جائے کچھ عرصہ میں اس کی شہرت ہو گی تو میرا باپ خود ہمیں اس کو سلام کرنے کے لئیے بھیج دے گا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو ساری بات بتا دی۔ اور وہ اس کے لئیے تیار ہو گیا اس نے کہا ماں تم مجھے رات کے اندھیرے میں کھانا دے آیا کرنا تو میں وہاں بیٹھا رہوں گا۔ اب یہ سلسلہ شروع ہو گیا کہ لوگوں میں مشہور ھو گیا کہ اک الله کا بندہ جنگل میں بیٹھا ھے اور ہر وقت الله الله کرتا ھے رئیس کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کو کہا کہ تم لوگ بھی الله کے نیک بندے کو سلام کر آؤ۔ وہ ماں بیٹی اب جنگل میں پہنچ گئیں اور اس لڑکی نے اپنے رخ روشن سے پردہ ھٹا کر انہیں مخاطب کیا کہ لو اب جی بھر کر مجھے دیکھ لو کہ تم نے یہ سارا ڈھونگ میرے ہی لئیے رچا رکھا ھے۔ لیکن وہ بندہ خدا ویسے ہی آنکھیں بند کئیے الله الله کرتا رہا۔ کئی بار کہنے کے بعد لڑکی کو غصہ آگیا اور اس نے ان کے منہ پر تھپڑ مار کر کہا کہ اب دیکھتے کیوں نہیں ہو میری طرف کے اس حسن کے آشکار ہو کر ہی آپ نے یہ ڈھونگ بنا رکھا ھے تو اب مجھے کیوں نہیں دیکھ رھے ہو۔ اس پر انہوں نے کہا بی بی جاؤ اب میں جو حسن دیکھ چکا ہوں اس کے سامنے یہ دنیاوی حسن تو اک زرہ برابر بھی نہیں۔ کیونکہ وہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف چلے گئے تھے۔ اس لئیے یاد رکھیں کہ عشق مجازی عشق حقیقی کا پہلا زینہ ھے اور اس عشق مجازی کی کامیابی آپ کو محبت کی طرف لے جاتی ھے اور اس کا فراق آپ کو عشق حقیقی کی طرف لے جاتا ھے۔
  6. حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں ایک صورت نظر آتی ہے جدھر جاؤں میں یہ بھی ممکن ہے کہ ہر سانس سزا ہو جائے ہو بھی سکتا ہے جدائی میں سنور جاؤں میں یوں مسلسل مجھے تکنے کی نہ عادت ڈالو یہ نہ ہو آنکھ جو جھپکو تو بکھر جاؤں میں کیا ترے دل پہ قیامت بھی بھلا ٹوٹے گی؟ گر تجھے دیکھ کے چپ چاپ گزر جاؤں میں دیکھو انجام تو دینے ہیں امورِ دنیا جی تو کرتا ہے ترے پاس ٹھہر جاؤں میں تھام رکھا ہے جو تُو نے تو سلامت ہے بدن تُو اگر ہاتھ چھڑا لے تو بکھر جاؤں میں جس قدر بگڑا ہوا ہوں میں یہی سوچتا ہوں کب ترے ہاتھ لگوں اور سُدھر جاؤں میں کون ہے ، بول مرا، میری اداسی ! تجھ بن تُو بھی گر پاس نہ آئے تو کدھر جاؤں میں یہ مری عمر فقط چاہ میں تیری گزرے مر نہ جاؤں جو ترے دل سے اتر جاؤں میں
  7. ﮐﯿﺎ ﻋﺸﻖ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﺎﻋﺚِ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﯾﺎﺭﻭ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﮩﺮ ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺑﻦ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﻣﻞ ﮔﺌﮯ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺕ ﺟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﺳﺖِ ﺣﻨﺎﺋﯽ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺷﮩﻨﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﯽ ﻭﺟﮧِ ﺷﻨﺎﺳﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﭘﺎﯾﺎ ﻧﮧ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﻭﺍﺭﮔﯽ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﺻﺤﺮﺍ ﺳﻤﭧ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﮧ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﻭﮦ ﻣﺮﮮ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﭘﯿﮑﺮِ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﻮ ﺭﻭﺯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺪﮔﻤﺎﮞ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﻤﻨﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻗﺘﯿﻞؔ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﺮﺟﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ قتیل شفائی
  8. سُنا ہے عشقِ کامل کا نقش گہرا ہوتا ہے سنا ہے احساس کی چلمن پر سخت پہرا ہوتا ہے سنا ہے دل کی بستی میں بس اک موسم ٹھرا ہوتا ہے سنا ہے رات کے جگنو بھی تارے دکھائی دیتے ہیں سنا ہے گرجتے بادل بھی مندر کی گھنٹی سنائی دیتے ہیں سنا ہے دل کو لگ جاتا ہے قفس بس اک شخص کا پہرا ہوتا ہے سنا ہے عشقِ کامل کا نقش گہرا ہوتا ہے سنا ہے لوگ اس میں غم بھی سانبھ لیتے ہیں سنا ہے تڑپ کر بھی اسی کا نام لیتے ہیں سنا ہے بے خود ان کو مے کر نہیں پاتی سنا ہے عشق کا در جو دل تھام لیتے ہیں سنا ہے جو ہستی کردے فنا عشق میں سنا ہے بندگی کا سر اسی کے سہرا ہوتا ہے سنا ہے ڈوبنے والوں کا اس میں رنگ سُنہرا ہوتا ہے سنا ہے لاکھ چہروں میں بھی مطلوب اِک چہرا ہوتا ہے سنا ہے عشق کامل کا نقش گہرا ہوتا ہے
  9. کچھ اور عشق کا حاصل نہ عشق کا مقصود جزانیکہ لطفِ خلشائے نالۂ بے سُود مگر یہ لُطف بھی ہے کچھ حجاب کے دم سے جو اُٹھ گیا کہیں پردہ تو پھر زیاں ہے نہ سُود ہلائے عشق نہ یُوں کائناتِ عالم کو یہ ذرے دے نہ اُٹھیں سب شرارۂ مقصود کہو یہ عشق سے چھیڑے تو سازِ ہستی کو ہرایک پردہ میں ہے نغمہ "ہوالموجُود یہ کون سامنے ہے؟ صاف کہہ نہیں سکتے بڑے غضب کی ہے نیرنگی طلسمِ نمُود اگرخموش رہوں میں، تو تُو ہی سب کچھ ہے جو کچھ کہا، تو تِرا حُسْن ہوگیا محدُود جو عرض ہے، اُسے اشعار کیوں مِرے کہیئے اُچھل رہے ہیں جگر پارہ ہائے خُوں آلوُد نہ میرے ذوقِ طلب کو ہے مدّعا سے غرض نہ گامِ شوق کو پروائے منزلِ مقصُود مِرا وجُود ہی خود انقیاد و طاعت ہے کہ ریشہ ریشہ میں ساری ہے اِک جبِینِ سجُود
  10. ﺍﺳﯽ ﺟﻮﮔﯽ ﻋﺸﻖ ﺣﻀﻮﺭ ﺩﮮ ﺳﺎﮨﮉﺍ ﺑﮩﺘﺎ ﺍﻭﮐﮭﺎ ﺟﻮﮒ ﺳﺎﮈﯼ ﺟﻨﺪ ﻏﻤﺎﮞ ﻭِﭺ ﮐﻮﮎ ﺩﯼ ، ﺳﺎﻧﻮﮞ ﻟﮕﮯ ﮈﺍﮨﮉﮮ ﺭﻭﮒ ﮐﯿﻮﯾﮟ ﭘﯿﺮﯼ ﮔﮭﻨﮕﺮﻭ ﺑﻨﺌﯿﮯ ﺳﺎﻧﻮﮞ ﻧﭽﻦ ﺩﺍ ﻧﺌﯿﮟ ﭼﺞ ﺳﺎﮈﺍ ﯾﺎﺭ ﻣﻨﺎ ﺩﮮ ﻣﺮﺷﺪﺍ ﺗﻮﮞ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺳﺎﮨﮉﯼ ﻟَﺞ ﺍﺳﺎﮞ ﻭﺍﺳﯽ ﻧﮕﺮ ﭘﺮﯾﻢ ﺩﮮ ، ﺳﺎﮨﮉﺍ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﺩﻭﺭ ﺍﮮ ﺩﯾﺲ ﺍﺳﺎﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﮞ ﻣﺎﺭﯾﺎ ﺍﺳﺎﮞ ﺟﻮﮔﯽ ﺑﺪﻟﯿﺎ ﺑﮭﯿﺲ ﺳﺎﮨﮉﯼ ﺟِﻨﺪﮌﯼ ﺩﺍ ﻣُﻞ ﮐﮑﮫ ﻧﺌﯿﮟ ﺳﺎﮨﮉﺍ ﺳﺐ ﮐُﺠﮫ ﺳﻮﮨﻨﺎ ﯾﺎﺭ ﺟِﺪﯼ ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻭﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﺩِﺗﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﺍﺳﯽ ﻭﺍﺭ ﺳﺎﮨﻨﻮﮞ ﭼﺎﮨﺖ ﺍﻭﮨﺪﮮ ﻣِﻠﻦ ﺩﯼ ﺍﺳﯽ ﮨﻮﺭ ﻧﺎ ﻣﻨﮕﺪﮮ ﮐَﮑﮫ ﺍﺳﯽ ﺭﮨﻨﺎ ﮨﺮ ﺩﻡ ﯾﺎﺭ ﺩﺍ ﺍﮎ ﭘﻞ ﻧﺎ ﺭﮨﻨﺎ ﻭَﮐﮫ