News Ticker
  • “We cannot expect people to have respect for law and order until we teach respect to those we have entrusted to enforce those laws.” ― Hunter S. Thompson
  • “And I can fight only for something that I love
  • love only what I respect
  • and respect only what I at least know.” ― Adolf Hitler
  •  Click Here To Watch Latest Movie Jumanji (2017) 

Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

Search the Community

Showing results for tags 'ghazal'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

  • Ishq_janoon_Dewanagi
  • Uzee khan
  • Beauty of Words
  • Tareekhi Waqaiyaat
  • Geo News Blog
  • The Pakistan Tourism
  • My BawaRchi_KhaNa
  • Mukaam.e.Moahhabt
  • FDF Members Poetry
  • Sadqy Tmhary
  • FDF Online News
  • Pakistan
  • Dua's Kitchen
  • Raqs e Bismil
  • HayDay Game

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Articles

Categories

  • Records

Calendars

  • Community Calendar
  • Pakistan Holidays

Genres

  • English
  • New Movie Songs
  • Old Movies Songs
  • Single Track
  • Classic
  • Ghazal
  • Pakistani
  • Indian Pop & Remix
  • Romantic
  • Punjabi
  • Qawalli
  • Patriotic
  • Islam

Categories

  • Islam
  • Online Movies
    • English
    • Indian
    • Punjabi
    • Hindi Dubbed
    • Animated - Cartoon
    • Other Movies
    • Pakistani Movies
  • Video Songs
    • Coke Studio
  • Mix Videos
  • Online Live Channels
    • Pakistani Channels
    • Indian Channels
    • Sports Channels
    • English Channels
  • Pakistani Drama Series
    • Zara Yaad ker
    • Besharam (ARY TV series)
  • English Series
    • Quantico Season 1
    • SuperGirl Season 1
    • The Magicians
    • The Shannara Chronicles
    • Game of Thrones

Found 148 results

  1. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  2. اک پہیلی زندگی چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن ’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘ وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن سودائے آذری میں ہوئے صنم گری وہ بت پرستیوں میں عبادت کے رات دِن اِک سادہ دِل ، دیارِ کرشمہ گراں میں گم اِک قریۂ طلسم میں حیرت کے رات دِن لب ہائے نارسیدہ کی لرزش سے جاں بلب صہبائے ناچشیدہ کی لذت کے رات دِن روئے نگار و چشمِ غزالیں کے تذکرے گیسوئے یار و حرف و حکایت کے رات دِن ناکردہ کاریوں پہ بھی بدنامیوں کا شور اختر شماریوں پہ بھی تہمت کے رات دِن سوداگرانِ منبر و مکتب سے رو کشی جاں دادگانِ دانش و حکمت کے رات دِن اہلِ قبا و اہلِ ریا سے گریز پا وہ واعظانِ شہر سے وحشت کے رات دِن میر و انیس و غالب و اقبال سے الگ راشد ، ندیم ، فیض سے رغبت کے رات دِن فردوسی و نظیری و حافظ کے ساتھ ساتھ بیدل ، غنی ، کلیم سے بیعت کے رات دِن شیلے کا سحر ، کیٹس کا دُکھ ،بائرن کی دھج ان کافرانِ عشق سے نسبت کے رات دِن تشکیک و ملحدانہ رویے کے باوجود رومی سے والہانہ عقیدت کے رات دِن جیسے مئے سخن سے صراحی بھری ہوئی زورِ بیان و ُحسنِ طبیعت کے رات دِن یاروں سے شاعرانہ حوالے سے چشمکیں غیروں سے عاشقانہ رقابت کے رات دِن شعری سفر میں بعض بزرگوں سے اختلاف پیرانِ میکدہ سے بغاوت کے رات دِن رکھ کر کتابِ عقل کو نسیاں کے طاق پر وہ عاشقی میں دِل کی حکومت کے رات دِن ہر روز ، روزِ ابر تھا ہر رات چاند رات آزاد زندگی تھی ، فراغت کے رات دِن وہ صبح و شام دربدری ، ہم سنوں کے ساتھ آوارگی و سیر و سیاحت کے رات دِن اِک محشرِ خیال کے ہجراں میں کانٹا تنہائی کے عذاب ، قیامت کے رات دِن اک لعبتِ جمال کو ہر وقت سوچنا اور سوچتے ہی رہنے کی عادت کے رات دِن اِک رازدارِ خاص کو ہر وقت ڈھونڈنا بے اعتباریوں میں ضرورت کے رات دِن وہ ہر کسی سے اپنا ہی احوال پوچھنا اپنے سے بھی تجاہل و غفلت کے رات دِن بے وجہ اپنے آپ کو ہر وقت کوسنا بے سود ہر کسی سے شکایت کے رات دِن رُسوائیوں کی بات تھی رُسوائیاں ہوئیں رُسوائیوں کی عمر میں شہرت کے رات دِن اِک دُشمنِ وفا کو بھلانے کے واسطے چارہ گروں کے پند و نصیحت کے رات دِن پہلے بھی جاں گُسل تھے مگر اس قدر نہ تھے اِک شہرِ بے اَماں میں سکونت کے رات دِن اس دولتِ ہنر پہ بھی آزارِ مفلسی اس روشنیٔ طبع پہ ظلمت کے رات دِن پھر یہ ہوا کہ شیوئہ دِل ترک کر دیا اور تج دیئے تھے ہم نے محبت کے رات دِن ہر آرزو نے جامۂ حسرت پہن لیا پھر ہم تھے اور گوشۂ عزلت کے رات دِن ناداں ہیں وہ کہ جن کو ہے گم نامیوں کا رنج ہم کو تو راس آئے نہ شہرت کے رات دِن فکرِ معاش ، شہر بدر کر گئی ہمیں پھر ہم تھے اور قلم کی مشقت کے رات دِن ’’خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا‘‘ اور مدعی تھے صنعت و حرفت کے رات دِن کیا کیا ہمیں نہ عشق سے شرمندگی ہوئی کیا کیا نہ ہم پہ گزرے ندامت کے رات دِن آکاس بیل پی گئی اِک سرو کا لہو آسیب کھا گیا کسی قامت کے رات دِن کاٹی ہے ایک عمر اسی روزگار میں برسوں پہ تھے محیط ، اذیت کے رات دِن ساماں کہاں کہ یار کو مہماں بلایئے اِمکاں کہاں کہ دیکھئے عشرت کے رات دِن پھرتے تھے میر خوار کوئی پوچھتا نہ تھا قسمت میں جب تلک تھے قناعت کے رات دِن سو یہ بھی ایک عہدِ زیاں تھا ، گزر گیا کٹ ہی گئے ہیں جبرِ مشیت کے رات دِن نوواردانِ شہرِ تمنا کو کیا خبر ہم ساکنانِ کوئے ملامت کے رات دِن احمد فراز
  3. پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہے جذبہ عشق سرِ دار مجھے کھینچتا ہے میں محبت کے مضافات کا باشندہ ہوں کیوں ترا شہرِ پُر اسرار مجھے کھینچتا ہے یہ بھی حیرت ہے عجب، خود مری تمثال کے ساتھ آئینہ بھی پسِ دیوار مجھے کھینچتا ہے دم بھی لینے نہیں دیتا ہے مسافت کاجنون پَا برہنہ وہ سرِ خار مجھے کھینچتا ہے پھر کوئی تیر ہدف کرتا ہے مشکیرہ کو پھر کوئی دستِ کماں دار مجھے کھینچتا ہے بولیاں جس کی لگے میں کوئی یوسف تو نہیں کس لئے مصر کا بازار مجھے کھینچتا ہے ہے کوئی گریہ کن حرف پسِ خیمہ جاں پھر کوئی نالہ آزار مجھے کھینچتا ہے تجھ کو معلوم ہے شاہدؔ بھی ہے مغرور بہت کیوں ترا حُسن انادار مجھے کھینچتا ہے
  4. روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں مل کے ان کی نگاہ جادو سے دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں مجھ کو دکھلا کے راہ کوچہء یار کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے دل میں گویا سما گئیں آنکھیں محفل یار میں بہ ذوق نگاہ لطف کیا کیا اٹھا گئیں آنکھیں حال سنتے وہ میرا کیا حسرت وہ تو کہئے سنا گئیں آنکھیں
  5. poetry

    سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں داغ دہلوی
  6. Short Biography of Nasir Kazmi a Poet of Modern Urdu Ghazal ناصر کاظمی 8 دسمبر، 1925 ہندوستانی پنجاب کے شہر امبالہ میں ایک ہندوستانی رائل آرمی کے ایک صوبیدار میجر محمد سلطان کے گھر پیدا ہوئے والد کی نوکر ی کی وجہ سے ناصر کو کئی شہروں میں رہنے کا موقع ملتا رہا۔ مگر ناصر کاظمی نے اپنا میٹرک کا امتحان مسلم ہائی اسکول انبالہ سے پاس کیا۔ پھر کالج کی تعلیم کے لیے وہ لاہور کے اسلامیہ کالج آگئے جہاں پر وہ ہاسٹل میں رہائش پزیر رہے۔باوجود اس کے ناصر کاظمی رفیق خاور کے چہیتے شاگرد رہے ناصر کا دل جانے کیو ں پڑھائی سے اچاٹ ہوگیا ۔۔ اور نا صر نے اپنا بی اے بھی ادھورا چھوڑ دیا اور تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا۔ پاکستان بننے کے بعد ناصر کاظمی لاہور منتقل ہوگئے مگر جلد ہی ان کے سر سے والدین کا سایہ شفقت اٹھ گیا۔ جس وجہ سے وہ بہت اداس اور ملول رہنے لگے۔ ناصر کافی عرصہ تک لاہور سے شائع ہونے والے مجلات سے بھی منسلک رہے۔ پھر یہ سب چھوڑ کی ریڈیو پاکستان سے ایسے منسلک ہوئے کے پھر ریڈیو پاکستان اور شاعری کے ہوکر رہے گئے۔ ناصر نے اپنی شعر گوئی کا آغاز تو پاکستان بننے سے پہلے ہی کر دیا تھا۔ناصر کی شعر گوئی کا آغاز ۱۹۴۰ء سے ہوا۔حفیظ ہوشیارپوری سے تلمذ حاصل تھا۔ پاکستان بننے کے بعد ناصر نے جدید غزل کو ایک نیا اسلوب دیا ۔ بہت سے لوگ ان کو نئے دور کی غزل کا موجد بھی کہتے ہیں گو کہ ان کی کچھ نظمیں بالا کی چاشنی اور ادب کا مزاج لے کر مشہور ہویں "برگِ نَے" ”دیوان“ اور ”پہلی بارش“ ناصر کاظمی کی غزلوں کے مجموعے اور ”نشاطِ خواب“ نظموں کا مجموعہ ہے۔ سٔر کی چھایا ان کا منظوم ڈراما ہے۔ برگِ نَے ان کا پہلا مجموعہ کلام تھا جو 1952ء میں شائع ہوا۔ ناصر کاظمی 2 مارچ، 1972ءکو لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔۔ گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر ستارۂ شام بن کے آیا برنگ خواب سحر گیا وہ خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا یوں ہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دور آسماں بھی جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہل دل کے یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں جو قافلہ میرا ہم سفر تھا مثال گرد سفر گیا وہ مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستم گروں کی پلک نہ بھیگی جو نالہ اٹھا تھا رات دل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ وہ مے کدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا صدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصرؔ تری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ nasir kazmi poetry nasir kazmi poetry images nasir kazmi poetry urdu Faiz Ahmad Faiz Poet of Hope Love and Revelation Saghar Siddiqui A Poet of Sadness & Love Urdu Sad Poetry Dukh by Faraz
  7. لہو کی آنکھ سے پڑھ میرے ضبط کی تحریر لبوں پہ لفظ نہ گن _____ کپکپاہٹیں پہچان www.fundayforum.com ‏تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے ― جون ایلیا
  8. ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی اس گھر کی کھلی چھت پہ چمکتے ہوئے تارو کہتے ہو کبھی جا کے وہاں بات یہاں کی ؟ اللہ کرے میرؔ کا جنت میں مکاں ہو مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی ہوتا ہے یہی عشق میں انجام سبھی کا باتیں یہی دیکھی ہیں محبت زدگاں کی پڑھتے ہیں شب و روز اسی شخص کی غزلیں غزلیں یہ حکایات ہیں ہم دل زدگاں کی تم چرخِ چہارم کے ستارے ہوئے لوگو تاراج کرو زندگیاں اہلِ جہاں کی انشاؔ سے ملو، اس سے نہ روکیں گے وہ، لیکن اُس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی مشہور ہے ہر بزم میں اس شخص کا سودا باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام، میاں کی اے دوستو! اے دوستو! اے درد نصیبو گلیوں میں، چلو سیر کریں، شہرِ بتاں کی ہم جائیں کسی سَمت، کسی چوک میں ٹھہریں کہیو نہ کوئی بات کسی سود و زیاں کی انشاؔ کی غزل سن لو، پہ رنجور نہ ہونا دیوانا ہے، دیوانے نے اک بات بیاں کی
  9. ghazal

    Mohabat Ki Kahani Mein Koi Tarmeem Mat Karna Mujhe Tum Tor Dena Pr Mujhe Taqsem Mat Karna Zamanay K Dukhon Ko Main Seh Lon Ga Zabat Kr K Magr Tum Bhool Jane Ki Kabhi Talqeen Mat Karna Main Tum Se Pyar Karta Tha Main Tum Se Pyar Karta Hon Keh K Bewafa Mujh Ko Meri Toheen Mat Karna, Jo Thukrana Ho, ya Bhulana Chaho Tum Mujhe To Mohabat Ki Kahani Mein Koi Tarmeem Mat Karna, Mujhe Tum Tor To Dena Mgr Taqseem Mat Karna
  10. جاؤ قرارِ بے دِلاں ! شام بخیر شب بخیر صحن ھُوادھواں دھواں !شام بخیرشب بخیر شامِ وصال ہے قریب ، صبح کمال ہے قرب پھرنہ رہیں گےسرگراں !شام بخیرشب بخیر وجد کرے گی زندگی،جسم بہ جسم،جاں بہ جاں جسم بہ جسم، جاں بہ جاں !شام بخیرشب بخیر اے میرےشوق کی اُمنگ ، میرےشباب کی ترنگ تجھ پہ شفق کاسائباں ! شام بخیر شب بخیر تُومیری شاعری میں ہے، رنگ طرازوگُل فشاں تیری بہار بے خزاں ! شام بخیر شب بخیر تیراخیال خواب خواب، خلوتِ جاں کی آب وتاب جسم جمیل و ناتواں ! شام بخیر شب بخیر ہے میرا نام ارجمند ، تیرا حصار سر بلند بانوشہرجسم وجاں ! شام بخیرشب بخیت دید سے جانِ دید تک، دل سے رُخِ امید تک کوئی نہیں ہےدرمیاں ! شام بخیر شب بخیر ھو گئ دیر جاؤ تم ، مجھ کو گلے لگاؤ تم تُومیری جاں ہے،میری جاں!شام بخیرشب بخیر شام بخیر شب بخیر، موجِ شمیمِ پیرہن تیری مہک رہےگی یاں!شام بخیرشب بخیر جون ایلیا
  11. تم کہ سنتے رہے اوروں کی زبانی لوگو ہم سُناتے ہیں تمہیں اپنی کہانی لوگو کون تھا دشمنِ جاں وہ کوئی اپنا تھا کہ غیر ہاں وہی دُشمنِ جاں دلبرِ جانی لوگو زُلف زنجیر تھی ظالم کی تو شمشیر بدن رُوپ سا رُوپ جوانی سی جوانی لوگو سامنے اُسکے دِکھے نرگسِ شہلا بیمار رُو برو اُسکے بھرے سَرو بھی پانی لوگو اُسکے ملبوس سے شرمندہ قبائے لالہ اُس کی خوشبو سے جلے رات کی رانی لوگو ہم جو پاگل تھے تو بے وجہ نہیں تھے پاگل ایک دُنیا تھی مگر اُس کی دِوانی لوگو ایک تو عشق کیا عشق بھی پھر میر سا عشق اس پہ غالب کی سی آشفتہ بیانی لوگو ہم ہی سادہ تھے کِیا اُس پہ بھروسہ کیا کیا ہم ہی ناداں تھے کہ لوگوں کی نہ مانی لوگو ہم تو اُس کے لئے گھر بار بھی تج بیٹھے تھے اُس ستمگر نے مگر قدر نہ جانی لوگو کس طرح بھُول گیا قول و قسم وہ اپنے کتنی بے صرفہ گئی یاد دہانی لوگو اب غزل کوئی اُترتی ہے تو نوحے کی طرح شاعری ہو گئی اب مرثیہ خوانی لوگو شمع رویوں کی محبت میں یہی ہوتا ھے رہ گیا داغ فقط دل کی نشانی لوگو ( احمد فراز )
  12. ••غزلِ•• دُشواریوں نے راہ کو آساں‌ بنا دیا ہر مرحَلے کو منزلِ جاناں بنا دیا کتنی تھی تابِ حُسْن کہ، اُس کی نگاہ نے ہر آرزو کو شعلہ بداماں بنا دیا چارہ گروں کی شعبدہ بازی پہ دل نِثار درماں کو درد، درد کو درماں بنا دیا محدودِ آرزوئے مُسرّت تھا دل مِرا وُسعَت نے غم کی، اِس کو بیاباں بنا دیا اک ذرۂ حقِیر کی قُوَّت تو دیکھئے تسخِیر کائِنات کو آساں بنا دیا رُخ پر تِرے ٹھہر کے مِری چشمِ شوق نے آرائشِ جمال کو آساں بنا دیا اک جُنْبِشِ نِگاہ بڑا کام کر گئی تارِ نظر کو جُزوِ رگِ جاں بنا دیا آیا ہے وہ بھی وقت، کہ اکثر بہار نے ہرچاکِ گُل کو میرا گریباں بنا دیا اخگر نِقاب اُلٹ کے، کِسی خوش جمال نے کارِ دِل و نِگاہ کو آساں بنا دیا
  13. پیام آئے ہیں اُس یارِ بے وفا کے مجھے جسے قرار نہ آیا کہیں، بُھلا کے مجھے جدائیاں ہوں تو ایسی کہ عمر بھر نہ مِلیں فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم کہ لے اڑا ہے کوئی دوش پر ہَوا کے مجھے میں خود کو بُھول چکا تھا، مگر جہاں والے اُداس چھوڑ گے آئنہ دِکھا کے مجھے تمہارے بام سے اب کم نہیں ہے رفعتِ دار جو دیکھنا ہو تو دیکھو نظر اُٹھا کے مجھے کھنچی ہُوئی ہے مِرے آنسوؤں میں اِک تصویر فراز! دیکھ رہا ہے وہ، مُسکرا کے مجھے احمد فراز
  14. :کلام احمد فرازؔ تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو! کرّۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ ! رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
  15. اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ اے شبِ فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز ہے ہے خدا نہ کرے کہ تجھے بھی رلائیں ہم احمد فراز
  16. poetry

    Ghum e Hijran ki tere pass dawa hy ky nahi غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں جاں بلب ہے ترا بیمار ، سنا ہے کہ نہیں وہ جو آیا تھا، تو دل لے کے گیا ہے کہ نہیں جھانک لے سینے میں کم بخت ذرا ، ہے کہ نہیں مخمصے میں تری آہٹ نے مجھے ڈال دیا یہ مرے دل کے دھڑکنے کی صدا ہے کہ نہیں سامنے آنا ، گزر جانا ، تغافل کرنا کیا یہ دنیا میں قیامت کی سزا ہے کہ نہیں اہل دل نے اُسے ڈُھونڈا ، اُسے محسوس کیا سوچتے ہی رہے کچھ لوگ ، خدا ہے ، کہ نہیں تم تو ناحق مری باتوں کا برا مان گئے میں نے جو کچھ بھی کہا تم سے ، بجا ہے کہ نہیں؟ آبرو جائے نہ اشکوں کی روانی سے نصیر سوچتا ہوں ، یہ محبت میں روا ہے کہ نہیں
  17. poetry

    ﮨﺠﺮ ﺍُﮔﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ ﭘﻮﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﺞ ﺑﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﻮ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻋﺎﻃﻒ ﺳﻌﯿﺪ
  18. Ik hunar hai jo kar gaya hon mein Sab ke dil se utar gaya hon mein Kaise apni hansi ko zabt karon Sun raha hon ki ghir gaya hon mein Kya bataon ki mar nahin paata Jeeteji jab se mar gaya hon mein Ab hai bas apna samna darpaish Har kisi se guzar gaya hon mein Wahi naaz-o-ada wahi ghamze Sar-ba-sar aap par gaya hon mein Ajab ilzam hon zamane ka Ki yahan sab ke sar gaya hon mein Kabhi ḳhud tak pohanch nahin paaya Jab ki waan umar bhar gaya hon mein Tum se janan mila hon jis din se Be-tarah ḳhud se dar gaya hon mein Koo-e-janan main sog barpa hai Ki achanak sudhar gaya hon mein
  19. کب اس کا وصال چاہیے تھا بس اک خیال چاہیے تھا کب دل کو جواب سے غرض تھی ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا شوق اک نفس تھا اور وفا کو پاسِ مہ و سال چاہیے تھا اک چہرہِ سادہ تھا جو ہم کو بے مثل و مثال چاہیے تھا اک کرب میں ذات و زندگی میں ممکن کو مُحال چاہیے تھا میں کیا ہوں بس اک ملالِ ماضی اس شخص کو حال چاہیے تھا ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو کچھ دن تو ملال چاہیے تھا وہ جسم ، جمال تھا سراپا اور مجھ کو جمال چاہیے تھا وہ شوخِ رمیدہ مجھ کو اپنی بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا تھا وہ جو کمال' شوقِ وصلت خواہش کو زوال چاہیے تھا جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے وہ سال بہ سال چاہیے تھا جون_ایلیاء
  20. Wohi Hisaab e Tamana Hai Ab Bhi Aa Jao - Joan Elia وہی حساب تمنا ہے اب بھی آ جاؤ وہی ہے سر وہی سودا ہے ، اب بھی آ جاؤ جسے گئے ہوے خود سے ایک زمانہ ہوا وہ اب بھی تم میں بھٹکتا ہے, اب بھی آ جاؤ وہ دل سے ہار گیا ہے پر اپنی دانست میں وہ شخص اب بھی یگانہ ہے, اب بھی آ جاؤ میں خود نہیں ہوں کوئی اور ہے میرے اندر جو تم کو اب بھی ترستا ہے, اب بھی آجاؤ میں یاں سے جانے ہی والا ہوں اب ، مگر اب تک وہی ہے گھر وہی حجرہ ہے ، اب بھی آ جاؤ وہی کشاکش احساس ہے با ہر لمحہ وہی ہے دل وہی دنیا ہے ،اب بھی آ جاؤ تمہیں تھا ناز بہت جس کی نام داری پر وہ سارے شہر میں رُسوا ہے اب بھی آ جاؤ یہاں سے ساتھ ہی خوابوں کے شہر جائیں گے وہی جُنوں، وہی صحرا ہے، اب بھی آ جاؤ مری شراب کا شہرہ ہے اب زمانے میں سو یہ کرم ہے تو کس کا ہے، اب بھی آ جاؤ یہ طور !جان جو ہے میری بد شرابی کا مجھے بھلا نہیں لگتا ہے، اب بھی آ جاؤ کسی سے کوئی بھی شکوا نہیں مگر تم سے ابھی تلک مجھے شکوا ہے، اب بھی آ جاؤ وہ دل کہ اب ہے لُہو تُھوکنا ہُنر جس کا وہ کم سے کم ابھی زندہ ہے ، اب بھی آ جاؤ نہ جانے کیا ہے کہ اب تک مرا خود اپنے سے وہی جو تھا وہی رشتہ ہے، اب بھی آ جاؤ وجود ایک تماشا تھا ہم جو دیکھتے تھے وہ اب بھی ایک تماشا ہے، اب بھی آجاؤ ابھی صدئے جرس کا نہیں ہوا آغاز غبار ابھی نہیں اُٹّھا ہے، اب بھی آ جاؤ ہے میرے دل کی گزارش کہ مجھ کو مت چھوڑو یہ میری جاں کا تقاضا ہے، اب بھی آ جاؤ کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آ جاؤ میں لڑکھڑاتا ہوا موت کی طرف ہوں رواں بس آخری ہے جو لمحہ ہے، اب بھی آ جاؤ وہ جون کون ہے جانے جو کچھ نہیں سنتا ہے جانے کون جو کہتا ہے، اب بھی آ جاؤ باباِ جون
  21. Maine is toor se chaha tuje aksar jaana میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں جیسے ماہتاب کو انت سمندر چاہے جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے جیسے خوشبو کا ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے جیسے بارش کی دعا آبلہ با مانگتے ہیں میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے خواہشِ دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لئے توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے میں نے چاہا کہ ترے حسن کی گلنار فضا میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستاں کی بہار تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول میرے خاموش خیالوں مین تکلم تیرا رقص کرتا رہے، بھرتا رہے خوشبو کا خمار میری خواہش کے جزیروں میں تبسم تیرا تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی تیری سانسوں میں مسیحائی تھی لیکن تو بھی چارہِ زخمِ غمِ دیدہِ تر کر نہ سکی تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے تو کہ سیماب طبیعیت ہے تجھے معلوم موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی یاد آئے گا تری دید کا منظر جاناں مجھ سے مانگے گا ترے عہدِ محبت کا حساب تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں یوں مرے دل کے برابر ترا غم آیا ہے ! جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں
  22. Silsilay Tor Gaya Woh Sabhi Jatay Jatay Warna Itne To Marasim The Ke Aate Jate Shikwa e Zulmat e Shab Sey Tou Behter Tha Apney Hissay Ki Koi Shamma Jalatay Jatay Kitna Asaan Tha Teray Hijr Mein Marna Janaa Phir Bhee Ik Umr Lagi Jaan Se Jatay Jatay Jashn e Maqtal Hi Na Barpa Hua Warna Hum Pa’ Bajoulaan Hi Sahi, Nachte Gaate Jatay Us Ki Woh Jane Usey Pass e Wafa Tha Keh Na Tha Tum Apni Taraf Se To Faraz Nibhate Jate. Silsilay Tor Gaya Woh Sabhi Jatay Jatay Warna Itne To Marasim The Ke Aate Jate...
  23. poetry

    خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ حضرت علامہ اقبالؒ
  24. ظلمت کدے میں میری شب غم کا جوش ہے اک شمع ہے دلیل سحر سو خاموش ہے داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خاموش ہے آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں غالب سریر خامہ نوائے سروش ہے ظلمت کدے میں میری شب غم کا جوش ہے اک شمع ہے دلیل سحر سو خاموش ہے
  25. نعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا کاؤکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا خشت پشتِ دستِ عجز و قالب آغوشِ وداع پُر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔ جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا بس کہ ہوں غالبؔ، اسیری میں بھی آتش زیِر پا !!...موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا