News Ticker
  • “We cannot expect people to have respect for law and order until we teach respect to those we have entrusted to enforce those laws.” ― Hunter S. Thompson
  • “And I can fight only for something that I love
  • love only what I respect
  • and respect only what I at least know.” ― Adolf Hitler
  •  Click Here To Watch Latest Movie Jumanji (2017) 

Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

Search the Community

Showing results for tags 'mohabbat'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

  • Ishq_janoon_Dewanagi
  • Uzee khan
  • Beauty of Words
  • Tareekhi Waqaiyaat
  • Geo News Blog
  • The Pakistan Tourism
  • My BawaRchi_KhaNa
  • Mukaam.e.Moahhabt
  • FDF Members Poetry
  • Sadqy Tmhary
  • FDF Online News
  • Pakistan
  • Dua's Kitchen
  • Raqs e Bismil
  • HayDay Game

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Articles

Categories

  • Records

Calendars

  • Community Calendar
  • Pakistan Holidays

Genres

  • English
  • New Movie Songs
  • Old Movies Songs
  • Single Track
  • Classic
  • Ghazal
  • Pakistani
  • Indian Pop & Remix
  • Romantic
  • Punjabi
  • Qawalli
  • Patriotic
  • Islam

Categories

  • Islam
  • Online Movies
    • English
    • Indian
    • Punjabi
    • Hindi Dubbed
    • Animated - Cartoon
    • Other Movies
    • Pakistani Movies
  • Video Songs
    • Coke Studio
  • Mix Videos
  • Online Live Channels
    • Pakistani Channels
    • Indian Channels
    • Sports Channels
    • English Channels
  • Pakistani Drama Series
    • Zara Yaad ker
    • Besharam (ARY TV series)
  • English Series
    • Quantico Season 1
    • SuperGirl Season 1
    • The Magicians
    • The Shannara Chronicles
    • Game of Thrones

Found 77 results

  1. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  2. پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہے جذبہ عشق سرِ دار مجھے کھینچتا ہے میں محبت کے مضافات کا باشندہ ہوں کیوں ترا شہرِ پُر اسرار مجھے کھینچتا ہے یہ بھی حیرت ہے عجب، خود مری تمثال کے ساتھ آئینہ بھی پسِ دیوار مجھے کھینچتا ہے دم بھی لینے نہیں دیتا ہے مسافت کاجنون پَا برہنہ وہ سرِ خار مجھے کھینچتا ہے پھر کوئی تیر ہدف کرتا ہے مشکیرہ کو پھر کوئی دستِ کماں دار مجھے کھینچتا ہے بولیاں جس کی لگے میں کوئی یوسف تو نہیں کس لئے مصر کا بازار مجھے کھینچتا ہے ہے کوئی گریہ کن حرف پسِ خیمہ جاں پھر کوئی نالہ آزار مجھے کھینچتا ہے تجھ کو معلوم ہے شاہدؔ بھی ہے مغرور بہت کیوں ترا حُسن انادار مجھے کھینچتا ہے
  3. روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں مل کے ان کی نگاہ جادو سے دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں مجھ کو دکھلا کے راہ کوچہء یار کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے دل میں گویا سما گئیں آنکھیں محفل یار میں بہ ذوق نگاہ لطف کیا کیا اٹھا گئیں آنکھیں حال سنتے وہ میرا کیا حسرت وہ تو کہئے سنا گئیں آنکھیں
  4. poetry

    سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں داغ دہلوی
  5. محبت کے اصولوں سے کبھی الجھا نہیں کرتے یہ الحاد حقیقت ھے، سنو ایسا نہیں کرتے بہت کم ظرف لوگوں سے بہت محتاط رھتے ھیں بنا سوچے سمندر میں یونہی اترا نہیں کرتے تیری ساقی سخاوت پہ میں سانسیں وار دوں لیکن میرے کامل کا فرماں ھے کبھی بہکا نہیں کرتے محبت سے ضروری ھے غم دنیا کا افسانہ محبت کے حسیں قصوں میں کھو جایا نہیں کرتے جسے دیکھو ، اسے سوچو ، جسے سوچو ، اسے پاؤ جسے نہ پا سکو… اسکو کبھی دیکھا نہیں کرتے مجھے تائب ، وفا بردار لوگوں سے شکایت ھے بہت تنقید کرتے ھیں ، مگر اچھا نہیں کرتے
  6. ایک غریب کسان کی شادی نہایت حسین و جمیل عورت سے ہو گئی۔ اُس عورت کے حُسن کی سب سے بڑی وجہ لمبے گھنے سیاہ بال تھے، جن کی فکر صرف اُسے ہی نہیں بلکہ اُن دونوں کو رہتی تھی۔ ایک دِن کسان کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ، "کل واپسی پر آتے ہوئے راستے میں دُکان سے ایک کنگھی تو لیتےآنا، کیونکہ بالوں کو لمبے اور گھنے رکھنے کیلئے اُنہیں بنانا سنوارنا بہت ضروری ہے۔ اور پھر میں کتنے دِن ہمسائیوں سے کنگھی منگواتی رہونگی۔۔۔؟" غریب کسان نے اپنی بیوی سے معذرت کر لی اور بولا، "بیگم! میری تو اپنی گھڑی کا سٹرایپ کافی دِنوں سے ٹوٹا ہوا ہے، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اُسے ٹھیک کروا سکوں، تو میں بھلا کنگھی کیسے لا سکتا ہوں۔ تم کچھ دِن مزید ہمسائیوں کی کنگھی سے گزارا کرو، جب پیسے ہونگے تو لے آونگا۔۔۔!" بیوی اپنے شوہر کی مجبوری کو سمجھ رہی تھی اِس لیے زیادہ تکرار نہیں کیا۔ کسان نے اُس وقت تو بیوی کو چپ کروا دیا، لیکن پھر اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ، میں بھی کتنا بدبخت ہوں کہ اپنی بیگم کی ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتا۔ دوسرے دِن کھیتوں سے واپسی پر کسان ایک گھڑیوں کی دُکان پر گیا اور اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی اونے پونے داموں بیچی اور اُس سے ملنے والے پیسوں سے ایک اچھی سی کنگھی خریدی اور بڑی راز داری سے چھپا کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اُس نے سوچا گھر جا کر بیوی کو سرپرائز دونگا تو وہ بہت خوش ہوگی۔ جب وہ گھر گیا تو کیا دیکھا اُسکی بیوی نے اپنے لمبے بال کٹوا دئیے تھے۔ اور مسکراتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ کسان نے حیرت سے پوچھا، "بیگم! یہ کیا کیا تمنے اپنے بال کیوں کٹوا دئیے، پتہ ہے وہ تمہارے اُوپر کتنے خوبصورت لگتے تھے۔۔۔؟" بیگم بولی، "میرے سرتاج! کل جب آپ نے کہا کہ آپکے پاس گھڑی ٹھیک کروانے کے پیسے بھی نہیں ہیں تو میں بہت افسردہ ہو گئی۔ چنانچہ آج میں قریب کے بیوٹی پارلر پر گئی تھی، وہاں اپنے بال بیچ کر آپکے لیے یہ ایک گھڑی لائی ہوں۔۔۔!" جب کسان نے اُسے کنگھی دیکھائی تو فرطِ جذبات میں دونوں کی آنکھیں نم ہو گئیں محبت صرف کچھ دینے اور لینے کو ہی نہیں کہتے، بلکہ محبت ایک قربانی اور ایثار کا نام ہے جس میں اکثر اپنی خواہشات اور جذبات کو صرف اِس لیے قربان کر دیا جاتا ہے تاکہ رشتوں کا تقدس اور احترام برقرار رہے۔
  7. poetry

    Ghum e Hijran ki tere pass dawa hy ky nahi غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں جاں بلب ہے ترا بیمار ، سنا ہے کہ نہیں وہ جو آیا تھا، تو دل لے کے گیا ہے کہ نہیں جھانک لے سینے میں کم بخت ذرا ، ہے کہ نہیں مخمصے میں تری آہٹ نے مجھے ڈال دیا یہ مرے دل کے دھڑکنے کی صدا ہے کہ نہیں سامنے آنا ، گزر جانا ، تغافل کرنا کیا یہ دنیا میں قیامت کی سزا ہے کہ نہیں اہل دل نے اُسے ڈُھونڈا ، اُسے محسوس کیا سوچتے ہی رہے کچھ لوگ ، خدا ہے ، کہ نہیں تم تو ناحق مری باتوں کا برا مان گئے میں نے جو کچھ بھی کہا تم سے ، بجا ہے کہ نہیں؟ آبرو جائے نہ اشکوں کی روانی سے نصیر سوچتا ہوں ، یہ محبت میں روا ہے کہ نہیں
  8. poetry

    ﮨﺠﺮ ﺍُﮔﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ ﭘﻮﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﺞ ﺑﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﻮ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻋﺎﻃﻒ ﺳﻌﯿﺪ
  9. poetry

    خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ حضرت علامہ اقبالؒ
  10. !!! ....مجھے کتنی محبت ہے مجھے کتنی عقیدت ہے مجھے کتنی ضرورت ہے اسے کیسے میں لکھوں گی میں میں بےبس ہوں کہاں سے لفظ وہ لاؤں جو دل کا حال کہہ پائیں میں ایسے لفظ ڈھونڈوں گی جنہیں لکھوں تو کاغذ پر دئیے سے جگمگا اٹھیں جنہیں سوچوں تو ذہن و دل کا ہر گوشہ مہک جائے جنہیں ہونٹوں پہ لاؤں تو " دُعــا " کے پھول کھل جائیں کہیں سے لفظ مل جائیں دھنک اوڑھے ہوئے کچھہ لفظ مجھہ کو ڈھونڈنے ہوں گے کہ جن سے نظم لکھنی ہے اسے سب کچھہ بتانا ہے مجھے کتنی محبت ہے مجھے کتنی عقیدت ہے مجھے کتنی ضرورت ہے
  11. عوﺭﺕ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﺩﻋﻮﯼ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﺮﺩ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻭﻋﻮﯼ ﺳﭻ ﮨﯽ ﮨﮯ ﻗﺼﻮﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻗﺼﻮﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻓﻄﺮﺕ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮨﯽ ﻧﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮬﮯ ﻣﺮﺩ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪﯼ ﺍﮐﺘﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﭼﺎﮬﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺒﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺉ ﮬﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﮐﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺮﺩ ﺁﺯﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮬﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﺣﺎﮐﻢ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮﺩﮮ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﮑﯽ ﭼﮭﭙﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﮑﻮﻣﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮬﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﺟﯽ ﮐﺐ ﺍﮐﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﭘﻨﺠﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺑﺎﻧﭩﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺑﭩﺎ ﮬﻮﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺑﭩﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﺍﻟﮓ ﮬﮯ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﺯﺑﺎﻥ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻗﯿﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﭘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮩﯽ ﻗﯿﺪ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﻣﺮﺩ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮐﺘﺎﺗﺎ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﺍﺳﮯ ﮬﺮ ﻧﺌﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺍﻏﺐ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮬﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺳﺮﻭﮐﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺮﺩ ﺍﺳﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﺯﺭ ﺧﺮﯾﺪ ﻏﻼﻡ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮬﺮ ﺣﮑﻢ ﮐﮩﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﻮ ﻣﺮﺩ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﻣﺎﻥ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻗﺪﺭ ﮐﺮﮮ ۔۔ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﮐﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ؟؟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮐﺘﺎﺗﯽ ؟؟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﺷﻮﮬﺮ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮑﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺉ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﺳﻮﭺ ﺻﺒﺢ ﮐﮯ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﺳﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺗﮏ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺭﮨﺘﯽ ﯾﮯ ﻭﮦ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮﯼ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﺍﻭﺭ ﻃﺎﻗﺖ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﮬﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﻦ ﭘﺎﺗﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺮﺩ ﺷﺎﯾﺪ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮬﮯ ﺟﺲ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺭﮨﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺖ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺩﺍﻧﮕﯽ ﺑﯿﭽﻨﺎ ﺍﮔﺮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻭﮨﯽ ﻋﺰﺕ ﮨﯽ ﺻﺮﻑ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﮮ ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺧﻮﺵ ﻧﺼﯿﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﺒﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮬﮯ ﺗﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﮧ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﭘﺮﻭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﺳﮑﺘﯽ ﮬﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺷﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﭽﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﺨﺖ ﺩﻝ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺳﻨﮕﺪﻝ ﮨﻮﺗﯽ ﮬﮯ ۔۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﮬﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﺉ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﯽ ﮐﺌﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔۔ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ .
  12. ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﺏ ﺧﺴﺎﺭﮦ ﮐﯿﺴﺎ ... ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﺗﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﺏ ﮐﻨﺎﺭە ﮐﯿﺴﺎ .... ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺑﺲ ﺍﺳﺘﺨﺎﺭﮦ ﮐﯿﺴﺎ
  13. ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﺏ ﺧﺴﺎﺭﮦ ﮐﯿﺴﺎ ... ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﺗﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﺏ ﮐﻨﺎﺭە ﮐﯿﺴﺎ .... ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺑﺲ ﺍﺳﺘﺨﺎﺭﮦ ﮐﯿﺴﺎ
  14. چلو اس اک لفظ محبت کو چلو اس اک لفظ محبت کو اک دلکش انداز میں لوح دل پر نقش کرتے ہیں اس رستے پر ہم بھی آنکھیں بند کر کے اندھا دھند چلتے ہیں وہ جو اس رستے پر صرف پھول ہی پھول کھلتے ہیں وہ جہاں پر خزاں ڈھیرہ نہیں سجاتی جہاں پر پریاں رقص کرتی ہیں ہم ایسے رستے پر اپنے قدموں کے نشاں ثبت کرتے ہیں مگر جاناں کیا تم مجھے یقین دلاتے ہو کہ اس رستے پر سدا پھول ہی کھلتے رہیں گے خزاں ڈھیرے نہیں ڈالے گی اگر ہاں تو یہ یقین تمہاری آنکھوں میں کیوں نہیں دکھتا کہ راہ محبت پر چلنے والوں کی آنکھیں تو پیغامِ وفا سرِ عام دیتی ہیں تو پھر جاناں تمہاری آنکھیں مجھے احترامِ محبت سے خالی کیوں دکھتی ہیں
  15. یکطرفہ محبت کا نقصان بہت ہے دل ٹوٹ جانے کا امکان بہت ہے ہم ٹوٹکر چاہیں جسےاسےخبر نہیں اس امر پر حیران دل نادان بہت ہے فریادکرتی ہے یہ میری تنہائی بس جاوٴ اس دل میں یہ ویران بہت ہے ہم کہاں کسی کے عیب سے پردہ اٹھاہیں گے چننے کو تو اپنا گریبان ہی بہت ہے
  16. ظلمت کدے میں میری شب غم کا جوش ہے اک شمع ہے دلیل سحر سو خاموش ہے داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خاموش ہے آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں غالب سریر خامہ نوائے سروش ہے ظلمت کدے میں میری شب غم کا جوش ہے اک شمع ہے دلیل سحر سو خاموش ہے
  17. نعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا کاؤکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا خشت پشتِ دستِ عجز و قالب آغوشِ وداع پُر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔ جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا بس کہ ہوں غالبؔ، اسیری میں بھی آتش زیِر پا !!...موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
  18. Baazicha-E-Atfaal Hai Duniya Mere Aage Hota Hai Shab-O-Roz Tamasha Mere Aage Ik Khel Hai Aurang-E-Sulemaan Mere Nazdeek Ik Baat Hai Ejaaz-E-Masiha Mere Aage Juz Naam Nahin Surat-E-Aalam Mujhe Manzoor Juz Vaham Nahin Hasti-E-Ashiya Mere Aage Hota Hai Nihaan Gard Main Sehraa Mere Hote Ghistaa Hai Jabin Khaak Pe Dariya Mere Aage Mat Pooch Ke Kya Haal Hai Mera Tere Peeche Tu Dekh Ke Kya Rang Hai Tera Mere Aage Sach Kahte Ho Khudbin-O-Khudaara Hoon Na Kyun Hoon Baitha Hai But-E-Aaina Seema Mere Aage Phir Dekhiye Andaaz-E-Gulafshaani-E-Guftaar Rakh De Koi Paimaana-E-Sahabaa Mere Aage Nafrat Ka Gumaan Guzre Hai Main Rashk Se Guzra Kyun Kar Kahoon Lo Naam Na Us Ka Mere Aage Imaan Mujhe Roke Hai Jo Kheenche Hai Mujhe Kufr Kaaba Mere Peeche Hai Kalisa Mere Aage Aashiq Hoon Pe Mashooq Farebi Hai Mera Kaam Majnu Ko Bura Kahti Hai Laila Mere Aage Khush Hote Hain Par Vasl Main Yun Mar Nahin Jaate Aai Shab-E-Hijraan Ki Tamanna Mere Aage Hai Maujzan Ik Qulzum-E-Khoon Kaash! Yahi Ho Aata Hai Abhi Dekhiye Kya-Kya Mere Aage Go Haath Ko Jumbish Nahin Aankhon Main To Dam Hai Rahne Do Abhi Saagar-O-Meena Mere Aage Hampesha-O-Hammasharab-O-Hamraaz Hai Mera ‘Ghalib’ Ko Bura Kyun Kaho Achcha Mere Aage
  19. poetry

    ﺟﻮ ﭼﻞ ﺳﮑﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﺎﻝ ﭼﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻤﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ____ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﺷﻌﻠﮕﯽ ﮨﻮ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺳﻮ ﻻﺯﻣﯽ ﺗﮭﺎ ____ ﺗﺮﮮ ﭘﯿﺮﮨﻦ ﮐﺎ ﺟﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻣﺎﮞ ____ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﺁﭘﮩﻨﭽﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ____ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮕﺎ ____ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺳﺠﯽ ﺳﺠﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﻮﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻮﺭﺧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻘﺎﺑﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ____ ﻣﺤﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍِﺳﯽ ﺳﺎﻋﺖِ ﺯﻭﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ____ ﺳﺒﮭﯽ ﺳﻮﺭﺟﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ____ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﺍﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﮞ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ____ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ
  20. poetry

    مجھے وہ زخم مت دینا دواجس کی محبت ہو مجھے وہ خواب مت دینا حقیقت جس کی وحشت ہو مجھے وہ درد مت دینا کہ جس میں بس اذیت ہو مجھے وہ نام مت دینا کہ جسے لینا قیامت ہو مجھے وہ ہجر مت دینا جو مانند رفاقت ہو مجھے وہ نیند مت دینا جسے آڑنے کی عادت ہو میرے میں جب سوچوں توجہ خاص رکھنا تم مجھے تم سے محبت ہے بس اس کا پاس رکھنا تم
  21. poetry

    ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﺗﻮ ﮨﮯ.. ﻣﮕﺮ ﻧﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﭘﻮﭼﮭﻮ.. ﺑﻼ ﮐﺎ ﮐﭩﮭﻦ ﺭﺳﺘﮧ ﮨﮯ.. ﻏﻀﺐ ﮐﯽ ﻣﺸﮑﻠﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ.. ﻋﺠﺐ ﺳﮯ ﻣﻮﮌ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﻨﺪﮦ ﺍُﻥ ﻣﯿﮟ ﺍُﻟﺠﮫ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ.. ﻓﺮﺍﻕ ﻭ ﮨﺠﺮ ﮐﮯ ﺻﺤﺮﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ.. ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺳَﺮ ﺍُﭨﮭﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﮈﮔﻤﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.. ﻣﮕﺮ ﺍِﮎ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍِﻥ ﺳﺐ ﭘﮧ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ.. ﺳﻔﺮ ﯾﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ.. ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻘﻄﮧ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺮﺣﺪ، ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ.. ﯾﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻔﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﻮ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﮨﮯ.. ﮐﺴﯽ ﭘﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺿِﺪ ، ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺟﻠﺘﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﮨﮯ.. ﻣﺤﺒﺖ ﺍُﮌﺗﯽ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮕﯽ ﺗﺘﻠﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﮯ.. ﺟﻮ ﮔُﻠﺸﻦ ﮔُﻠﺸﻦ ﺍُﮌﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﮭﺎﮔﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ.. ﯾﮧ ﻭﮦ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍِﮎ ﺣﺎﺻﻞ ﭘﺮ ﻣِﭧ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ.. ﯾﮧ ﻭﮦ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﻮﻑِ ﻻﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ.. ﯾﮧ ﻭﮦ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﮧ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻋﺸﻖ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ.. ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﻋﺸﻖ ﺟﻮ ﮨﻢ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﺨﺸﮯ.. ﺟﻨﻮﮞ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺩﯾﻮﺍﻧﮕﯽ ﮐﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ.. ﺫﺭﺍ ﺳﻮﭼﻮ ۔۔۔۔ ﺑﮭﻼ ﺩﯾﻮﺍﻧﮕﯽ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ..؟؟ ﯾﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮭﯿﻞ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮨﻮ ﺣﺪ ﻣﻘﺮّﺭ ﺗﻮ،، ﻣﺤﺒﺖ ﺁﺧﺮﯼ ﺣَﺪ ﮨﮯ...!!!
  22. ﻋﺸﺮﺕِ ﻗﻄﺮﮦ ﮨﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﻓﻨﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺣﺪ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﺎ ﮨﮯ ﺩﻭﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﺮﺯﺍ ﻏﺎﻟﺐ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ
  23. میں چاہنے والوں کو مخاطب نہیں کرتا اور ترک تعلق کی میں وضاحت نہیں کرتا میں اپنی جفاؤں پہ نادم نہیں ہوتا میں اپنی وفاؤں کی تجارت نہیں کرتا خوشبو کسی تشہیر محتاج نہیں ہوتی سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا احساس کی سولی پہ لٹک جاتا ہوں اکثر میں جبر مسلسل کی شکائیت نہیں کرتا میں عظمت انسان کا قائل تو ہوں محسن لیکن کبھی بندوں کی میں عبادت نہیں کرتا محسن نقوی
  24. poetry

    یہ دل روشن ہے تیری روشنی سے سراپا ان چراغوں کا تجھے حیرت سے تکتا ہے میری ویران حسرت کو وہی آباد کرتا ہے جو سایہ ساتھ رکھتا ہے، جو وعدے کو نبھاتا ہے محبت فرض اُن پر ہے جنہیں سونا نہیں آتا یہ حکمت اُن پہ واجب ہے جنہیں رونا نہیں اتا کسی تاریک گوشے میں، کہیں شعلہ بھڑکتا ہے پُجاری کی عقیدت سے خدا کا دل دھڑکتا ہے جہاں میں خواہشوں کے پھل تیری پہلی نظر سے ہیں نفس کی کاوشوں کے پھل تیری پہلی نظر سے ہیں وفاداری غلامی ہے، یہ مجھ کو راس آتی ہے ندامت کی اک ادا سے دل کو میرے کھینچ لاتی ہے مقدس تیرگی میں بس تجھے محسوس کرتا ہوں میں ہر پل روشنی میں بس تجھے محسوس کرتا ہوں مجھے معذور خوابوں سے یہی بیدار کرتی ہے سوا تیرے ہر اک شے بس مجھے بے زار کرتی ہے مجھے مسرور کرتی ہے، میری تلخی بُھلاتی ہے میرے محبوب موسم کو میرا اپنا بناتی ہے یہ اُڑتی بادلوں میں اور کبھی اطراف پھرتی ہے میرے اندر کی چنگاری فروزاں کرتی رہتی ہے عجب انصاف کرتی ہے، مُجھے عادل بناتی ہے تیری خوشبو مجھے سرشار رکھتی ہے (سہیل احمد )
  25. poetry

    ﻣﺠﮫ ﮐﻤﻠﯽ ﮐﺎ ﺳﻨﮕﮭﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﺍﻥ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﭘﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﺑﻦ ﺩﺭ، ﭼﮭﺖ، ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮈﺳﮯ ﺗﺠﮫ ﺑﻦ ﺳﻮﻧﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﮨﺮ ﺟﺬﺑﮯ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺗﻮ ﺳﺎﻧﻮﻝ ، ﺗﻮﺩﻟﺪﺍﺭ ﭘﯿﺎ ﺍﻥ ﺳﺮ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﮑﻢ ﺗﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻧﻮﮞ ﮨﺮ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﺗﻮ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﻏﻤﺨﻮﺍﺭ ﺳﺠﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﭘﯿﺎ ﺍﺏ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﭼُﻮﺭ ﻭ ﭼُﻮﺭﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﺏ ﺁ ﻣﻞ ﺗﻮ ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﺍﮎ ﺩﮐﮫ ﻧﮯ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺎ ﺍﺏ ﻟﮯ ﭼﻞ ﻧﮕﺮﯼ ﭘﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﮨﮯ ﻣﻦ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﮎ ﺍٓﺱ ﺗﺮﯼ ﺗُﻮ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﮨﺮ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺎ ﮐﺮ ﮨﺠﺮ ﻣﻠﮯ ﺳﺐ ﺭﺍﮨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﺮ ﺧﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﺳﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻋﺎ ﯾﮧ ﺩﻝ ﺗﯿﺮﺍ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﺍﮎ ﺳﮑﮫ ﺳﮯ ﺳﻮﺋﮯ ﻭﺻﻞ ﺗﺮﺍ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﮨﻮ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﭘﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﺍﮎ ﺑﺎﺕ ﺗﻮﮐﺮ ﻣﺖ ﭼﭗ ﭼﭗ ﺭﮦ ﮐﺮ ﻣﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﺗﮏ ﺗﮏ ﺭﺍﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﻧﯿﻦ ﺗﮭﮑﮯ ﯾﮧ ﺑﺮﺳﯿﮟ ﺯﺍﺭ ﻭ ﺯﺍﺭ ﭘﯿﺎ ﺍﺏ ﺩﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﯿﺎ