News Ticker
  • “We cannot expect people to have respect for law and order until we teach respect to those we have entrusted to enforce those laws.” ― Hunter S. Thompson
  • “And I can fight only for something that I love
  • love only what I respect
  • and respect only what I at least know.” ― Adolf Hitler
  •  Click Here To Watch Latest Movie Jumanji (2017) 

Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

Search the Community

Showing results for tags 'urdu poetry'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

  • Ishq_janoon_Dewanagi
  • Uzee khan
  • Beauty of Words
  • Tareekhi Waqaiyaat
  • Geo News Blog
  • The Pakistan Tourism
  • My BawaRchi_KhaNa
  • Mukaam.e.Moahhabt
  • FDF Members Poetry
  • Sadqy Tmhary
  • FDF Online News
  • Pakistan
  • Dua's Kitchen
  • Raqs e Bismil
  • HayDay Game

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Articles

Categories

  • Records

Calendars

  • Community Calendar
  • Pakistan Holidays

Genres

  • English
  • New Movie Songs
  • Old Movies Songs
  • Single Track
  • Classic
  • Ghazal
  • Pakistani
  • Indian Pop & Remix
  • Romantic
  • Punjabi
  • Qawalli
  • Patriotic
  • Islam

Categories

  • Islam
  • Online Movies
    • English
    • Indian
    • Punjabi
    • Hindi Dubbed
    • Animated - Cartoon
    • Other Movies
    • Pakistani Movies
  • Video Songs
    • Coke Studio
  • Mix Videos
  • Online Live Channels
    • Pakistani Channels
    • Indian Channels
    • Sports Channels
    • English Channels
  • Pakistani Drama Series
    • Zara Yaad ker
    • Besharam (ARY TV series)
  • English Series
    • Quantico Season 1
    • SuperGirl Season 1
    • The Magicians
    • The Shannara Chronicles
    • Game of Thrones

Found 57 results

  1. درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد محسن نقوی دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد کوئی پیغام نہ دلدارِنوا تیرے بعد خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد لب پے اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد دھوپ عارض کی نہ زلفوں کہ گھٹا تیرے بعد ہجر کی رت ہے کہ محبس کی فضا تیرے بعد لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد پرچمِ تار گریباں کو ہوا تیرے بعد پیرہن اپنا نہ سلامت نہ قبا تیرے بعد بس وہی ہم ہیں وہی صحرا کی ردا تیرے بعد نکہت و نے ہے نہ دستِ قضا تیرے بعد شاخِ جاں پر کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد دل نہ مہتاب سے اجلا نہ جلا تیرے بعد ایک جگنو تھا چپ چاپ بجھا تیرے بعد درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد کونسے رنگوں کے بھنور کیسی حنا تیرے بعد اپنا خون میری ہتھیلی پے سجا تیرے بعد تجھ سے بچھڑا تو مرجھا کے ہوا برد ہوا کون دیتا مجھے کھلنے کی دعا تیرے بعد ایک ہم ہیں کہ بے برگ و نوا تیرے بعد ورنہ آباد ہے سب خلقِ خدا تیرے بعد ایک قیامت کی خراشیں میرے چہرے پہ سجیں ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد اے فلکِ ناز میری خاک نشانی تیری میں نے مٹی پہ تیرا نام لکھا تیرے بعد تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد یہ الگ بات ہے کہ افشاں نہ ہوا تو ورنہ میں نے کتنا تجھے محسوس کیا تیرے بعد ملنے والے کئی مفہوم پہن کر آئے کوئی چہرہ بھی نہ آنکھوں نے پڑھا تیرے بعد بجھے جاتے ہیں خد و خال مناظر افق پھیلتا جاتا ہے خواہش کا خلا تیرے بعد میرے دکھتی ہوئی آنکھوں سے گواہی لینا میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد سہہ لیا دل نے تیرے بعد ملامت کا عذاب ورنہ چبھتی ہے رگِ جاں میں ہوا تیرے بعد جانِ محسن میرا حاصل یہی مبہم سطریں شعر کہنے کا ہنر بھول گیا تیرے بعد ‏ ‏
  2. ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﯿﺐ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ” ﻣﺤﺴﻦ ” ﺟﻮ ﺍِﺱ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣُﮍ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
  3. مجھے معلوم ہے کہ "میں" زمانے بھر کی آنکھوں میں بڑی شدت سے چبھتی ہوں میری باتیں ، میری سوچیں زمانے بھر کی سانسوں میں بڑی تکلیف بھرتی ہیں مجھے معلوم ہے کہ "میں" " کبھی کچھ تھی ، نہ اب کچھ ہوں" مگر پھر بھی زمانہ سرد آنکھوں سے مجھے کیوں تکتا رہتا ہے کسی کو کیا میں جو لکھوں ، جہاں لکھوں " کسی کو جان جاں لکھوں " یا نہ لکھوں جلا دوں شاعری اپنی یا اس کو طاق پر رکھوں کسی کو اس سے کیا مطلب کسی کو مجھ سے کیا مطلب تو اب جو لوگ مجھ کو اپنا کہتے ہیں مجھے نفرت سے تکتے ہیں کہ میں نے اب تلک سارے زمانے کی نگاہوں کو فقط پیاسا ہی رکھا ہے انھیں تسکیں نہیں بخشی مگر بخشوں تو کیوں بخشوں کسی لمحے جو میں سوچوں بھلا کیوں نہ کروں ایسا زمانے بھر کی آنکھوں میں نمی بھردوں زمانے بھر کی سانسوں میں کمی کردوں مگر کیسے کروں ایسا "زمانہ اپنی ہی موت آپ مر جائے تو اچھا ہے" کہ میں اس کی ان آنکھوں کو نکالوں گی - تو دکھ ہوگا
  4. جب سے یہ فاصلے بڑھائے ہیں آپ ہی آپ پاس آئے ہیں قاصدوں جان مانگ لو چاہے گر خبر آپ ان کی لائے ہیں ہم کو لکھا کہ جا چلا جا تو کیسے جائیں کہ تیرے سائے ہیں ایک میں ہی نہیں مکیں اپنا آپ مہمان بن بلائے ہیں خاک آئے کوئی حسین نظر آپ جب آنکھ میں سمائے ہیں آپ تو دے کے زخم بھول گئے ہم نے مرہم وہ سب بنائے ہیں عشق کے روگ نے ستایا تھا اب طبیبوں کے ہم ستائے ہیں آپ کو زندگی کہا کیونکہ زندگی کو بھی ہم نہ بھائے ہیں کون کافر کرے جفا ابرک وہ خیالوں میں مسکرائے ہیں مانتا ہوں وفا نہیں لازم خواب کیوں باوفا دکھائے ہیں
  5. Darwaza Jo Khula Tu Nazar Aye Khare Wo دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ بُھولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ ! راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات خوشبو سی برسنے لگی، یوں پُھول جھڑے وہ ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ بچے کی طرح چاند کو چُھونے کی تمنا دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ پروین شاکر
  6. Tootate Jaate Hain Sab Aaina Khane Mere ٹوٹتے_جاتے_ہیں_سب_آئینہ_خانے_میرے وقت_کی_زد_میں_ہیں_یادوں_کے_خزانے_میرے زندہ_رہنے_کی_ہو_نیّت_تو_شکایت_کیسی میرے_لب_پر_جو_گِلے_ہیں_وہ_بہانے_میرے رخشِ_حالات_کی_باگیں_تو_مرے_ہاتھ_میں_تھیں صرف_میں_نے_کبھی_احکام_نہ_مانے_میرے میرے_ہر_درد_کو_اس_نے_اَبَدیّت_دے_دی یعنی_کیا_کچھ_نہ_دیا_مجھ_کو_خدا_نے_میرے میری_آنکھوں_میں_چراغاں_سا_ہے_مستقبل_کا اور_ماضی_کا_ہیولٰی_ہے_سَرھانے_میرے تُو_نے_احسان_کیا_تھا_تو_جتایا_کیوں_تھا اس_قدر_بوجھ_کے_لائق_نہیں_شانے_میرے راستہ_دیکھتے_رہنے_کی_بھی_لذّت_ہے_عجیب زندگی_کے_سبھی_لمحات_سہانے_میرے جو_بھی_چہرہ_نظر_آیا_ترا_چہرہ_نکلا تو_بصارت_ہے_مری__یار_پرانے_میرے سوچتا_ہوں_مری_مٹّی_کہاں_اڑتی_ہوگی اِک_صدی_بعد_جب_آئیں_گے_زمانے_میرے صرف_اِک_حسرتِ_اظہار_کے_پر_تو_ہیں_ندیم میری_غزلیں_ہوں_کہ_نظمیں_کہ_فسانے_میرے احمد ندیم قاسمی
  7. Itni Mudat Baad Mile Hu Kin Socho Mai Ghum Rahte Hu اِتنی مُدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسن تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو محسن نقوی
  8. Roosh Roosh Py Hain Nikhat Fashan, Ghulab Ky Phol رَوش رَوش پہ ھیں نکہت فشاں ، گُلاب کے پھول حسیں گلاب کے پھول ، ارغواں گُلاب کے پھول اُفق اُفق پہ زمانوں کی دُھند سے اُبھرے طّیور، نعمے ، ندی ، تتلیاں ، گلاب کے پھول کس انہماک سے بیٹھی کشید کرتی ھے عروسِ گُل بہ قبائے جہاں ، گلاب کے پھول جہانِ گریہ شبنم سے کس غرور کے ساتھ گزر رھے ھیں ، تبسّم کناں ، گلاب کے پھول یہ میرا دامنِ صد چاک ، یہ ردائے بہار یہاں شراب کے چھینٹے وھاں ، گلاب کے پھول کسی کا پُھول سا چہرہ اور اس پہ رنگ افروز گندھے ھوئے بہ خمِ گیسواں ، گلاب کے پھول خیالِ یار ! تیرے سلسلے نشوں کی رُتیں جمالِ یار ! تیری جھلکیاں گلاب کے پھول میری نگاہ میں , دورِ زماں کی ھر کروٹ لہو کی لہر ، دِلوں کا دُھواں ، گلاب کے پھول سلگتے جاتے ھیں ، چُپ چاپ ھنستے جاتے ھیں مثالِ چہرۂ پیغمبراں ، گلاب کے پھول یہ کیا طلسم ھے ، یہ کس کی یاسمیں بانہیں ؟؟ چھڑک گئی ھیں جہاں در جہاں ، گلاب کے پھول کٹی ھے عمر ، بہاروں کے سوگ میں اَمجد مری لحد پہ کھلیں , جاوداں گلاب کے پھول ”مجید امجد“
  9. بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی نہ وہ مِلتا ہے نہ مِلنے کا اِشارہ کوئی کیسے اُمّید کا چمکے گا سِتارہ کوئی حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبّت کرنا جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پُوچھا ہے کیا کہَیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی سب تعلّق ہیں ضرورت کے یہاں پر، مُحسنؔ نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی محسؔن نقوی
  10. Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy وہ اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں رواں سے بسے ہوۓ ہیں ابھی نظر میں سبھی مناظر دھواں دھواں سے یہ عکس داغ شکست پیماں وہ رنگ زخم خلوص یاراں میں غمگساروں میں سوچتا ہوں کہ بات چھیڑوں کہاں کہاں سے؟ یہ سنگریزے عداوتوں کے وہ آبگینے سخاوتوں کے دل مسافر قبول کر لے، ملا ہے جو کچھ جہاں جہاں سے بچھڑنے والے بچھڑ چلا تھا تو نسبتیں بھی گنوا کے جاتا ترے لیے شہر بھر میں اب بھی میں زخم کھاؤں زباں زباں سے مری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ہو کے آیا وہاں وہاں سے تو ہمنفس ہے نہ ہمسفر ہے کسے خبر ہے کہ تو کدھر ہے؟ میں دستکیں دے کے پوچھ بیٹھا مکیں مکیں سے مکاں مکاں سے ابھی محبت کا اسم اعظم لبوں پہ رہنے دے جان محسن! ابھی ہے چاہت نئی نئی سی، ابھی ہیں جذبے جواں جواں سے محسن نقوی
  11. میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی
  12. Bila-Jawaaz Nahi Hy Falak Sy Jung Meri بلا جواز نہیں ہے فلک سے جنگ مری اٹک گئی ہے ستارے میں اک پتنگ مری - پھر ایک روز مرے پاس آ کر اس نے کہا یہ اوڑھنی ذرا قوس قزح سے رنگ مری - جو کائنات کنارے سے جا کے مل جائے وہی فراغ طلب ہے زمین تنگ مری - میں چیختے ہوئے صحرا میں دور تک بھاگا نہ جانے ریت کہاں لے گئی امنگ مری - فنا کی سرخ دوپہروں میں رقص جاری تھا رگیں نچوڑ رہے تھے رباب و چنگ مری - لہو کی بوند گری روشنی کا پھول کھلا پھر اس کے بعد کوئی اور تھی ترنگ مری
  13. kahain Ishq Ki Dekhi Ebtida ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺳُﻮﻟﯽ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﺎ ﻧﯿﺰﮮ ﭘﺮ ﺳﺮ ﮔﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔِﺮ ﮔﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺳﺠﺪﮮ ﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺩﺭﺱِ ﻭﻓﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺣﺴﻦِ ﺍﺩﺍ ﺑﻨﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﺳﺎﻧﭗ ﺳﮯ ﮈﺳﻮﺍ ﺩﯾﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﻗﻀﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺳﯿﻒِ ﺧﺪﺍ ﺑﻨﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺷﯿﺮ ﺧﺪﺍ ﺑﻨﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﻃُﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺫﺑﺢ ﮐﻮ ﺗﯿﺎ ﺭ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﺑﮩﮑﺎ ﺩﯾﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﺷﺎﮦِ ﻣﺼﺮ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﻮﮦِ ﻃُﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺗُﻮ ﮨﯽ ﺗُﻮ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺍﻟﻠﮧ ﮨُﻮ ﮨﮯ۔۔۔۔
  14. .درِ قفس سے پرے جب صبا گزرتی ہے کسے خبر کہ اسیروں پہ کیا گزرتی ہے تعلقات ابھی اس قدر نہ ٹوٹے تھے کہ تیری یاد بھی دل سے خفا گزرتی ہے وہ اب ملے بھی تو ملتا ہے اس طرح جیسے بجھے چراغ کو چھو کر ہوا گزرتی ہے فقیر کب کے گئے جنگلوں کی سمت مگر گلی سے آج بھی ان کی صدا گزرتی ہے یہ اہلِ ہجر کی بستی ہے احتیاط سے چل مصیبتوں کی یہاں انتہا گزرتی ہے بھنور سے بچ تو گئیں کشتیاں مگر اب کے دلوں کی خیر کہ موجِ بلا گزرتی ہے نہ پوچھ اپنی انا کی بغاوتیں محسنؔ درِ قبول سے بچ کر دعا گزرتی ہے محسن نقوی
  15. ہم نے بھی پیار کیا Poet: HuKhaN ایک روز خود کو جو ہم نے تلاش کیا اس کی ہر بات کو جب ہم نے یاد کیا اس کی زات میں پایا خود کو عجب ہی کمال کیا اسی طرح ہم نے دل ناشاد کو شاد کیا ہر بار اس کی نگاہ نے ایک حسین پیغام دیا ہر سانس اس نے ہمارے ہی نام کیا صبح نے بھی ہمیں یہ ہی ایک پیام دیا برسوں بعد دل نے ہمارے یہ حسین کام کیا خان کہہ دو ہاں میں نے بھی پیار کیا
  16. ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﻨﯽ ﮨﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻋﺪﮦ ﻧﺒﮭﺎﻧﺎ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﻨﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼﻧﺎ ﮨﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﯾﺮ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﯿﺮ ﻧﯿﺎﺯﯼ
  17. اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم ایک ساعت بھی شبِ وَصل کی بھولی نہ ہمیں آج بھی تیری ملن رات پہ مجبور ہیں ہم چشمِ تر قَلب حزیِں آبلہ پاؤں میں لئے تری الفت سے ترے پیار سے معمور ہیں ہم انکی محفل میں ہمیں اِذنِ تکّلم نہ ملا ان کو اندیشہ رہا سرمد و منصور ہیں ہم یوں ستاروں نے سنائی ہے کہانی اپنی گویا افکار سے جذبات سے محروم ہیں ہم اس نے لکھا ہے جہاں میں کریں شکوہ کس سے دل گرفتہ ہیں غم و درد سے بھی چور ہیں ہم تیرا بیگانوں سا ہم سے ہے رویہ محسن باوجود اس کے ترے عشق میں مشہور ہیں ہم محسن نقوی
  18. Mere Qaatil Ko Pukaro Ky Mai Zinda Hun Abhi میرے قاتل کو پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی پھر سے مقتل کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ شب ہجر تو ساتھی ہے میری برسوں سے جاؤ سو جاؤ ستارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ پریشان سے گیسو دیکھے نہیں جاتے اپنی زلفوں کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی لاکھ موجوں میں گھرا ہوں ، ابھی ڈوبا تو نہیں مجھ کو ساحل سے پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی قبر سے آج بھی محسن کی آتی ہے صدا تم کہاں ہو میرے یارو کے میں زندہ ہوں ابھی محسن نقوی شہید
  19. Bajiz hawa koi jaane na silsile tere ! ! ﺑﺠﺰ ﮨﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﻮﮞ، ﮐﺮﻭﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ؟ ! ﯾﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﻗﺮﺏ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺍﮮ ﻧﮕﺎﺭِ ﭼﻤﻦ ﮨﻮﺍﻣﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﻧﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﺫﺍﺋﻘﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺘﺎ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ﺗﮭﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻻﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﻋﮑﺲ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﺧﻢ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺷﮏ ﮐﮩﻮﮞ ﺳﻨﺎﺅﮞ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺗﺒﺼﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯﮐﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮧ ﻣﻼ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺗﯿﺮﮮ ! ﺟﺪﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺭﻻ ﮔﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﭼﺮﺍﻍ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺑﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺰﺍﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﺟﻼﺅﮞ ﺗﺮﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﻭﮦ ﺭﺗﺠﮕﮯ ﺗﯿﺮﮮ ، ﮨﻮﺍﺋﮯ ﻣﻮﺳﻢِ ﮔﻞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﺭﯾﺎﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﺴﮯ ﺧﺒﺮ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮨﯿﮟ ﻣﺤﺴﻦ ﻭﮦ ﮐﺮﻭﭨﯿﮟ ﺷﺐِ ﻏﻢ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ محسن نقوی
    Love Waiting Rain Feel
  20. Tujh per b afsoon daher ka- Chal jaye ga akhir تجھ پر بھی فسوں دہر کا ــ چل جائے گا آخر دُنیا کی طرح تو بھی ــ بدل جائے گا آخر پھیلی ہے ہر اِک سمت ـ ـ ـ حوادث کی کڑی دُھوپ پتھر ہی سہی ــ وہ بھی پگھل جائے گا آخر اَے میرے بدن ـ ـ ـ رُوح کی دولت پہ نہ اِترا یہ تیر بھی ــ ترکش سے نکل جائے گا آخر وہ صُبح کا تارہ ہے ـ ـ ـ تو پھر ماند بھی ہو گا چڑھتا ہُوا سُورج ہے ــ تو ڈھل جائے گا آخر دِل تُجھ سے بچھڑ کر بھی ـ ـ ـ کہاں جائے گا اَے دوست ؟ یادوں کے کھلونوں سے ــ بہل جائے گا آخر آوارہ و بدنام ہے محسن ـ ـ ـ تو ہمیں کیا؟؟ خُود ٹھوکریں کھا کھا کے ــ سنبھل جائے گا آخر شاعر: محسن نقوی
  21. Is ko baher choor ker ao shahzadi اس کو باہر چھوڑ کے آؤ شہزادی جگنو سے نہ ہاتھ جلاؤ شہزادی تتلی کے میں کان یقینا کھینچوں گا پہلے پوری بات بتاؤ شہزادی بارش کی بوندوں سے تھوڑا دور رہو لگ جائے نا کوئی گھاؤ شہزادی صورت کی شہرت تو چار دنوں کی ہے سیرت میں تم نام کماؤ شہزادی عشق تمہارے بس کی بات نہیں پاگل گڑیا سے تم من بہلاؤ شہزادی آج بڑی مشکل سے تم کو پہچانا کیوں بدلے ہیں ہاؤ بھاؤ شہزادی ٹوٹ گئے تو آنکھوں میں چبھ جائیں گے بالکل بھی نہ خواب سجاؤ شہزادی خواب میں چوڑی ٹوٹی کو اک سال ہوا اس پر یوں نہ اشک بہاؤ شہزادی کاش کسی دن عشق سمندر جا پہنچیں ہم تم تنہا لے کر ناؤ شہزادی غلطی پہ سو بار معافی مانگ چکا دیکھو اب نہ بات بڑھاؤ شہزادی تم گر مفلس سے کچھ پھول خریدو گی بڑھ جائے گا ان کا بھاؤ شہزادی
  22. ABHI JURM-MUHABBAT MAI FAQT BHEEGI HAIN YA ANKHAIN ابھی جرمِ محبت میں فقط بھیگی ہیں یہ آنکھیں ابھی تو ہجر کے دشت و بیاباں پار کرنے ہیں ابھی ان ریگزاروں میں لہو بہنا ھے وعدوں کا ابھی راہوں کے سب کا نٹے مجھے پلکوں سے چننے ہیں ابھی پر خار راہوں میں مجھے تنہا نہیں چھوڑو ابھی تو ٹھیک سے مجھکو سنبھلنا بھی نہیں آتا رسیور میں مقید ہیں تمہارے رس بھرے لہجے ابھی پاؤں سے لپٹے ہیں وصال و قرب کے لمحے ہمارے درمیان رشتے ابھی نازک سے دھاگے ہیں انہیں جھٹکے سے مت کھولو یہ سارے ٹوٹ جائیں گے ابھی تم ہاتھ مت چھوڑو سنو کچھ دن ٹھہر جاؤ تیرے لہجے سے لگتا ھے بچھڑنا اب مقدر ھے پلٹنا گر ضروری ھے چلو کچھ خواب دے جاؤ جلا کے انہی خوابوں کو اندھیرے دور کر لوں گی تمہاری روح میں پھنسی میری سانسیں امانت ہیں انہیں پورا تو ہونے دو ابھی تم دور مت جاؤ سنو کچھ دن ٹھہر جاؤ ابھی رستہ نہیں بدلو ابھی تو ٹھیک سے مجھکو سنبھلنا بھی نہیں آتا ابھی تو ٹھیک سے مجھکو بچھڑنا بھی نہیں آتا
    Tears of love Love HurtsJurm e Mohabbat
  23. ایک دل تھا گنوائے بیٹھے ہیں اس لیے سر جھکائے بیٹھے ہیں دل میں دل دار آئے بیٹھے ہیں ہاتھ پر اُن کے تتلی بیٹھ گئی گل سبھی خار کھائے بیٹھے ہیں دستِ نازک پہ تتلی نے سوچا گل ، حنا کیوں لگائے بیٹھے ہیں رنگ اُڑا لے گئے وہ تتلی کا گل کی خوشبو چرائے بیٹھے ہیں شائبہ تک نہیں شرارت کا کیسی صورت بنائے بیٹھے ہیں اس سے بڑھ کر بھی کوئی ہے نازک؟ روشنی سے نہائے بیٹھے ہیں اس لیے پاؤں میں دباتا ہوں وہ مرا دل دبائے بیٹھے ہیں اس لیے مطمئن ہیں کوہِ گراں ہم امانت اٹھائے بیٹھے ہیں دوسرا موقع قیس کیسے ملے؟ ایک دل تھا گنوائے بیٹھے ہیں
  24. شہرِ دل کی گلیوں میں شام سے بھٹکتے ہیں !چاند کے تمنائی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی روح جاں کو ڈستی یے روح و جاں میں بستی ہے شہرِ دل کی گلیوں میں تاک شب کی بیلوں پر شبنمیں سر شکوں کی بے قرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یاد گار چھوڑی ہے اتنی بات تھوڑی ہے صد ہزار باتیں تھیں حیلۂ شکیبائی صورتوں کی زیبائی قامتوں کی رعنائی ان سیاہ راتوں میں ایک بھی نہ یاد آئی جا بجا بھٹکتے ہیں کس کی راہ تکتے ہیں چاند کے تمنائی یہ نگر کبھی پہلے اس قدر نہ ویراں تھا کہنے والے کہتے ہیں قریہ نگاراں تھا خیر اپنے جینے کا یہ بھی ایک ساماں تھا آج دل میں ویرانی ابر بن کے گھر آئی آج دل کو کیا کہیے با وفا نہ ہرجائی پھر بھی لوگ دیوانے آ گئے ہیں سمجھانے اپنی وحشت دل کے بن لیے ہیں افسانے خوش خیال دنیا نے گرمیاں تو جاتی ہیں وہ رتیں بھی آتیں ہیں جب ملول راتوں میں دوستوں کی باتوں میں جی نہ چین پائے گا اور اوب جائے گا آہٹوں سے گونجے گی شہرِ دل کی پہنائی اور چاند راتوں میں چاندنی کے شیدائی ہر بہانے نکلیں گے آزمانے نکلیں گے آرزو کی گہرائی ڈھونڈنے کو رسوائی سرد سرد راتوں کو زرد چاند بخشے گا بے حساب تنہائی بے حجاب تنہائی !!!شہرِ دل کی گلیوں میں ابنِ انشاء
  25. Share your fav Ashaar of wasi shah Wasi shah aj k jadeed door k bahtreen shairoo mai se aik hain. jin ki poetry dil ko choo jati hai. tu dosto lets shair his best poetry ashaar here Please sirf text poetry share kerain yahan wasi shah sahib ki. Image poetry allow nahi yahan so kindly do not share in this topic any picture poetry.Thanks ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﺎﻧﮑﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺎﺭ ﺩﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ