News Ticker
  • “We cannot expect people to have respect for law and order until we teach respect to those we have entrusted to enforce those laws.” ― Hunter S. Thompson
  • “And I can fight only for something that I love
  • love only what I respect
  • and respect only what I at least know.” ― Adolf Hitler
  •  Click Here To Watch Latest Movie Jumanji (2017) 

Welcome to Funday Urdu Forum

Guest Image

Welcome to Funday Urdu Forum, like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information for you to signup. Be apart of Funday Urdu Forum by signing in or creating an account via default Sign up page or social links such as: Facebook, Twitter or Google.

  • Start new topics and reply to others
  • Subscribe to topics and forums to get email updates
  • Get your own profile page and make new friends
  • Send personal messages to other members.
  • Upload or Download IPS Community files such as:  Applications, Plugins etc.
  • Upload or Download your Favorite Books, Novels in PDF format. 

Search the Community

Showing results for tags 'urdu shairy'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

  • Ishq_janoon_Dewanagi
  • Uzee khan
  • Beauty of Words
  • Tareekhi Waqaiyaat
  • Geo News Blog
  • The Pakistan Tourism
  • My BawaRchi_KhaNa
  • Mukaam.e.Moahhabt
  • FDF Members Poetry
  • Sadqy Tmhary
  • FDF Online News
  • Pakistan
  • Dua's Kitchen
  • Raqs e Bismil
  • HayDay Game

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Articles

Categories

  • Records

Calendars

  • Community Calendar
  • Pakistan Holidays

Genres

  • English
  • New Movie Songs
  • Old Movies Songs
  • Single Track
  • Classic
  • Ghazal
  • Pakistani
  • Indian Pop & Remix
  • Romantic
  • Punjabi
  • Qawalli
  • Patriotic
  • Islam

Categories

  • Islam
  • Online Movies
    • English
    • Indian
    • Punjabi
    • Hindi Dubbed
    • Animated - Cartoon
    • Other Movies
    • Pakistani Movies
  • Video Songs
    • Coke Studio
  • Mix Videos
  • Online Live Channels
    • Pakistani Channels
    • Indian Channels
    • Sports Channels
    • English Channels
  • Pakistani Drama Series
    • Zara Yaad ker
    • Besharam (ARY TV series)
  • English Series
    • Quantico Season 1
    • SuperGirl Season 1
    • The Magicians
    • The Shannara Chronicles
    • Game of Thrones

Found 86 results

  1. اک پہیلی زندگی چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن ’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘ وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن سودائے آذری میں ہوئے صنم گری وہ بت پرستیوں میں عبادت کے رات دِن اِک سادہ دِل ، دیارِ کرشمہ گراں میں گم اِک قریۂ طلسم میں حیرت کے رات دِن لب ہائے نارسیدہ کی لرزش سے جاں بلب صہبائے ناچشیدہ کی لذت کے رات دِن روئے نگار و چشمِ غزالیں کے تذکرے گیسوئے یار و حرف و حکایت کے رات دِن ناکردہ کاریوں پہ بھی بدنامیوں کا شور اختر شماریوں پہ بھی تہمت کے رات دِن سوداگرانِ منبر و مکتب سے رو کشی جاں دادگانِ دانش و حکمت کے رات دِن اہلِ قبا و اہلِ ریا سے گریز پا وہ واعظانِ شہر سے وحشت کے رات دِن میر و انیس و غالب و اقبال سے الگ راشد ، ندیم ، فیض سے رغبت کے رات دِن فردوسی و نظیری و حافظ کے ساتھ ساتھ بیدل ، غنی ، کلیم سے بیعت کے رات دِن شیلے کا سحر ، کیٹس کا دُکھ ،بائرن کی دھج ان کافرانِ عشق سے نسبت کے رات دِن تشکیک و ملحدانہ رویے کے باوجود رومی سے والہانہ عقیدت کے رات دِن جیسے مئے سخن سے صراحی بھری ہوئی زورِ بیان و ُحسنِ طبیعت کے رات دِن یاروں سے شاعرانہ حوالے سے چشمکیں غیروں سے عاشقانہ رقابت کے رات دِن شعری سفر میں بعض بزرگوں سے اختلاف پیرانِ میکدہ سے بغاوت کے رات دِن رکھ کر کتابِ عقل کو نسیاں کے طاق پر وہ عاشقی میں دِل کی حکومت کے رات دِن ہر روز ، روزِ ابر تھا ہر رات چاند رات آزاد زندگی تھی ، فراغت کے رات دِن وہ صبح و شام دربدری ، ہم سنوں کے ساتھ آوارگی و سیر و سیاحت کے رات دِن اِک محشرِ خیال کے ہجراں میں کانٹا تنہائی کے عذاب ، قیامت کے رات دِن اک لعبتِ جمال کو ہر وقت سوچنا اور سوچتے ہی رہنے کی عادت کے رات دِن اِک رازدارِ خاص کو ہر وقت ڈھونڈنا بے اعتباریوں میں ضرورت کے رات دِن وہ ہر کسی سے اپنا ہی احوال پوچھنا اپنے سے بھی تجاہل و غفلت کے رات دِن بے وجہ اپنے آپ کو ہر وقت کوسنا بے سود ہر کسی سے شکایت کے رات دِن رُسوائیوں کی بات تھی رُسوائیاں ہوئیں رُسوائیوں کی عمر میں شہرت کے رات دِن اِک دُشمنِ وفا کو بھلانے کے واسطے چارہ گروں کے پند و نصیحت کے رات دِن پہلے بھی جاں گُسل تھے مگر اس قدر نہ تھے اِک شہرِ بے اَماں میں سکونت کے رات دِن اس دولتِ ہنر پہ بھی آزارِ مفلسی اس روشنیٔ طبع پہ ظلمت کے رات دِن پھر یہ ہوا کہ شیوئہ دِل ترک کر دیا اور تج دیئے تھے ہم نے محبت کے رات دِن ہر آرزو نے جامۂ حسرت پہن لیا پھر ہم تھے اور گوشۂ عزلت کے رات دِن ناداں ہیں وہ کہ جن کو ہے گم نامیوں کا رنج ہم کو تو راس آئے نہ شہرت کے رات دِن فکرِ معاش ، شہر بدر کر گئی ہمیں پھر ہم تھے اور قلم کی مشقت کے رات دِن ’’خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا‘‘ اور مدعی تھے صنعت و حرفت کے رات دِن کیا کیا ہمیں نہ عشق سے شرمندگی ہوئی کیا کیا نہ ہم پہ گزرے ندامت کے رات دِن آکاس بیل پی گئی اِک سرو کا لہو آسیب کھا گیا کسی قامت کے رات دِن کاٹی ہے ایک عمر اسی روزگار میں برسوں پہ تھے محیط ، اذیت کے رات دِن ساماں کہاں کہ یار کو مہماں بلایئے اِمکاں کہاں کہ دیکھئے عشرت کے رات دِن پھرتے تھے میر خوار کوئی پوچھتا نہ تھا قسمت میں جب تلک تھے قناعت کے رات دِن سو یہ بھی ایک عہدِ زیاں تھا ، گزر گیا کٹ ہی گئے ہیں جبرِ مشیت کے رات دِن نوواردانِ شہرِ تمنا کو کیا خبر ہم ساکنانِ کوئے ملامت کے رات دِن احمد فراز
  2. لہو کی آنکھ سے پڑھ میرے ضبط کی تحریر لبوں پہ لفظ نہ گن _____ کپکپاہٹیں پہچان www.fundayforum.com ‏تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے ― جون ایلیا
  3. درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد محسن نقوی دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد کوئی پیغام نہ دلدارِنوا تیرے بعد خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد لب پے اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد دھوپ عارض کی نہ زلفوں کہ گھٹا تیرے بعد ہجر کی رت ہے کہ محبس کی فضا تیرے بعد لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد پرچمِ تار گریباں کو ہوا تیرے بعد پیرہن اپنا نہ سلامت نہ قبا تیرے بعد بس وہی ہم ہیں وہی صحرا کی ردا تیرے بعد نکہت و نے ہے نہ دستِ قضا تیرے بعد شاخِ جاں پر کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد دل نہ مہتاب سے اجلا نہ جلا تیرے بعد ایک جگنو تھا چپ چاپ بجھا تیرے بعد درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد کونسے رنگوں کے بھنور کیسی حنا تیرے بعد اپنا خون میری ہتھیلی پے سجا تیرے بعد تجھ سے بچھڑا تو مرجھا کے ہوا برد ہوا کون دیتا مجھے کھلنے کی دعا تیرے بعد ایک ہم ہیں کہ بے برگ و نوا تیرے بعد ورنہ آباد ہے سب خلقِ خدا تیرے بعد ایک قیامت کی خراشیں میرے چہرے پہ سجیں ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد اے فلکِ ناز میری خاک نشانی تیری میں نے مٹی پہ تیرا نام لکھا تیرے بعد تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد یہ الگ بات ہے کہ افشاں نہ ہوا تو ورنہ میں نے کتنا تجھے محسوس کیا تیرے بعد ملنے والے کئی مفہوم پہن کر آئے کوئی چہرہ بھی نہ آنکھوں نے پڑھا تیرے بعد بجھے جاتے ہیں خد و خال مناظر افق پھیلتا جاتا ہے خواہش کا خلا تیرے بعد میرے دکھتی ہوئی آنکھوں سے گواہی لینا میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد سہہ لیا دل نے تیرے بعد ملامت کا عذاب ورنہ چبھتی ہے رگِ جاں میں ہوا تیرے بعد جانِ محسن میرا حاصل یہی مبہم سطریں شعر کہنے کا ہنر بھول گیا تیرے بعد ‏ ‏
  4. جاؤ قرارِ بے دِلاں ! شام بخیر شب بخیر صحن ھُوادھواں دھواں !شام بخیرشب بخیر شامِ وصال ہے قریب ، صبح کمال ہے قرب پھرنہ رہیں گےسرگراں !شام بخیرشب بخیر وجد کرے گی زندگی،جسم بہ جسم،جاں بہ جاں جسم بہ جسم، جاں بہ جاں !شام بخیرشب بخیر اے میرےشوق کی اُمنگ ، میرےشباب کی ترنگ تجھ پہ شفق کاسائباں ! شام بخیر شب بخیر تُومیری شاعری میں ہے، رنگ طرازوگُل فشاں تیری بہار بے خزاں ! شام بخیر شب بخیر تیراخیال خواب خواب، خلوتِ جاں کی آب وتاب جسم جمیل و ناتواں ! شام بخیر شب بخیر ہے میرا نام ارجمند ، تیرا حصار سر بلند بانوشہرجسم وجاں ! شام بخیرشب بخیت دید سے جانِ دید تک، دل سے رُخِ امید تک کوئی نہیں ہےدرمیاں ! شام بخیر شب بخیر ھو گئ دیر جاؤ تم ، مجھ کو گلے لگاؤ تم تُومیری جاں ہے،میری جاں!شام بخیرشب بخیر شام بخیر شب بخیر، موجِ شمیمِ پیرہن تیری مہک رہےگی یاں!شام بخیرشب بخیر جون ایلیا
  5. تم کہ سنتے رہے اوروں کی زبانی لوگو ہم سُناتے ہیں تمہیں اپنی کہانی لوگو کون تھا دشمنِ جاں وہ کوئی اپنا تھا کہ غیر ہاں وہی دُشمنِ جاں دلبرِ جانی لوگو زُلف زنجیر تھی ظالم کی تو شمشیر بدن رُوپ سا رُوپ جوانی سی جوانی لوگو سامنے اُسکے دِکھے نرگسِ شہلا بیمار رُو برو اُسکے بھرے سَرو بھی پانی لوگو اُسکے ملبوس سے شرمندہ قبائے لالہ اُس کی خوشبو سے جلے رات کی رانی لوگو ہم جو پاگل تھے تو بے وجہ نہیں تھے پاگل ایک دُنیا تھی مگر اُس کی دِوانی لوگو ایک تو عشق کیا عشق بھی پھر میر سا عشق اس پہ غالب کی سی آشفتہ بیانی لوگو ہم ہی سادہ تھے کِیا اُس پہ بھروسہ کیا کیا ہم ہی ناداں تھے کہ لوگوں کی نہ مانی لوگو ہم تو اُس کے لئے گھر بار بھی تج بیٹھے تھے اُس ستمگر نے مگر قدر نہ جانی لوگو کس طرح بھُول گیا قول و قسم وہ اپنے کتنی بے صرفہ گئی یاد دہانی لوگو اب غزل کوئی اُترتی ہے تو نوحے کی طرح شاعری ہو گئی اب مرثیہ خوانی لوگو شمع رویوں کی محبت میں یہی ہوتا ھے رہ گیا داغ فقط دل کی نشانی لوگو ( احمد فراز )
  6. پیام آئے ہیں اُس یارِ بے وفا کے مجھے جسے قرار نہ آیا کہیں، بُھلا کے مجھے جدائیاں ہوں تو ایسی کہ عمر بھر نہ مِلیں فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم کہ لے اڑا ہے کوئی دوش پر ہَوا کے مجھے میں خود کو بُھول چکا تھا، مگر جہاں والے اُداس چھوڑ گے آئنہ دِکھا کے مجھے تمہارے بام سے اب کم نہیں ہے رفعتِ دار جو دیکھنا ہو تو دیکھو نظر اُٹھا کے مجھے کھنچی ہُوئی ہے مِرے آنسوؤں میں اِک تصویر فراز! دیکھ رہا ہے وہ، مُسکرا کے مجھے احمد فراز
  7. :کلام احمد فرازؔ تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو! کرّۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ ! رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
  8. اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ اے شبِ فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز ہے ہے خدا نہ کرے کہ تجھے بھی رلائیں ہم احمد فراز
  9. Ik hunar hai jo kar gaya hon mein Sab ke dil se utar gaya hon mein Kaise apni hansi ko zabt karon Sun raha hon ki ghir gaya hon mein Kya bataon ki mar nahin paata Jeeteji jab se mar gaya hon mein Ab hai bas apna samna darpaish Har kisi se guzar gaya hon mein Wahi naaz-o-ada wahi ghamze Sar-ba-sar aap par gaya hon mein Ajab ilzam hon zamane ka Ki yahan sab ke sar gaya hon mein Kabhi ḳhud tak pohanch nahin paaya Jab ki waan umar bhar gaya hon mein Tum se janan mila hon jis din se Be-tarah ḳhud se dar gaya hon mein Koo-e-janan main sog barpa hai Ki achanak sudhar gaya hon mein
  10. کب اس کا وصال چاہیے تھا بس اک خیال چاہیے تھا کب دل کو جواب سے غرض تھی ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا شوق اک نفس تھا اور وفا کو پاسِ مہ و سال چاہیے تھا اک چہرہِ سادہ تھا جو ہم کو بے مثل و مثال چاہیے تھا اک کرب میں ذات و زندگی میں ممکن کو مُحال چاہیے تھا میں کیا ہوں بس اک ملالِ ماضی اس شخص کو حال چاہیے تھا ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو کچھ دن تو ملال چاہیے تھا وہ جسم ، جمال تھا سراپا اور مجھ کو جمال چاہیے تھا وہ شوخِ رمیدہ مجھ کو اپنی بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا تھا وہ جو کمال' شوقِ وصلت خواہش کو زوال چاہیے تھا جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے وہ سال بہ سال چاہیے تھا جون_ایلیاء
  11. Wohi Hisaab e Tamana Hai Ab Bhi Aa Jao - Joan Elia وہی حساب تمنا ہے اب بھی آ جاؤ وہی ہے سر وہی سودا ہے ، اب بھی آ جاؤ جسے گئے ہوے خود سے ایک زمانہ ہوا وہ اب بھی تم میں بھٹکتا ہے, اب بھی آ جاؤ وہ دل سے ہار گیا ہے پر اپنی دانست میں وہ شخص اب بھی یگانہ ہے, اب بھی آ جاؤ میں خود نہیں ہوں کوئی اور ہے میرے اندر جو تم کو اب بھی ترستا ہے, اب بھی آجاؤ میں یاں سے جانے ہی والا ہوں اب ، مگر اب تک وہی ہے گھر وہی حجرہ ہے ، اب بھی آ جاؤ وہی کشاکش احساس ہے با ہر لمحہ وہی ہے دل وہی دنیا ہے ،اب بھی آ جاؤ تمہیں تھا ناز بہت جس کی نام داری پر وہ سارے شہر میں رُسوا ہے اب بھی آ جاؤ یہاں سے ساتھ ہی خوابوں کے شہر جائیں گے وہی جُنوں، وہی صحرا ہے، اب بھی آ جاؤ مری شراب کا شہرہ ہے اب زمانے میں سو یہ کرم ہے تو کس کا ہے، اب بھی آ جاؤ یہ طور !جان جو ہے میری بد شرابی کا مجھے بھلا نہیں لگتا ہے، اب بھی آ جاؤ کسی سے کوئی بھی شکوا نہیں مگر تم سے ابھی تلک مجھے شکوا ہے، اب بھی آ جاؤ وہ دل کہ اب ہے لُہو تُھوکنا ہُنر جس کا وہ کم سے کم ابھی زندہ ہے ، اب بھی آ جاؤ نہ جانے کیا ہے کہ اب تک مرا خود اپنے سے وہی جو تھا وہی رشتہ ہے، اب بھی آ جاؤ وجود ایک تماشا تھا ہم جو دیکھتے تھے وہ اب بھی ایک تماشا ہے، اب بھی آجاؤ ابھی صدئے جرس کا نہیں ہوا آغاز غبار ابھی نہیں اُٹّھا ہے، اب بھی آ جاؤ ہے میرے دل کی گزارش کہ مجھ کو مت چھوڑو یہ میری جاں کا تقاضا ہے، اب بھی آ جاؤ کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آ جاؤ میں لڑکھڑاتا ہوا موت کی طرف ہوں رواں بس آخری ہے جو لمحہ ہے، اب بھی آ جاؤ وہ جون کون ہے جانے جو کچھ نہیں سنتا ہے جانے کون جو کہتا ہے، اب بھی آ جاؤ باباِ جون
  12. Itni Mudat Baad Mile Hu Kin Socho Mai Ghum Rahte Hu اِتنی مُدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسن تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو محسن نقوی
  13. Silsilay Tor Gaya Woh Sabhi Jatay Jatay Warna Itne To Marasim The Ke Aate Jate Shikwa e Zulmat e Shab Sey Tou Behter Tha Apney Hissay Ki Koi Shamma Jalatay Jatay Kitna Asaan Tha Teray Hijr Mein Marna Janaa Phir Bhee Ik Umr Lagi Jaan Se Jatay Jatay Jashn e Maqtal Hi Na Barpa Hua Warna Hum Pa’ Bajoulaan Hi Sahi, Nachte Gaate Jatay Us Ki Woh Jane Usey Pass e Wafa Tha Keh Na Tha Tum Apni Taraf Se To Faraz Nibhate Jate. Silsilay Tor Gaya Woh Sabhi Jatay Jatay Warna Itne To Marasim The Ke Aate Jate...
  14. بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی نہ وہ مِلتا ہے نہ مِلنے کا اِشارہ کوئی کیسے اُمّید کا چمکے گا سِتارہ کوئی حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبّت کرنا جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پُوچھا ہے کیا کہَیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی سب تعلّق ہیں ضرورت کے یہاں پر، مُحسنؔ نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی محسؔن نقوی
  15. Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy وہ اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں رواں سے بسے ہوۓ ہیں ابھی نظر میں سبھی مناظر دھواں دھواں سے یہ عکس داغ شکست پیماں وہ رنگ زخم خلوص یاراں میں غمگساروں میں سوچتا ہوں کہ بات چھیڑوں کہاں کہاں سے؟ یہ سنگریزے عداوتوں کے وہ آبگینے سخاوتوں کے دل مسافر قبول کر لے، ملا ہے جو کچھ جہاں جہاں سے بچھڑنے والے بچھڑ چلا تھا تو نسبتیں بھی گنوا کے جاتا ترے لیے شہر بھر میں اب بھی میں زخم کھاؤں زباں زباں سے مری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ہو کے آیا وہاں وہاں سے تو ہمنفس ہے نہ ہمسفر ہے کسے خبر ہے کہ تو کدھر ہے؟ میں دستکیں دے کے پوچھ بیٹھا مکیں مکیں سے مکاں مکاں سے ابھی محبت کا اسم اعظم لبوں پہ رہنے دے جان محسن! ابھی ہے چاہت نئی نئی سی، ابھی ہیں جذبے جواں جواں سے محسن نقوی
  16. میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی
  17. .درِ قفس سے پرے جب صبا گزرتی ہے کسے خبر کہ اسیروں پہ کیا گزرتی ہے تعلقات ابھی اس قدر نہ ٹوٹے تھے کہ تیری یاد بھی دل سے خفا گزرتی ہے وہ اب ملے بھی تو ملتا ہے اس طرح جیسے بجھے چراغ کو چھو کر ہوا گزرتی ہے فقیر کب کے گئے جنگلوں کی سمت مگر گلی سے آج بھی ان کی صدا گزرتی ہے یہ اہلِ ہجر کی بستی ہے احتیاط سے چل مصیبتوں کی یہاں انتہا گزرتی ہے بھنور سے بچ تو گئیں کشتیاں مگر اب کے دلوں کی خیر کہ موجِ بلا گزرتی ہے نہ پوچھ اپنی انا کی بغاوتیں محسنؔ درِ قبول سے بچ کر دعا گزرتی ہے محسن نقوی
  18. Ashk Daman Mai Bhare Khuwab Kamar Per Rakhye اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا Poet: Ahmad Mushtaq اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا پھر قدم ہم نے تری راہ گزر پر رکھا ہم نے ایک ہاتھ سے تھاما شب غم کا آنچل اور اک ہاتھ کو دامان سحر پر رکھا چلتے چلتے جو تھکے پاؤں تو ہم بیٹھ گئے نیند گٹھری پہ دھری خواب شجر پر رکھا جانے کس دم نکل آئے ترے رخسار کی دھوپ مدتوں دھیان ترے سایۂ در پر رکھا جاتے موسم نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا مشتاقؔ رہ گیا ساغر گل سبزۂ تر پر رکھا
  19. Ajj Roo Ker Tu Dekhaye Koi Aisa Roona آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونا Poet: Ahmad Mushtaq آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونا یاد کر اے دل خاموش وہ اپنا رونا رقص کرنا کبھی خوابوں کے شبستانوں میں کبھی یادوں کے ستونوں سے لپٹنا رونا تجھ سے سیکھے کوئی رونے کا سلیقہ اے ابر کہیں قطرہ نہ گرانا کہیں دریا رونا رسم دنیا بھی وہی راہ تمنا بھی وہی وہی مل بیٹھ کے ہنسنا وہی تنہا رونا یہ ترا طور سمجھ میں نہیں آیا مشتاقؔ کبھی ہنستے چلے جانا کبھی اتنا رونا
  20. Ganwaai kis ki tamana mein zindagi mainey... wo koun hai jisey dekha nhi kabhi mainey... tera khayal to hai par tera wajood nahi.n... tere liye to ye mehfil sajai thi mainey... tere adam ko ganwara na tha wajood mera... so apni baikh kani mein kami na ki mainey... hai meri zaat sey mansoob sad fasana_e_ishq... aur ek satar bhi ab tak nahi.n likhi mainey khud apney ashwa_o_andaaz ka shaheed hon mein... khud apni zaat sey barti hai berukhi mainey... merey hareef merey yka taziyon pey nisar... tmaam umar haleefon sey jang ki mainey... kharash_e_naghma sey seena chila hoa hai mera... fugaan k tark na ki naghma parwari mainey... dawa sey faida maqsood tha hi kab k faqat... dawa k shok meinseyht tbaah ki mainey... zbaana zan tha jigar soz tushnagi ka azaab... so jof_e_seena mein dozakh andail li mainey... sarvar_e_may pey b ghaliib raha shaoor mera... k har reayat_e_gham zehen mein rakhi mainey... gham_e_shaoor koi dam to mujh ko mohlat dey... tamaam umr jalaya hai apna ji mainey.. ilaaj ye hai k majboor kar diya jaaon... wagarna yun to kisi ki nahi suni mainey... raha mein shahid_e_tanha nasheen_e_msand_e_gham... aur apne karb_e_anaa sey gharaz rakhi mainey... Jaun Elia
  21. poetry

    ﺟﻮ ﭼﻞ ﺳﮑﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﺎﻝ ﭼﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻤﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ____ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﺷﻌﻠﮕﯽ ﮨﻮ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺳﻮ ﻻﺯﻣﯽ ﺗﮭﺎ ____ ﺗﺮﮮ ﭘﯿﺮﮨﻦ ﮐﺎ ﺟﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻣﺎﮞ ____ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﺁﭘﮩﻨﭽﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ____ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮕﺎ ____ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺳﺠﯽ ﺳﺠﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﻮﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻮﺭﺧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻘﺎﺑﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ____ ﻣﺤﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍِﺳﯽ ﺳﺎﻋﺖِ ﺯﻭﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ____ ﺳﺒﮭﯽ ﺳﻮﺭﺟﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ____ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﺍﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﮞ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ____ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ
  22. poetry

    سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
  23. Chura ky ly gaya jaam aur payas choor gaya چُرا کے لے گیا جام اور پیاس چھوڑ گیا وہ ایک شخص جو مجھ کو اُداس چھوڑ گیا جو میرے جسم کی چادر بنا رہا برسوں نہ جانے کیوں وہ مجھے بے لباس چھوڑ گیا وہ ساتھ لے گیا ساری محبتیں اپنی ذرا سا درد مرے دل کے پاس چھوڑ گیا سجھائی دیتا نہیں دور تک کوئی منظر وہ ایک دھند مرے آس پاس چھوڑ گیا غزل سجاؤں قتیلؔ اب اُسی کی باتوں سے وہ مُجھ میں اپنے سُخن کی مٹھاس چھوڑ گیا قتیل شفائی
  24. اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم ایک ساعت بھی شبِ وَصل کی بھولی نہ ہمیں آج بھی تیری ملن رات پہ مجبور ہیں ہم چشمِ تر قَلب حزیِں آبلہ پاؤں میں لئے تری الفت سے ترے پیار سے معمور ہیں ہم انکی محفل میں ہمیں اِذنِ تکّلم نہ ملا ان کو اندیشہ رہا سرمد و منصور ہیں ہم یوں ستاروں نے سنائی ہے کہانی اپنی گویا افکار سے جذبات سے محروم ہیں ہم اس نے لکھا ہے جہاں میں کریں شکوہ کس سے دل گرفتہ ہیں غم و درد سے بھی چور ہیں ہم تیرا بیگانوں سا ہم سے ہے رویہ محسن باوجود اس کے ترے عشق میں مشہور ہیں ہم محسن نقوی
  25. poetry

    umar guzregi imtehaan mein kya daagh hi denge mujh ko daan mein kya meri har baat be asar hi rahi naqs hai kuch mere bayaan mein kya mujh ko to koi tokta bhi nahin yahi hota hai khandaan mein kya apni mehroomiyan chhupate hain hum ghareebon ki aan baan mein kya khud ko jaana juda zammane se aa gaya tha mere gumaan mein kya bolte kyun nahin mere haqq mein aable paR gaye zubaan mein kya dil kay aate hain jis ko dhyaan bohot khud bhi aata hai apne dhyaan mein kya woh mile to yeh poochhna hai mujhe ab bhi hun main teri amaan mein kya yun jo takta hai aasmaan ko tu koi rehta hai aasmaan mein kya yeh mujhe chain kyun nahin parta aik hi shakhs tha jahan mein kya....