waqas dar

poetry
Wo Itna Dilkash hy- وُہ اِتنا دِلکش ہے

Rate this topic

1 post in this topic

اَدائیں حشر جگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
خیال حرف نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
بہشتی غنچوں میں گوندھا گیا صراحی بدن
گلاب خوشبو چرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
بدن بنانے کو کرنوں کا سانچہ خلق ہُوا
خمیر ، خُم سے اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
قدم ، اِرم میں دَھرے ، خوش قدم تو حور و غلام
چراغ گھی کے جلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
یہ جھاڑو دیتی ہیں پلکوں سے یا حسیں حوریں
قدم کی خاک چرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
جھلک دِکھانے کی رَکھیں جو شرط جوئے شیر
ہزاروں کوہ کن آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
جنہوں نے سایہ بھی دیکھا وُہ حور کا گھونگھٹ
مُحال ہے کہ اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
چمن کو جائے تو دَس لاکھ نرگسی غنچے
زَمیں پہ پلکیں بچھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
یہ شوخ تتلیاں ، پیکر پری کا دیکھیں تو
اُکھاڑ پھینکیں قبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
غزال قسمیں ستاروں کی دے کے عرض کریں
حُضور! چل کے دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
حسین اِتنا کہ منکر خدا کا لگتا ہے
بت اُس کو کلمہ پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
وُہ پنکھڑی پہ اَگر چلتے چلتے تھک جائے
تو پریاں پیر دَبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
گُل عندلیب کو ٹھکرا دے ، بھنورے پھولوں کو
پتنگے شمع بجھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
اُداس غنچوں نے جاں کی اَمان پا کے کہا
یہ لب سے تتلی اُڑائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
خطیب پہلے پڑھیں حُسنِ حور پر آیت
پھر اُس کا عکس دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
جو آنکھ کھلتی ہے غنچوں کی شوخ ہاتھوں پر
تو اَمی کہہ کے بُلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
وُہ بھیگی پنکھڑی پہ خشک ہونٹ رَکھے ذِرا
تو پھول پیاس بجھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
حسین تتلیاں پھولوں کو طعنے دینے لگیں
کہا تھا ایسی قبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
ذِرا سا بوسے پہ راضی ہُوا تو سارے گلاب
نفی میں سر کو ہلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
غزال نقشِ قدم چوم چوم کر پوچھیں
کہاں سے سیکھی اَدائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
حریر ، اَطلس و کمخواب ، پنکھڑی ، ریشم 
دَبا کے ہاتھ لگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
بشارت اُس کی نُجومی سے سنتے ہی فرعون
حنوط خود کو کرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
شریر مچھلیاں کافِر کی نقل میں دِن بھر
مچل مچل کے نہائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
جو کام سوچ رہے ہیں جناب دِل میں اَبھی
وُہ کام بھول ہی جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
زَمیں پہ خِرمنِ جاں رَکھ کے ہوشمند کہیں
بس آپ بجلی گرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
وُہ چاند عید کا اُترے جو دِل کے آنگن میں
ہم عید روز منائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
عقیق ، لولو و مرجان ، ہیرے ، لعلِ یمن
اُسی میں سب نظر آئیں ، وُہ اتنا دلکش ہے
جفا پہ اُس کی فدا کر دُوں سوچے سمجھے بغیر
ہزاروں ، لاکھوں وَفائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
ہمیں تو اُس کی جھلک مست مور کر دے گی
شراب اُس کو پلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
صراحی جسم کی جھومے تو جام رَقص کریں
دَرخت وَجد میں آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
بدل کے ننھے فرشتے کا بھیس جن بولا
مجھے بھی گود اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
نُجومی دیر تلک بے بسی سے دیکھیں ہاتھ
پھر اُس کو ہاتھ دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
ہزار جنّوں کو بند کر دے ایک بوتل میں
تو اُف بھی لب پہ نہ لائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
سنا ہے ملکۂ جنّات رو کے کہنے لگی
مرے میاں کو چھڑائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
جو مڑ کے دیکھے تو ہو جائیں دیوتا پتھر
’’نہیں‘‘ بھی کہنے نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
خطیب دیکھے گزرتا تو تھک کے لوگ کہیں
حُضور خطبہ سنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
اَگر لفافے پہ لکھیں ، ’’ملے یہ ملکہ کو‘‘
تو خط اُسی کو تھمائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
چرا کے عکس ، حنا رَنگ ہاتھ کا قارُون
خزانے ڈُھونڈنے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
حسین پریاں چلیں ساتھ کر کے ’’سترہ‘‘ سنگھار
اُسے نظر سے بچائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
صنم کدے میں جو پہنچے تو چند پہنچے صنم
دُعا کو ہاتھ اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
گلی میں شوخ کی دائم مشاعرے کا سماں
شجر بھی شعر سنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
گلی سے اُس کی گزر کر جو شاعری نہ کرے
تو اُس کو اُردو پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
کمر کو کس کے دوپٹے سے جب چڑھائے پینگ
دِلوں میں زَلزلے آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
کبوتر اُس کے قریب آنے کے لیے بابو
پیام جعلی بنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
اُسی کے نام سے اِہلِ سلوک پہنچے ہُوئے
نمازِ عشق پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
جسے وُہ مست کرے حشر میں بھی نہ اُٹھے
بلا سے حوریں اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
غُبارِ راہ ہُوا غازہ اَپسراؤں کا
نہا نہا کے لگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
خدا کے سامنے گن گن کے جھکنے والے سخی
قیام بھول ہی جائیں ، ’’وُہ‘‘ اِتنا دِلکش ہے
جہاں پہ ٹھہرے وُہ خوشبو کی جھیل بن جائے
گلاب ڈُوبتے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
وُہ ہنس کے کہہ دے جو حوروں پہ پردہ ساقط ہے
دُکان شیخ بڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
نقاب اُٹھائے تو سورج کا دِن نکلتا ہے
چراغ دیکھ نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
گلاب ، موتیا ، چنبیلی ، یاسمین ، کنول
اُسے اَدا سے لُبھائیں ، وُہ اتنا دلکش ہے
شراب اور ایسی کہ جو ’’دیکھے‘‘ حشر تک مدہوش
شرابی آنکھ جھکائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
شباب ہے کہ ہے آتش پرستی کی دعوت
بدن سے شمع جلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
حجاب اُتارے تو پھر بھی اُسے ثواب ملے
 کہ رِند جام گرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

beauty.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,689
    Total Topics
    7,545
    Total Posts