Jump to content

Please Disable Your Adblocker. We have only advertisement way to pay our hosting and other expenses.  

FDF Members Poetry

  • entries
    159
  • comments
    114
  • views
    22,461

Contributors to this blog

About this blog

Welcome to Members Poetry Blog. Important: Only More than 200 posts members can add entries in this blog. Regular member rank can only comment in this blog. Please do not share anything else except poetry. Thanks  Keep sharing at fundayforum.com  Have Fun !

 

شاعری

شاعری بھی بارش ہے
جب برسنے لگتی ہے ۔۔
سوچ کی زمینوں کو رنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
لفظ کو معانی کے ڈھنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
نِت نئے خیالوں کی کونپلیں نکلتی ہیں۔۔۔
اور پھر روانی پر یوں بہار آتی ہے۔۔۔
جیسے ٹھوس پربت سے گنگناتی وادی میں آبشار آتی ہے۔۔
شاعری بھی بارش ہے۔۔۔
اُن دلوں کی دھرتی پر ۔۔۔
غم کی آگ نے جن کوراکھ میں بدل ڈالا۔۔
ذہن و دل کا ہرجذبہ جیسے خاک کرڈالا۔۔
ایسی سرزمینوں پر۔۔۔
 بارشیں برسنے سے فرق کچھ نہیں پڑتا 

Entries in this blog

 

Dhoop Chaaon ka Mosam

کوئی دھوپ چھاؤں کا موسم ہو.
اور مدھم مدھم بارش ہو💕 ہم گہری سوچ میں بیٹھے ہوں
سوچوں میں سوچ تمھاری ہو💕 اُس وقت تم ملنے آجاؤ
اور خوشی سے پلکیں بھاری ہو💕 ہم تم دونوں خاموش رہیں
اور زباں پہ آنکھیں ہاوی ہو💕 تم تھام لو میرے ہاتھوں کو
اور لفظ زباں سے جاری ہوں💕 میں تم سے محبت کرتی ہوں
اور جذبوں میں سرشاری ہو💕 ہاتھوں کی لیکریں مل جائیں
سنگ چلنے کی تیاری ہو💕 سب خوابوں کو تعبیر ملے
اور ہم پر خوشیاں واری ہو💕 کوئی دھوپ چھاؤں کا موسم ہو
اور مدھم مدھم بارش ہو💕

Hareem Naz

Hareem Naz

 

hijab e rang

کتاب ِ عمر کے دلگیر باب میں مجھے مل
یا میری نیند میں آ اپنے خواب میں مجھے مل مرے گماں پہ اتر پھر حنا کا رنگ لیے
پھر اپنے بالوں کے دلکش گلاب میں مجھے مل مل ایک بار مجھے وقت کی حدوں سے پرے
مل ایک بار تو اپنی جناب میں مجھے مل خدا کے ہونے کی تو بھی تو اک نشانی ہے
کسی بھی رنگ کسی بھی حجاب میں مجھے مل بگُولہ بن کے ترے اِرد گِرد پھرنے لگوں
کبھی تو دشت میں آ اور سراب میں مجھے مل سکوت ِ ذات سے چٹخے سماعتوں کے بدن
کسی صدا کے چھلکتے حباب میں مجھے مل خرد خمیر ہوں حیرت کے باب میں مجھے چُن
جنوں طلسم کی نمکیں شراب میں مجھے مل

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Dunia k hazaar mosam

کیا بات بتائیں لوگوں کی ۔۔۔۔ دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہیں ادائیں لوگوں کی!!   کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں، دنیا کو سنانے کے قابل۔۔۔۔ کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں، بس دل میں چھپانے کے قابل۔۔۔۔   کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں، اک بار گئے تو آتے نہیں۔۔۔۔ ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں، پرچھائیں بھی انکی پاتے نہیں۔۔   کچھ لوگ خیالوں کے اندر، جذبوں کی روانی ہوتے ہیں۔۔۔۔  کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح، پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں۔۔۔۔   کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں،  کچھ لوگ کنارا ہوتے ہیں۔۔ کچھ ڈوبنے والی جانوں کو، تنکوں کا سہارا ہوتے ہیں۔۔۔۔   کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ، کچھ ریت گھروندہ چھوٹا سا۔۔۔۔ کچھ لوگ مثال ابر رواں، کچھ اونچے درختوں کا سایہ۔۔۔۔   کچھ لوگ چراغوں کی صورت،  راہوں میں اجالا کرتے ہیں۔۔۔۔ کچھ لوگ اندھیروں کی کالک  چہرے پر اچھالا کرتے ہیں۔۔۔۔   کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں، دو گام چلے اور رستے الگ۔۔۔۔ کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا، ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ۔۔۔۔

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Mohabbat youn b hoti hai

اسے کہنا
محبت یوں بھی ہوتی ہے
مہینوں رابطہ نہ ہو
بھلےبرسوں قبل دیکھا ہو
ہم نے ایک دوجے کو
مگر پھر بھی
سلامت ھی یہ رہتی ہے
یہ برگ و بار لاتی ہے
اسے کہنا
مجھے اس سے محبت ہے
کہ جیسے پھول کا خوشبو سے اک انجان رشتہ ہے
اسے کہنا
محبت میں کبھی وہ پھول بن جائے
کبھی خوشبو وہ بن جائے
اسے کہنا محبت میں
ہے کوئی تیسرا بھی جو
محبت کی وجہ بھی ہے
کہ جس پھوٹتے ہیں پیار کے
سارے ہی سرچشمے
اسے کہنا
کہ دنیا میں
نہ جانے کب ملیں گے ہم
مگر روز حشر ہم ساتھ ہوں گے عرش کے نیچے
ہاں اس کے عرش کے نیچے
جو میرا اور تمہارا
اور محبت کا خدا بھی ہے

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Shakayat nh koi zindagi se

یہ شیشے یہ سپنے یہ رشتے یہ دھاگے
کسے کیا خبر ہے کہاں ٹوٹ جائیں محبت کے دریا میں .."تنکے وفا " کے
نہ جانے یہ کس موڑ پر ڈوب جائیں.. عجب دل کی بستی عجب دل کی وادی
ہر اک موڑ موسم نئی خواہشوں کا
لگائے ہیں ہم نے بھی سپنوں کے پودے مگر کیا بھروسہ یہاں بارشوں کا" مرادوں کی منزل کے سپنوں میں کھوئے
محبت کی راہوں پہ ہم چل پڑے تھے
ذرا دور چل کے جب آنکھیں کھلیں تو کڑی دھوپ میں ہم اکیلے کھڑے تھے جنہیں دل سے چاہا جنہیں دل سے پوجا
نظر آرہے ہیں وہی "اجنبی سے"
"روایت ہے شاید یہ صدیوں پرانی "شکایت نہیں ہے کوئی____ زندگی سے"...!!  

Hareem Naz

Hareem Naz

 

khuwab e Gul

آنکھوں میں سِتارے تو کئی شام سے اُترے
پر دِل کی اُداسی نہ در و بام سے اُترے کُچھ رنگ تو اُبھرے تِری گُل پیرہنی کا
کُچھ زنگ تو آئینہء ایام سے اُترے ہوتے رہے دِل لمحہ بہ لمحہ تہہ و بالا
وہ زینہ بہ زینہ بڑے آرام سے اُترے جب تک تِرے قدموں میں فروکش ہیں سبُو کش
ساقی خطِ بادہ نہ لبِ جام سے اُترے بے طمع نوازش بھی نہیں سنگ دِلوں کی
شاید وہ مِرے گھر بھی کسی کام سے اُترے اوروں کے قصیدے فقط آورد تھے جاناں
جو تُجھ پہ کہے شعر وہ الہام سے اُترے اے جانِ فراز ؔاے مِرے ہر دُکھ کے مسیحا
ہر زہر زمانے کا تیرے نام سے اُترے  

Hareem Naz

Hareem Naz

 

‏کبھی مصروف لمحوں میں__!!

‏کبھی مصروف لمحوں میں__!!
اچانک____دل جو دھڑکے تو
کبھی بےچین سے ہوکر____!!
ہر اک سانس تڑپے تو
کوئی آتش سی تن من میں_____!!
اچانک جل کے بھڑکے تو
اے جانِ زندگی____!!
تب_____اتنا سمجھ لینا
یہ!
محبت کا اشارہ ہے
تمہیں___ہم نے پکارا ہے!!
 
 

Dareecha e Dil

کچھ یوں کرو کہ آئے وہ مہماں ابھی ابھی یا یہ کرو کہ جائے مری جاں ابھی ابھی   جھیلا ہے تجھ کو زندگی کچھ اس یقین سے ہونے لگی ہے جیسے تو آساں ابھی ابھی   پھر اس کی یاد آئی بجھانے کے واسطے ہم نے کیا تھا دل میں چراغاں ابھی ابھی   جانے مرے فراق پہ کیوں خوش ہے یہ جہاں دیکھا ہے ہم نے غم کو بھی رقصاں ابھی ابھی   زندان میں ہی خوش رہو ، آباد تم رہو جاری ہوا ہے وقت کا فرماں ابھی ابھی   اب حال ہم سے اس کا بھلا پوچھتے ہو کیا پہلو کو جس نے دیکھا ہے ویراں ابھی ابھی   پوچھا جو اک خیال نے گر لوٹ آوں میں بے ساختہ جواب تھا جاناں ابھی ابھی   اس کو ڈرا رہا ہے خزاں سے بھلا تو کیا گلشن جو کر کے بیٹھا، بیاباں ابھی ابھی   جس میں قصیدے اس کے، اسی کا بیان تھا ہم نے جلا دیا ہے وہ دیواں ابھی ابھی
 

kya tamasha ho

وہ بُلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو یہ کِناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشا ہو آج ہم بھی تیری وفاؤں پر
مُسکرائیں تو کیا تماشا ہو تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو  
 

Mohabbat noor ha Jana

__#محبت نور ھے جاناں___ یہ جس دل میں اتر جائے اُسے معمور کر جائے سراپا رنگ کر جائے تمناؤں سے بھر جائے یہ ایسا کیف ھے جو ھر قدم پر زندگی پُر نور کرتا ھے _اُتر کر روح میں اُس کے اندھیرے دور کرتا ھے یہ وہ احساس ھے جو ھر گھڑی بھر پور ھے جاناں #محبت_ نور ھے جاناں*_ #محبت_ نور ھے جاناں_

 
 

محبت کیا ہے؟؟؟

محبت کیا ہے۔؟ ایک طوائف کی بیٹی جوان ہوئی تو ایک دن اپنی ماں سے پوچھنے لگی کہ ’’اماں محبت کیا ہوتی ہے؟؟؟‘‘ طوائف جل کر بولی’’ ہونہہ مفت عیاشی کے بہانے‘‘۔ہمارے ہاں زیادہ تر محبت کی شادیاں‘ نفر ت کی طلاقوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں لیکن پھر بھی دھڑا دھڑ محبتیں اور ٹھکا ٹھک طلاقیں جاری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ محبت سے نفرت کا سفر ایک شادی کی مار ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ لڑکا لڑکی اگر ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جائیں تو ان کی محبت بڑھنے کی بجائے دن بدن کم ہوتی چلی جاتی ہے؟ ایک دوسرے سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محبت کا آغاز خوبصورت اور انجام بھیانک نکلتا ہے؟؟؟ آخرایک دوسرے کی خاطر مرنے کے دعوے کرنے والے ایک دوسرے کو مارنے پر کیوں تل جاتے ہیں؟؟؟
وجہ بہت آسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلبل کا بچہ کھچڑی بھی کھاتا تھا‘ پانی بھی پیتا تھا‘ گانے بھی گاتا تھا‘ لیکن جب اسے اڑایا تو پھر واپس نہ آیا۔ اس لیے کہ محبت آزادی سے ہوتی ہے‘ قید سے نہیں۔ ہمارے ہاں الٹ حساب ہے‘ جونہی کسی لڑکے کو کسی لڑکی سے محبت ہوتی ہے‘ ساتھ ہی ایک عجیب قسم کی قید شروع ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
لڑکیوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں’’شکیل اب تم نے روز مجھے رات آٹھ بجے چاند کی طرف دیکھ کر آئی لو یو کا میسج کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ہم چونکہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے ہیں لہذا ہر بات میں مجھ سے مشورہ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔روز انہ کم ازکم پانچ منٹ کے لیے فون ضرور کرنا۔۔۔۔۔۔۔میں مسڈ کال دوں تو فوراً مجھے کال بیک کرنا۔۔۔۔۔۔۔فیس بک پر روز مجھے کوئی رومانٹک سا میسج ضرور بھیجنا۔۔۔۔۔۔۔!!!
لڑکوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔جان! اب تم نے اپنے کسی Male کزن سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔کپڑے خریدتے وقت صرف میری مرضی کا کلر خریدنا۔۔۔۔۔۔۔وعدہ کرو کہ بے شک تمہارے گھر میں آگ ہی کیوں نہ لگی ہو‘ تم میرے میسج کا جواب ضرور دو گی۔۔۔۔۔۔۔جان شاپنگ کے لیے زیادہ باہر نہ نکلاکرو‘ مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔‘‘
محبت کے ابتدائی دنوں میں یہ قید بھی بڑی خمار آلود لگتی ہے‘ لیکن جوں جوں دن گذرتے جاتے ہیں دونوں طرف کی فرمائشیں بڑھتے بڑھتے پہلے ڈیوٹی بنتی ہیں پھر ضد اور پھر انا کا روپ دھار لیتی ہیں اور پھر نفرت میں ڈھلنے لگتی ہیں۔ اسی دوران اگر لڑکے لڑکی کی شادی ہوجائے تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو جاتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں محبت آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے‘ لیکن ہم لوگ اسے مشکلات کا گڑھ بنا دیتے ہیں۔
غور کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں جن سے محبت ہوتی ہے ہم جگہ جگہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘ ہم اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر اس کی فیس دیتے ہیں‘ خود بھوکے بھی رہنا پڑے تو اولاد کے لیے کھانا ضرور لے آتے ہیں‘ لائٹ چلی جائے تو آدھی رات کو اپنی نیند برباد کرکے‘ ہاتھ والا پنکھا پکڑ کر بچوں کو ہوا دینے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہم بے شک جتنے مرضی ایماندار ہوں لیکن اپنے بچے کی سفارش کرنی پڑے تو سارے اصول بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ ساری آسانیاں ہوتی ہیں جو ہم اپنی فیملی کو دے رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہمیں اُن سے محبت ہوتی ہے۔
اسی طر ح جب لڑکے لڑکی کی محبت شروع ہوتی ہے تو ابتداء آسانیوں سے ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اور یہی آسانیاں محبت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں‘ لیکن آسانیاں جب مشکلات اور ڈیوٹی بننا شروع ہوتی ہیں تو محبت ایک جنگلے کی صورت اختیار کرنے لگتی ہے‘ محبت میں ڈیوٹی نہیں دی جاسکتی لیکن ہمارے ہاں محبت ایک فل ٹائم ڈیوٹی بن جاتی ہے‘ ٹائم پہ میسج کا جواب نہ آنا‘ کسی کا فون اٹینڈ نہ کرنا‘ زیادہ دنوں تک ملاقات نہ ہونا ۔۔۔۔۔۔۔
ان میں سے کوئی بھی ایک بات ہو جائے تو محبت کرنے والے شکایتی جملوں کا تبادلہ کرتے کرتے زہریلے جملوں پر اُتر آتے ہیں اور یہیں سے واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ جب کوئی کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو محبت بھی اپنا دامن سکیڑنے لگتی ہے‘ میں نے کہا ناں۔۔۔۔۔۔محبت نام ہی آسانیاں پیدا کرنے کا ہے ‘ ہم اپنے جن دوستوں سے محبت کرتے ہیں ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ بھی چونکہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے‘ اس لیے ان کے لیے جا بجا آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
مجھے محبت میں گرفتار ہونے والے بالکل بھی پسند نہیں‘ محبت گرفتاری نہیں رہائی ہے۔۔۔۔۔۔ٹینشن سے رہائی۔۔۔۔۔۔تنہائی سے رہائی۔۔۔۔۔۔مایوسی سے رہائی۔ لیکن ہمارے معاشرے میں محبت ہوتے ہی ٹینشن ڈبل ہو جاتی ہے اور دونوں پارٹیاں ذہنی مریض بن کر رہ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محبت شروع تو ہو جاتی ہے لیکن پوری طرح پروان نہیں چڑھ پاتی۔ لیکن جہاں محبت اصلی محبت کی شکل میں ہوتی ہے وہاں نہ صرف پروان چڑھتی ہے بلکہ دن دوگنی اور’’رات‘‘ چوگنی ترقی بھی کرتی ہے۔
ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں محبت سے مراد صرف جنسی تعلق لیا جاتا ہے‘ یہ محبت کا ایک جزو تو ہوسکتا ہے لیکن پوری محبت اس کے گرد نہیں گھومتی‘ بالکل ایسے جیسے کسی اسلم کا ایک ہاتھ کاٹ کر الگ کر دیا جائے تو اُس کٹے ہوئے ہاتھ کو کوئی بھی اسلم نہیں کہے گا‘ اسلم وہی کہلائے گا جو جڑے ہوئے اعضاء رکھتا ہوگا۔ ویسے بھی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ساری محبت کا انحصار چند لمحوں کی رفاقت کو قرار دے دیا جائے۔
محبت زندان نہیں ہوتی‘ حوالات نہیں ہوتی‘ جیل نہیں ہوتی‘ بند کمرہ نہیں ہوتی‘ کال کوٹھڑی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔محبت تو تاحد نظر ایک کھلا میدان ہوتی ہے جہاں کوئی جنگلے‘ کوئی خاردار تاریں اور کوئی بلند دیواریں نہیں ہوتیں۔ آپ تحقیق کر کے دیکھ لیجئے‘ جہاں محبت ناکام ہوئی ہوگی وہاں وجوہات یہی مسائل بنے ہوں گے۔ ہر کوئی اپنی محبت جتلاتا ہے اور دوسرے کو بار بار یہ طعنے مارتا ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ محبت کی نہیں جاتی‘ ہو جاتی ہے۔ غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔محبت کی ایک چھوٹی سی کونپل دل میں از خود ضرور پھوٹتی ہے لیکن اسے تناور درخت بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ وہ محبت کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جہاں شکوے ‘شکایتیں اور طعنے شامل ہو جائیں۔ ایسے لوگ بدقسمت ہیں جو محبت کرنا نہیں جانتے لیکن محبت کر بیٹھتے ہیں اور پھر دوسرے کو اتنا بددل کر دیتے ہیں کہ وہ محبت سے ہی انکاری ہو جاتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محبت کی شادی کرنے والے اکثر جوڑوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اس رستے پر نہ چلے۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم میں سے اکثر نے صرف محبت کا نام سنا ہے‘ اس کے تقاضوں سے واقف نہیں۔ ہمیں کوئی پسند آجائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس سے محبت ہو گئی ہے۔ پسند آنے اور محبت ہونے میں بڑا فرق ہے‘ کسی کو پسند کرنا محبت نہیں ہوتا لیکن محبت تک پہنچنے کے لیے پہلا زینہ ضرور ہوتا ہے۔
میں نے بے شمار لوگوں کو انا کے خول میں لپٹے محبت کرتے دیکھا ہے‘ یہ محبت میں بھی اپنی برتری چاہتے ہیں‘ ان کے نزدیک محبت میں بھی سٹیٹس ہوتا ہے‘ حالانکہ محبت میں تو محمود و ایاز کی طرح ایک ہونا پڑتا ہے‘ رہ گئی بات انا کی ‘ تو یہ وقتی سکون تو دے دیتی ہے لیکن اِس کمبخت کے سائڈ ایفیکٹس بہت ہیں!!
انا کی جنگ میں ہم جیت تو گئے لیکن
پھر اُس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے  
 

lams ki khushboo

ہر درد پہن لینا ، ہر خواب میں کھو جانا
کیا اپنی طبیعت ہے ، ہر شخص کا ہو جانا اک شہر بسا لینا بچھڑے ہوئے لوگوں کا
پھر شب کے جزیرے میں دل تھام کے سو جانا موضوعِ سخن کچھ ہو ، تا دیر اسے تکنا
ہر لفظ پہ رک جانا ، ہر بات پہ کھو جانا آنا تو بکھر جانا سانسوں میں مہک بن کر
جانا تو کلیجے میں کانٹے سے چبھو جانا جاتے ہوئے چپ رہنا ان بولتی آنکھوں کا
خاموش تکلم سے پلکوں کو بھگو جانا لفظوں میں اتر آنا ان پھول سے ہونٹوں کا
اک لمس کی خوشبو کا پوروں میں سمو جانا ہر شام عزائم کے کچھ محل بنا لینا
ہر صبح ارادوں کی دہلیز پہ سو جانا

Hareem Naz

Hareem Naz

 

wafa ha zaat Aurat ki

ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎﺅﮞ ﮔﯽ   ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ  ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﮔﯽ    ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﻓﺎ ﮨﮯ ﺫﺍﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ    ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﻣﺮﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺩﺭﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ    ﮐﺴﯽ ﺟﮕﻨﻮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮔﻞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﻮﭦ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ    ﺳﻨﻮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﻗﺴﻢ ﻣﯿﺮﯼ  ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ ﺗﻢ    ﻧﮧ ﺗﻨﮩﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ ﺗﻮﮌ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﺎ    ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﻣﺤﺴﻦ  ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺭﺳﺘﮯ ﭘﺮ   ﺍﮐﯿﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ  ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ   ﻣﺤﺒﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯼ ﺍﺱ ﻧﮯ    ﻭﻓﺎ ﮨﮯ ﺫﺍﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ  ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﻮﮌ ﺩﯼ ﺍﺱ ﻧﮯ   💔💔💔💔💔

Hareem Naz

Hareem Naz

 

ishq

شاید  یہ ترکِ عشق  کی_________پہلی  دلیل  ہے   
کہ کل رات "چاند"  بھی میں نے تاروں میں گِن  لیا

Hareem Naz

Hareem Naz

 

dasht e janoon

ہم دشتِ جنوں کے سودائی۔۔۔ ۔۔۔ ۔
ہم گردِ سفر، ہم نقشِ قدم۔۔
ہم سوزِطلب، ہم طرزِ فغاں---
ہم رنج چمن، ہم فصل خزاں ۔۔۔ 
ہم حیرت و حسرت و یاس و الم---
ہم دشت جنوں کے سودائی یہ دشتِ جنوں، یہ پاگل پن ۔۔
یہ پیچھا کرتی رسوائی---
یہ رنج و الم، یہ حزن و ملال۔۔۔ 
یہ نالہء شب، یہ سوزِ کمال---
دل میں کہیں بے نام چبھن۔۔
اور حدِ نظر تک تنہائی 
ہم دشتِ جنوں کے سودائی--- اب جان ہماری چُھوٹے بھی۔۔
یہ دشتِ جنوں ہی تھک جائے --
جو روح و بدن کا رشتہ تھا۔۔
کئی سال ہوئے وہ ٹوٹ گیا --
اب دل کا دھڑکنا رک جائے۔۔
اب سانس کی ڈوری ٹوٹے بھی --
ہم دشتِ جنوں کے سودائی۔۔۔

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Muhabtoon k Din

تمھاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے
اسی لیے تو تمھیں ہم نظر نہیں آتے
محبتوں کے دنوں کی یہی خرابی ہے
پہ روٹھ جائیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے ۔۔
 

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Muhabtoon k Din

تمھاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے
اسی لیے تو تمھیں ہم نظر نہیں آتے
محبتوں کے دنوں کی یہی خرابی ہے
پہ روٹھ جائیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے ۔۔
 

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Zikr e Bahaar

قتیل کیسے ہواؤں سے مانگتے خوشبو ہماری شام میں ذکرِ بہار تھا ہی نہیں

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Khuwab kch aisy

...........           کیا عجب کھیل ترے ، گردشِ دوراں دیکھے
          کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹتے پیماں دیکھے                               تھا جنہیں زعم کہ مضبوط ہیں پربت کی طرح
                              ٹوٹ کر ایسے  بکھرتے  یہاں  انساں دیکھے          سر میں سودا تھا، بہت مال و گہر رکھتے ہیں
         وقت بدلا تو ۔۔۔۔ وہی بے سر و ساماں دیکھے                            پھر زمیں تنگ ہوئی پھر ہوئی گردش میں حیات
                           تیرے تیور جو بدلتے  ۔۔۔۔۔۔۔ مرے جاناں دیکھے           تو اگر میرا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ خود کو ترے نام کروں
          حدِ امکاں سے پرے ۔۔۔۔۔ اور ہی امکاں دیکھے                            تم کو پا لیتے ۔۔۔۔۔۔ مگر راہ تھی دشوار بہت
                           راستے جو بھی چنے ہم نے، وہ آساں دیکھے          ہم کو تھے زہرِ ہلاہل ۔۔۔۔۔۔ سبھی تریاق یہاں
         درد کو حد سے بڑھاتے ہوئے درماں دیکھے                            خواب کچھ ایسے بُنے ، ترسے جو تعبیروں کو
                           گیت کچھ لکھے ، سو بِکتے یہاں ارزاں دیکھے

               

Hareem Naz

Hareem Naz

 

tum ko hum batayen kia ...

تُم کو بھی خبر ھوگی
آنسوؤں کی جھیلوں کے سُرمئی کناروں پر
نیند کے پرندوں کی ڈار آ نہیں سکتی ! ھجر کی مُسافت میں پاؤں ٹوٹ جائیں تو
وصل کے دیاروں کو خواب بھی نہیں جاتے دل میں نارسائی کا
شور گُونجتا ھو تو جلتی بُجھتی
آنکھوں سے کون خواب دیکھے گا! تم کو بھی خبر ھوگی
وصل کی تمنا جب
تیرگی میں سوتی ھے
آنکھ جاگ جاتی ھے! خواب رنگ کچے ھیں
آنکھ بہنے لگتی ھے، رنگ دُھلنے لگتے ھیں خواب اور اُمیدیں
ساتھ چھوڑ جائیں تو زندگی نہیں چلتی تُم کو بھی خبر ھوگی
تُم کو ھم بتائیں کیا !!

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Aah ye zindagi

آہ۔۔۔۔۔یہ زندگی۔۔۔!!
زندگی بہت سے رنگوں سے واقف کرواتی ہے کبھی شعلہ بن کر جلا دیتی ہے تو کبھی شبنم سی نرمی اور ٹھنڈک دیتی ہے تو کبھی شفاف صبح کی طرح روشن روشن ہو کر امید کے دروازے وا کرتی ہے.....
جب بھی خوشگوار موڈ میں ہوں تو انسان کو جھومنے پر مجبور کرے گی جب اداس ہوں تو رگ وپے میں درد بھردے گی....
اس طرح کے اداسی اور سرور کے کھیل میں کون کس کو کیا دے رہا
انسان زندگی کو کہ زندگی انسان کو...
کون لے رہا کون دے رہا...نہ دینے والے کا پتہ نہ لینے والے کا.....بس دونوں ہی گمنام راہ کے اجنبی مسافر کی طرح ایک دوسرے کو متعارف کرواتے گزر رہے ہیں.....کوئی کسی کو منزل نہیں دکھاتا ہے ہر ایک بس تلاش ِ منزل ہے اور راہیگزر کے ساتھی....انسان زندگی کو متاع سمجھے ہوئے زندگی انسان کو....دونوں ایک دوسرے کی دسترس سے آزاد بھی ہے مقید بھی
یہ ہے تو وہ نہیں وہ ہے تو یہ نہیں
دونوں ایک دوسرے کو لازم وملزوم ہے.......!!!!
کب تک ساتھ ہیں....اور کب سے...کوئی نہیں جانتا
میں اپنی گاڑی میں سوار روڈ پر تیز دوڑتی کار کے ساتھ میرے تخیل کی پرواز تھی اور شفاف سڑک ایک اسپیڈ بریکر کا جھٹکا اور جیسے ہوش آیا تو سامنے بڑا سی لاری ہے اگر سائیڈ میں کوئی اور گاڑی ہوتی اور سائیڈ لینے جگہ نہ ہوتی تووووووو۔۔۔۔ ساری زندگی کا فلسفہ سمجھ آگیا کہ ۔۔۔اس ڈو اینڈ ٹیک میں صرف ایک جھٹکے کا فاصلہ ہے۔۔۔اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔!!! دونوں ایک دوسرے کی نازبرداری صرف موت تک کر رہے ہیں جوں ہی موت سر پر کھڑی ہوگی۔۔۔۔۔اور سب ختم۔۔۔۔پس آچانک موت کی بہت یاد ائی اس لئے نہیں کہ زندگی سے مایوس ہوں اس لئے کہ احتساب اج بہت دن بعد کیا خود کا۔۔۔
----💖💖

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Dukh dard

ﺩﮐﮫ ﺩﺭﺩ ﺳﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻘﺪﺭﺍﮞ ﻭﭺ
ﻣﯿﮟ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ،،،، ﮐﯽ ﮐﺮﺩا  ﺟﺪﻭﮞ ،،،،،، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﺟﯿﻨﺎ ﻧﺌﯿﮟ آیا
ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺕ ﻭﯼ ﻣﻨﮓ ﮐﮯ ﮐﯽ ﮐﺮﺩا  ﺟﺪ ﺍﻧﺖ ﺟﺪﺍﺋﯿﺎﮞ ،،،، ﭘﯿﻨﯿﺎﮞ ﺳﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﯼ ﻣﻨﮓ ﮐﮯ ﮐﯽ ﮐﺮﺩا  ﺗﻮﮞ ﭘﯿﺎﺭ ﺩﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﮈﻭﺏ ﭼﮭﮉﯼ
ﻣﯿﮟ کلا ﺗﺮ ﮐﮯ ۔۔۔۔،،،،، ﮐﯽ ﮐﺮﺩا  ﺟﺪ ﺗﻮﮞ ﮨﯽ ﺍﺗﮭﺮﻭ ﭘﻮﻧﺠﮯ ﻧﺌﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺍﮐﮭﯿﺎﮞ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﯽ ﮐﺮﺩا  ﺍﯾﺘﮭﮯ ﻟﮑﮭﺎﮞ ﻋﺎﺷﻖ ﭘﮭﺮﺩﮮ ﻧﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﻭﯼ ﻋﺎﺷﻖ ﺑﻦ ﮐﮯ ﮐﯽ ﮐﺮﺩا  ﺍﻭ ﺟﺎﻧﺪﯼ ﻭﺍﺭﯼ ،،،، ﭘﻠﭩﯿﺎ ﻧﺌﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﮨﺘﮫ ﻭﯼ ﮨﻼ ﮐﮯ ﮐﯽ ﮐﺮﺩا
 

Hareem Naz

Hareem Naz

 

behtr

ﯾُﻮﮞ ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺪﮦﺀِ ﺍﺑﺘَﺮ ﮐﻮ_____ﻧﮧ ﮐَﮩِﯿﺌﮯ ﮐﻤﺘَﺮ
ﮐﯿﺎ ﻋﺠﺐ ﺣَﺸﺮ ﮐﮯ ﺩِﻥ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﻧﮑﻠﮯ...

Hareem Naz

Hareem Naz

 

ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ

ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ
ﻭﻩ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ
ﮐﮭﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ
ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ
ﻭﻩ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻮﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ
ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﺭﮬﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ
ﭼﻮﺩﮬﻮﯾﮟ ﮐﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺟﻠﺪ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ
ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﺎﺿﯽ ﻣﯿﮟ
ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺭﮬﯽ ﮬﻮ ﮔﯽ
ﺣﺴﻦ ﻭ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﺁﺝ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ
ﮐﭽﮫ ﻭﻗﻌﺖ ﻧﮭﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﯽ
ﺑﮭﻮﻟﮯ ﺑﺴﺮﮮ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ
ﻭﻩ ﭼﺎﮬﺘﮯ ﺭﮬﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ
ﻭﻩ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻢ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ
ﺁﻧﮑﮫ ﻧﻢ ﻧﮭﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﮐﻞ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻭﻩ
ﺧﻮﺏ ﺭﻭ ﭼﮑﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ
ﺩﺭﺩ ﺁﺷﻨﺎ ﮬﻮ ﮐﺮ
...ﺍﺷﮏ ﮐﮭﻮ ﭼﮑﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ  www.fundayforum.com 

Jannat malik

Jannat malik

 

بڑے انجان موسم میں 

بڑے انجان موسم میں 
بہت بے رنگ لمحوں میں بنا آہٹ بنا دستک
بہت معصوم سا سپنا اُتَر آیا ھے آنکھوں میں  بنا سوچے بنا سمجھے 
کہا ہے دل نے چپکے سے ہاں اس معصوم سپنے کو
آنکھوں میں جگہ دے دو  بنا روکے,  بنا بولے
جھکا دیا ھے سر ہم نے  مگر تعبیر کیا ہوگی...؟
یہ ہم جانے نا دل جانے بس معلوم ھے اتنا
کہ دل کے فیصلے اکثر " ہمیں کم راس آئے ہیں" www.fundayforum.com 

Jannat malik

Jannat malik



×