Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

FDF Members Poetry

  • entries
    151
  • comments
    113
  • views
    19,542

Contributors to this blog

About this blog

Welcome to Members Poetry Blog. Important: Only More than 200 posts members can add entries in this blog. Regular member rank can only comment in this blog. Please do not share anything else except poetry. Thanks  Keep sharing at fundayforum.com  Have Fun !

 

شاعری

شاعری بھی بارش ہے
جب برسنے لگتی ہے ۔۔
سوچ کی زمینوں کو رنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
لفظ کو معانی کے ڈھنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
نِت نئے خیالوں کی کونپلیں نکلتی ہیں۔۔۔
اور پھر روانی پر یوں بہار آتی ہے۔۔۔
جیسے ٹھوس پربت سے گنگناتی وادی میں آبشار آتی ہے۔۔
شاعری بھی بارش ہے۔۔۔
اُن دلوں کی دھرتی پر ۔۔۔
غم کی آگ نے جن کوراکھ میں بدل ڈالا۔۔
ذہن و دل کا ہرجذبہ جیسے خاک کرڈالا۔۔
ایسی سرزمینوں پر۔۔۔
 بارشیں برسنے سے فرق کچھ نہیں پڑتا 

Entries in this blog

 

kya tamasha ho

وہ بُلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو یہ کِناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشا ہو آج ہم بھی تیری وفاؤں پر
مُسکرائیں تو کیا تماشا ہو تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو  
 

Mohabbat noor ha Jana

__#محبت نور ھے جاناں___ یہ جس دل میں اتر جائے اُسے معمور کر جائے سراپا رنگ کر جائے تمناؤں سے بھر جائے یہ ایسا کیف ھے جو ھر قدم پر زندگی پُر نور کرتا ھے _اُتر کر روح میں اُس کے اندھیرے دور کرتا ھے یہ وہ احساس ھے جو ھر گھڑی بھر پور ھے جاناں #محبت_ نور ھے جاناں*_ #محبت_ نور ھے جاناں_

 
 

محبت کیا ہے؟؟؟

محبت کیا ہے۔؟ ایک طوائف کی بیٹی جوان ہوئی تو ایک دن اپنی ماں سے پوچھنے لگی کہ ’’اماں محبت کیا ہوتی ہے؟؟؟‘‘ طوائف جل کر بولی’’ ہونہہ مفت عیاشی کے بہانے‘‘۔ہمارے ہاں زیادہ تر محبت کی شادیاں‘ نفر ت کی طلاقوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں لیکن پھر بھی دھڑا دھڑ محبتیں اور ٹھکا ٹھک طلاقیں جاری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ محبت سے نفرت کا سفر ایک شادی کی مار ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ لڑکا لڑکی اگر ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جائیں تو ان کی محبت بڑھنے کی بجائے دن بدن کم ہوتی چلی جاتی ہے؟ ایک دوسرے سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محبت کا آغاز خوبصورت اور انجام بھیانک نکلتا ہے؟؟؟ آخرایک دوسرے کی خاطر مرنے کے دعوے کرنے والے ایک دوسرے کو مارنے پر کیوں تل جاتے ہیں؟؟؟
وجہ بہت آسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلبل کا بچہ کھچڑی بھی کھاتا تھا‘ پانی بھی پیتا تھا‘ گانے بھی گاتا تھا‘ لیکن جب اسے اڑایا تو پھر واپس نہ آیا۔ اس لیے کہ محبت آزادی سے ہوتی ہے‘ قید سے نہیں۔ ہمارے ہاں الٹ حساب ہے‘ جونہی کسی لڑکے کو کسی لڑکی سے محبت ہوتی ہے‘ ساتھ ہی ایک عجیب قسم کی قید شروع ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
لڑکیوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں’’شکیل اب تم نے روز مجھے رات آٹھ بجے چاند کی طرف دیکھ کر آئی لو یو کا میسج کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ہم چونکہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے ہیں لہذا ہر بات میں مجھ سے مشورہ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔روز انہ کم ازکم پانچ منٹ کے لیے فون ضرور کرنا۔۔۔۔۔۔۔میں مسڈ کال دوں تو فوراً مجھے کال بیک کرنا۔۔۔۔۔۔۔فیس بک پر روز مجھے کوئی رومانٹک سا میسج ضرور بھیجنا۔۔۔۔۔۔۔!!!
لڑکوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔جان! اب تم نے اپنے کسی Male کزن سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔کپڑے خریدتے وقت صرف میری مرضی کا کلر خریدنا۔۔۔۔۔۔۔وعدہ کرو کہ بے شک تمہارے گھر میں آگ ہی کیوں نہ لگی ہو‘ تم میرے میسج کا جواب ضرور دو گی۔۔۔۔۔۔۔جان شاپنگ کے لیے زیادہ باہر نہ نکلاکرو‘ مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔‘‘
محبت کے ابتدائی دنوں میں یہ قید بھی بڑی خمار آلود لگتی ہے‘ لیکن جوں جوں دن گذرتے جاتے ہیں دونوں طرف کی فرمائشیں بڑھتے بڑھتے پہلے ڈیوٹی بنتی ہیں پھر ضد اور پھر انا کا روپ دھار لیتی ہیں اور پھر نفرت میں ڈھلنے لگتی ہیں۔ اسی دوران اگر لڑکے لڑکی کی شادی ہوجائے تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو جاتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں محبت آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے‘ لیکن ہم لوگ اسے مشکلات کا گڑھ بنا دیتے ہیں۔
غور کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں جن سے محبت ہوتی ہے ہم جگہ جگہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘ ہم اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر اس کی فیس دیتے ہیں‘ خود بھوکے بھی رہنا پڑے تو اولاد کے لیے کھانا ضرور لے آتے ہیں‘ لائٹ چلی جائے تو آدھی رات کو اپنی نیند برباد کرکے‘ ہاتھ والا پنکھا پکڑ کر بچوں کو ہوا دینے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہم بے شک جتنے مرضی ایماندار ہوں لیکن اپنے بچے کی سفارش کرنی پڑے تو سارے اصول بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ ساری آسانیاں ہوتی ہیں جو ہم اپنی فیملی کو دے رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہمیں اُن سے محبت ہوتی ہے۔
اسی طر ح جب لڑکے لڑکی کی محبت شروع ہوتی ہے تو ابتداء آسانیوں سے ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اور یہی آسانیاں محبت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں‘ لیکن آسانیاں جب مشکلات اور ڈیوٹی بننا شروع ہوتی ہیں تو محبت ایک جنگلے کی صورت اختیار کرنے لگتی ہے‘ محبت میں ڈیوٹی نہیں دی جاسکتی لیکن ہمارے ہاں محبت ایک فل ٹائم ڈیوٹی بن جاتی ہے‘ ٹائم پہ میسج کا جواب نہ آنا‘ کسی کا فون اٹینڈ نہ کرنا‘ زیادہ دنوں تک ملاقات نہ ہونا ۔۔۔۔۔۔۔
ان میں سے کوئی بھی ایک بات ہو جائے تو محبت کرنے والے شکایتی جملوں کا تبادلہ کرتے کرتے زہریلے جملوں پر اُتر آتے ہیں اور یہیں سے واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ جب کوئی کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو محبت بھی اپنا دامن سکیڑنے لگتی ہے‘ میں نے کہا ناں۔۔۔۔۔۔محبت نام ہی آسانیاں پیدا کرنے کا ہے ‘ ہم اپنے جن دوستوں سے محبت کرتے ہیں ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ بھی چونکہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے‘ اس لیے ان کے لیے جا بجا آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
مجھے محبت میں گرفتار ہونے والے بالکل بھی پسند نہیں‘ محبت گرفتاری نہیں رہائی ہے۔۔۔۔۔۔ٹینشن سے رہائی۔۔۔۔۔۔تنہائی سے رہائی۔۔۔۔۔۔مایوسی سے رہائی۔ لیکن ہمارے معاشرے میں محبت ہوتے ہی ٹینشن ڈبل ہو جاتی ہے اور دونوں پارٹیاں ذہنی مریض بن کر رہ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محبت شروع تو ہو جاتی ہے لیکن پوری طرح پروان نہیں چڑھ پاتی۔ لیکن جہاں محبت اصلی محبت کی شکل میں ہوتی ہے وہاں نہ صرف پروان چڑھتی ہے بلکہ دن دوگنی اور’’رات‘‘ چوگنی ترقی بھی کرتی ہے۔
ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں محبت سے مراد صرف جنسی تعلق لیا جاتا ہے‘ یہ محبت کا ایک جزو تو ہوسکتا ہے لیکن پوری محبت اس کے گرد نہیں گھومتی‘ بالکل ایسے جیسے کسی اسلم کا ایک ہاتھ کاٹ کر الگ کر دیا جائے تو اُس کٹے ہوئے ہاتھ کو کوئی بھی اسلم نہیں کہے گا‘ اسلم وہی کہلائے گا جو جڑے ہوئے اعضاء رکھتا ہوگا۔ ویسے بھی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ساری محبت کا انحصار چند لمحوں کی رفاقت کو قرار دے دیا جائے۔
محبت زندان نہیں ہوتی‘ حوالات نہیں ہوتی‘ جیل نہیں ہوتی‘ بند کمرہ نہیں ہوتی‘ کال کوٹھڑی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔محبت تو تاحد نظر ایک کھلا میدان ہوتی ہے جہاں کوئی جنگلے‘ کوئی خاردار تاریں اور کوئی بلند دیواریں نہیں ہوتیں۔ آپ تحقیق کر کے دیکھ لیجئے‘ جہاں محبت ناکام ہوئی ہوگی وہاں وجوہات یہی مسائل بنے ہوں گے۔ ہر کوئی اپنی محبت جتلاتا ہے اور دوسرے کو بار بار یہ طعنے مارتا ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ محبت کی نہیں جاتی‘ ہو جاتی ہے۔ غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔محبت کی ایک چھوٹی سی کونپل دل میں از خود ضرور پھوٹتی ہے لیکن اسے تناور درخت بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ وہ محبت کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جہاں شکوے ‘شکایتیں اور طعنے شامل ہو جائیں۔ ایسے لوگ بدقسمت ہیں جو محبت کرنا نہیں جانتے لیکن محبت کر بیٹھتے ہیں اور پھر دوسرے کو اتنا بددل کر دیتے ہیں کہ وہ محبت سے ہی انکاری ہو جاتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محبت کی شادی کرنے والے اکثر جوڑوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اس رستے پر نہ چلے۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم میں سے اکثر نے صرف محبت کا نام سنا ہے‘ اس کے تقاضوں سے واقف نہیں۔ ہمیں کوئی پسند آجائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس سے محبت ہو گئی ہے۔ پسند آنے اور محبت ہونے میں بڑا فرق ہے‘ کسی کو پسند کرنا محبت نہیں ہوتا لیکن محبت تک پہنچنے کے لیے پہلا زینہ ضرور ہوتا ہے۔
میں نے بے شمار لوگوں کو انا کے خول میں لپٹے محبت کرتے دیکھا ہے‘ یہ محبت میں بھی اپنی برتری چاہتے ہیں‘ ان کے نزدیک محبت میں بھی سٹیٹس ہوتا ہے‘ حالانکہ محبت میں تو محمود و ایاز کی طرح ایک ہونا پڑتا ہے‘ رہ گئی بات انا کی ‘ تو یہ وقتی سکون تو دے دیتی ہے لیکن اِس کمبخت کے سائڈ ایفیکٹس بہت ہیں!!
انا کی جنگ میں ہم جیت تو گئے لیکن
پھر اُس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے  
 

lams ki khushboo

ہر درد پہن لینا ، ہر خواب میں کھو جانا
کیا اپنی طبیعت ہے ، ہر شخص کا ہو جانا اک شہر بسا لینا بچھڑے ہوئے لوگوں کا
پھر شب کے جزیرے میں دل تھام کے سو جانا موضوعِ سخن کچھ ہو ، تا دیر اسے تکنا
ہر لفظ پہ رک جانا ، ہر بات پہ کھو جانا آنا تو بکھر جانا سانسوں میں مہک بن کر
جانا تو کلیجے میں کانٹے سے چبھو جانا جاتے ہوئے چپ رہنا ان بولتی آنکھوں کا
خاموش تکلم سے پلکوں کو بھگو جانا لفظوں میں اتر آنا ان پھول سے ہونٹوں کا
اک لمس کی خوشبو کا پوروں میں سمو جانا ہر شام عزائم کے کچھ محل بنا لینا
ہر صبح ارادوں کی دہلیز پہ سو جانا

Hareem Naz

Hareem Naz

 

wafa ha zaat Aurat ki

ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎﺅﮞ ﮔﯽ   ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ  ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﮔﯽ    ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﻓﺎ ﮨﮯ ﺫﺍﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ    ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﻣﺮﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺩﺭﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ    ﮐﺴﯽ ﺟﮕﻨﻮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮔﻞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﻮﭦ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ    ﺳﻨﻮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﻗﺴﻢ ﻣﯿﺮﯼ  ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ ﺗﻢ    ﻧﮧ ﺗﻨﮩﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ ﺗﻮﮌ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﺎ    ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﻣﺤﺴﻦ  ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺭﺳﺘﮯ ﭘﺮ   ﺍﮐﯿﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ  ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ   ﻣﺤﺒﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯼ ﺍﺱ ﻧﮯ    ﻭﻓﺎ ﮨﮯ ﺫﺍﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ  ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﻮﮌ ﺩﯼ ﺍﺱ ﻧﮯ   💔💔💔💔💔

Hareem Naz

Hareem Naz

 

ishq

شاید  یہ ترکِ عشق  کی_________پہلی  دلیل  ہے   
کہ کل رات "چاند"  بھی میں نے تاروں میں گِن  لیا

Hareem Naz

Hareem Naz

 

dasht e janoon

ہم دشتِ جنوں کے سودائی۔۔۔ ۔۔۔ ۔
ہم گردِ سفر، ہم نقشِ قدم۔۔
ہم سوزِطلب، ہم طرزِ فغاں---
ہم رنج چمن، ہم فصل خزاں ۔۔۔ 
ہم حیرت و حسرت و یاس و الم---
ہم دشت جنوں کے سودائی یہ دشتِ جنوں، یہ پاگل پن ۔۔
یہ پیچھا کرتی رسوائی---
یہ رنج و الم، یہ حزن و ملال۔۔۔ 
یہ نالہء شب، یہ سوزِ کمال---
دل میں کہیں بے نام چبھن۔۔
اور حدِ نظر تک تنہائی 
ہم دشتِ جنوں کے سودائی--- اب جان ہماری چُھوٹے بھی۔۔
یہ دشتِ جنوں ہی تھک جائے --
جو روح و بدن کا رشتہ تھا۔۔
کئی سال ہوئے وہ ٹوٹ گیا --
اب دل کا دھڑکنا رک جائے۔۔
اب سانس کی ڈوری ٹوٹے بھی --
ہم دشتِ جنوں کے سودائی۔۔۔

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Muhabtoon k Din

تمھاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے
اسی لیے تو تمھیں ہم نظر نہیں آتے
محبتوں کے دنوں کی یہی خرابی ہے
پہ روٹھ جائیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے ۔۔
 

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Muhabtoon k Din

تمھاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے
اسی لیے تو تمھیں ہم نظر نہیں آتے
محبتوں کے دنوں کی یہی خرابی ہے
پہ روٹھ جائیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے ۔۔
 

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Khuwab kch aisy

...........           کیا عجب کھیل ترے ، گردشِ دوراں دیکھے
          کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹتے پیماں دیکھے                               تھا جنہیں زعم کہ مضبوط ہیں پربت کی طرح
                              ٹوٹ کر ایسے  بکھرتے  یہاں  انساں دیکھے          سر میں سودا تھا، بہت مال و گہر رکھتے ہیں
         وقت بدلا تو ۔۔۔۔ وہی بے سر و ساماں دیکھے                            پھر زمیں تنگ ہوئی پھر ہوئی گردش میں حیات
                           تیرے تیور جو بدلتے  ۔۔۔۔۔۔۔ مرے جاناں دیکھے           تو اگر میرا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ خود کو ترے نام کروں
          حدِ امکاں سے پرے ۔۔۔۔۔ اور ہی امکاں دیکھے                            تم کو پا لیتے ۔۔۔۔۔۔ مگر راہ تھی دشوار بہت
                           راستے جو بھی چنے ہم نے، وہ آساں دیکھے          ہم کو تھے زہرِ ہلاہل ۔۔۔۔۔۔ سبھی تریاق یہاں
         درد کو حد سے بڑھاتے ہوئے درماں دیکھے                            خواب کچھ ایسے بُنے ، ترسے جو تعبیروں کو
                           گیت کچھ لکھے ، سو بِکتے یہاں ارزاں دیکھے

               

Hareem Naz

Hareem Naz

 

tum ko hum batayen kia ...

تُم کو بھی خبر ھوگی
آنسوؤں کی جھیلوں کے سُرمئی کناروں پر
نیند کے پرندوں کی ڈار آ نہیں سکتی ! ھجر کی مُسافت میں پاؤں ٹوٹ جائیں تو
وصل کے دیاروں کو خواب بھی نہیں جاتے دل میں نارسائی کا
شور گُونجتا ھو تو جلتی بُجھتی
آنکھوں سے کون خواب دیکھے گا! تم کو بھی خبر ھوگی
وصل کی تمنا جب
تیرگی میں سوتی ھے
آنکھ جاگ جاتی ھے! خواب رنگ کچے ھیں
آنکھ بہنے لگتی ھے، رنگ دُھلنے لگتے ھیں خواب اور اُمیدیں
ساتھ چھوڑ جائیں تو زندگی نہیں چلتی تُم کو بھی خبر ھوگی
تُم کو ھم بتائیں کیا !!

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Aah ye zindagi

آہ۔۔۔۔۔یہ زندگی۔۔۔!!
زندگی بہت سے رنگوں سے واقف کرواتی ہے کبھی شعلہ بن کر جلا دیتی ہے تو کبھی شبنم سی نرمی اور ٹھنڈک دیتی ہے تو کبھی شفاف صبح کی طرح روشن روشن ہو کر امید کے دروازے وا کرتی ہے.....
جب بھی خوشگوار موڈ میں ہوں تو انسان کو جھومنے پر مجبور کرے گی جب اداس ہوں تو رگ وپے میں درد بھردے گی....
اس طرح کے اداسی اور سرور کے کھیل میں کون کس کو کیا دے رہا
انسان زندگی کو کہ زندگی انسان کو...
کون لے رہا کون دے رہا...نہ دینے والے کا پتہ نہ لینے والے کا.....بس دونوں ہی گمنام راہ کے اجنبی مسافر کی طرح ایک دوسرے کو متعارف کرواتے گزر رہے ہیں.....کوئی کسی کو منزل نہیں دکھاتا ہے ہر ایک بس تلاش ِ منزل ہے اور راہیگزر کے ساتھی....انسان زندگی کو متاع سمجھے ہوئے زندگی انسان کو....دونوں ایک دوسرے کی دسترس سے آزاد بھی ہے مقید بھی
یہ ہے تو وہ نہیں وہ ہے تو یہ نہیں
دونوں ایک دوسرے کو لازم وملزوم ہے.......!!!!
کب تک ساتھ ہیں....اور کب سے...کوئی نہیں جانتا
میں اپنی گاڑی میں سوار روڈ پر تیز دوڑتی کار کے ساتھ میرے تخیل کی پرواز تھی اور شفاف سڑک ایک اسپیڈ بریکر کا جھٹکا اور جیسے ہوش آیا تو سامنے بڑا سی لاری ہے اگر سائیڈ میں کوئی اور گاڑی ہوتی اور سائیڈ لینے جگہ نہ ہوتی تووووووو۔۔۔۔ ساری زندگی کا فلسفہ سمجھ آگیا کہ ۔۔۔اس ڈو اینڈ ٹیک میں صرف ایک جھٹکے کا فاصلہ ہے۔۔۔اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔!!! دونوں ایک دوسرے کی نازبرداری صرف موت تک کر رہے ہیں جوں ہی موت سر پر کھڑی ہوگی۔۔۔۔۔اور سب ختم۔۔۔۔پس آچانک موت کی بہت یاد ائی اس لئے نہیں کہ زندگی سے مایوس ہوں اس لئے کہ احتساب اج بہت دن بعد کیا خود کا۔۔۔
----💖💖

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Dukh dard

ﺩﮐﮫ ﺩﺭﺩ ﺳﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻘﺪﺭﺍﮞ ﻭﭺ
ﻣﯿﮟ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ،،،، ﮐﯽ ﮐﺮﺩا  ﺟﺪﻭﮞ ،،،،،، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﺟﯿﻨﺎ ﻧﺌﯿﮟ آیا
ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺕ ﻭﯼ ﻣﻨﮓ ﮐﮯ ﮐﯽ ﮐﺮﺩا  ﺟﺪ ﺍﻧﺖ ﺟﺪﺍﺋﯿﺎﮞ ،،،، ﭘﯿﻨﯿﺎﮞ ﺳﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﯼ ﻣﻨﮓ ﮐﮯ ﮐﯽ ﮐﺮﺩا  ﺗﻮﮞ ﭘﯿﺎﺭ ﺩﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﮈﻭﺏ ﭼﮭﮉﯼ
ﻣﯿﮟ کلا ﺗﺮ ﮐﮯ ۔۔۔۔،،،،، ﮐﯽ ﮐﺮﺩا  ﺟﺪ ﺗﻮﮞ ﮨﯽ ﺍﺗﮭﺮﻭ ﭘﻮﻧﺠﮯ ﻧﺌﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺍﮐﮭﯿﺎﮞ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﯽ ﮐﺮﺩا  ﺍﯾﺘﮭﮯ ﻟﮑﮭﺎﮞ ﻋﺎﺷﻖ ﭘﮭﺮﺩﮮ ﻧﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﻭﯼ ﻋﺎﺷﻖ ﺑﻦ ﮐﮯ ﮐﯽ ﮐﺮﺩا  ﺍﻭ ﺟﺎﻧﺪﯼ ﻭﺍﺭﯼ ،،،، ﭘﻠﭩﯿﺎ ﻧﺌﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﮨﺘﮫ ﻭﯼ ﮨﻼ ﮐﮯ ﮐﯽ ﮐﺮﺩا
 

Hareem Naz

Hareem Naz

 

behtr

ﯾُﻮﮞ ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺪﮦﺀِ ﺍﺑﺘَﺮ ﮐﻮ_____ﻧﮧ ﮐَﮩِﯿﺌﮯ ﮐﻤﺘَﺮ
ﮐﯿﺎ ﻋﺠﺐ ﺣَﺸﺮ ﮐﮯ ﺩِﻥ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﻧﮑﻠﮯ...

Hareem Naz

Hareem Naz

 

ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ

ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ
ﻭﻩ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ
ﮐﮭﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ
ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ
ﻭﻩ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻮﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ
ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﺭﮬﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ
ﭼﻮﺩﮬﻮﯾﮟ ﮐﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺟﻠﺪ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ
ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﺎﺿﯽ ﻣﯿﮟ
ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺭﮬﯽ ﮬﻮ ﮔﯽ
ﺣﺴﻦ ﻭ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﺁﺝ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ
ﮐﭽﮫ ﻭﻗﻌﺖ ﻧﮭﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﯽ
ﺑﮭﻮﻟﮯ ﺑﺴﺮﮮ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ
ﻭﻩ ﭼﺎﮬﺘﮯ ﺭﮬﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ
ﻭﻩ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻢ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ
ﺁﻧﮑﮫ ﻧﻢ ﻧﮭﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﮐﻞ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻭﻩ
ﺧﻮﺏ ﺭﻭ ﭼﮑﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ
ﺩﺭﺩ ﺁﺷﻨﺎ ﮬﻮ ﮐﺮ
...ﺍﺷﮏ ﮐﮭﻮ ﭼﮑﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ  www.fundayforum.com 

Jannat malik

Jannat malik

 

بڑے انجان موسم میں 

بڑے انجان موسم میں 
بہت بے رنگ لمحوں میں بنا آہٹ بنا دستک
بہت معصوم سا سپنا اُتَر آیا ھے آنکھوں میں  بنا سوچے بنا سمجھے 
کہا ہے دل نے چپکے سے ہاں اس معصوم سپنے کو
آنکھوں میں جگہ دے دو  بنا روکے,  بنا بولے
جھکا دیا ھے سر ہم نے  مگر تعبیر کیا ہوگی...؟
یہ ہم جانے نا دل جانے بس معلوم ھے اتنا
کہ دل کے فیصلے اکثر " ہمیں کم راس آئے ہیں" www.fundayforum.com 

Jannat malik

Jannat malik

 

Ik teri yaad

یہ جوگرد بادِحیات ہےاس سےاب تک کوئی بچا نہیں اک تیری یاد کو میں سنبھال سنبھال رکھوں۔

Hareem Naz

Hareem Naz

 

Ik teri yaad

یہ جوگرد بادِحیات ہےاس سےاب تک کوئی بچا نہیں اک تیری یاد کو میں سنبھال سنبھال رکھوں۔

Hareem Naz

Hareem Naz

 

اب وہ زیبائشیں کہاں باقی

اب وہ زیبائشیں کہاں باقی
دل کی فرمائشیں کہاں باقی
یونہی خود ساختہ سا ہنستا ہوں 
ورنہ گنجائشیں کہاں باقی
کوئی کہہ دے تو مسکراتا ہوں
خود میں اب خواہشیں کہاں باقی
دسترس میں حیات ہے لیکن
اس کی آرائشیں کہاں باقی
ساری آلودگی ہے یادوں کی
نئی آلائشیں کہاں باقی
روز و شب آج بھی ہیں پہلے سے
اِن کی پیمائشیں کہاں باقی www.fundayforum.com 
 

Jannat malik

Jannat malik

 

yaad

یہ جوگرد بادِحیات ہےاس سےاب تک کوئی بچا نہیں اک تیری یاد کو میں سنبھال سنبھال رکھوں۔

Hareem Naz

Hareem Naz

 

ﺍﺩﺍﺱ ﺷﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺴﮑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ

ﺍﺩﺍﺱ ﺷﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺴﮑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻨﻨﺎ
ﺗﻮ ﺑﯿﺘﮯ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﺍﻧﮩﯽ ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭦ ﺁﻧﺎ
ﺗﻢ ﺁﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﮩﮑﺘﮯ ﮔﻼﺏ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﻣﯿﮟ ﺧﺸﮏ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺐ ﭘﮑﺎﺭﻭﮞ
ﺍﻧﮩﯽ ﺍﺩﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭦ ﺁﻧﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﻭﻓﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺍﭨﮭﺎﺅﮞ
ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭦ ﺁﻧﺎ... www.fundayforum.com     

Jannat malik

Jannat malik

 

itna asaan kahan samaan baqa hu jana

اتنا آساں کہاں سامانِ بقا ہو جانا
دل میں احساسِ فنا کا بھی فنا ہو جانا عشق دراصل ہے بے لوث وفا ہو جانا
عشق کی راہ میں خود سے بھی جدا ہو جانا انکے ماتھے پہ لکیریں نہیں آنے پائیں
انکے ہاتھوں کی لکیروں کی حنا ہو جانا ہونٹ ناراض تھے، آنکھیں تھیں مجسم الفت
انکے بس میں ہی نہیں مجھ سے خفا ہو جانا لاکھ کرتی ہو کسی بت کی پرستش دنیا
کیسے ممکن ہے بھلا بت کا خدا ہو جانا بنتا ہے ایک مرض موت کا باعث ورنہ
ہر مرض کے لئے ممکن ہے شفا ہو جانا اسکو ایماں کہو یا عشقِ حقیقی جاوید
مرحلہ کوئی ہو راضی برضا ہو جانا

waqas dar

waqas dar

 

suno jo lamhay ha

ﺳُﻨﻮ ﺟﻮ ﻟﻤﺤﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﺝ ﺣﺎﺻﻞ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ، ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﮔﻠﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﮩﺎﺭ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﺤﺒّﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﻗﺎﺭ ﺭﮐﮭﻨﺎ ، ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﺁﺋﮯ ﺭﮨﮯ، ﺑﺴﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍُﺟﮍ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺟﺬﺑﮯ ﺍﺯﻝ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﺪ ﺗﻠﮏ ﺑﮭﯽ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﺬﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﯽ ﺟﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺫﺭﺍ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﻮ، ﺑﭽﮭﮍ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﺍﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺭﺍﮨﯽ ﻧﮧ ﻣﻞ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ ، ﺑﮩﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﺰﺍﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻧﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﮨﺮ ﺳﻤﺖ ﮐﮭﻞ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ ، ﻧﮧ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍُﺩﺍﺱ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺟﺬﺑﮯ ﮐﺎ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﺁﺱ ﺭﮐﮭﻨﺎ  

Hareem Naz

Hareem Naz

 

زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے. 

زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے. 
میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں.  بلقیس خان تمھاری یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں. 
پھر اس میں رہنے کی کوئی جگہ بناتی ہوں.  وہ اپنے گرد اٹھاتا ہے روز دیواریں. 
میں اس کی سمت نیا راستہ بناتی ہوں.  زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے. 
میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں.  وہ گھول جاتا ہے نفرت کی تلخیاں آ کر. 
میں چاہتوں کا نیا ذائقہ بناتی ہوں.  خیال و حرف تغزل میں ڈھال کر بلقیس. 
میں اپنے درد سبھی غزلیہ بناتی ہوں.  

Zarnish Ali

Zarnish Ali

×