<?xml version="1.0"?>
<rss version="2.0"><channel><title>Tareekhi Waqaiyaat</title><link>https://fundayforum.com/blogs/blog/13-tareekhi-waqaiyaat/</link><description></description><language>en</language><item><title>&#x645;&#x6C1;&#x627;&#x631;&#x627;&#x62C;&#x627; &#x67E;&#x679;&#x6CC;&#x627;&#x644;&#x6C1; &#x6A9;&#x6D2; &#x62F;&#x631;&#x628;&#x627;&#x631; &#x645;&#x6CC;&#x6BA; &#x6A9;&#x6CC;&#x627; &#x6C1;&#x648;&#x62A;&#x627; &#x62A;&#x6BE;&#x627;&#x61F;</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/1698-%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AC%D8%A7-%D9%BE%D9%B9%DB%8C%D8%A7%D9%84%DB%81-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D8%9F/</link><description><![CDATA[
<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="2678" data-unique="vebmc2lq5" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="1.jpg" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_12/1.jpg.5c300fb8ec43b3cbcf4257a5a50a2098.jpg" width="218" data-ratio="137.61"></p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">1891 </span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">میں پیدا ہونے والے مہاراجا بھوپندر سنگھ آف پٹیالہ نے 1938 ء میں وفات پائی تو اس کی پانچ بیویاں ، 88 اولادیں اور 350 سے زیادہ داشتائیں تھیں۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">بھوپندر سنگھ مہاراجہ اعلیٰ سنگھ کی نسل میں سے تھا۔ اس خاندان کے سربراہ نے تاریخی ہیروں اور دیگر نایاب جواہرات پر مشتمل خزانہ چھوڑا تھا۔ اس نے ایک بڑی ریاست قائم کی تھی اور اپنی اولاد کو اقتدار دے گیا تھا۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">مہاراجہ بھوپندر سنگھ بہت قابل انسان تھا۔ اس کے وزیر اور افسر نہایت لائق افراد تھے۔ ہندوستان کے ہر علاقے کا لائق ترین شخص چن کر اس کا وزیر بنایا گیا تھا۔ اس کے وزیر ساری زندگی اس کے وفادار رہے۔ آزاد ہندوستان کا سفیر برائے چین، مصر اور فرانس سردار کے ایم پانیکر اس کا بااعتماد وزیر خارجہ تھا۔ ایک سابق بھارتی وزیراعلیٰ کرنل رگھبیر سنگھ بھی پٹیالہ کا وزیر داخلہ رہ چکا تھا۔ نواب لیاقت حیات خان کئی سال پٹیالہ کا وزیراعظم رہا۔ قانون کا وزیر الٰہ آباد کا ممتاز وکیل ایم اے رائنا تھا۔ دیوان جرمنی داس زراعت، صنعت اور جنگلات کا وزیر ہونے کے علاوہ مہاراجا کی صحت کے امور کا انچارج تھا۔ بھوپندر سنگھ نے </span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">ریاست کا انتظام چلانے میں اپنی مدد کے لیے نہایت لائق افراد کو منتخب کیا تھا۔</span>
</p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="2679" data-unique="49lzvqak9" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="2.jpg" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_12/2.jpg.4220402376ee21b6e4b4e9770ea1401e.jpg" width="187" data-ratio="160.43"></p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">مہاراجا بھوپندر سنگھ کا باپ مہاراجہ سر راجندر سنگھ سی سی ایس آئی شراب نوشی کے ہاتھوں صرف 28 سال کی عمر میں مر گیا تھا۔ مہاراجا کے مشیر اس امر کا خا ص خیال رکھتے تھے کہ وہ اپنے باپ دادا کی طرح شراب کا عادی نہ ہو جائے۔ اسے ایک انگریز ٹیوٹر نے بچپن سے تعلیم و تربیت دی تھی۔ اس کے علاوہ اسے ہندو اور سکھ ٹیوٹر بھی تعلیم و تربیت دیا کرتے تھے۔ 18سال کی عمر میں وہ بہت سی خوبیوں کا مالک بن چکا تھا۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">جب وہ بالغ ہوا تو اس کے درباریوں نے اسے عورت اور شراب کے مزے سے آشنا کروانا چاہا۔ تاہم مہاراجا ان تمام ترغیبات سے بچا رہا۔ چونکہ مہاراجا کے بگڑنے ہی میں درباریوں کا مفاد تھا اس لیے جلد ہی مہاراجا ان کی سازشوں کا شکار ہو گیا۔</span>
</p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="2683" data-unique="cemedqbpg" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="3.jpg" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_12/3.jpg.d165205317e3e8422b63525ce18c2601.jpg" width="236" data-ratio="140.25"></p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">درباری ولن اسے نوجوان عورتوں کے ذریعے بھٹکانے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ نوجوان تھا اس لیے ایسی <br>
	ترغیبات سے زیادہ عرصہ نہ بچ سکا۔ ان عورتوں کو ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لایا جاتا تھا۔ وہ بہت کم عمر اور نہایت حسین ہوا کرتی تھیں۔ جب وہ مرا تو اس کے حرم میں تقریباً 322 عورتیں تھیں۔ ان میں سے صرف دس مہارانیاں تسلیم کی گئی تھیں، تقریباً پچاس کو رانی کہا جاتا جبکہ باقی سب کنیزیں تھیں۔ وہ سب مہاراجا کے اشارے کی منتظر رہتی تھیں۔ وہ دن یا رات کے کسی بھی لمحے ان کے ساتھ قربت اختیار کر سکتا تھا۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">چھوٹی چھوٹی بچیوں کو محل میں لایا جاتا اور انہیں پالا پوسا جاتا یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جاتیں۔ انہیں مہاراجا کی پسند کے مطابق تربیت دی جاتی تھی۔ محل میں شروع شروع میں ان لڑکیوں کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔ انہیں صرف مہاراجا کو سگریٹ اور شراب پیش کرنے یا دوسری خدمات ادا کرنے کا کہا جاتا تھا۔ مہارانیاں ان کو آغوش میں لیتی اور چومتی تھیں۔ پہلے وہ لڑکیاں محض کنیزیں ہوتی تھیں لیکن مہاراجا کو پسند آنے پر ان کا رتبہ بڑھتا جاتا یہاں تک کہ وہ اعلیٰ ترین رتبے پر پہنچ کر مہارانی کہلاتیں۔ جب مہاراجا کسی عورت کو مہارانی منتخب کر لیتا تو حکومت ہندوستان کو اس امر کی اطلاع دیتا اور حکومت اس عورت کو مہارانی تسلیم کر لیتی۔ اس کے بطن سے جنم لینے والے لڑکے کو مہاراجا کا جائز بیٹا تصور کیا جاتا اور اسے شہزادے کے حقوق دیے جاتے تھے۔</span>
</p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="2688" data-unique="awo8kcehc" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="8.jpg" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_12/8.jpg.a85c0c3e8034585a306a30111711044b.jpg" width="201" data-ratio="149.25"></p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;"> مہارانیوں اور داشتاؤں میں اور بھی فرق تھے۔ مہارانیوں کو دوپہر اور رات کا کھانا اور چائے سونے کے برتنوں میں پیش کیے جاتے تھے۔ رانیوں کو چاندی کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ ان کو پچاس اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔ اعلیٰ تر رتبے کی آرزو مند دیگر عورتوں کو پیتل کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ ان کو بیس اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔ خود مہاراجا کو ہیرے جڑے سونے کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ اسے 150 سے زیادہ اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="2684" data-unique="frcyeg5d2" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="4.jpg" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_12/4.jpg.f2ce19d18fa77ba76611e20a06e0826c.jpg" width="300" data-ratio="75"></p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">مہاراجا ، مہارانیوں اور شہزادوں یا شہزادیوں کی سالگرہ پر عظیم الشان تقریبات برپاکی جاتیں۔ دو سو پچھتر یا تین سو مہمانوں کے لیے میز لگائی جاتیں۔ مردوں میں صرف مہاراجا، اس کے بیٹے، داماد اور چند خاص مدعوئین ہوتے جبکہ عورتوں میں صرف مہارانیاں اور محل کی چند منتخب عورتیں ہوتیں۔ ان تقریبات میں اطالوی، فرانسیسی اور انگریز بیرے اور خانساماں ہوتے تھے اور کھانے اور شرابیں نہایت مزیدار ہوتے۔ پکوانوں کو بڑی بڑی پلیٹوں میں لا کر اوپر تلے رکھ دیا جاتا۔ یہ ڈھیر کھانے والوں کے منہ تک پہنچ جاتا تھا۔ بعض اوقات دس سے بیس پلیٹوں تک کی قطاریں بن جاتی تھیں۔ کھانے کے بعد موسیقی کی محفل ہوتی، جس میں مختلف ریاستوں سے بلوائی گئیں رقاصائیں مہاراجا، مہارانیوں اور مہمانوں کا جی بہلاتیں۔ ایسی تقریبات صبح سویرے انجام کو پہنچتیں۔ اس وقت تک سب لوگ نشے میں دھت ہو چکے ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ کئی سال جاری رہا۔ محل میں ایسی عورتیں بھی تھیں جنہیں یورپ، نیپال اور قبرص سے لایا گیا تھا۔ محل کی عورتوں نے ایسا لباس اور ہیرے جواہرات پہنے ہوتے تھے کہ دنیا میں ان کی مثال ملنا ناممکن تھی۔ تقریب کے اختتام پر مہاراجا عورتوں میں سے چند ایک کو منتخب کر لیتا اور انہیں لے کر اپنے محل میں چلا جاتا۔ یہ عورتیں مہاراجا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بہت سی ترکیبیں استعمال کرتی تھیں۔ مہاراجا کے دل میں ان سب کے لیے نرم گوشہ تھا۔ وہ روزانہ اپنے معائنے کے لیے آنے والے ڈاکٹروں کو اپنی بیماریوں کے بارے میں بتاتی تھی۔</span>
</p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="2685" data-unique="f0ynabxqw" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="5.png" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_12/5.png.38c4ae0709171d3c4beeb5caac59d473.png" width="198" data-ratio="151.52"></p>

<p style="text-align: center;">
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">یہ عورتیں بعض اوقات مہاراجا کی محبت اور فرقت میں خودکشی کرنے کی دھمکی دیتیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان میں سے  چند ایک نے کمرے کی چھت سے رسی باندھ کر اس کے ذریعے خودکشی کی کوشش بھی تھی۔ جب کوئی عورت تنہائی کا شکوہ کرتی تو مہاراجا خوفزدہ ہو جاتا۔ عموماً وہ اس سے ملتا اور ہر ممکن طریقے سے اسے دلاسا دینے کی کوشش کرتا۔ مہاراجا کے حرم میں ایسی بدنصیب عورتیں بھی تھیں جنہیں زندگی میں ایک مرتبہ بھی مہاراجا سے ہم آغوش ہونے کا موقع نہیں ملا تھا۔ مہاراجا کو اپنی ساری مہارانیوں، رانیوں اور دیگر عورتوں سے محبت تھی اور وہ سب کے ساتھ برابر کا محبت بھرا سلوک روا رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ عورتیں بھی جواباً اسے اپنا واحد مرد مانتی تھیں۔</span>
</p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="2686" data-unique="zjcvoed82" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="6.jpg" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_12/6.jpg.cee97739383021400350126e543388b8.jpg" width="300" data-ratio="83.33"></p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">وہ جب بھی یورپ جاتا کم از کم ایک درجن عورتوں کواپنے ساتھ لے کر جاتا تھا۔ ہندوستان سے باہر ان مہارانی، رانی اور کنیز والی تفریق ختم ہو جاتی۔ ان کے کھانوں، کپڑوں اور رہائش میں کوئی فرق نہ رہتا۔ موتی باغ محل کا پروٹوکول پیرس اور لندن میں ایک طرف رکھ دیا جاتا تھا۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">مہارانیاں اور دوسری عورتیں موتی باغ کہلانے والے بڑے محل کے عقب میں واقع مختلف محلات میں رہتی تھیں۔ موتی باغ محل مہاراجا کی رہائش گاہ تھا۔ باہر سے کسی شخص کا محل کے ان اندرونی حصوں میں داخل ہونا انتہائی مشکل تھا۔ اگر کوئی شخص موتی باغ محل میں داخل ہونا چاہتا تو پہلے اسے تقریباً آدھا میل لمبا باغ عبور کرنا پڑتا، پھراسے بے شمار کمروں اور متعدد ہال کمروں سے گزرنا پڑتا۔ محل میں ہر بیس قدم کے فاصلے پر فوجی گارڈ موجود ہوتے۔ ان سب مراحل سے گزرنے کے بعد وہ شخص ایک چھوٹے گیٹ تک پہنچتا، جہاں سے داخلی محلات میں پہنچا جا سکتا تھا۔ اندرونی محل میں مہاراجا  سے ملنے کے لیے آنے والوں کو شفاف اور قیمتی ریشمی لباس میں ملبوس اور ہیرے جواہرات سے لدی پھندی نہایت حسین و جمیل عورتیں مہاراجا کے خصوصی احکامات کی تعمیل میں مسکراہٹوں سے نوازتیں اور شراب پیش کرتیں۔ پنجابی لباس میں ملبوس چند عورتیں مہمانوں کو سگریٹ پیش کرتیں جبکہ ساڑھی میں ملبوس چند دیگر عورتیں شراب اور پھل پیش کرتیں۔ پٹیالہ کے دربار کی شان و شوکت کے سامنے الف لیلوی شان و شوکت ماند تھی۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:22px;">مہاراجا اپنی عورتوں سے حسد نہیں کرتا تھا اور اپنے مہمانوں کو ان سے گھلنے ملنے کی اجازت دے دیتا تھا۔ تاہم وہ گھٹیا پن اور بدتمیزی کو ذرا بھی برداشت نہیں کرتا تھا۔ مہاراجا کے پیروں میں درجنوں عورتیں پڑی رہتی تھیں۔ چند عورتیں اس کی ٹانگیں دبا رہی ہوتیں اور چند عورتیں پیغامات ادھر سے ادھر پہنچا رہی ہوتیں۔ مہاراجا کی پسندیدہ عورت اس کی دیوی ہوتی اور سب کی نگاہیں اس پر جمی ہوتیں۔ عموماً وہ مہاراجا کے گھٹنے کے پاس بیٹھی ہوتی۔ اس نے نہایت خوبصورت سرخ رنگ کا شفاف لباس پہنا ہوتا، ناک میں سونے کا کوکا، گلے میں موتیوں کا ہار اور کلائیوں میں ہیروں کے کنگن ڈالے ہوتے۔ حرم کی عیاشانہ زندگی اور ہمسایہ ریاستوں اور ہندوستان کے وائسرائے کے ساتھ چپقلشوں کی وجہ سے مہاراجا کو ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ فرانس کے مشہور ڈاکٹروں پروفیسر ابرامی اور ڈاکٹر آندرے سے لچوٹز نے ریڑھ کی ہڈی میں انجکشن لگا کر بلڈ پریشر کو گھٹانے کا نیا طریقہ دریافت کیا تھا۔ مہاراجا نے انہیں فرانس سے پٹیالہ بلوا لیا۔ مہاراجا علاج کے لیے یورپ بھی گیا لیکن بلڈ پریشر کنٹرول نہ ہو سکا، جس کا خاص سبب یہ تھا کہ اس نے ڈاکٹروں کی ہدایت کے برعکس عورتوں اور شراب کو نہیں چھوڑا۔ مہاراجہ صرف 47 برس کی عمر میں چل بسا۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="2687" data-unique="vqpi1gm4r" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="7.jpg" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_12/7.jpg.c8f54c14a1b7839f2664cfbe03d0afb6.jpg" width="300" data-ratio="64.33"></p>
]]></description><guid isPermaLink="false">1698</guid><pubDate>Tue, 27 Dec 2016 11:38:25 +0000</pubDate></item><item><title>ALLAH ki mohabbat</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/122-allah-ki-mohabbat/</link><description><![CDATA[<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="509" data-unique="h8vrkyy04" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56cbdb803ce3c_Maakimohabbat.jpg.e8d4d384" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56cbdb803ce3c_Maakimohabbat.jpg.e8d4d384b5fce31b5034d1ee25a7c2e1.jpg" width="375" data-ratio="192"></p>]]></description><guid isPermaLink="false">122</guid><pubDate>Tue, 23 Feb 2016 04:12:33 +0000</pubDate></item><item><title>&#x62D;&#x636;&#x631;&#x62A; &#x633;&#x644;&#x6CC;&#x645;&#x627;&#x646; &#x639;&#x644;&#x64A;&#x647; &#x627;&#x644;&#x633;&#x644;&#x627;&#x645; &#x627;&#x648;&#x631; &#x686;&#x6CC;&#x648;&#x646;&#x679;&#x6CC;</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/112-%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D8%B3%D9%84%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86-%D8%B9%D9%84%D9%8A%D9%87-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%86%DB%8C%D9%88%D9%86%D9%B9%DB%8C/</link><description><![CDATA[
<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:20px;"><img alt=":bism:" data-emoticon="true" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" title=":bism:" data-src="https://fundayforum.com/uploads/emoticons/bism.gif"> </span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	<img alt=":salam1:" data-emoticon="true" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" title=":salam1:" data-src="https://fundayforum.com/uploads/emoticons/salam1.gif"></p>

<p style="text-align: right;">
	<br><span style="font-size:22px;"><strong>.</strong><span style="color:#FF0000;"><strong>حضرت سلیمان عليه السلام</strong></span></span><span style="font-size:20px;"> نہر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کی نگاہ ایک چیونٹی پر پڑی جو گیہوں کا ایک دانہ لے کر نہر کی طرف جارہی تھی </span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:20px;"> </span><span style="font-size:22px;"><strong><span style="color:#FF0000;">حضرت سلیما ن عليه السلام</span></strong></span><span style="font-size:20px;"> اس کو بہت غور سے دیکھنے لگے ، جب چیونٹی پانی کے قریب پہنچی تواچانک ایک مینڈ ک نے اپنا سر پانی سے نکالا اور اپنا منہ کھولا تو یہ چیونٹی اپنے دانہ کے ساتھ اس کے منہ میں چلی گئی، میڈک پانی میں داخل ہو گیا اور پانی ہی میں بہت دیر تک رہا ،<br>
	سلیمان عليه السلام اس کو بہت غور سے دیکھتے رہے ،ذرا ہی دیر میں مینڈک پانی سے نکلا اور اپنا منہ کھولا تو چیونٹی باہر نکلی البتہ اس کے ساتھ دانہ نہ تھا۔ </span><br><strong><span style="color:#FF0000;"><span style="font-size:22px;">حضرت سلیمان عليه السلام</span></span></strong><span style="font-size:20px;"> نے ا س کو بلا کر معلوم کیا کہ ”ماجرہ کیاتھا اور وہ کہاں گئی تھی“ اس نے بتایا کہ اے اللہ کے نبی آپ جو نہر کی تہہ میں ایک بڑا کھوکھلا پتھر دیکھ رہے ہیں ، اس کے اندر بہت سے اندھے کیڑے مکوڑے ہیں، اللہ تعالی نے ان کو وہاں پر پیدا کیا ہے، وہ وہا ں سے روزی تلاش کرنے کے لیے نہیں نکل سکتے‘ اللہ تعالی نے مجھے اس کی روزی کا وکیل بنایا ہے ، میں اس کی روزی کو اٹھا کر لے جاتی ہو ں اور اللہنے اس مینڈک کو میرے لیے مسخر کیا ہے تاکہ وہ مجھے لے کر جائے ، اس کے منہ میں ہونے کی وجہ سے پانی مجھے نقصان نہیں پہنچاتا، وہ اپنا منھ بند پتھر کے سوراخ کے سامنے کھول دیتا ہے ، میں اس میں داخل ہو جاتی ہوں ، جب میں اس کی روزی اس تک پہنچا کر پتھر کے سوراخ سے اس کے منہ تک آتی ہوں تو مینڈک مجھے منہ سے باہر نکال دیتا ہے ۔<br><br>
	.</span><strong><span style="color:#FF0000;"><span style="font-size:22px;">حضرت سلیما ن عليه السلام</span></span></strong><span style="font-size:20px;"> نے کہا: ”کیا تو نے ان کیڑوں کی کسی تسبیح کو سنا “ چیونٹی نے بتایا : ہاں! وہ سب کہتے ہیں <br><br><span style="color:#008000;"><strong>”اے وہ ذات جو مجھے اس گہرے پانی کے اندر بھی نہیں بھولتا“</strong></span></span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	<a class="ipsAttachLink ipsAttachLink_image" href="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/maxresdefault.jpg.691837c7cf5fcc4172ab8071616e41f9.jpg"><img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="476" data-unique="lbwkax9ac" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="maxresdefault.thumb.jpg.c9f930a41fa710c7" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/maxresdefault.thumb.jpg.c9f930a41fa710c771568f818be14210.jpg" width="1000" data-ratio="56.3"></a>
</p>
]]></description><guid isPermaLink="false">112</guid><pubDate>Sat, 20 Feb 2016 16:08:00 +0000</pubDate></item><item><title>&#x62F;&#x627;&#x646;&#x627;&#x626;&#x6CC; &#x6A9;&#x6CC; &#x627;&#x6CC;&#x6A9; &#x628;&#x6C1;&#x62A; &#x642;&#x6CC;&#x645;&#x62A;&#x6CC; &#x628;&#x627;&#x62A;</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/111-%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A8%DB%81%D8%AA-%D9%82%DB%8C%D9%85%D8%AA%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA/</link><description><![CDATA[
<p style="text-align: right;">
	<br><img alt=":bism:" data-emoticon="true" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" title=":bism:" data-src="https://fundayforum.com/uploads/emoticons/bism.gif"> 
</p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:20px;">حکایات سعدی رحمتہ اللہ علیہ<br>
	حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت لقمان سیاہ فام تھے۔ آپ ایک دن بغداد کے ایک بازار سے گزررہے تھے کہ ایک شخص نے اپنے گھرکی تعمیر کے لیے آپ کواپنا بھاگا ہوا غلام سمجھ کرمٹی کھودنے کے کام پر لگادیا۔ آپ وہاں ایک سال تک مٹی کھودنے کی سخت مشقت برداشت کرتے رہے ایک سال بعد اس شخص کابھاگا ہوا غلام واپس لوٹ آیا وہ آپ کوجانتا تھا۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:20px;">اس نے آپ کی جوحالت دیکھی تو آپ کے قدموں میں گرپڑااور معافی مانگنے لگا۔ <br>
	اس شخص کوجس نے آپ کو مٹی کھودنے پر لگایا تھا جب آپ کے مقام ومرتبہ کے متعلق علم ہوا تواسے بھی اپنی غلطی کااحساس ہوا اور اس نے بھی نہایت عاجزی کے ساتھ آپ سے معافی مانگی۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:20px;">آپ نے فرمایا کہ جو ہونا تھا وہ توہوچکا میں اس کام میں بھی گھاٹے میں نہیں رہااور میں نے دانائی کی ایک بہت قیمتی بات یہاں سے سیکھی اور وہ یہ کہ اپنے سے کم کوکبھی کسی مصیبت میں مبتلا نہیں کرنا چاہئے۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:20px;">میرابھی ایک غلام ہے جس سے میں ہر قسم کے کام لیتا تھالیکن اس مشقت کواٹھانے کے بعد مجھے معلوم ہوگیا کہ اس قسم کے کاموں سے کس قدر روحانی وجسمانی تکلیف ہوتی ہے اب میں بھی اپنے غلام سے ہرگز ایسے کام نہ لوں گا جس سے اسے روحانی وجسمانی تکلیف اٹھانی پڑے۔ <br><br>
	 :مقصودبیان<br>
	حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ رحم دلی اور خداتری ایسے اوصاف ہیں جن کی بدولت انسان بلند مرتبہ کوپاسکتا ہے۔<br>
	جب تک کوئی شخص تکلیف میں مبتلا نہ ہووہ کسی دوسرے کی تکلیف کونہیں سمجھ سکتا۔ انسان کی عظمت اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ کسی کی مصیبت وتکلیف کااحساس کرے بجائے اس کے کہ جب وہ وخود اس مصیبت وتکلیف میں مبتلا ہواسے اس کااحساس ہو۔ اللہ عزو جل کے بھیجے ہوئے انبیاء کرام ﷺ نے بھی ہمیں انہی باتوں کی تعلیم دی ہے۔ اگر ہم ان دانائی کی باتوں میں غور کریں توہم اپنی زندگیوں میں بہتری لاسکتے ہیں اور ایک کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	<img alt="download.jpg.deeef5aeeb5bba3d9fb83ffa23f" class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="475" data-unique="ap3m59zlp" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/download.jpg.deeef5aeeb5bba3d9fb83ffa23f4021a.jpg" width="216" data-ratio="73.15"></p>
]]></description><guid isPermaLink="false">111</guid><pubDate>Sat, 20 Feb 2016 15:52:00 +0000</pubDate></item><item><title>Seerat Sahabiat Hazrat Zainab Razi Allah Anha</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/110-seerat-sahabiat-hazrat-zainab-razi-allah-anha/</link><description><![CDATA[
<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:20px;">حضور کی بڑی بیٹی ،حضرت زینب رضی اللہ عنہا </span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<br><span style="font-size:20px;">تحریر : حافظ محمد ادریس <br><br>
	اعلیٰ ایمان ۔ کڑا امتحان :۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:20px;">رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام انسانوں میں سے سب سے زیادہ سخت ابتلا و امتحان اللہ کے رسولوں پر آتاہے ۔ ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا کہ آپ کو سب سے زیادہ ستایا گیا ۔ یہ بھی فرمایا کہ انسان کا امتحان اس کے ایمان کے مطابق ہی ہوتاہے ۔ رسول رحمت نے اپنی زندگی میں بے پناہ مشکلات برداشت کیں ۔ انسان اپنی ذات سے زیادہ اپنی اولاد کی تکالیف و مصائب سے متاثر ہوتاہے ۔ آنحضور کی بڑی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا جب ہجرت کے لیے نکلیں تو دشمنوں نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں ستایا گیا ۔ بدبختوں نے یہ خیال نہ کیا کہ وہ انہی کی قوم کی بیٹی اور بہو ہیں۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<br><span style="font-size:20px;">حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد :۔<br><br>
	حضرت زینب کے خاوند ابوالعاص نے جو خود ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے ، آنحضور کی ہجرت کے بعد سید ہ زینب کو مدینہ روانہ کرنا چاہا لیکن اس وقت یہ ممکن نہ ہو سکا ۔ جنگ ِ بدر میں ابوالعاص کافروں کی فوجوں میں تھے ، وہ شکست کے بعد جنگی قیدی بنے ۔ حضرت زینب نے ان کی رہائی کے لیے مکہ سے اپنے زیورات بھیجے ۔ ان زیورات میں وہ ہار بھی تھا جو حضرت خدیجہ نے اپنی بیٹی کو عطا فرمایا تھا ۔ آنحضور اس ہار کو دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے ۔ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ یہ بیٹی کے پاس ماں کی یاد گار ہے ۔ اگر تم اجازت دو تو اسے واپس کر دیا جائے ۔ صحابہ نے بخوشی اس تجویز سے اتفاق کیا ۔ آپ نے وہ ہار حضرت زینب کو واپس بھجوا دیا ۔ابوالعاص رہا ہوکر مکے جانے لگے تو آنحضور نے فرمایا کہ زینب کو مدینہ بھیج دو ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں گے ۔ <br><br>
	رذالت کی آخری حد :۔<br><br>
	ایفائے عہد کے لیے واپس جاتے ہی ابوالعاص نے حضرت زینب کو اپنے بھائی کنانہ بن ربیع کے ساتھ مدینہ روانہ کیا ۔ کافروں کو یہ بات پسند نہ تھی ۔غزوہ بدر میں آنحضور سے شکست کے بعد ان کی آتش انتقام اور بھی بھڑک چکی تھی۔ انہوں نے بنت رسول کا تعاقب کیا اور وادی ذی طوٰی میں انہیں جا لیا ۔یہ رذالت کی آخری حد تھی کہ ایک شخص کی دشمنی کا بدلہ اس کی بے سہارا بیٹی سے لیا جارہاتھا۔ سیدہ زینب اونٹ پر سوار تھیں اور اس وقت وہ حاملہ بھی تھیں ۔ کنانہ بن ربیع نے اپنی خالہ زاد بہن اور بھابی ،سیدہ زینب کا دفاع کیا مگر اس حملے اور ہل چل میں اونٹ بدکا اور بنتِ رسول نیچے گر گئیں ۔ وہ زخمی بھی ہوئیں اور ان کا حمل بھی ضائع ہو گیا۔ یہی درد ناک واقعہ سیدہ کے لیے جاں لیوا ثابت ہوا۔<br>
	اس موقع پر ابو سفیان بھی موجود تھے ۔ انہوں نے موقع کی نزاکت کو بھانپ لیا اور بیچ بچاو کی کوشش کی ۔ظاہر ہے کہ کنانہ اس واقعہ سے مشتعل ہو گئے تھے اور حملہ آوروں سے مرنے مارنے پر تل گئے تھے ۔طے یہ پایا کہ اس وقت تو کنانہ اور زینب مکہ واپس چلے جائیں ۔ پھر کسی وقت خاموشی سے مدینے کی طرف روانہ ہو جائیں ،ان سے کوئی تعارض نہیں کیاجائے گا ۔ چنانچہ کچھ دنوں بعد حضرت زینب پھر اپنے دیور کنانہ کے ساتھ مکہ سے اس مقدس سفر پر روانہ ہوئیں اور آنحضور کے منہ بولے بیٹے حضرت زیدبن حارثہ نے طے شدہ مقام پر ان کا استقبال کیا اور انہیں لے کر مدینہ پہنچے۔ آنحضور کواس ظالمانہ حملے کا بڑا دکھ ہوا ۔ بعض روایات کے مطابق حضرت زینب اس کے بعد مسلسل بیمار رہنے لگیں ۔ <br><br>
	مودب داماد :۔<br><br>
	آنحضور کی دیگر صاحبزادیوں کی طرح یہ بیٹی بھی بڑی عظیم تھیں ۔ ان کے خاوند لقیط بن ربیع المعروف بابی العاص ان کے خالہ زاد بھی تھے ۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ حضرت زینب تو دعوت ِ اسلام سنتے ہی مسلمان ہو گئیں لیکن ان کے خاوند جنگ بدر تک حالت کفر ہی میں رہے ۔ بعض انسانوں میں کچھ خوبیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے ۔ حالت کفر میں ہونے کے باوجود ابو العاص نے آنحضور کی ہمیشہ تعظیم و تکریم اور عزت و احترام کو ملحوظ رکھا ۔ آنحضور سے کبھی اونچی آواز میں بات نہ کی اورآپ کی بیٹی کے ساتھ بھی بہترین سلوک کرتے رہے ۔ آنحضور کی دو بیٹیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم آپ کے چچا ابو لہب کے دو بیٹوں سے بیاہی گئی تھیں لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی ۔ اسلام دشمنی میں اپنے باپ کے دباو پر انہوں نے آنحضور کی بیٹیوں کو طلاق دے دی تھی۔ جناب ابوالعاص پر کفار نے بڑا دباو ڈالا کہ وہ بھی یہ حرکت کریں لیکن وہ انتہائی شریف النفس اور صلہ رحمی کرنے والے انسان تھے ۔ انہوں نے یہ جرم کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔ <br><br>
	دوسری اسیری :۔<br><br>
	جیسا کہ پہلے بیان ہوا، ابو العاص جنگ بدر میں کافروں کے ساتھ آئے تھے لیکن خوش دلی کے ساتھ نہیں ۔ اس دوران وہ گرفتار ہوئے مگر قبول اسلام کا اعلان نہ کیا۔ وہ کسی مناسب موقع پر اعلان کر کے داخل اسلام ہونا چاہتے تھے۔ ایک مرتبہ ابوالعاص کے پاس لوگوں کا بہت سا مال تجارت تھا جسے انھوں نے شام کے علاقے میں تجارت کے ذریعے کافی نفع بخش بنا دیا ۔ اتفاق سے شام سے واپسی پر مسلمانوں کے ایک دستے نے اس تجارتی قافلے کو روکا اور سارا سامان قبضے میں لے کر قریشی تاجروں کو گرفتار کر کے مدینہ لے آئے ۔ ابو العاص کی بطور اسیر مدینہ منورہ میں یہ دوسری حاضری تھی ۔ ان کے حسن سلوک کی وجہ سے آنحضور ان کا بدلہ بھی اتارنا چاہتے تھے اور صلہ رحمی کا حق بھی ادا کرنا ضروری سمجھتے تھے لیکن آپ نے خود کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ صحابہ سے مشاورت کے بعد ہی ابو العاص کا سامان انہیں واپس کیا ۔ <br><br>
	قبول اسلام کا اعلان :۔<br><br>
	اس عرصے میں اسلامی احکام کے مطابق ابوالعاص اور حضرت زینب کے درمیان تفریق ہو چکی تھی ۔ ابو العاص اگرچہ دل سے مسلمان ہو چکے تھے مگر اس کا اظہار باقی تھا ۔ اس کا اظہار کیے بغیر انہیں مسلمان شمار نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ ذہناً وہ اب اس کے لیے تیار تھے ۔ وہ مختلف لوگوں کا مال تجارت لےکر مکہ واپس آئے اور سب کی امانتیں اور رقوم مع منافع ان کو واپس کر دیں پھر انہوں نے تمام قریش سے اپنے بارے میں گواہی لی کہ ان کے ذمے کسی کا کوئی لین دین تو نہیں ۔ سب نے گواہی دی کہ نہیں ۔ان سے کسی کو کچھ لینا نہیں ہے ۔ پھر ان کی امانت و دیانت پر سب نے یک زبان شہادت دی۔ کافروں سے یہ گواہی لینے کے بعد انہوں نے مکے میں مجمع عام میں اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کیا اور پھر ہجرت کر کے مکے سے مدینہ آ گئے ۔ یہ صلح حدیبیہ کے بعد کی بات ہے جب آنحضور اور قریش کے درمیان معاہدہ ہو چکا تھا ۔ ابو العاص کے مدینہ آنے کے بعد آنحضور نے تجدید نکاح کی اور سابقہ حق مہر پر ہی اپنی بیٹی کو حضرت ابوالعاص کے ہاں بھیج دیا ۔<br><br>
	داغ ِ مفارقت :۔<br><br>
	ہجرت کے وقت زخمی ہونے کی وجہ سے سیدہ زینب مستقل طور پر علیل رہنے لگیں۔ آنحضور اپنی بیٹی کی دل جوئی کی پوری کوششیں کرتے مگر انکی صحت بحال نہ ہو سکی ۔ 8 ھ میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اپنی صاحبزادی کی وفات پر آنحضور کو بڑا صدمہ پہنچا ۔ صحابہ نے اس موقع پر آپ کی آنکھوں سے آنسو گرتے دیکھے تو وہ بھی بہت مغموم ہوئے ۔ آپ نے فرمایا ” زینب میری سب سے اچھی بیٹی تھی اس نے میری محبت کی وجہ سے اذیتیں برداشت کیں ۔ “آنحضور نے اپنی بیٹی کی وفات پر دو ازواج مطہرات حضرت سودہ اور حضرت ام سلمہ کو حکم دیا کہ وہ حضرت ام ایمن کے ساتھ مل کر آپ کی پیاری بیٹی کو غسل دیں ۔ آپ نے انہیں غسل کا طریقہ بھی سمجھایا اور فرمایا جب غسل سے فارغ ہو جاو تو زینب کے جسم پر خوشبو لگاو اور کفن کی چادریں پہنانے سے پہلے میری یہ چادر میری بیٹی کو پہنا دینا ۔ اپنی اس بیٹی کو قبر میں اتارنے کے لیے اپنے داماد ابو العاص کے ہمراہ آنحضور خود بھی قبر میں اترے ۔<br><br>
	نواسوں سے محبت :۔<br><br>
	انسان اپنی اولاد سے زیادہ اولادکی اولاد سے محبت کرتا ہے ۔ پوتے ، پوتیاں اور نواسے نواسیاں دل کا قرار اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتے ہیں ۔ آنحضور کے بیٹے تو سبھی بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے ، البتہ چاروں بیٹیاں جوانی کی عمر کو پہنچیں ۔ یوں اللہ نے آپ کو اگرچہ پوتوں سے محروم رکھا مگر نواسے اور نواسیاں عطا فرمائے ۔ حضرت زینب کے بیٹے علی بن ابی العاص اور بیٹی امامہ بنت ِ ابی العاص سے آنحضور بڑی محبت کرتے تھے ۔ ان کو اکثر اپنے ہاں بلاتے اور خود بھی ان کے ہاں تشریف لے جاتے تھے ۔ فتح مکہ کے وقت ایک منزل کے سفر میں حضرت علی بن ابی العاص آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے</span><br>
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="469" data-unique="7bb8el27z" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="hazrat-zainab.jpg.7331872ec206cbd517aef1" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/hazrat-zainab.jpg.7331872ec206cbd517aef13e41de26fc.jpg" width="947" data-ratio="51"></p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>
]]></description><guid isPermaLink="false">110</guid><pubDate>Sat, 20 Feb 2016 15:34:34 +0000</pubDate></item><item><title>&#x631;&#x633;&#x648;&#x644; &#x627;&#x644;&#x644;&#x6C1; (&#x635;&#x644;&#x6CC; &#x627;&#x644;&#x644;&#x6C1; &#x639;&#x644;&#x6CC;&#x6C1; &#x648;&#x633;&#x644;&#x645;) &#x6A9;&#x6CC; &#x648;&#x644;&#x627;&#x62F;&#x62A;&#x650; &#x628;&#x627; &#x633;&#x639;&#x627;&#x62F;&#x62A;</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/109-%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B5%D9%84%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81-%D9%88%D8%B3%D9%84%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D9%88%D9%84%D8%A7%D8%AF%D8%AA%D9%90-%D8%A8%D8%A7-%D8%B3%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA/</link><description><![CDATA[
<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:20px;">رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) مکّہ میں شِعَبِ بنی ہاشم کے اندر ٩۔ربیع الاول ، یکم عام الفیل ، یومِ سوموار ( پیر ) کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ <br><br>
	( مکّہ پر اَبْرَہہ کے حملے کے واقعے کو عام الفیل کہا جاتا ہے۔ اور یہ واقعہ ، بیشتر اہلِ سِیرَ کے بقول ۔۔۔ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیدائش سے صرف پچاس یا پچپن دن پہلے ماہِ محرم میں پیش آیا تھا۔لہذا یہ عیسوی سنہ ٥٧١ء کے فبروری کے اواخر یا مارچ کے اوائل کا واقعہ ہے )۔ <br><br>
	اس وقت نوشیرواں کی تخت نشینی کا چالیسواں سال تھا اور ٢٠۔ یا ٢٢۔ اپریل ٥٧١ء کی تاریخ تھی۔ <br><br>
	علامہ قاضی محمد سلیمان صاحب منصور پوری رحمہ اللہ اور محمود پاشا فلکی کی تحقیق یہی ہے۔ </span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:20px;"> ( تاریخ خضری ١ / ٦٢)۔ <br><br>
	آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چچا ابولہب کو جب اُس کی لونڈی ثوبیہ نے آپ کی ولادت کی خبر دی تو وہ اتنا خوش ہوا کہ اس خوش خبری سنانے والی لونڈی کو اسی خوشی میں آزاد کر دیا۔  ( فتح الباری ٩ / ١٤٠)۔ <br><br>
	آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دادا عبدالمطلب نے جب یہ خبر سنی تو سنتے ہی گھر میں آئے اور آپ کو اٹھا کر خانہ کعبہ لے گئے۔ اور دعا مانگ کر واپس لائے۔   ( سیرۃ ابن ہشام ١ / ١٦٨)۔ <br><br>
	اور پھر ساتویں دن قربانی کی اور تمام قریش کو دعوت دی۔ دعوت سے فارغ ہو کر لوگوں نے پوچھا کہ : <br>
	بچے کا نام کیا رکھا ہے ؟ <br>
	"محمد" عبدالمطلب نے جواب دیا۔ <br>
	لوگوں نے تعجب سے پوچھا : آپ نے اپنے خاندان کے سب مروجہ ناموں کو چھوڑ کر یہ نام کیوں رکھا ؟ <br>
	 عبدالمطلب نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ میرا بچہ دنیا بھر کی ستائش اور تعریف کا شایان قرار پائے ۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="font-size:20px;"> ( البدایۃ و النہایۃ ٢ / ٢٤٧)۔<br><br>
	آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ماں سیدہ آمنہ نے آپ کا نام احمد رکھا۔ <br>
	پس محمد اور احمد دونوں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذاتی نام ہیں۔ <br><br>
	ایک بدوی عورت حلیمہ سعدیہ (رضی اللہ عنہا) نے جب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو گود لینے میں اس لیے تامل کیا کہ آپ یتیم بچے ہیں تو حضرت آمنہ نے فرمایا تھا <br>
	اے دایہ ! اس بچے سے مطمئن رہو ، اس کی بڑی شان ہونے والی ہے ۔ <br>
	( طبقات ابن سعد ١ / ١١١)۔</span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>
]]></description><guid isPermaLink="false">109</guid><pubDate>Sat, 20 Feb 2016 14:52:07 +0000</pubDate></item><item><title>Aaraf ki nishani</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/108-aaraf-ki-nishani/</link><description><![CDATA[<p style="text-align: center;">
	<img alt="large.56c87b15b514c_Aarafkinishani.jpg.0" class="ipsImage" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/large.56c87b15b514c_Aarafkinishani.jpg.06dbc0f251475cdf7d8f987b1b57f24d.jpg"> 
</p>]]></description><guid isPermaLink="false">108</guid><pubDate>Sat, 20 Feb 2016 14:43:50 +0000</pubDate></item><item><title>Badshah or mahigeer</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/107-badshah-or-mahigeer/</link><description><![CDATA[<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="465" data-unique="wv2bpsfd7" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="badshah.jpg.0813f375433b6449ffe58c3b0877" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/badshah.jpg.0813f375433b6449ffe58c3b08772a6b.jpg" width="800" data-ratio="62.5"></p>]]></description><guid isPermaLink="false">107</guid><pubDate>Sat, 20 Feb 2016 14:34:35 +0000</pubDate></item><item><title>&#x622;&#x646;&#x633;&#x648;</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/105-%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88/</link><description><![CDATA[
<p style="text-align:right;">
	<span style="font-size:24px;"><span style="color:rgb(128,0,128);">ﺁﻧﺴﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﺭﺣﻤﺖ ﮨﯿﮟ۔۔ ﮐﺴﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯿﻦ<br>
	ﻻﺷﻌﻮﺭ ﭘﺮ ﭼﮭﺎﺋﯽ ﻣﻨﻔﯽ ﮔﮭﭩﺎﻭﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻠﯿﻦ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯿﻦ ﺗﻮ ﭘﺎﮐﯿﺰﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻤﺖ ﻋﻤﻞ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﯽ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔<br>
	ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﮯ ﺍﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺧﺸﮏ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺧﺸﮑﯽ ﺩﻟﻮﻥ ﮐﯽ ﺳﺨﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺲ ﺣﻖ ﻭ ﺑﺎﻃﻞ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ</span></span>
</p>

<p><a href="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/12729053_742803815819839_4239798617990562848_n.jpg.16546d74a623a70dc6d31fbb1ef695ba.jpg" class="ipsAttachLink ipsAttachLink_image"><img data-fileid="418" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" alt="12729053_742803815819839_4239798617990562848_n.jpg" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/12729053_742803815819839_4239798617990562848_n.jpg.16546d74a623a70dc6d31fbb1ef695ba.jpg" width="500" data-ratio="66.6"></a></p>
]]></description><guid isPermaLink="false">105</guid><pubDate>Fri, 19 Feb 2016 17:26:33 +0000</pubDate></item><item><title>&#x627;&#x6CC;&#x6A9; &#x628;&#x648;&#x691;&#x6BE;&#x6D2; &#x6A9;&#x6CC; &#x627;&#x644;&#x644;&#x6C1; &#x633;&#x6D2; &#x67E;&#x6C1;&#x644;&#x6CC; &#x627;&#x644;&#x62A;&#x62C;&#x627;</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/102-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A8%D9%88%DA%91%DA%BE%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B3%DB%92-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%AC%D8%A7/</link><description><![CDATA[
<p style="text-align: right;">
	<br><span style="font-size:20px;"><span style="color:#008000;">حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک شخص تھا جو خوش الحان تھا۔ <br>
	وہ مختلف محفلوں میں اشعار وغیرہ سنا کر )گانا نہیں( کچھ پیسے کما یا کرتا تھا۔ وہ شخص بوڑھا ہو گیا۔ آواز بیٹھ گئ۔ کمائی کا ذریعہ ختم ہو گیا۔ نوبت فاقوں پر پہنچ گئی۔ <br>
	ایک دن بھوک کے عالم میں جنت البقیع کے قبرستان میں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گیا <br>
	اور اللہ سے باتیں کرنے لگا۔ “اے اللہ جب تک جوان تھا۔ آواز ساتھ دیتی تھی۔ کماتا تھا اور کھاتا تھا۔ <br>
	اب آواز بیٹھ گئی ہے۔ بھوک لگی ہے ۔ <br>
	پہلی بار تیرے در پہ آیا ہوں۔ مایوس نہ لوٹانا۔“<br>
	حضرت عمر رضی اللہ تعالی مسجد نبوی کے صحن میں سوئے ہوئے تھے۔ خواب میں آواز آئی <br>
	“اٹھ میرا ایک بندہ جنت البقیع میں مجھے پکار رہا ہے۔ اس کی مددکر۔“ <br>
	حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ ننگے پاوں بھاگتے ہوئے گئے۔ <br>
	اس بوڑھے نے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کو آتے دیکھا تو اٹھ کر بھاگا کہ شاید مجھے مارنے آرہے ہیں۔ <br>
	حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی نے فرمایا۔ “مت بھاگ میں خود نہیں آیا بلکہ بھیجا گیا ہوں۔“<br>
	بوڑھے نے پوچھا کس نے بھیجا ہے۔ <br>
	حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ اسی ذات نے بھیجا ہے جس کو پکار رہے تھے“<br>
	۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  فائدہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
	اس بوڑھے نے زندگی میں پہلی بار اللہ کو پکارا اور پکارا بھی تو روٹی کیلئے ۔ <br>
	لیکن اللہ نے اپنے بندے کو مایوس نہ کیا۔ <br>
	اللہ سے مایوس نہ ہونا چاہیے۔ <br>
	علماء بتاتے ہیں کہ دعا کے قبول ہونے کیلئے مضطرب ہونا شرط ہے۔ دل سے اللہ کو پکاریئے۔ <br>
	وہ ضرور پہنچے گا۔ <br>
	صرف ہاتھ اٹھا لینا اور خیال کا کہیں اور بھٹک رہا ہونا دعا کی شرط کے خلاف ہے۔ </span></span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="406" data-unique="3qteaze45" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5d1c9cc094_oldman.jpg.3e6c1b96ee88c4e" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5d1c9cc094_oldman.jpg.3e6c1b96ee88c4e1175369158e27a448.jpg" width="600" data-ratio="75.17"></p>
]]></description><guid isPermaLink="false">102</guid><pubDate>Thu, 18 Feb 2016 14:15:25 +0000</pubDate></item><item><title>Bermuda Triangle Ke Asal Haqaiq</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/101-bermuda-triangle-ke-asal-haqaiq/</link><description><![CDATA[
<p>
	 
</p>

<p>
	 
</p>

<p>
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="393" data-unique="sn2mszh9a" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5ce3d0d780_BermudaTriangle_1.gif.5497" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5ce3d0d780_BermudaTriangle_1.gif.5497bb8f2e201008f578c254b57b4b33.gif" width="555" data-ratio="140"></p>

<p>
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="394" data-unique="tylhukl6v" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5ce4040139_BermudaTriangle_2.gif.8623" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5ce4040139_BermudaTriangle_2.gif.862364dac4625458043bfc8916194a2a.gif" width="555" data-ratio="140"></p>

<p>
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="395" data-unique="461cpgzoa" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5ce41e4716_BermudaTriangle_3.gif.1f79" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5ce41e4716_BermudaTriangle_3.gif.1f799263d1437dd6205bb6997e238fce.gif" width="555" data-ratio="140"></p>

<p>
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="396" data-unique="gaed7ka70" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5ce439d568_BermudaTriangle_4.gif.a33d" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5ce439d568_BermudaTriangle_4.gif.a33de192f1018a721bb944e690dd5d42.gif" width="555" data-ratio="140"></p>

<p>
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="397" data-unique="vwjo9ymki" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5ce4562391_BermudaTriangle_5.gif.b63d" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5ce4562391_BermudaTriangle_5.gif.b63df5805bd5864d1004917fe990e6c3.gif" width="555" data-ratio="140"></p>

<p>
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="398" data-unique="dad146iib" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5ce46e0892_BermudaTriangle_6.gif.e71a" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5ce46e0892_BermudaTriangle_6.gif.e71af5aae4dff9e592edaace1418aa20.gif" width="555" data-ratio="140"></p>

<p>
	 
</p>

<p>
	Map of Bermuda Triangle ---&gt; <img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="399" data-unique="wlt54rpra" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5ce7aa4d7a_mapofbaramula.jpg.d6eb5af2" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5ce7aa4d7a_mapofbaramula.jpg.d6eb5af2006cfa68ff9381fda921a627.jpg" width="245" data-ratio="102.86"></p>

<p>
	 
</p>

<p>
	A Close View of One of Islands of Bermuda ---&gt;  <img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="400" data-unique="8y387bhln" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5cec995acc_bermudacloserview.JPG.2614" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5cec995acc_bermudacloserview.JPG.2614bba20ebf0719d66c5e45ebdeb9d6.JPG" width="350" data-ratio="86"></p>

<p>
	 
</p>

<p>
	<span style="font-size:18px;">More Pictures of Bermuda Triangle:</span>
</p>

<p>
	 
</p>

<p>
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="401" data-unique="etabptp6y" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="bermuda_triangle.jpg.8a86bdb9897398500ae" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/bermuda_triangle.jpg.8a86bdb9897398500ae47a8a9278c361.jpg" width="371" data-ratio="85.98">  <img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="402" data-unique="yg5wta218" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="bermuda-triangle-16.jpg.00f462af398082b9" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/bermuda-triangle-16.jpg.00f462af398082b9d6843b17c009234a.jpg" width="400" data-ratio="77"><img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="403" data-unique="5i9hr9yg5" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="bermuda-triangle-clouds.jpg.88a531373f33" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/bermuda-triangle-clouds.jpg.88a531373f3338bd55f34808464e12ce.jpg" width="400" data-ratio="65.5"><img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="404" data-unique="70a4ps3q1" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="waterspout_noaa.jpg.cf42971729cfb2d4ef18" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/waterspout_noaa.jpg.cf42971729cfb2d4ef188a7322fdb45b.jpg" width="640" data-ratio="75"></p>

<p>
	 
</p>

<p>
	 
</p>

<p>
	 
</p>

<p>
	 
</p>

<p>
	 
</p>

<p>
	 
</p>

<p>
	 
</p>

<p><a href="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/lightnin.jpg.e72adcf3ec1ca2fd8abdac8a68bda46d.jpg" class="ipsAttachLink ipsAttachLink_image"><img data-fileid="405" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" alt="lightnin.jpg" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/lightnin.jpg.e72adcf3ec1ca2fd8abdac8a68bda46d.jpg" width="366" data-ratio="76.23"></a></p>
]]></description><guid isPermaLink="false">101</guid><pubDate>Thu, 18 Feb 2016 14:08:01 +0000</pubDate></item><item><title>&#x62D;&#x636;&#x631;&#x62A; &#x627;&#x628;&#x631;&#x627;&#x6C1;&#x6CC;&#x645; &#x62E;&#x644;&#x6CC;&#x644; &#x627;&#x644;&#x644;&#x6C1; &#x639;&#x644;&#x6CC;&#x6C1; &#x627;&#x644;&#x633;&#x644;&#x627;&#x645; &#x6A9;&#x627; &#x633;&#x648;&#x627;&#x644;</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/100-%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%D9%85-%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%84-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84/</link><description><![CDATA[
<p style="text-align: right;">
	<span style="color:#008000;"><span style="font-size:20px;">حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ایک مرتبہ خداوند قدوس کے دربار میں یہ عرض کیا.. "یا اللہ ! تو مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا..؟"<br><br>
	اللہ تعالیٰ نے فرمایا.. "اے ابراہیم ! کیا اس پر تمہارا ایمان نہیں ہے..؟"<br><br>
	آپ نے عرض کیا.. "کیوں نہیں.. میں اس پر ایمان تو رکھتا ہوں لیکن میری تمنا یہ ہے کہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تاکہ میرے دل کو قرار آ جائے.."<br><br>
	اللہ تعالیٰ نے فرمایا.. "تم چار پرندوں کو پالو اور ان کو خوب کھلا پلا کر اچھی طرح ہلا ملا لو.. پھر تم انہیں ذبح کرکے اور ان کا قیمہ بنا کر اپنے گرد و نواح کے چند پہاڑوں پر تھوڑا تھوڑا گوشت رکھ دو.. پھر ان پرندوں کو پکارو تو وہ پرندے زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آ جائیں گے اور تم مردوں کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے.."<br><br>
	چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مرغ ' ایک کبوتر ' ایک گدھ ' ایک مور..... ان چار پرندوں کو پالا اور ایک مدت تک ان چاروں پرندوں کو کھلا پلا کر خوب ہلا ملا لیا.. پھر ان چاروں پرندوں کو ذبح کرکے ان کے سروں کو اپنے پاس رکھ لیا اور ان چاروں کا قیمہ بنا کر تھوڑا تھوڑا گوشت اطراف و جوانب کے پہاڑوں پر رکھ دیا اور دور سے کھڑے ہو کر ان پرندوں کا نام لے کر پکارا..<br><br>
	یایھا الدیک.. اے مرغ.... <br>
	یایتھا الحمامۃ.. اے کبوتر.... <br>
	یایھا النسر.. اے گدھ....<br>
	یایھا الطاؤس.. اے مور.... <br><br>
	آپ کی پکار پر ایک دم پہاڑوں سے گوشت کا قیمہ اڑنا شروع ہو گیا اور ہر پرند کا گوشت پوست ' ہڈی ' پر الگ ہو کر چار پرند تیار ہو گئے اور وہ چاروں پرند بلا سروں کے دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ گئے اور اپنے سروں سے جڑ کر دانہ چگنے لگے اور اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے.. حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے مردوں کے زندہ ہونے کا منظر دیکھ لیا اور ان کے دل کو اطمینان و قرار مل گیا..<br><br>
	اس واقعہ کا ذکر خداوند کریم نے قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں ان لفظوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے..<br><br>
	"اور جب عرض کی ابراہیم نے اے رب میرے ! مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جلائے گا.. فرمایا کیا تجھے یقین نہیں.. عرض کی یقیں کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آ جائے.. فرمایا تو اچھا چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلا لے.. پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے.. پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاؤں سے دوڑتے.. اور جان رکھ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے..</span></span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	<span style="color:#008000;"><span style="font-size:20px;">(البقرۃ : ۲۸۶)</span></span>
</p>

<p style="text-align: right;">
	 
</p>

<p style="text-align: right;">
	<img alt="56c5c8cf8605d_hazratabrahim.jpg.c509dce7" class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="392" data-unique="yzkcfnwpo" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5c8cf8605d_hazratabrahim.jpg.c509dce7ed913ff5bada765b4474f42f.jpg" width="480" data-ratio="75"></p>
]]></description><guid isPermaLink="false">100</guid><pubDate>Thu, 18 Feb 2016 13:36:00 +0000</pubDate></item><item><title>Hazrat Syedna Ali Ul Murtaza (R.A)</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/95-hazrat-syedna-ali-ul-murtaza-ra/</link><description><![CDATA[
<p style="text-align: center;">
	 
</p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="388" data-unique="jiqxwqgfk" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" style="width: 500px; height: 200px;" alt="banner_islamic.jpg.e4ca076d5d51042f49c6a" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/banner_islamic.jpg.e4ca076d5d51042f49c6ae1c6cbc28e7.jpg" width="500" data-ratio="40"></p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="383" data-unique="1gz05a8q2" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5ad10c5846_k005.gif.f14e0f361b7acf3bf" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5ad10c5846_k005.gif.f14e0f361b7acf3bfc654d8433c79191.gif" width="590" data-ratio="151.53"></p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="384" data-unique="y9rcia5wy" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5ad163860c_k006.gif.eebb24e3aadd2aaf6" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5ad163860c_k006.gif.eebb24e3aadd2aaf65c681714f142d1b.gif" width="590" data-ratio="154.07"></p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="385" data-unique="omiwo7vl5" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5ad222a1d6_k007.gif.0b887ad827729c0e0" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5ad222a1d6_k007.gif.0b887ad827729c0e0d0fbb59f2114b46.gif" width="590" data-ratio="156.1"></p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="386" data-unique="6vg1rkx29" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5ad2a128ef_k008.gif.c4df91a5b35fdf8c2" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5ad2a128ef_k008.gif.c4df91a5b35fdf8c25aac41e4f3d8ecc.gif" width="590" data-ratio="154.41"></p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="387" data-unique="6uxge63gt" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c5ad33396ee_k009.gif.a1e8dbd04bb6b4574" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c5ad33396ee_k009.gif.a1e8dbd04bb6b4574d778f1b6ab80c28.gif" width="590" data-ratio="154.75"></p>

<p style="text-align: center;">
	 
</p>
]]></description><guid isPermaLink="false">95</guid><pubDate>Thu, 18 Feb 2016 11:46:48 +0000</pubDate></item><item><title><![CDATA[Sazshi Yahood & Adal-e-Muhammadi SAW]]></title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/94-sazshi-yahood-adal-e-muhammadi-saw/</link><description><![CDATA[
<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="466" data-unique="jq3u10hg4" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c88111efe52_Adal-e-MuhammadSAW.gif.253" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c88111efe52_Adal-e-MuhammadSAW.gif.2533c19a0d58e766a3dbf4ba04cd2b08.gif" width="700" data-ratio="124.86"></p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="467" data-unique="kw9xv5rzc" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c8816a12d3d_Adal-e-MuhammadiSAW02.gif." data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c8816a12d3d_Adal-e-MuhammadiSAW02.gif.d8338a78d996aaaea29b1f115ccc288c.gif" width="700" data-ratio="103.71"></p>

<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="468" data-unique="e0sexu262" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="56c881b71ff0e_Adal-e-MuhammadiSAW03.gif." data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/56c881b71ff0e_Adal-e-MuhammadiSAW03.gif.4ba6df181ce0e0098502de2f6311d6f1.gif" width="700" data-ratio="80.43"></p>

<p style="text-align: center;">
	 
</p>

<p style="text-align: center;">
	 
</p>

<p style="text-align: center;">
	<a class="ipsAttachLink ipsAttachLink_image" href="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/1v6lAn5.jpg.9e93809ae74661d9783ee365df9b74d2.jpg"><img alt="1v6lAn5.thumb.jpg.9c4c2ddae85179b1b24480" class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="382" data-unique="zk1uxhtco" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" style="width: 500px; height: 340px;" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/1v6lAn5.thumb.jpg.9c4c2ddae85179b1b2448066d9099fbd.jpg" width="1000" data-ratio="68"></a>
</p>
]]></description><guid isPermaLink="false">94</guid><pubDate>Thu, 18 Feb 2016 11:13:00 +0000</pubDate></item><item><title>karamat-e-sahaba</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/93-karamat-e-sahaba/</link><description><![CDATA[<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="381" data-unique="qirrn58by" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="karamat-e-sahaba.gif.d46f8c36dbe2e6d7ecb" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/karamat-e-sahaba.gif.d46f8c36dbe2e6d7ecb9da593644f988.gif" width="700" data-ratio="214.29"></p>]]></description><guid isPermaLink="false">93</guid><pubDate>Thu, 18 Feb 2016 11:02:15 +0000</pubDate></item><item><title>Adal-e-Muhammadi</title><link>https://fundayforum.com/blogs/entry/92-adal-e-muhammadi/</link><description><![CDATA[<p style="text-align: center;">
	<img class="ipsImage ipsImage_thumbnailed" data-fileid="380" data-unique="2ru0ph8tg" src="https://fundayforum.com/applications/core/interface/js/spacer.png" alt="article-13092007.gif.eea5b251bd79645a5af" data-src="https://fundayforum.com/uploads/monthly_2016_02/article-13092007.gif.eea5b251bd79645a5af1c14dd7fb6f5e.gif" width="700" data-ratio="257.29"></p>]]></description><guid isPermaLink="false">92</guid><pubDate>Thu, 18 Feb 2016 10:51:00 +0000</pubDate></item></channel></rss>
