کتاب ِ عمر کے دلگیر باب میں مجھے مل
یا میری نیند میں آ اپنے خواب میں مجھے مل
مرے گماں پہ اتر پھر حنا کا رنگ لیے
پھر اپنے بالوں کے دلکش گلاب میں مجھے مل
مل ایک بار مجھے وقت کی حدوں سے پرے
مل ایک بار تو اپنی جناب میں مجھے مل
خدا کے ہونے کی تو بھی تو اک نشانی ہے
کسی بھی رنگ کسی بھی حجاب میں مجھے مل
بگُولہ بن کے ترے اِرد گِرد پھرنے لگوں
کبھی تو دشت میں آ اور سراب میں مجھے مل
سکوت ِ ذات سے چٹخے سماعتوں کے بدن
کسی صدا کے چھلکتے حباب میں مجھے مل
خرد خمیر ہوں حیرت کے باب میں مجھے چُن
جنوں طلسم کی نمکیں شراب میں مجھے مل
0

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.