Saghar Siddiqui
Saghar Siddiqui Poetry and Biography:
Saghar Siddiqui (takhallus: Saghar) was born in 1928 n Ambala (in united Punjab under British India). He was named Muhammad Akhtar at birth.
Read More ◄►↓
He was the only child of his parents and he spent the early years of his life in Ambala and Saharanpur (UP, India). He received his early education from Habib Hassan, a friend of the family.
Young Akhtar was much impressed by this gentleman, and he got interested in Urdu poetry because of him. He writes that at 7-8 years of age, he had became so fluent in Urdu that people used to come to him to get their letters written.
Then he moved to Amritsar, Punjab, India. At that age he regularly read Urdu newspapers like Zamindar, Ahsan, and Inquilab . He for a couple of months used Nasir Hijazi as his pen name, but later he chose Saghar Siqddiqui. In the pre-teen years, he used to live with his teacher Habib Hassan in Amritsar. At age 16, he would regularly attend mushairas. He was also active in an Urdu majlis (society) formed for the advancement of Urdu literature by Dr. M. D. Tasir and Maulana Tajwar Najibabadi and attended its mushairas. He attended the Urs of Pir Sabir of Kalyar Sharif in 1945 and participated in the mushaira there.
At the time of partition he was only 19 years old. In those days with his slim appearance, wearing pants and boski (yellow silky cloth) shirts, with curly hair, and reciting beautiful ghazals in a melodious voice, he became a huge success. But perhaps he was too sensitive for this cruel world. He probably had some tragic turns in his life.
Sometimes he would have to sell his ghazals to other poets for a few rupees. He would use the waste paper spread around to light fires to stay warm during winter nights. There, on the street, he passed away in Lahore on 19 July 1974 at age 46. His dead body was found one early morning outside one of the shops. Despite his shattered life, some of his verses (ash'aar) are among the best in Urdu poetry. It is unbelievable that he kept his inner self so pure and so transcending.
9 topics in this forum
-
- 7 replies
- 2k views
ﮈﻭﺑﻨﮯ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﺎ ﺳﺎﻏﺮ ﮨﺎﺋﮯ ﺳﺎﺣﻞ ﭘﮧ ﻧﺎ ﺧﺪﺍ ﻧﺎ ﮨﻮﺍ ﺳﺎﻏﺮ ﺻﺪﯾﻘﯽ
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 3 replies
- 1.7k views
چاندنی شب ہے ستاروں کی ردائیں سی لو عید آئی ہے بہاروں کی ردائیں سی لو چشم ساقی سے کہو تشنہ اُمیدوں کے لیے تُم بھی کچھ بادہ گُساروں کی ردائیں سی لو ہر برس سوزن تقدیر چلا کرتی ہے اب تو کُچھ سینہ فگاروں کی ردائیں سی لو لوگ کہتے ہیں تقدس کے سُبو ٹوٹیں گے جُھومتی رہگزاروں کی ردائیں سی لو قلرم خُلد سے ساغر کی صدا آتی ہے اپنے بے تاب کناروں کی ردائیں سی لو (ساغر صدیقی)
Last reply by Hareem Naz, -
- 1 reply
- 1.6k views
کوئی نالہ یہاں رَسا نہ ہُوا اشک بھی حرفِ مُدّعا نہ ہُوا تلخی درد ہی مقدّر تھی جامِ عشرت ہمیں عطا نہ ہُوا ماہتابی نگاہ والوں سے دل کے داغوں کا سامنا نہ ہُوا آپ رسمِ جفا کے قائل ہیں میں اسیرِ غمِ وفا نہ ہوا وہ شہنشہ نہیں، بھکاری ہے جو فقیروں کا آسرا نہ ہُوا رہزن عقل و ہوش دیوانہ عشق میں کوئی رہنما نہ ہُوا ڈوبنے کا خیال تھا ساغرؔ ہائے ساحل پہ ناخُدا نہ ہُوا (ساغر صدیقی)
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.4k views
فضائے نیم شبی کہہ رہی ہے سب اچھا ہماری بادہ کشی کہہ رہی ہے سب اچھا نہ اعتبارِ محبت، نہ اختیارِ وفا جُنوں کی تیز روی کہہ رہی ہے سب اچھا دیارِ ماہ میں تعمیر مَے کدے ہوں گے کہ دامنوں کی تہی کہہ رہی ہے سب اچھا قفس میں یُوں بھی تسلّی بہار نے دی ہے چٹک کے جیسے کلی کہہ رہی ہے سب اچھا وہ آشنائے حقیقت نہیں تو کیا غم ہے حدیثِ نامہ بَری کہہ رہی ہے سب اچھا تڑپ تڑپ کے شبِ ہجر کاٹنے والو نئی سحر کی گھڑی کہہ رہی ہے سب اچھا حیات و موت کی تفریق کی کریں ساغرؔ ہماری شانِ خودی کہہ رہی سب اچھا (ساغر صدیقی)
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.7k views
چاندنی شب ہے ستاروں کی ردائیں سی لو عید آئی ہے بہاروں کی ردائیں سی لو چشم ساقی سے کہو تشنہ اُمیدوں کے لیے تُم بھی کچھ بادہ گُساروں کی ردائیں سی لو ہر برس سوزن تقدیر چلا کرتی ہے اب تو کُچھ سینہ فگاروں کی ردائیں سی لو لوگ کہتے ہیں تقدس کے سُبو ٹوٹیں گے جُھومتی رہگزاروں کی ردائیں سی لو قلرم خُلد سے ساغر کی صدا آتی ہے اپنے بے تاب کناروں کی ردائیں سی لو (ساغر صدیقی)
Last reply by Zarnish Ali, -
- 5 replies
- 1.9k views
بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے منزل نہیں ہوں ، خضر نہیں ، راہزن نہیں منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجیے میری نگاہِ شوق سے ہر گُل ہے دیوتا میں عشق کا خدا ہوں مجھے یاد کیجیے نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے اشکوں کی انتہا ہوں مجھے یاد کیجیے گُم صُم کھڑی ہیںدونوں جہاں کی حقیقتیں میں اُن سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے ساغر کسی کے حُسنِ تغافل شعار کی بہکی ہوئی ادا ہوں مجھے یاد کیجیے (ساغر صدیقی)
Last reply by Zarnish Ali, -
- 5 replies
- 2k views
رُودادِ محبّت کیا کہیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے دو دِن کی مُسرّت کیا کہیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں اِک ہوش کی ساعت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گیے اب وقت کے نازک ہونٹوں پر مجروح ترنّم رقصاں ہے بیدادِ مشیّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے احساس کے میخانے میں کہاں اَب فکر و نظر کی قندیلیں آلام کی شِدّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے کُچھ حال کے اندھے ساتھی تھے کُچھ ماضی کے عیّار سجن احباب کی چاہت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے کانٹوں سے بھرا ہے دامنِ دِل شبنم سے سُلگتی ہیں پلکیں پُھولوں کی سخاوت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے اب اپنی حقیقت بھی ساغر بے …
Last reply by Zarnish Ali, -
دوست
by Zarnish Ali- 3 replies
- 1.7k views
میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست سونے کے نرم تار کا قائل نہیں ہوں دوست مُجھ کو خزاں کی ایک لُٹی رات سے ہے پیار میں رونقِ بہار کا قائل نہیں ہُوں دوست ہر شامِ وصل ہو نئی تمہیدِ آرزو اتنا بھی انتظار کا قائل نہیں ہوں دوست دوچار دن کی بات ہے یہ زندگی کی بات دوچار دن کے پیار کا قائل نہیں ہُوں دوست جس کی جھلک سے ماند ہو اشکوں کی آبُرو اس موتیوں کے ہار کا قائل نہیں ہُوں دوست لایا ہُوں بے حساب گناہوں کی ایک فرد محبوب ہُوں شمار کا قائل نہیں ہُوں دوست ساغر بقدرِ ظرف لُٹاتا ہُوں نقدِ ہوش ساقی سے میں ادُھار کا قائل نہیں ہوں دوست (ساغر صدیقی)
Last reply by Zarnish Ali, -
- 1 reply
- 1.8k views
بزمِ کونین سجانے کے لیے آپ ﷺ آئے شمعِ توحید جلانے کے لیے آپ ﷺ آئے ایک پیغام ، جو ہو دل میں اُجالا کردے ساری دُنیا کو سُنانے کے لیے آپ ﷺ آئے ایک مدّت سے بھٹکتے ہوئے انسانوں کو ایک مرکز پہ بلانے کے لیے آپ ﷺ آئے ناخدا بن کے اُبلتے ہوئے طوفانوں میں کشتیاں پار لگانے کے لیے آپ ﷺ آئے قافلہ والے بھٹک جائیں نہ منزل سے کہیں دُور تک راہ دکھانے کے لیے آپ ﷺ آئے چشمِ بید کو اسرارِ خدائی بخشے سونے والوں کو جگانے کے لیے آپ ﷺ آئے (ساغر صدیقی) New Content added Less than in a minutes & merged. محمد ﷺ باعثِ حُسن جہاں ایمان ہے میرا محمد ﷺ حاصلِ کون و مکاں ایمان ہے میرا محمد ﷺ اوّل و آخر محمد ﷺ ظاہر و باطن محمد ﷺ ہیں بہر صورت …
Last reply by Zarnish Ali,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
