Jump to content

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to create topics, post replies to existing threads, give reputation to your fellow members, get your own private messenger, post status updates, manage your profile and so much more. If you already have an account, login here - otherwise create an account for free today!

Welcome to our forums
Welcome to our forums, full of great ideas.
Please register if you'd like to take part of our project.
Urdu Poetry & History
Here you will get lot of urdu poetry and history sections and topics. Like/Comments and share with others.
We have random Poetry and specific Poet Poetry. Simply click at your favorite poet and get all his/her poetry.
Thank you buddy
Thank you for visiting our community.
If you need support you can post a private message to me or click below to create a topic so other people can also help you out.

Leaderboard


Popular Content

Showing content with the highest reputation on 02/02/2019 in all areas

  1. 1 point
    اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل کم ظرف پر غرور ذرا اپنا ظرف دیکھ مانند جوش غم نہ زیادہ ابل کے چل فرصت ہے اک صدا کی یہاں سوز دل کے ساتھ اس پر سپند وار نہ اتنا اچھل کے چل یہ غول وش ہیں ان کو سمجھ تو نہ رہ نما سائے سے بچ کے اہل فریب و دغل کے چل اوروں کے بل پہ بل نہ کر اتنا نہ چل نکل بل ہے تو بل کے بل پہ تو کچھ اپنے بل کے چل انساں کو کل کا پتلا بنایا ہے اس نے آپ اور آپ ہی وہ کہتا ہے پتلے کو کل کے چل پھر آنکھیں بھی تو دیں ہیں کہ رکھ دیکھ کر قدم کہتا ہے کون تجھ کو نہ چل چل سنبھل کے چل ہے طرفہ امن گاہ نہاں خانۂ عدم آنکھوں کے روبرو سے تو لوگوں کے ٹل کے چل کیا چل سکے گا ہم سے کہ پہچانتے ہیں ہم تو لاکھ اپنی چال کو ظالم بدل کے چل ہے شمع سر کے بل جو محبت میں گرم ہو پروانہ اپنے دل سے یہ کہتا ہے جل کے چل بلبل کے ہوش نکہت گل کی طرح اڑا گلشن میں میرے ساتھ ذرا عطر مل کے چل گر قصد سوئے دل ہے ترا اے نگاہ یار دو چار تیر پیک سے آگے اجل کے چل جو امتحان طبع کرے اپنا اے ظفرؔ تو کہہ دو اس کو طور پہ تو اس غزل کے چل
  2. 1 point
    ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا تو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریبان اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشق تسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نے کی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا اس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے مفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا ٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا تم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا کیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نے صدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر اس کو اس شوخ نے تو دیکھنا اخبار بھی چھوڑا کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار مدت سے ظفرؔ اس نے وہ اقرار بھی چھوڑا www.fundayforum.com
  3. 0 points
    جب انسان اپنی وقعت کھو دے تو اس کے لئے بہترین پناہ خاموشی ہے. وضاحت کبھی سچا ثابت نہیں کر سکتی، ندامت کبھی نعم البدل نہیں ہو سکتی. الفاظ کبھی بھی انسان کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس نہیں دلا سکتے. ہاں ،خاموشی مزید تذلیل سے بچالیتی ہے۔۔۔! www.fundayforum.com
This leaderboard is set to Karachi/GMT+05:00
×
×
  • Create New...