Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Urooj Butt

Sweet Friend
  • Content count

    720
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    51

Profile Song

Urooj Butt last won the day on May 12

Urooj Butt had the most liked content!

Community Reputation

830 Excellent

About Urooj Butt

  • Rank
    Poetry Moderator
  • Birthday December 14

Profile Information

  • Gender
    Female
  • Location
    Gujrat
  • Interests
    Typing . . . .

Contact Methods

  • Facebook ID
    uroojbutt

Recent Profile Visitors

5,508 profile views
  1. نہ کسی کی دسترس میں تھا نہ کسی کے خواب و خیال میں مگر ایک شخص سما گیا میری ذات کے در و بام میں نہ کسی بھی نظم کا شعر تھا نہ کسی بھی لفظ کا حرف تھا مگر ایسے لفظوں میں بُن گیا مجھے خاص و خاص بنا گیا نہ کسی کی روح کا سکون تھا نہ کسی کے دل کا قرار تھا مگر ایسا جادو چلا گیا مجھے اپنا عشق چڑھا گیا تھا وہ شخص کتنا عجیب تر تھا وہ شخص کتنا قریب تر مجھے چھوڑ کر تو چلا گیا مگر عشق کرنا سکھا گیا
  2. Urooj Butt

    سگریٹ

    میں خود بھی یار تجھے بھولنے کے حق میں ہوں مگر یہ بیچ میں کمبخت شاعری اور سگریٹ
  3. اک شخص سے ہزار تعلق کے باوجود ایسا ہوا کے ہم کوئی وعدہ نہ کر سکے ہم ایک دوسرے سے محبت کے باوجود ہم ایک دوسرے کی تمنا نہ کر سکے
  4. چل عشق قلندر بنا مینوں کوئی اپنا رنگ چڑا مینوں میں بدصورت میں کم عقل میں اندر یار وسا بیٹھاں میرا گھر گھر چرچا پاگل دا چل تو وی پاگل بنا مینوں اک میں کملا دوجا یار کملا نِت کملے نے میرے نین اکھ کھولاں تے یار پاواں کوئی انج داجادو سکھا مینوں میرے روپ دے وچ اک روپ ہوئے لوکی دین نفیس مِثل میری اے پاگل تن نوں لا بیٹھا کوئی انج دا رُوپ چڑا مینوں جدوں وقت میرا اخیر ہوئے وچ پیراں میرے زنجیر ہوئے نچ نچ کہ یار منا لواں رَبا انج دی موت ویکھا مینوں چل عشق قلندر بنا مینوں اک وار تے یار ملا مینوں۔
  5. سوچ کر بتاؤ نا پچھلا سال یاد ھے؟ میں نے اور تم نے جو وصل کی زمینوں پر رات کی گواھی میں اک نئے تعلق کا وہ جو بیج بویا تھا اسکا کیا ہوا آخر اس کے تن سے رشتے کی کونپلیں نہیں پھوٹیں دن کی روشنی لیکر میں نے بارھا جا کر وصل کی زمینوں پر ان چھپے خزینوں پر پیار کے سبھی منتر پڑھ کے پھونک ڈالے ھیں صبر کی کدالوں سے ھجر کے سوالوں سے اسکے چپے چپے کو کھول کھول دیکھا ھے پر وہ بیج. . . . . نامعلوم ؟ گر برا نہ مانو تم ایک بات بتلاؤ میں نے ہل چلایا تھا بیج تم نے ڈالا تھا سوچ کر بتاؤ نا تم نے بیج ڈالا تھا؟
  6. تو بھی اب چھوڑ دے انداز ستانے والے حوصلے اب کہاں اس دل میں پرانے والے یہ خزانے ھیں زمانے سے چھپانے والے زخم ھوتے نہیں ھیں دل کے دکھانے والے تو بھی ھر چیز کی اب مجھ سے وضاحت چاھے ھو گئے تیرے بھی اسلوب پرانے والے اب اندھیروں میں یوں چپ چاپ پڑے رھتے ھیں ھم , چراغوں کو سر شام جلانے والے جن کی تقدیر میں تعبیر نہیں ھوتی ھے اب وہ آتے ھی نہیں خواب سہانے والے آشنا لذت گریہ سے کیا ھے تو نے ھو تری خیر مجھے روگ لگانے والے
  7. عُمر کا بھروسہ کیا، پَل کا ساتھ ہوجائے ایک بار اکیلے میں، اُس سے بات ہوجائے دِل کی گُنگ سرشاری اُس کو جِیت لے، لیکن عرضِ حال کرنے میں احتیاط ہوجائے ایسا کیوں کہ جانے سے صرف ایک اِنساں کے ساری زندگانی ہی، بے ثبات ہوجائے یاد کرتا جائے دِل، اور کِھلتا جائے دِل اوس کی طرح کوئی پات پات ہوجائے سب چراغ گُل کرکے اُس کا ہاتھ تھاما تھا کیا قصور اُس کا، جو بَن میں رات ہوجائے ایک بار کھیلےتو، وہ مِری طرح اور پھر جِیت لے وہ ہر بازی مجھ کو مات ہوجائے رات ہو پڑاو کی پھر بھی جاگیے ورنہ آپ سوتے رہ جائیں، اور مات ہوجائے
  8. بُری نہیں جناب بہت بُری ہوں 
    وفا کے نام پر داغ سمجھ لیجیئے

  9. اُنہیں بس ہم سے رغبت تھی تھے ہم بھی جانتے لیکن ہمیں ان کا بکھر جانا بکھر کے پھر سمٹ جانا ہمارے ہاتھ کو تھامے ہم سے پھر لپٹ جانا بہت مجبور کرتا تھا کہ اپنے دل کے تہہ خانے میں دفنائے ہوئے سب غم سبھی رنج و ستم ان کے نہ لکھ ڈالیں کتابوں پر کہ لکھ دینے سے یوں شکوے کوئی ان کو نہ کہہ ڈالے جو کہہ ڈالے کوئی احمق انہیں ظالم٬ ہمیں مظلوم تو ہم کیا معاف کر دیں گے؟ خود ہی کو بخش دیں گے ہم؟ ارے جاناں! ارے پاگل نہیں ہوتا کبھی ایسا محبت کے فسانےمیں جسے ہم سونپ دیں سب کچھ اسے ہم بخش دیتے ہیں سبھی خوشیاں زمانے کی اگرچہ جان بھی جائے خوشی سے سونپ آتے ہیں صنم کی اک جھلک پر ہم خود ہی کو وار دیتے ہیں جو وہ کہہ دیں کہ ہنسنا مت ہنسی قربان کر دیں ہم جو کہہ دیں وہ کہ رونا مت تو آنکھیں خشک ہو جائیں جو وہ کہہ دیں کہ میرے ہو تو کیسا ظلم ہو جاناں جن پہ پہلے مرتے ہوں خوشی سے پھر سے مر جائیں چلو سن لو کیوں رغبت تھی انہیں ہم سے بس اک دم سے ہم ان پہ مر مٹے تھے بس وہ ہم سے جی اٹھے تھے بس یونہی سب عشق بن بیٹھا ہمیں برباد کر بیٹھا انہیں کیوں ہم سے رغبت تھی لو تم بھی جان بیٹھے ہو انہیں کیوں ہم سے رغبت تھی انہیں کیوں ہم سے رغبت تھی ©S.S Writes
  10. سنو اے محرمِ ہستی سنو اے زیست کی حاصل مجھے کچھ دن ہوئے شدت سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں دنیا میں خود کو جس قدر بھی گم کروں مجھ کو تمہارا دھیان رہتا ہے میرے معمول کے سب راستے اب بھی تمہاری سوچ سے ہو کر گزرتے ہیں تمہاری مسکراہٹ آج بھی اس زندگی میں روشنی کا استعارہ ہے تمہارے ہجر سے اب تک میرے دل کے درودیوار پر وحشت برستی ہے میرے اندر کی ویرانی مجھے ہر آن ڈستی ہے بہت سے ان کہے جذبے جو ہم محسوس کرتے تھے وہ مجھ سے بات کرتے ہیں میری تنہائیاں اب بھی تمہارے عکس کی پرچھائیوں کو ڈھونڈ لیتی ہیں سنو اے محرمِ ہستی میں اپنے آپ سے کب تک لڑوں؟؟ کب تک میں خود سے جھوٹ بولوں میں تمہارے بعد زندہ ہوں، مکمل ہوں میں اپنے کھوکھلے پن کو چھپاؤں کس طرح خود سے؟؟ اٹھائے کب تلک رکھوں انا کا ماتمی پرچم؟؟ میں کب تک یہ کہوں سب سے؟؟ کہ میں اس ہجر میں خوش ہوں سنو اے زیست کی حاصل مجھے اقرار کرنا ہے، میں اپنے آپ سے لڑتے ہوئے اب تھک چکا ہوں کہ میں تو اس لڑائی میں کئی راتوں کی نیندیں اور کئی خوشیوں بھرے موسم فقط اک جھوٹ میں جینے کی خاطر ہار آیا ہوں سنو اے محرم ہستی تمہاری خواب سی آنکھوں نے مجھ کو باندھ رکھا ہے میں ان دیکھی یہ ڈوریں توڑنے کاسوچتا ہوں جب تو میری سانس رکتی ہے میں بزدل ہوں، تمہیں کھونے سے مجھ کو خوف آتا ہے تمہارے ہجر میں جینا تمہیں کھونے سے بہتر ہے سنو اے محرم ہستی مجھے تسلیم کرنے دو! میری اس زندگانی کا تمہی روشن حوالہ ہو میری تکمیل تم سے ہے ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ تمہیں کھونے کا سوچوں بھی تو میری سانس رکتی ہے سنو اے محرمِ ہستی ..سنو اے زیست کی حاصل
  11. بہت سُلجھی ہوئی لڑکی بہت سُلجھی ہوئی لڑکی جس نے عمر کا اک ناسمجھ عرصہ بہت محتاط ہو کر گزارا تھا ملی خود ایسے لڑکے سے کہ جس کے لفظ جادو تھے وہ کہتی زخم ہے تو لفظ مرحم تھے وہ کہتی غم ہے، تو لفظ ھمدم تھے اُنہی لفظوں کی مٹھی میں تھمائے اپنی اُنگلی کو، نئی اک راہ پہ چل دی، وہی سُلجھی ہوئی لڑکی گلابی تتلیاں مٹھّی میں جیسے قید لگتی تھیں ہر اک خواب جیسے پیرہن اُوڑھے نکلتا تھا شبیں آباد لگتی تھیں وہ کہتا تھا کہ سُندر ہو، تو وہ چاہتی کہ میں کچھ اور بھی سُندر نظر آؤں یہ لڑکا اپنے دل کے کواڑ کھولے اور میں اندر نظر آؤں وہ کہتا کہ یہ آنکھیں تو وہ آنکھیں ہیں جن پہ جنگ ہو جائے اور وہ سُلجھی ہوئی لڑکی یہ سُن کے یوں نکھرتی تھی کہ جیسے شام میں شامل ، شفق کا رنگ ہو جائے بڑے دلکش سے پیرائے میں ہوتی گفتگو کو کس طرح روکیں یہ بس ایک اُلجھن تھی مگر اُلجھن بھی کیسی " خوشگوار اُلجھن " کہ جس میں مبتلا دونوں ہی یکسر شاد لگتے تھے دلوں کے حال "وہ" جانے بظاہر تو بہت آباد لگتے تھے یہی محسوس ہوتا تھا کہ جیسے عمر گھٹ کے پھر سے سولہ سال ہو جائے ذرا سی دیر کو منقطع ہو رابطہ اُن سے بُرا سا حال ہو جائے اور پھر جیسے، ہر ایک اچھی کہانی میں کوئی منظر بدلتا ہے یہاں بھی روز و شب بدلے ذرا سی بات پہ رنجش ذرا سی بات پہ جھگڑے یہ مجھ سے تم بات کرتی ہو، تو کیوں کھو سی جاتی ہو۔۔۔۔ " خاموشی اوڑھ لیتی ہو، یہ تم کیوں سو سی جاتی ہو " تمہیں کچھ پاس ہے میرا" ؟ "کوئی احساس ہے میرا"؟ وفا سے دور لگتی ہو مجھے تم چاہتی کب ہو فقط مجبور لگتی ہو اگر تم سے نبھا لوں گا تو تم ناشاد کر دو گی رہو گی ساتھ میرے، مجھے برباد کر دو گی چلو اب جی لیا کافی، ابھی واپس پلٹ جاؤ مجھے آواز مت دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے واپس نہیں آنا ۔۔۔۔۔۔ میں گر کوئی فیصلہ کر لوں، تو پھر اُس کو نبھاتا ہوں۔۔۔۔ میں خود تعمیر کرتا ہوں، سو میں خود ہی گراتا ہوں تو یہ تو سوچنا بھی مت کہ گر آنسو بہاؤ گی تو اپنے فیصلے میں میں کوئی ترمیم کر دوں گا "ہاں !گر پھر بھی نہ سمجھیں تم تو ایسی ضرب دوں گا کہ تمہیں تقسیم کر دوں گا مگر تقسیم تو تب تک بخوبی ہو چکی تھی جہاں وہ تھی، وہاں اُلجھی ہوئی سی اجنبی لڑکی، کئی حصّوں میں بٹ کے بھی کھڑی تھی یقین سے بے یقینی تک کا رستہ سوچتی تھی ستم جتنے بھی لڑکی نے اُٹھائے' اُن' کی مرضی ہیں رہے واضح ، کہ کہانی کے سبھی کردار فرضی ہیں
  12. Urooj Butt

    تمہیں ہم نے پکارہ ہے

    وہ تیرا غم تھا کہ تاثیر میرے لہجے کی کہ جس کو حال سناتے اسے رُلا دیتے۔۔۔ تمہیں بھلانا ہی اوّل تو دسترَس میں نہیں جو اختیار بھی ہوتا تو کیا بھُلا دیتے۔۔۔۔۔ ؟
  13. ‏کبھی مصروف لمحوں میں اچانک دل جو دھڑکے تو کبھی بےچین سے ہوکر ہر اک سانس تڑپے تو کوئی آتش سی تن من میں اچانک جل کے بھڑکے تو اے جانِ زندگی تب اتنا سمجھ لینا یہمحبت کا اشارہ ہے تمہیں ہم نے پکارا ہے
  14. Urooj Butt

    Share Your Favorite poetry Here

    میری محبت کی نہ سہی شاعری کی تو داد دے روز میں تیرا ذکر کرتی ہوں بغیر تیرا نام لیے .
  15. ﻣﯿﺮﯼﻣﺤﺒﺖﺑﮩﺖﻋﺠﯿﺐﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﺠﺮ نہیں ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽﺩﯾﺪﮐﺎﺍﺭﻣﺎﮞﻧﮩﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮩﯽ ﺍﻥ ﮐﮩﯽ ﮐﺎ ﮔﻤﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺎﮔﻨﺎ ﻧﮧ ﺩﻥ ﮐﻮ ﺟﻠﻮﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮﺋﮯ ﮐﮭﻮﺋﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﻧﮧﺑﯿﮑﺮﺍﮞﺳﻤﻨﺪﺭﮨﮯﺁﻧﮑﮭﻮﮞﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﮯ ﺟﮭﻤﯿﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺲ " ﺗﻮ " ﺟﺐ ﻧﻈﺮ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ تیریﺍﮎﻧﻈﺮ ﻣﺠﮫﭘﮧﺍﭨﮭﮯﯾﺎﻧﮧﺍﭨﮭﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﺱ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪﮪ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﯿﺮﯼ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﭘﮧ ﮐﮭﭩﮏ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﯿﺮﯼﮨﻨﺴﯽﻣﯿﮟﮨﻨﺲﺩﯾﻨﺎ تیریﺗﮍﭖﭘﮧﺗﮍﭖﺟﺎﻧﺎ ❤❤ﻣﯿﺮﯼﻣﺤﺒﺖﺑﺲﺍﯾﺴﯽﮨﮯ❤❤
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×