Jump to content
News Ticker
  • Welcome to Fundayforum.com
  • Please Register Your ID For More Access.

Urooj Butt

Sweet Friend
  • Content Count

    790
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    64

Urooj Butt last won the day on September 19

Urooj Butt had the most liked content!

Community Reputation

858 Excellent

5 Followers

About Urooj Butt

  • Rank
    Poetry Moderator
  • Birthday January 1

Profile Information

  • Gender
    Female
  • Interests
    Have Nothing special to tell
  • Location
    Pakistan

Contact Methods

  • Facebook ID
    Urooj Butt

Recent Profile Visitors

6,413 profile views
  1. Urooj Butt

    رنج فراق یار

    رَنـــجِ فـــراقِ یار میں رُســــوا نہیں ہُوا اتنا مــــیں چُپ ہُوا کہ تماشہ نہیں ہُوا ایساسفر ہےجس میں کوئی ہمسفر نہیں رستہ ہے اس طــرح کا کہ دیکھا نہیں ہُوا مشکل ہُوا ہے رہنا ہمـــیں اِس دیار مــیں برسوں یہاں رہے ہـــیں ، یہ اپنا نہیں ہُوا وہ کام شاہِ شــہر سے یا شــہر سے ہُوا جــو کام بھی ہُوا ، یـــہاں اچھا نہیں ہُوا ملنا تھا ایک بار اُسے پھـــر کہیں ' منیرؔ ایسا مـــیں چاھتا تھا، پر ایسا نہیں ہُوا؎! منیر نیازی
  2. یہ معجزہ بھی محبّت کبھی دِکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گِرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہُوں سائے کو بدن مِرا ہی سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے بَرنگِ عَود مِلے گی اُسے مِری خوشبُو وہ جب بھی چاہے، بڑے شوق سے جَلائے مجھے میں گھر سے، تیری تمنّا پہن کے جب نِکلوں برہنہ شہر میں ‌کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نُکتہ چِیں میرا جو مُسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے میں اپنے دِل سے نِکالوں خیال کِس کِس کا جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے زمانہ درد کے صحرا تک آج لے آیا گُزار کر تِری زُلفوں کے سائے سائے مجھے وہ میرا دوست ہے، سارے جہاں‌ کو ہے معلوُم دَغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے وہ مہْرباں ہے، تو اِقرار کیوں نہیں کرتا وہ بدگُماں ہے، تو سو بار آزمائے مجھے میں اپنی ذات میں نِیلام ہو رہا ہُوں، غمِ حیات سے کہہ دو خرِید لائے مجھے - قتیل شفائی
  3. Urooj Butt

    دشوار

    کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی تجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھی کیسی آداب نمائش نے لگائیں شرطیں پھول ہونا ہی نہیں پھول نظر آنا بھی دل کی بگڑی ہوئی عادت سے یہ امید نہ تھی بھول جائے گا یہ اک دن ترا یاد آنا بھی جانے کب شہر کے رشتوں کا بدل جائے مزاج اتنا آساں تو نہیں لوٹ کے گھر آنا بھی ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں تیرا ہونا بھی نہیں اور ترا کہلانا بھی خود کو پہچان کے دیکھے تو ذرا یہ دریا بھول جائے گا سمندر کی طرف جانا بھی جاننے والوں کی اس بھیڑ سے کیا ہوگا وسیمؔ اس میں یہ دیکھیے کوئی مجھے پہچانا بھی
  4. تُو سمجھتا ہے محبت سے گزر جائے گا ؟ تُو جو نکلے گا کناروں سے تو مر جائے گا یہ ضروری تو نہیں ہجر کے لمحات گنوں "وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گا" یہ ترے بس کا نہیں روگ، میاں چھوڑ اسے تُو بدن چاٹ کے الفت سے مکر جائے گا میرے رونے سے سمندر میں اضافہ نہ سہی کم سے کم آنکھ کا دریا تو اتر جائے گا اے مرے عکسِ جنوں دیکھ مرے چہرے کو تُو بھی خاموش رہے گا تو بکھر جائے گا قیس کو قیس نما اور مجھے قیس کہا میں نہ کہتا تھا مجھے دیکھ کے ڈر جائے گا
  5. دل کی تکلیف کم نہیں کرتے اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے جان جاں تجھ کو اب تیری خاطر یاد ہم کوئی دم نہیں کرتے دوسری ہار کی ہوس ہے سو ہم کو سر تسلیم خم نہیں کرتے وہ بھی پڑھتا نہیں ہے اب دل سے ہم بھی نالے کو نم نہیں کرتے جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے جون ایلیاء
  6. جب کوئی پیار سے بلائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے لذت غم سے آشنا ہو کر اپنے محبوب سے جدا ہو کر دل کہیں جب سکوں نہ پائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا تیرے لب پہ نام ہو گا پیار کا شمع دیکھ کر جلے گا دل تیرا جب کوئی ستارہ ٹمٹمائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا زندگی کے درد کو سہو گے تم دل کا چین ڈھونڈتے رہو گے تم زخم دل جب تمہیں ستائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا جب کوئی پیار سے بولائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا
  7. گرمیِ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لئے ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیال سے ہم شعلۂ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوۂ اربابِ وفا جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں قتیل شفائی
  8. اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا لفظ گِرنے نہ پائے ہونٹوں سے وقت کے ہاتھ اُن کو چُن لیں گے کان رکھتے ہیں یہ در و دیوار راز کی ساری بات سُن لیں گے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا ایسے بولو کہ دِل کا افسانہ دِل سُنے اور نِگاہ دُہرائے اپنے چاروں طرف کی یہ دُنیا سانس کا شور بھی نہ سُن پائے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا آئیے بند کر لیں دروازے رات سپنے چُرا نہ لے جائے کوئی جھونکا ہَوا کا آوارہ دِل کی باتوں کو اُڑا نہ لے جائے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہو گا
  9. اِک سوچ عقل سے پھسل گئی مجھے یاد تھی کےبدل گئ میری سوچ تھی کے وہ خواب تھا میری زندگی کا حساب تھا میری جستجو کے بر عکس تھی میری مشکلوں کا وہ عکس تھی مجھے یاد ہو تو وہ سوچ تھی جو نہ یاد ہو تو گُمان تھا مجھے بیٹھے بیٹھے گُماں ہوا گُماں نہیں تھا وہ خُدا تھا میری سوچ نہیں تھی-خُدا تھا وہ وہ خُدا کے جس نے زباں،دِل دیا جان دی وہ زباں کے جسے نا چلا سکیں وہی دِل جسے نا منا سکیں وہی جاں جسے نا لگا سکیں کبھی مل تو تُجھے بتا ئیں ہم تُجھے اس طرح سےستائیں ہم تیرا عشق تُجھ سے چھین کر تُجھے مے پِلا کے رُلائیں ہم تُجھ درد دوں تو نہ سہے َسکے تُجھے دوں زُباں تو نا کہے سَکے تُجھے دوں مکاں تو نہ رہے سَکے تُجھے مشکلوں میں گِھرا کر میں کوئی ایسا رستا نکال دوں تیرے درد کی میں دوا کروں کسی غرض کے میں سوّا کروں تُجھے ہر نظر پے عُبور دوں تُجھے زندگی کا شعور دوں کبھی مل بھی جائیں گے غم نہ کر ہم گر بھی جائیں گے غم نہ کر تیرے ایک ہونے میں شَک نہیں میری نِیّتوں کو تُو صاف کر تیری شان میں بھی کَمّی نہیں میرے اس کلام کو تُو معاف کر.. علی ہمدانی
  10. Urooj Butt

    انصاف کرو

    Thnx buddy😊
  11. Urooj Butt

    انصاف کرو

    تم کن پر نظمیں لکھتے ھو ؟؟ تم کن پر گیت بناتے ھو ؟؟ تم کن کے شعلے اوڑھتے ھو؟؟ تم کن کی آگ بجھاتے ھو ؟؟ اے دیدہ ورو انصاف کرو اُس آگ پہ تم نے کیا لکھا؟؟ جس آگ میں سب کچھ راکھ ھُوا مری منزل بھی ، میرا رستہ بھی مرا مکتب بھی ، میرا بستہ بھی مرے بستے کے لشکارے بھی مرے ست رنگے غبارے بھی مرے جگنو بھی ، میرے تارے بھی اے دیدہ ورو انصاف کرو وہ راہ نہیں دیکھی میں نے جو مکتب کو جاتی ھے اِس ھَوا نے مجھ کو چُھوا نہیں جو نیندوں کو مہکاتی ھے اور میٹھے خواب دکھاتی ھے اس کرب پہ تم نے کیا لکھا ؟؟ اے دیدہ ورو انصاف کرو مری تختی کیسے راکھ ھُوئی ؟؟ مرا بستہ کس نے چھین لیا ؟؟ مری منزل کس نے کھوٹی کی ؟؟ مرا رستہ کس نے چھین لیا ؟؟ انصاف کرو اے دیدہ ورو انصاف کرو (اعتبار ساجد)
  12. لگتا تو یوں ہے جیسے سمجھتا نہیں ہے وہ معصوم جتنا لگتا ہے اتنا نہیں ہے وہ مجھ میں بسا ہوا بھی ہے وہ سر سے پیر تک اور کہہ رہا ہے یہ بھی کہ میرا نہیں ہے وہ کر دونگا موم باتوں میں سوز و گداز سے جذبات کی تپش سے مبرا نہیں ہے وہ واضح یہ کر چکا ہے یقیں دل کے وہم پر میرا ہے صرف اور کسی کا نہیں ہے وہ رہتا ہے اس کے ساتھ ہمیشہ مرا خیال تنہایوں میں رہ کے بھی تنہا نہیں ہے وہ ہوگا غلط بیان میں مجبوریوں کا ہاتھ حق بات ورنہ یہ ہے کہ جھوٹا نہیں ہے وہ ٹھہرا وہ پھول، بوسے لبوں کے ملے اسے پتوں کی طرح پیروں میں آیا نہیں ہے وہ مرنے کے بعد آیا ہے کرنے مرا علاج مانا کہ چارہ گر ہے. مسیحا نہیں ہے وہ جاوید رات دن ہے ترا انتظار اسے کہنے کو تیرے پیار کا بھوکا نہیں ہے وہ ڈاکٹر جاوید جمیل
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×