Jump to content

Please Disable Your Adblocker. We have only advertisement way to pay our hosting and other expenses.  

Search the Community

Showing results for tags 'parveen shakir'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Premium Files
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 11 results

  1. تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں تجھ سے خوشبو کے مراسم تجھے کیسے کہیں میری سوچوں کا اُفق تیری محبت کا فُسوں میرے جذبوں کا دل تیری عنایت کی نظر کیسے خوابوں کے جزیروں کو ہم تاراج کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اب کوئی اور نہیں میری تمنا کا دل اب تو باقی ہی نہیں کچھ جسے برباد کریں تیری تقسیم کسی طور ہمیں منظور نہ تھی پھر سرِ بزم جو آئے تو تہی داماں آئے چُن لیا دردِ مسیحائی تیری دلدار نگاہی کے عوض ہم نے جی ہار دیئے لُٹ بھی گئے کیسےممکن ہے بھلا خود کو تیرے سحر سے آزاد کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اس قدر سہل نہیں میری چاہت کا سفر ہم نے کانٹے بھی چُنے روح کے آزار بھی سہے ہم سے جذبوں کی شرح نہ ہو سکی کیا کرتے بس تیری جیت کی خواہش نے کیا ہم کو نِڈھال اب اسی سوچ میں گزریں گے ماہ و سال میرے تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں پروین شاکر
  2. Zarnish Ali

    koi sawal jo pochy

    کوئی سوال جو پُوچھے ،تو کیا کہوں اُس سے بچھڑنے والے!سبب تو بتا جدائی کا پروین شاکر شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا سِوا ہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہو گا ہمیں بھی شوق تھا کُچھ بخت آزمائی کا جو میرے سر سے دوپٹہ نہ ہٹنے دیتا تھا اُسے بھی رنج نہیں میری بے ردائی کا سفر میں رات جو آئی تو ساتھ چھوڑ گئے جنھوں نے ہاتھ بڑھایا تھا رہنمائی کا ردا چھٹی مرے سر سے،مگر میں کیا کہتی کٹا ہُوا تو نہ تھا ہاتھ میرے بھائی کا ملے تو ایسے، رگِ جاں کو جیسے چھُو آئے جُدا ہُوئے تو وہی کرب نارسائی کا کوئی سوال جو پُوچھے ،تو کیا کہوں اُس سے بچھڑنے والے!سبب تو بتا جدائی کا میں سچ کو سچ ہی کہوں گی ،مجھے خبر ہی نہ تھی تجھے بھی علم نہ تھا میری اس بُرائی کا نہ دے سکا مجھے تعبیر،خواب تو بخشے میں احترام کروں گی تری بڑائی کا
  3. Darwaza Jo Khula Tu Nazar Aye Khare Wo دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ بُھولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ ! راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات خوشبو سی برسنے لگی، یوں پُھول جھڑے وہ ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ بچے کی طرح چاند کو چُھونے کی تمنا دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ پروین شاکر
  4. بادباں کھُلنے سے پہلے کا اشارا دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارا دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جب بنامِ دل گواہی ہم سے مانگی جائے گی خون میں ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئینے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لئے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمہارا دیکھنا ایک مشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (پروین شاکر)
  5. ایک بار کھیلےتو، وہ مِری طرح اور پھر جِیت لے وہ ہر بازی مجھ کو مات ہوجائے پروین شاکر عُمر کا بھروسہ کیا، پَل کا ساتھ ہوجائے ایک بار اکیلے میں، اُس سے بات ہوجائے دِل کی گُنگ سرشاری اُس کو جِیت لے، لیکن عرضِ حال کرنے میں احتیاط ہوجائے ایسا کیوں کہ جانے سے صرف ایک اِنساں کے ! ساری زندگانی ہی، بے ثبات ہوجائے یاد کرتا جائے دِل، اور کِھلتا جائے دِل اوس کی طرح کوئی پات پات ہوجائے سب چراغ گُل کرکے اُس کا ہاتھ تھاما تھا کیا قصور اُس کا، جو بَن میں رات ہوجائے ایک بار کھیلےتو، وہ مِری طرح اور پھر جِیت لے وہ ہر بازی مجھ کو مات ہوجائے رات ہو پڑاو کی پھر بھی جاگیے ورنہ ! آپ سوتے رہ جائیں، اور ہات ہوجائے
  6. View File Kaf-e-Aena parveen shakir Download or Read Online Kaf e aena Urdu Novel By Parveen shakir in Pdf. Submitter waqas dar Submitted 12/27/2016 Category Urdu Novels Writer/Author Parveen Shakir
  7. View File Kaf e Aaina By Parveen Shakir Free Download کفِ آئینہ پروین شاکر‎ PDF downloading problem click here and Read First. Search Books Poetry(شاعری) Kaf e Aaina By Parveen Shakir Free Download Kaf e Aaina By Parveen Shakir Free Download کفِ آئینہ پروین شاکر‎ Kaf-e-Aaina" is a verse book of Parveen Shakir,A splendid Urdu verse gathering by Parveen Shakir, a famous poetess of Urdu from Pakistan. Her first book of verse accumulation is "Khushboo". She was likewise an educator and a common servant. She was , actually, an exceedingly taught personality. Parveen Shakir (November 24, 1952 – December 26, 1994) was a Urdu artist, educator and a common servant of the Government of Pakistan. Parveen began composing at an early age and distributed her first volume of verse, Khushbu [fragrance], to incredible recognition, in 1976. She therefore distributed different volumes of verse - all generally welcomed - Sad-barg [marsh Marigold] in 1980, Khud Kalami [soliloquy] and Inkar [denial] in 1990, Kaf e Aina [the Mirror's Edge] other than a gathering of her daily paper segments, titled Gosha-e-Chashm [the Sight Corner], and was recompensed one of Pakistan's most elevated respects, the Pride of Performance for her exceptional commitment to writing. The verse books are gathered in the volume Mah e Tamam [full Moon] except for Kaf e Aina. Parveen passed on in 1994 in a pile up while on her appr. Now you can free download or read online her book "Kaf-e-Aaina" just by clicking on the beneath connections. Submitter waqas dar Submitted 07/22/2016 Category General Books Book is About Poetry
  8. waqas dar

    Mehkey Gajrey

    ونہی مرجھا سے گئے ہوں گے مہکتے گجرے جانے والا نہ مگر لوٹ کے آیا ہو گا دل کہ.. محروم تمنا ھے مگر خوش پھر بھی حوصلہ وقت نے کیا کیا نہ سکھایا ہو گا جو میرا نام بھی لیتا تھا دعاوں کی طرح سوچتا ہوں مجھے کس طور سے بھولا ہو گا چاند ھر جگہ یہی ھو گا مگر اس کے سبب ھنس پڑا ہو گا کوئی اور کوئی روتا ہو گا یاد کر کے تو میرے پیار کو روتا ہو گا چاند جب جب تیرے آنگن میں اترتا ھو گا پرویں شاکر
  9. وہ جب سے شہر خرابات کو روانہ ہُوا براہِ راست مُلاقات کو زمانہ ہُوا وہ شہر چھوڑ کے جانا تو کب سے چاہتا تھا یہ نوکری کا بُلاوا تو اِک بہانہ ہوا خُدا کرے تری آنکھیں ہمیشہ ہنستی رہیں یہ آنکھیں جن کو کبھی دُکھ کا حوصلہ نہ ہُوا کنارِ صحن چمن سبز بیل کے نیچے وہ روز صبح کا مِلنا تو اَب فسانہ ہُوا میں سوچتی ہوں کہ مُجھ میں کمی تھی کِس شے کی کہ سب کا ہوکے رہا وہ، بس اِک مرا نہ ہُوا کِسے بُلاتی ہیں آنگن کی چمپئی شامیں کہ وہ اَب اپنے نئے گھر میں بھی پرانا ہُوا دھنک کے رنگ میں ساری تو رنگ لی میں نے اب یہ دُکھ ، کہ پہن کرکِسے دِکھاناہُوا میں اپنے کانوں میں بیلے کے پُھول کیوں پہنوں زبانِ رنگ سے کِس کو مُجھے بُلانا ہُوا پروین شاکر
  10. تو ملا ہے تو اب یہ غم ہے پیار زیادہ ہے زندگی کم ہے (پروین شاکر)
  11. کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی ____________________________________ پروین شاکرؔ
×