Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'poetry'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 1,012 results

  1. مانگا تھے جسے دن رات ھواؤں میں تم چھت پر نہیں آئے میں گھر سے نہیں نکلا یہ چاند بہت بھٹکا ساون کی گھٹاؤں میں اس شہر میں اک لڑکی بالکل ھے غزل جیسی بجلی سی گھٹاؤں میں خوشبو سی ھواؤں میں موسم کا اشارہ ھے خوش رہنے دو بچوں کو معصوم محبت ھے پھولوں کی خطاؤں میں ھم چاند ستاروں کی راھوں کے مسافر ھیں ھر رات چمکتے ھیں تاریک خلاؤں میں بھگوان ھی بھیجیں گے چاول سے بھری تھالی مظلوم پرندوں کی معصوم سبھاؤں میں دادا بڑے بھولے تھے سب سے یہی کہتے تھے کچھ زہر بھی ھوتا ھے انگریزی دواؤں میں
  2. کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ‏کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ، جب خیال آئے گا ظلم ، جبر ، صبر کا جب سوال آئے گا عقل ہے، شعور ہے پھر بھی ایسی بے فکر تب کی تب ہی دیکھیں گے جب زوال آئے گا یوں تو ہم ملائک ہیں ، بشر بھی کبھی ہونگے دُسروں کے دُکھ پہ جب ملال آئے گا ‏لہو بھی رگوں میں اب جم سا گیا ہے کچھ آنکھ سے بھی ٹپکے گا جب اُبال آئے گا دیکھ مت فقیروں کو اس طرح حقارت سے آسمان ہلا دیں گے جب جلال آئے گا پگڑیاں تو آپ کی بھی ایک دن اُچھلیں گی آپ کے گناہوں کا جب وبال آئے گا شاعری ابھی ہمارے دل کی بھڑاس ہے بالوں میں جب سفیدی ہو گی کمال آئے گا ‏جس کو مجھ سے کہنا ہے ، جو کچھ بھی ، ابھی کہ دو خاک جب ہو جاؤں گا تب خیال آئے گا ؟ آج کل کے مسلم بھی فرقہ فرقہ پھرتے ہیں ایک یہ تبھی ہوں گے جب دجال آئے گا
  3. ﻓﺮﯾﺐِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ﻓﺮﯾﺐِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ، ﺟﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﻨﮑﺸﻒ ھﻮ ﮔﯽ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻭھﯽ ﺍﮎ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ، ﺗﻌﻠّﻖ ﺳﺮﺳﺮﯼ ﺳﺎ ﺗﮭﺎ ھﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ھﻮﺗﮯ ھﯿﮟ ، ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻟﮑﮭﺎ ھﮯ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ، ﻋﺠﯿﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﭩﻨﺎ ھﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻮ ، ﺍُﺳﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ھﻤﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﻧﮧ ﺧﻮﺵ ﺍﺗﻨﺎ ، ﻟﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺳﮯ ھﻤﺎﺭﯼ ﺁنکھ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﮯ ھﺰﺍﺭﻭﮞ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﮭﮑﮯ ھﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻣﮕﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﺻﺪﺍ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺷﮑﺴﺘﮧ ﭘﺎ ﭼﻠﮯ آئے ، ھﻤﺎﺭﮮ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ
  4. تم کہ سنتے رہے اوروں کی زبانی لوگو ہم سُناتے ہیں تمہیں اپنی کہانی لوگو کون تھا دشمنِ جاں وہ کوئی اپنا تھا کہ غیر ہاں وہی دُشمنِ جاں دلبرِ جانی لوگو زُلف زنجیر تھی ظالم کی تو شمشیر بدن رُوپ سا رُوپ جوانی سی جوانی لوگو سامنے اُسکے دِکھے نرگسِ شہلا بیمار رُو برو اُسکے بھرے سَرو بھی پانی لوگو اُسکے ملبوس سے شرمندہ قبائے لالہ اُس کی خوشبو سے جلے رات کی رانی لوگو ہم جو پاگل تھے تو بے وجہ نہیں تھے پاگل ایک دُنیا تھی مگر اُس کی دِوانی لوگو ایک تو عشق کیا عشق بھی پھر میر سا عشق اس پہ غالب کی سی آشفتہ بیانی لوگو ہم ہی سادہ تھے کِیا اُس پہ بھروسہ کیا کیا ہم ہی ناداں تھے کہ لوگوں کی نہ مانی لوگو ہم تو اُس کے لئے گھر بار بھی تج بیٹھے تھے اُس ستمگر نے مگر قدر نہ جانی لوگو کس طرح بھُول گیا قول و قسم وہ اپنے کتنی بے صرفہ گئی یاد دہانی لوگو اب غزل کوئی اُترتی ہے تو نوحے کی طرح شاعری ہو گئی اب مرثیہ خوانی لوگو شمع رویوں کی محبت میں یہی ہوتا ھے رہ گیا داغ فقط دل کی نشانی لوگو ( احمد فراز ) AHMAD FRAZ
  5. Hareem Naz

    Ehsas e gham

    محرومِ خواب دیدۂ حیراں نہ تھا کبھی تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی تھا لطفِ وصل اور کبھی افسونِ انتظار یوں دردِ ہجر سلسلہ جنباں نہ تھا کبھی پرساں نہ تھا کوئ تو یہ رسوائیاں نہ تھیں ظاہر کسی پہ حالِ پریشاں نہ تھا کبھی ہر چند غم بھی تھا مگر احساسِ غم نہ تھا درماں نہ تھا تو ماتمِ درماں نہ تھا کبھی دن بھی اُداس اور مری رات بھی اداس ایسا تو وقت اے غمِ دوراں نہ تھا کبھی دورِ خزاں میں یوں مرا دل بے قرار ہے میں جیسے آشناۓ بہاراں نہ تھا کبھی کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی بے کیف و بے نشاط نہ تھی اس قدر حیات جینا اگرچہ عشق میں آساں نہ تھا کبھی
  6. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  7. بازوؤں کی چھـتری تھی بازوؤں کی چھـتری تھی راستوں کی بارش میں بھیگ بھیگ جـــاتے تھے دھڑکنوں کی بارش میں اور ہی زمـــــانہ تھا اور ہی تھے روز و شب مجھ سےجب ملاتھا وہ چاہتوں کی بارش میں بھیگتی ہوئی ســـــانسیں ، بھیگتے ہوۓ لمحے دل گداز رم جھم تھی خوشبوؤں کی بارش میں بجــــلیاں چمکتی تھیں ، کھــڑکیاں دھڑکتی تھیں ایک چھت کے نیچے تھے دو دلوں کی بارش میں شـــــــام تھی جدائ کی اور شب قیامت کی جب اسے کیـــا رخصت آنسوؤں کی بارش میں دل پـــــــہ زخم ہے کوئی روح میں اداسی ہے کتنے درد جاگے ہیں سسکیوں کی بارش میں شہر ِ کج نگاہاں میں کون خوش نظر نکلا پھول کس نے پھینکا ہے پتّھروں کی بارش میں بـــــــرق سی لپکتی تھی ، روشنی نکلتی تھی رات کے اندھیرے سے ان دنوں کی بارش میں ہم تو خیر ایسے تھے، راستے میں بیٹھے تھے تم کہاں سے آ نکلے اس غموں کی بارش میں کــــر چیاں سمیٹیں اب زخم زخم پوروں سے کچھ نہیں بچا فوزی پتھــــروں کی بارش میں
  8. اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس کبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا احمدفراز
  9. آنکھ میں خواب نہیں آنکھ میں خواب نہیں خواب کا ثانی بھی نہیں کنج لب میں کوئی پہلی سی کہانی بھی نہیں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اک شہر تخیل میں تجھے اور مرے پاس ترے گھر کی نشانی بھی نہیں بات جو دل میں دھڑکتی ہے محبت کی طرح اس سے کہنی بھی نہیں اس سے چھپانی بھی نہیں آنکھ بھر نیند میں کیا خواب سمیٹیں کہ ابھی چاندنی رات نہیں رات کی رانی بھی نہیں لیلی حسن ذرا دیکھ ترے دشت نژاد سر بسر خاک ہیں اور خاک اڑانی بھی نہیں کچے ایندھن میں سلگنا ہے اور اس شرط کے ساتھ تیز کرنی بھی نہیں آگ بجھانی بھی نہیں اب تو یوں ہے کہ ترے ہجر میں رونے کے لئے آنکھ میں خون تو کیا خون سا پانی بھی نہیں
  10. اے خُدا معذرت مَیں جہاں تھا وہیں رہ گیا، معذرت اے زمیں معذرت ! اے خُدا معذرت کچھ بتاتے ھوئے، کچھ چُھپاتے ھوئے مَیں ھَنسا، معذرت ! رُو دیا، معذرت خُود تمھاری جگہ جا کے دیکھا ھے اور خُود سے کی ھے تمھاری جگہ معذرت جو ھوا، جانے کیسے ھوا، کیا خبر ایک دن مَیں نے خود سے کہا، معذرت ھم سے گِریہ مکمل نہیں ھو سکا ھم نے دیوار پر لکھ دِیا، معذرت مَیں بہت دُور ھوں، شام نزدیک ھے شام کو دو صدا، شکریہ ! معذرت
  11. یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یہ تو میکدے کا نظام ہے یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے جگر مراد آبادی
  12. ROHAAN

    poetry دکھ

    دکھ کہتا ہے ایک دن مجھ سے بڑا دکھ ہے مجھے میں نے پوچھا کس بات کا دکھ؟ کہتا ہے بس کچھ ہے میں نے پوچھا کھانا پیٹ بھر کر کھاتے ہو؟ کہتا ہے ہاں پھر پوچھا کوئی بیماری تو نہیں؟ کہتا ہے نہیں پھر پوچھا اعضاء سلامت ہیں؟ کہتا ہے ہاں سر پہ چھت ہے؟ کہتا ہے ہاں پھر میں لے گئی اس کو ایک ایسی جگہ جہاں قحط تھا بچوں کے جسم لباس سے عاری اور پیٹ اناج سے خالی سونے کو چھت نہیں نہ سردی کی لذت نہ گرمی کی ہیبت احساس جیسے باقی ہی نہ رہے ایک اور ایسی جگہ جہاں زندگی ایک جرم تھی روز لاشیں گرتیں عزتیں پامال ہوتیں ظلم اپنی انتہا پہ جہاں آتی جاتی سانسوں پہ بھی شکر تھا کہ سلامت ہیں پھر میں نے پوچھا اب بتاؤ کوئی دکھ ہے باقی؟ کہتا ہے نہیں مجھے تو دکھ کے معنی آج سمجھ آئے ہیں
  13. دل دے اندر خانہ کعبہ، ساڈا ہویا گھر وِچ حَج آپ اِمام تے آپ نمازی، آپے بانگاں دیواں اَج نیڑے آ کے ویہڑے ساڈے وَسنا ای تے وَس چمکاں مار نہ دُوروں سانُوں، اینویں نہ پیا گَج تیرا اِک علاج میں دَسّاں، جا کے شِیشہ ویخ اپنا کُجھ تے نظر نہ آوے، سانُوں دَسنا ایں بَج آپے لاوے عِشق عدالت، آپے پھائیاں پاوے آپ وکیل تے آپے مُلزم، آپے بَنیا اپنا جَج لَے میں پنجواں بال کے چَلّی، رکِھیں میرِیاں شَرماں تُوں لجپال سداؤندا واصفؔ، پالِیں میری لَج
  14. عشق میں غیرتِ جذبات نے رونے نہ دیا ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا آپ کہتے تھے رونے سے نہ بدلیں گے نصیب عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا رونے والوں سے کہو اُن کا بھی رونا رو لیں جن کو مجبورئ حالات نے رونے نی دیا تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا تنگئ وقتِ حالات نے رونے نہ دیا ایک دو روز کا صدمہ ہو تو رو لیں فاکر ہم کو ہر روز کے صدمات نے رونے نہ دیا
  15. درویشیں ہار گئی ہوں درویشا میں خالی درویشا میں ہار گئی ہوں دنیا کالی میں اندر سے خالم خالی درویشا کوئی ٹونا ، ورد وظیفہ کر مجھے "م" کرے منظور مجھے کوئی جاچ سکھا مرا لوں لوں گھنگرو بن جاوے مجھے ناچ سکھا مجھے ایسا ناچ سکھا دے روح نماز قضا نہ کر پاوے من یار قضا نہ کر پاوے یہ کالی دنیا لاکھ کرے تدبیر فقیر سے یار جدا نہ کر پاوے مرے درویشا تجھے واسطہ تیرے نینوں کا جہاں "م" نے ڈیرا ڈالا ہے ترے دھو دھو پیر پیوں مجھ کو اُن "مَازَاْغَ البَصَرِیْ" نینوں کا بس اک جام پلا دے میں اس دنیا ورگی کالی وے درویشا میں اندر سے خالم خالی ، نین سوالی وے میں ہاری تیرے در پر جیتنے آگئی بھر دے پیاسی روح کی پیالی میرے خالی پن کو "م" کے رنگ سے بھر دے وے درویشا تو چمکیلا روشن ، پیارا ، رنگ رنگیلا دنیا کالی اور اک میں اندر سے خالی..!
  16. لہو کی آنکھ سے پڑھ میرے ضبط کی تحریر لبوں پہ لفظ نہ گن _____ کپکپاہٹیں پہچان www.fundayforum.com ‏تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے ― جون ایلیا
  17. waqas dar

    poetry Urdu Funny Poetry

    سوہنی گھاٹ بدل سکتی تھی اور کہانی چل سکتی تھی رانجھا غُنڈے لے آتا تو ہِیر کی شادی ٹَل سکتی تھی سَسّی کے بھی اُونٹ جو ہوتے تھَل میں کَیسے جل سکتی تھی مرزے نے ، کب سوچا تھا کہ صاحباں راز اُگَل سکتی تھی لیلی' کالی پڑھ لِکھ جاتی فیئر اینڈ لَولی مَل سکتی تھی جو پتھّر فرہاد نے توڑے جی ٹی روڈ نکل سکتی تھی انٹرنیٹ پہلے جو ہوتا ہِجر کی رات بھی ڈھَل سکتی تھی
  18. تمھیں چھونے کی خواہش میں تمھیں چھونے کی خواہش میں نجانے ضبط کے کتنے کڑے موسم تمہارے سامنے بیٹھے ہوئے میں نے گذارے ہیں مجھے معلوم ہے چھونے سے تم کو یہ نہیں ہو گا مرے ہاتھوں کی پوروں پر کئی جگنو دمک اٹھیں تمہارے لمس کی خوشبو مری رگ رگ میں بس جائے مگر شاید یہ ممکن ہے تمہارے لمس کو پا کر سلگتے دل کی دھرتی پر کوئی بادل برس جائے مگر جاناں حقیقت ہے تمھیں میں چھو نہیں سکتا! اگرچہ لفظ یہ میرے تمہاری سوچ میں رہتے، تمہارے خواب چھوتے ہیں تمھیں میں چھو نہیں سکتا مجھے تم سے محبت سے کہیں زیادہ محبت ہے میں ڈرتا ہوں کہیں چھونے سے تم پتھر نا ہو جاؤ میں وہ جس نے تمھیں تتلی کے رنگوں سے سجایا ہے میں وہ جس نے تمھیں لکھا ہے جب بھی پھول لکھاہے بھلا کیسے میں اس پیکر کو چھو لوں اور ساری عمر میں اک پتھر کی مورت کو سجا لوں اپنے خوابو ں میں مجھے تم سے محبت سے کہیں زیادہ محبت ہے تمھیں پتھر اگر کر لوں تو خود بھی ٹوٹ جاؤ ں گا سنو جاناں! بھلے وہ ضبط کے موسم کڑے ہوں ذات پر میری تمہیں میں چھو نہیں سکتا
  19. کسی راکھ میں ہے دبا ہوا کسی شب وہ آئے جو خواب میں اسے درد سارے ہی سونپ دوں اسے کہہ سکوں وہ شکایتیں جسے لہر ِ موج ِ فراق نے تہہ ِ آب کب سے دبا دیا یہ فصیل ِ جاں پہ سکوت سا مجھے کھا رہا ھے کتر کتر مرے بے خبر تجھے کیا پتا مری سانس سے ترے درد کا جو ہے ایک رشتہ بندھا ہوا یہ چراغ زد میں ہواؤں کی کسی طاق میں ہے دھرا ہوا جو تھا خواب مری حیات کا کسی راکھ میں ہے دبا ہوا کسی شب تو آ مرے خواب میں مرے ہمسفر ذرا دیکھ لے مری شب گزیدہ نگاہ میں تیرے بعد درد ہی رہ گئے مری شاخ ٹوٹی ھے سوکھ کر مرے پھول زرد ہی رہ گئے کسی شب تو آ مرے خواب میں مرے ہمسفر مجھے دیکھنے
  20. زمانے بھر کو اداس کر کے خوشی کا ستیا ناس کر کے میرے رقیبوں کو خاص کر کے بہت ہی دوری سے پاس کر کے تمہیں یہ لگتا تھا جانے دیں گے ؟ سبھی کو جا کے ہماری باتیں بتاؤ گے اور بتانے دیں گے ؟ تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں مناؤ گے اور منانے دیں گے ؟ میری نظم کو نیلام کر کے کماؤ گے اور کمانے دیں گے ؟ تو جاناں سن لو اذیتوں کا ترانہ سن لو کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم بھلے ہی دل سے نکال دو تم کمال دو یا زوال دو تم یا میری گندی مثال دو تم میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔! میں پھر بھی جاناں ۔۔۔ پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گا اب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گا بتاؤں تم کو ؟ میں کیا کروں گا ؟ میں اب زخم کو زبان دوں گا میں اب اذیت کو شان دوں گا میں اب سنبھالوں گا ہجر والے میں اب سبھی کو مکان دوں گا میں اب بلاؤں گا سارے قاصد میں اب جلاؤں گا سارے حاسد میں اب تفرقے کو چیر کر پھر میں اب مٹاؤں گا سارے فاسد میں اب نکالوں گا سارا غصہ میں اب اجاڑوں گا تیرا حصہ میں اب اٹھاؤں گا سارے پردے میں اب بتاؤں گا تیرا قصہ مزید سُن لو۔۔۔ او نفرتوں کے یزید سن لو میں اب نظم کا سہارا لوں گا میں ہر ظلم کا کفارہ لوں گا اگر تو جلتا ہے شاعری سے تو یہ مزہ میں دوبارہ لوں گا میں اتنی سختی سے کھو گیا ہوں کہ اب سبھی کا میں ہو گیا ہوں کوئی بھی مجھ سا نہی ملا جب خود اپنے قدموں میں سو گیا ہوں میں اب اذیت کا پیر ہوں جی میں عاشقوں کا فقیر ہوں جی کبھی میں حیدر کبھی علی ہوں جو بھی ہوں اب اخیر ہوں جی جون ایلیا
  21. ﻗﺎﺗﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ .ﺑﺴﻤﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ، ﻗﺎﺗﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ ﺗﻢ ﺟﺲ ﭘﮧ ﻧﻈﺮ ﮈﺍﻟﻮ، ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ ﺁ ﺟﺎﺅ ﺟﻮ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ، ﺍﮎ ﺟﺎﻥ ﺳﯽ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﺍُﭨﮫ ﺟﺎﺅ ﺟﻮ ﻣﺤﻔﻞ ﺳﮯ، ﻣﺤﻔﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﺎ، ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﺗﻤﻨﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺳﻔﺮ ﭘﯿﺎﺭﺍ، ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﺧﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺏ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ، ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﺏ ﻣﮍ ﮐﮯ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ، ﺳﺎﺣﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ
  22. جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں میں ایسے عشق پہ ایمان لانے والا نہیں میں پاؤں دھو کے پئیوں یار بن کے جو آئے منافقوں کو تو میں منہ لگا نے والا نہیں نزول کر مرے سینے پہ اے جمال ِ شدید تری قسم میں ترا خوف کھانے والا نہیں بس اِتنا جان لے اے پُر کشش کے دل تجھ سے بہل تو سکتا ہے پر تجھ پہ آنے والا نہیں یہ میری آنکھ میں بھڑکے تو پھر ہٹاؤں گا ابھی میں آگ سے نظریں ہٹانے والا نہیں تجھے کسی نے غلط کہہ دیا میرے بارے نہیں میاں میں دِلوں کو دُکھانے والا نہیں ہے ایک رمز جو تجھ پر عیاں نہیں کرنی ہے ایک شعر جو تجھ کو سنانے والا نہیں فقیر قول نبھاتا ہے پریم کرتا ہے فقیر کوئی کرامت دِکھانے والا نہیں سن اے قبیلہء ِ کوفی دِلاں مُکرر سن علی کبھی بھی حزیمت اُٹھانے والا نہیں
  23. ROHAAN

    وہ جسے

    وہ جسے بھولنے کی کوشش میں میں نے مصروفیت کو اوڑھا تھا رات کو ٹوٹتا بدن لے کر جب گری تھی میں اپنے بستر پہ اس کی یادوں نے بہت دیر تلک میرے بالوں میں انگلیاں پھیریں
  24. تمُ اگر جو پُوچھو نا تمُ اگر جو پُوچھو نا مجھ سے یہ کہ کیا ہو تم میں کہوں گی تم جانان آسْمانِ اُلفَت کا وُہ چَمَکتا تاَرا ہو رَبّ نے جِس کو چَاہَت سے پیار سے اُتارا ہو تمُ اگر جو پوچھو نا کیا دُعا تمہیں دُونگی میں کہوں گی جاناں کہ چاند اور سُورج کی روشنی سے چَمکا کر پھُولوں سے مُزَیَّن اِک پیار اور مُحَبَّت کا آَشَیاں تمہارا ہو اَمن کا گِہوارَہ ہو اَیسا گھَر تمہارا ہو تمُ اگر سُنَّناَ چاہو تو تمہیں سُناؤں میں ایسی دُھن کہ جِس کا سَاز دِل سے تار لے کر کے ہَر اِک سُر نِکَھارا ہو رَقص میں یہ جَہاں ساَرا ہو تمُ اگر جو ماَنگو تو اپنی سَانسِیں لے کر میں نام تیرے کر دوں یوں آنے والا ہَر اِک دَم بھی فََقط تمہارا ہو تم اَگر جو دیکھو ناَ میری نَظروں سے خُود کو ایَسا گُمان پَاؤ گے چَندا اور تاروں نے ان حَسِین نَظَاروں نے صَدقَہ عِشق کا تیرے ہر گَھڑی اُتَارا ہو پُوچَھو ایسی حاَلت ہو تو مجُھے کیسے جَانا اَوَر۔۔ تیر ا غیَروں کی اِلتِفاَت گَوَارہ ہو کیوں نا پاگلوں جیسا حال پِھر ہمارا ہو
  25. ے موسم کی عادت گرجنا برسنا ے موسم کی عادت گرجنا برسنا کہیں خوش کرے یہ کہیں آزمائے کوئی یاد کر کے کسے رو پڑے گا یہ سوچے نہ سمجھے برستا ہی جائے برستا ہے یکساں سبھی آنگنوں میں سبھی آنگنوں میں نہ یہ مسکرائے وہاں جا کے برسے جہاں زندگی ہے یہ سب جھوٹے قصے نہ ہم کو سنائے بڑی مشکلوں سے سلایا تھا جن کو وہ ہر خواب رم جھم یہ پھر سے جگائے نئی بارشوں میں نہیں بھیگنا ہے ابھی پچھلی برکھا ہى دل کو جلائے
×