Jump to content

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to create topics, post replies to existing threads, give reputation to your fellow members, get your own private messenger, post status updates, manage your profile and so much more. If you already have an account, login here - otherwise create an account for free today!

Welcome to our forums
Welcome to our forums, full of great ideas.
Please register if you'd like to take part of our project.
Urdu Poetry & History
Here you will get lot of urdu poetry and history sections and topics. Like/Comments and share with others.
We have random Poetry and specific Poet Poetry. Simply click at your favorite poet and get all his/her poetry.
Thank you buddy
Thank you for visiting our community.
If you need support you can post a private message to me or click below to create a topic so other people can also help you out.

Search the Community

Showing results for tags 'poetry'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Categories

  • Islamic
  • Funny Videos
  • Movies
  • Songs
  • Seasons
  • Online Channels

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 1,261 results

  1. یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے مجھ کو حالات نے مارا ہے مکمل کر کے جانب شہر فقیروں کی طرح کوہ گراں پھینک دیتا ہے بخارات کو بادل کر کے جل اٹھیں روح کے گھاؤ تو چھڑک دیتا ہوں چاندنی میں تری یادوں کی مہک حل کر کے دل وہ مجذوب مغنی کہ جلا دیتا ہے ایک ہی آہ سے ہر خواب کو جل تھل کر کے جانے کس لمحۂ وحشی کی طلب ہے کہ فلک دیکھنا چاہے مرے شہر کو جنگل کر کے یعنی ترتیب کرم کا بھی سلیقہ تھا اسے اس نے پتھر بھی اٹھایا مجھے پاگل کر کے عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے
  2. Sara Ali Khan dazzles in a sparkly lehenga while making fans chuckle with her poetry. Photo: InstagramSara Ali Khan is sweeping away the hearts of fans with her sparkly look as she showed a glimpse of her in a traditional lehenga.The young Bollywood sensation, taking to her Instagram, shared a picture of herself all dolled up in a traditional outfit. Apart from her elegance, fans were also treated with her iconic poetry for which she has been gaining quite some attention recently.The Simmba star chose some beautiful lines to caption the collage: “A little sparkle, a lot of shine. But wanna know what it takes to be mine? Don’t look for a sign, don’t join a line I don’t drink so it takes just dine without wine Look at me so full of myself, thinking someone will pine Yes you’re right I did it all just to rhyme Okay! Fine! Fine! Fine!,” she added. On the professional front, Sara will be seen in the upcoming film, Aaj Kal along with Kartik Aaryan and also has David Dhawan’s Coolie No 1, in the pipeline, co-starring Varun Dhawan. Remake of the 1995-released Govinda and Karisma Kapoor-starrer will hit the cinemas on May 1, 2020.
  3. میں رواں دائرے میں رہ گیا ہوں اس لئے راستے میں رہ گیا ہوں ہر خسارے کو سوچ رکھا تھا میں بہت فائدے میں رہ گیا ہوں سر جھٹکنے سے کچھ نہیں ہوگا میں ترے حافظے میں رہ گیا ہوں گم ہوا تھا کسی پڑاؤ میں دوسرے قافلے میں رہ گیا ہوں میں جری تو عدو سے کم نہیں تھا بس ذرا تجربے میں رہ گیا ہوں میں کسی داستاں سے ابھروں گا میں کسی تذکرے میں رہ گیا ہوں
  4. کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ‏کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ، جب خیال آئے گا ظلم ، جبر ، صبر کا جب سوال آئے گا عقل ہے، شعور ہے پھر بھی ایسی بے فکر تب کی تب ہی دیکھیں گے جب زوال آئے گا یوں تو ہم ملائک ہیں ، بشر بھی کبھی ہونگے دُسروں کے دُکھ پہ جب ملال آئے گا ‏لہو بھی رگوں میں اب جم سا گیا ہے کچھ آنکھ سے بھی ٹپکے گا جب اُبال آئے گا دیکھ مت فقیروں کو اس طرح حقارت سے آسمان ہلا دیں گے جب جلال آئے گا پگڑیاں تو آپ کی بھی ایک دن اُچھلیں گی آپ کے گناہوں کا جب وبال آئے گا شاعری ابھی ہمارے دل کی بھڑاس ہے بالوں میں جب سفیدی ہو گی کمال آئے گا ‏جس کو مجھ سے کہنا ہے ، جو کچھ بھی ، ابھی کہ دو خاک جب ہو جاؤں گا تب خیال آئے گا ؟ آج کل کے مسلم بھی فرقہ فرقہ پھرتے ہیں ایک یہ تبھی ہوں گے جب دجال آئے گا
  5. ہے عجیب و غریب رعنائی ہے عجیب و غریب رعنائی خود تماشا ہوں، خود تماشائی ایک ہی موج کا تسلسل ہیں تیری گیرائی، میری گہرائی دوستا عشق سے بنا کے رکھ کام آئے گی یہ شناسائی میں تو ہنستا ہوں اس خرابے پر تجھے کس بات پر ہنسی آئی تم نہیں جانتے خدا کا حال تم پہ بیتی نہیں ہے یکتائی خود مجھے بھی قبول کرتی نہیں میری خلوت پسند تنہائی خود کو عورت کی آنکھ سے دیکھا اور اک رمز کی سمجھ آئی کتنی صوفی سرشت تھی وہ آگ جو مجھے جسم سے اٹھا لائی جانے کن منظروں کو روتی ہے یہ غریب الدیار بینائی صاحبو ایک تھا علی زریون ویسا کافر نہ پھر ہوا بھائی
  6. دکھ کہتا ہے ایک دن مجھ سے بڑا دکھ ہے مجھے میں نے پوچھا کس بات کا دکھ؟ کہتا ہے بس کچھ ہے میں نے پوچھا کھانا پیٹ بھر کر کھاتے ہو؟ کہتا ہے ہاں پھر پوچھا کوئی بیماری تو نہیں؟ کہتا ہے نہیں پھر پوچھا اعضاء سلامت ہیں؟ کہتا ہے ہاں سر پہ چھت ہے؟ کہتا ہے ہاں پھر میں لے گئی اس کو ایک ایسی جگہ جہاں قحط تھا بچوں کے جسم لباس سے عاری اور پیٹ اناج سے خالی سونے کو چھت نہیں نہ سردی کی لذت نہ گرمی کی ہیبت احساس جیسے باقی ہی نہ رہے ایک اور ایسی جگہ جہاں زندگی ایک جرم تھی روز لاشیں گرتیں عزتیں پامال ہوتیں ظلم اپنی انتہا پہ جہاں آتی جاتی سانسوں پہ بھی شکر تھا کہ سلامت ہیں پھر میں نے پوچھا اب بتاؤ کوئی دکھ ہے باقی؟ کہتا ہے نہیں مجھے تو دکھ کے معنی آج سمجھ آئے ہیں
  7. کوئی مل ہی جائے گا اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا نہ جانے کب ترے دل پر نئی سی دستک ہو مکان خالی ہوا ہے تو کوئی آئے گا میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوں اگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا
  8. اے رات کے راھی چاند سنو اے رات کے راھی چاند سنو میرا ایک ضروری کام کرو من میت کے شہر میں جانا تم اسے میرا حال سنانا تم میں ھر شب تم کو تکتی ھوں کیا وہ بھی رات کو سوتے وقت کچھ تم سے باتیں کرتا ھے کیا میری سونی آنکھوں کے پیغام کبھی وہ پڑھتا ھے اے رات کے راھی اس سے کہو کہ ،اس دل کو اک پل چین نھیں کیوں پریت کے بندھن باندھے تھے کیوں آس کے پھول تھمائے تھے وہ قسمیں وعدے بھول گئے کیوں ساجن ھم سے روٹھ گئے ھم تم بن جی نہ پائینگے ،یہ رشتے توڑ نہ پائینگے اے چاند اسے یہ کہنا تم کہ آنکھیں اشک بہاتی ھیں یہ ھجر ھراساں کرتا ھے میں راہ تمھاری تکتی ھوں اور بے کل بےکل پھرتی ھوں ھر ھر دن جیتی مرتی ھوں اے چاند جب لوٹ کے آنا تم اسے میر ے پاس لے آنا تم
  9. جو ہیں مظلوم جو ہیں مظلوم ان کو تو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں یہ کیسا شہر ہے ظالم کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں انا کے سکے ہوتے ہیں فقیروں کی بھی جھولی میں جہاں ذلت ملے اس در پہ جانا چھوڑ دیتے ہیں ہوا کیسا اثر معصوم ذہنوں پر کہ بچوں کو اگر پیسے دکھاؤ تو کھلونا چھوڑ دیتے ہیں اگر معلوم ہو جائے پڑوسی اپنا بھوکا ہے تو غیرت مند ہاتھوں سے نوالہ چھوڑ دیتے ہیں مہذب لوگ بھی سمجھے نہیں قانون جنگل کا شکاری شیر بھی کوؤں کا حصہ چھوڑ دیتے ہیں پرندوں کو بھی انساں کی طرح ہے فکر روزی کی سحر ہوتے ہی اپنا آشیانہ چھوڑ دیتے ہیں تعجب کچھ نہیں داناؔ جو بازار سیاست میں قلم بک جائیں تو سچ بات لکھنا چھوڑ دیتے ہیں
  10. روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں مل کے ان کی نگاہ جادو سے دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں مجھ کو دکھلا کے راہ کوچہء یار کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے دل میں گویا سما گئیں آنکھیں محفل یار میں بہ ذوق نگاہ لطف کیا کیا اٹھا گئیں آنکھیں حال سنتے وہ میرا کیا حسرت وہ تو کہئے سنا گئیں آنکھیں
  11. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  12. مانگا تھے جسے دن رات ھواؤں میں تم چھت پر نہیں آئے میں گھر سے نہیں نکلا یہ چاند بہت بھٹکا ساون کی گھٹاؤں میں اس شہر میں اک لڑکی بالکل ھے غزل جیسی بجلی سی گھٹاؤں میں خوشبو سی ھواؤں میں موسم کا اشارہ ھے خوش رہنے دو بچوں کو معصوم محبت ھے پھولوں کی خطاؤں میں ھم چاند ستاروں کی راھوں کے مسافر ھیں ھر رات چمکتے ھیں تاریک خلاؤں میں بھگوان ھی بھیجیں گے چاول سے بھری تھالی مظلوم پرندوں کی معصوم سبھاؤں میں دادا بڑے بھولے تھے سب سے یہی کہتے تھے کچھ زہر بھی ھوتا ھے انگریزی دواؤں میں
  13. ﻓﺮﯾﺐِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ﻓﺮﯾﺐِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ، ﺟﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﻨﮑﺸﻒ ھﻮ ﮔﯽ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻭھﯽ ﺍﮎ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ، ﺗﻌﻠّﻖ ﺳﺮﺳﺮﯼ ﺳﺎ ﺗﮭﺎ ھﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ھﻮﺗﮯ ھﯿﮟ ، ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻟﮑﮭﺎ ھﮯ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ، ﻋﺠﯿﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﭩﻨﺎ ھﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻮ ، ﺍُﺳﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ھﻤﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﻧﮧ ﺧﻮﺵ ﺍﺗﻨﺎ ، ﻟﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺳﮯ ھﻤﺎﺭﯼ ﺁنکھ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﮯ ھﺰﺍﺭﻭﮞ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﮭﮑﮯ ھﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻣﮕﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﺻﺪﺍ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺷﮑﺴﺘﮧ ﭘﺎ ﭼﻠﮯ آئے ، ھﻤﺎﺭﮮ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ
  14. تم کہ سنتے رہے اوروں کی زبانی لوگو ہم سُناتے ہیں تمہیں اپنی کہانی لوگو کون تھا دشمنِ جاں وہ کوئی اپنا تھا کہ غیر ہاں وہی دُشمنِ جاں دلبرِ جانی لوگو زُلف زنجیر تھی ظالم کی تو شمشیر بدن رُوپ سا رُوپ جوانی سی جوانی لوگو سامنے اُسکے دِکھے نرگسِ شہلا بیمار رُو برو اُسکے بھرے سَرو بھی پانی لوگو اُسکے ملبوس سے شرمندہ قبائے لالہ اُس کی خوشبو سے جلے رات کی رانی لوگو ہم جو پاگل تھے تو بے وجہ نہیں تھے پاگل ایک دُنیا تھی مگر اُس کی دِوانی لوگو ایک تو عشق کیا عشق بھی پھر میر سا عشق اس پہ غالب کی سی آشفتہ بیانی لوگو ہم ہی سادہ تھے کِیا اُس پہ بھروسہ کیا کیا ہم ہی ناداں تھے کہ لوگوں کی نہ مانی لوگو ہم تو اُس کے لئے گھر بار بھی تج بیٹھے تھے اُس ستمگر نے مگر قدر نہ جانی لوگو کس طرح بھُول گیا قول و قسم وہ اپنے کتنی بے صرفہ گئی یاد دہانی لوگو اب غزل کوئی اُترتی ہے تو نوحے کی طرح شاعری ہو گئی اب مرثیہ خوانی لوگو شمع رویوں کی محبت میں یہی ہوتا ھے رہ گیا داغ فقط دل کی نشانی لوگو ( احمد فراز ) AHMAD FRAZ
  15. محرومِ خواب دیدۂ حیراں نہ تھا کبھی تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی تھا لطفِ وصل اور کبھی افسونِ انتظار یوں دردِ ہجر سلسلہ جنباں نہ تھا کبھی پرساں نہ تھا کوئ تو یہ رسوائیاں نہ تھیں ظاہر کسی پہ حالِ پریشاں نہ تھا کبھی ہر چند غم بھی تھا مگر احساسِ غم نہ تھا درماں نہ تھا تو ماتمِ درماں نہ تھا کبھی دن بھی اُداس اور مری رات بھی اداس ایسا تو وقت اے غمِ دوراں نہ تھا کبھی دورِ خزاں میں یوں مرا دل بے قرار ہے میں جیسے آشناۓ بہاراں نہ تھا کبھی کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی بے کیف و بے نشاط نہ تھی اس قدر حیات جینا اگرچہ عشق میں آساں نہ تھا کبھی
  16. بازوؤں کی چھـتری تھی بازوؤں کی چھـتری تھی راستوں کی بارش میں بھیگ بھیگ جـــاتے تھے دھڑکنوں کی بارش میں اور ہی زمـــــانہ تھا اور ہی تھے روز و شب مجھ سےجب ملاتھا وہ چاہتوں کی بارش میں بھیگتی ہوئی ســـــانسیں ، بھیگتے ہوۓ لمحے دل گداز رم جھم تھی خوشبوؤں کی بارش میں بجــــلیاں چمکتی تھیں ، کھــڑکیاں دھڑکتی تھیں ایک چھت کے نیچے تھے دو دلوں کی بارش میں شـــــــام تھی جدائ کی اور شب قیامت کی جب اسے کیـــا رخصت آنسوؤں کی بارش میں دل پـــــــہ زخم ہے کوئی روح میں اداسی ہے کتنے درد جاگے ہیں سسکیوں کی بارش میں شہر ِ کج نگاہاں میں کون خوش نظر نکلا پھول کس نے پھینکا ہے پتّھروں کی بارش میں بـــــــرق سی لپکتی تھی ، روشنی نکلتی تھی رات کے اندھیرے سے ان دنوں کی بارش میں ہم تو خیر ایسے تھے، راستے میں بیٹھے تھے تم کہاں سے آ نکلے اس غموں کی بارش میں کــــر چیاں سمیٹیں اب زخم زخم پوروں سے کچھ نہیں بچا فوزی پتھــــروں کی بارش میں
  17. اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس کبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا احمدفراز
  18. آنکھ میں خواب نہیں آنکھ میں خواب نہیں خواب کا ثانی بھی نہیں کنج لب میں کوئی پہلی سی کہانی بھی نہیں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اک شہر تخیل میں تجھے اور مرے پاس ترے گھر کی نشانی بھی نہیں بات جو دل میں دھڑکتی ہے محبت کی طرح اس سے کہنی بھی نہیں اس سے چھپانی بھی نہیں آنکھ بھر نیند میں کیا خواب سمیٹیں کہ ابھی چاندنی رات نہیں رات کی رانی بھی نہیں لیلی حسن ذرا دیکھ ترے دشت نژاد سر بسر خاک ہیں اور خاک اڑانی بھی نہیں کچے ایندھن میں سلگنا ہے اور اس شرط کے ساتھ تیز کرنی بھی نہیں آگ بجھانی بھی نہیں اب تو یوں ہے کہ ترے ہجر میں رونے کے لئے آنکھ میں خون تو کیا خون سا پانی بھی نہیں
  19. اے خُدا معذرت مَیں جہاں تھا وہیں رہ گیا، معذرت اے زمیں معذرت ! اے خُدا معذرت کچھ بتاتے ھوئے، کچھ چُھپاتے ھوئے مَیں ھَنسا، معذرت ! رُو دیا، معذرت خُود تمھاری جگہ جا کے دیکھا ھے اور خُود سے کی ھے تمھاری جگہ معذرت جو ھوا، جانے کیسے ھوا، کیا خبر ایک دن مَیں نے خود سے کہا، معذرت ھم سے گِریہ مکمل نہیں ھو سکا ھم نے دیوار پر لکھ دِیا، معذرت مَیں بہت دُور ھوں، شام نزدیک ھے شام کو دو صدا، شکریہ ! معذرت
  20. یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یہ تو میکدے کا نظام ہے یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے جگر مراد آبادی
  21. دل دے اندر خانہ کعبہ، ساڈا ہویا گھر وِچ حَج آپ اِمام تے آپ نمازی، آپے بانگاں دیواں اَج نیڑے آ کے ویہڑے ساڈے وَسنا ای تے وَس چمکاں مار نہ دُوروں سانُوں، اینویں نہ پیا گَج تیرا اِک علاج میں دَسّاں، جا کے شِیشہ ویخ اپنا کُجھ تے نظر نہ آوے، سانُوں دَسنا ایں بَج آپے لاوے عِشق عدالت، آپے پھائیاں پاوے آپ وکیل تے آپے مُلزم، آپے بَنیا اپنا جَج لَے میں پنجواں بال کے چَلّی، رکِھیں میرِیاں شَرماں تُوں لجپال سداؤندا واصفؔ، پالِیں میری لَج
  22. عشق میں غیرتِ جذبات نے رونے نہ دیا ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا آپ کہتے تھے رونے سے نہ بدلیں گے نصیب عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا رونے والوں سے کہو اُن کا بھی رونا رو لیں جن کو مجبورئ حالات نے رونے نی دیا تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا تنگئ وقتِ حالات نے رونے نہ دیا ایک دو روز کا صدمہ ہو تو رو لیں فاکر ہم کو ہر روز کے صدمات نے رونے نہ دیا
  23. درویشیں ہار گئی ہوں درویشا میں خالی درویشا میں ہار گئی ہوں دنیا کالی میں اندر سے خالم خالی درویشا کوئی ٹونا ، ورد وظیفہ کر مجھے "م" کرے منظور مجھے کوئی جاچ سکھا مرا لوں لوں گھنگرو بن جاوے مجھے ناچ سکھا مجھے ایسا ناچ سکھا دے روح نماز قضا نہ کر پاوے من یار قضا نہ کر پاوے یہ کالی دنیا لاکھ کرے تدبیر فقیر سے یار جدا نہ کر پاوے مرے درویشا تجھے واسطہ تیرے نینوں کا جہاں "م" نے ڈیرا ڈالا ہے ترے دھو دھو پیر پیوں مجھ کو اُن "مَازَاْغَ البَصَرِیْ" نینوں کا بس اک جام پلا دے میں اس دنیا ورگی کالی وے درویشا میں اندر سے خالم خالی ، نین سوالی وے میں ہاری تیرے در پر جیتنے آگئی بھر دے پیاسی روح کی پیالی میرے خالی پن کو "م" کے رنگ سے بھر دے وے درویشا تو چمکیلا روشن ، پیارا ، رنگ رنگیلا دنیا کالی اور اک میں اندر سے خالی..!
  24. لہو کی آنکھ سے پڑھ میرے ضبط کی تحریر لبوں پہ لفظ نہ گن _____ کپکپاہٹیں پہچان www.fundayforum.com ‏تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے ― جون ایلیا
  25. سوہنی گھاٹ بدل سکتی تھی اور کہانی چل سکتی تھی رانجھا غُنڈے لے آتا تو ہِیر کی شادی ٹَل سکتی تھی سَسّی کے بھی اُونٹ جو ہوتے تھَل میں کَیسے جل سکتی تھی مرزے نے ، کب سوچا تھا کہ صاحباں راز اُگَل سکتی تھی لیلی' کالی پڑھ لِکھ جاتی فیئر اینڈ لَولی مَل سکتی تھی جو پتھّر فرہاد نے توڑے جی ٹی روڈ نکل سکتی تھی انٹرنیٹ پہلے جو ہوتا ہِجر کی رات بھی ڈھَل سکتی تھی
×
×
  • Create New...