Jump to content

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

News Ticker

Search the Community

Showing results for tags 'qateel shafai'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Islam
  • General Knowledge
  • Sports

Found 5 results

  1. اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تیرے دامن پر گرا کر بُوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں بڑھ گئی اس حد تلک بے اعتمادی تجھ کو تجھ سے بھی چھپانا چاہتا ہوں تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں اس لیے کی ہے تڑپنے کی تمنا رقص کرنے کا بہانا چاہتا ہوں آخری ہچکی ترے زانو پہ آئے موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں جو بنا باعث مری ناکامیوں کا میں اُسی کے کام آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی پراندھیرا روشنی کو، گھر جلانا چاہتا ہوں پھول سے پیکر تو نکلے بے مروّت پتھروں کو آزمانا چاہتا ہوں رہ گئی تھی کچھ کمی رسوائیوں میں پھر قتیل اُس در پہ جانا چاہتا ہوں قتیل شفائی
  2. بے چین امنگوں کو بہلا کے چلے جانا ہم تم کو نہ روکیں گے بس آکے چلے جانا ملنے جو نہ آئے تم، تھی کون سی مجبوری جھوٹا کوئی افسانہ، دہرا کے چلے جانا جو آگ لگی دل میں ، وہ سرد نہ ہوجائے بجھتے ہوئے شعلوں کو بھڑکا کے چلے جانا اُجڑی نظر آتی ہے جذبات کی ہریالی تم اس پہ کوئی بادل برسا کے چلے جانا فرقت کی اذیت میں کچھ صبر بھی لازم ہے یہ بات مرے دل کو سمجھا کے چلے جانا شاید کہ بہل جائے ، دیوانہ قتیل اس سے تم کوئی نیا وعدہ فرما کے چلے جانا قتیل شفائی
  3. بے چین امنگوں کو بہلا کے چلے جانا ہم تم کو نہ روکیں گے بس آکے چلے جانا ملنے جو نہ آئے تم، تھی کون سی مجبوری جھوٹا کوئی افسانہ، دہرا کے چلے جانا جو آگ لگی دل میں ، وہ سرد نہ ہوجائے بجھتے ہوئے شعلوں کو بھڑکا کے چلے جانا اُجڑی نظر آتی ہے جذبات کی ہریالی تم اس پہ کوئی بادل برسا کے چلے جانا فرقت کی اذیت میں کچھ صبر بھی لازم ہے یہ بات مرے دل کو سمجھا کے چلے جانا شاید کہ بہل جائے ، دیوانہ قتیل اس سے تم کوئی نیا وعدہ فرما کے چلے جانا قتیل شفائی
  4. Jiski Jhankaar mai Dil Ka AraamTh - Wo Tera Naam Th جسکی جھنکار میں دل کا آرام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ میرے ہونٹوں پہ رقصاں جو اک نام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،تہمتیں مجھ پہ آتی رہی ہیں کئی، ایک سے اک نئی خوبصورت مگر جو اک الزام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ دوست جتنے تھے نا آشنا ہوگئے، پارسا ہوگئے، ساتھ میرے جو رسوا سرِ عام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،صبح سے شام تک جو میرے پاس تھی، وہ تیری آس تھی شام کے بعد جو کچھ لبِ بام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،مجھ پہ قسمت رہی ہمیشہ مہرباں، دے دیا سارا جہاں پر جو سب سے بڑا ایک انعام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،غم نے تاریکیوں میں اچھالا مجھے، مار ڈالا مجھے اک نئی چاندنی کا جو پیغام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،تیرے ہی دم سے ہے یہ قتیل آج بھی شاعری کاولی اس کی غزلوں میں کل بھی جو الہام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ قتیل شفائی
  5. Chura ky ly gaya jaam aur payas choor gaya چُرا کے لے گیا جام اور پیاس چھوڑ گیا وہ ایک شخص جو مجھ کو اُداس چھوڑ گیا جو میرے جسم کی چادر بنا رہا برسوں نہ جانے کیوں وہ مجھے بے لباس چھوڑ گیا وہ ساتھ لے گیا ساری محبتیں اپنی ذرا سا درد مرے دل کے پاس چھوڑ گیا سجھائی دیتا نہیں دور تک کوئی منظر وہ ایک دھند مرے آس پاس چھوڑ گیا غزل سجاؤں قتیلؔ اب اُسی کی باتوں سے وہ مُجھ میں اپنے سُخن کی مٹھاس چھوڑ گیا قتیل شفائی
×