Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'poetry' in content posted in Mohsin Naqvi.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Premium Files
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 28 results

  1. Zarnish Ali

    Favorite poetry of mohsin naqvi

    ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﯿﺐ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ” ﻣﺤﺴﻦ ” ﺟﻮ ﺍِﺱ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣُﮍ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
  2. Itni Mudat Baad Mile Hu Kin Socho Mai Ghum Rahte Hu اِتنی مُدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسن تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو محسن نقوی
  3. Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy وہ اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں رواں سے بسے ہوۓ ہیں ابھی نظر میں سبھی مناظر دھواں دھواں سے یہ عکس داغ شکست پیماں وہ رنگ زخم خلوص یاراں میں غمگساروں میں سوچتا ہوں کہ بات چھیڑوں کہاں کہاں سے؟ یہ سنگریزے عداوتوں کے وہ آبگینے سخاوتوں کے دل مسافر قبول کر لے، ملا ہے جو کچھ جہاں جہاں سے بچھڑنے والے بچھڑ چلا تھا تو نسبتیں بھی گنوا کے جاتا ترے لیے شہر بھر میں اب بھی میں زخم کھاؤں زباں زباں سے مری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ہو کے آیا وہاں وہاں سے تو ہمنفس ہے نہ ہمسفر ہے کسے خبر ہے کہ تو کدھر ہے؟ میں دستکیں دے کے پوچھ بیٹھا مکیں مکیں سے مکاں مکاں سے ابھی محبت کا اسم اعظم لبوں پہ رہنے دے جان محسن! ابھی ہے چاہت نئی نئی سی، ابھی ہیں جذبے جواں جواں سے محسن نقوی
  4. Us ka mila ik khuwab lagta hai اس کا ملنا اک خواب لگتا ہے میرے ہر سوال کا وہ جواب لگتا ہے اس کہ چہرے پہ نظر نہیں ٹھہرتی جب اسے دیکھوں وہ مہتاب لگتاہے وہ مجھے اپنے پاس آنے نہیں دیتا اس سے دور رہنامجھے عذاب لگتا ہے جس کہ ہر باب کاعنوان محبت ہے وہ مجھے ایسی کوئی کتاب لگتا ہے آہینہ بھی اسےدیکھ کر شرماتاہوگا کسی پری جیسا اس کا شباب لگتا ہے
  5. Mai Dil Pe jabar Kero Ga, Tuje Bhula Dun Ga میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی میرے گھر کا ہی کیوں‌ مقدر ہو ؟ میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا اسی خیال میں گزری ہے شامِ درد اکثر کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا تو آسماں کی صورت ہے گر پڑے گا کبھی زمیں ہوں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا بڑھا رہی ہیں میرے دکھ، نشانیاں تیری میں تیرے خط، تری تصویر تک جلا دوں گا بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسن اس آئینے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا محسن نقوی
  6. Mere Qaatil Ko Pukaro Ky Mai Zinda Hun Abhi میرے قاتل کو پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی پھر سے مقتل کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ شب ہجر تو ساتھی ہے میری برسوں سے جاؤ سو جاؤ ستارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ پریشان سے گیسو دیکھے نہیں جاتے اپنی زلفوں کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی لاکھ موجوں میں گھرا ہوں ، ابھی ڈوبا تو نہیں مجھ کو ساحل سے پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی قبر سے آج بھی محسن کی آتی ہے صدا تم کہاں ہو میرے یارو کے میں زندہ ہوں ابھی محسن نقوی شہید
  7. Bajiz hawa koi jaane na silsile tere ! ! ﺑﺠﺰ ﮨﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﻮﮞ، ﮐﺮﻭﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ؟ ! ﯾﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﻗﺮﺏ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺍﮮ ﻧﮕﺎﺭِ ﭼﻤﻦ ﮨﻮﺍﻣﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﻧﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﺫﺍﺋﻘﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺘﺎ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ﺗﮭﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻻﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﻋﮑﺲ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﺧﻢ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺷﮏ ﮐﮩﻮﮞ ﺳﻨﺎﺅﮞ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺗﺒﺼﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯﮐﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮧ ﻣﻼ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺗﯿﺮﮮ ! ﺟﺪﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺭﻻ ﮔﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﭼﺮﺍﻍ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺑﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺰﺍﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﺟﻼﺅﮞ ﺗﺮﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﻭﮦ ﺭﺗﺠﮕﮯ ﺗﯿﺮﮮ ، ﮨﻮﺍﺋﮯ ﻣﻮﺳﻢِ ﮔﻞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﺭﯾﺎﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﺴﮯ ﺧﺒﺮ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮨﯿﮟ ﻣﺤﺴﻦ ﻭﮦ ﮐﺮﻭﭨﯿﮟ ﺷﺐِ ﻏﻢ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ محسن نقوی
    Love Waiting Rain Feel
  8. CHAHRA PARHTA, ANKHAIN LIKHTA REHTA HUN چہرے پڑھتا، آنکھيں لکھتا رہتا ہوں ميں بھي کيسي باتيں لکھتا رہتا ہوں؟ سارے جسم درختوں جيسے لگتے ہيں اور بانہوں کو شاخيں لکھتا رہتا ہوں مجھ کو خط لکھنے کے تيور بھول گئے آڑي ترچھي سطريں لکھتا رہتا ہوں تيرے ہجر ميں اور مجھے کيا کرنا ہے؟ تيرے نام کتابيں لکھتا رہتا ہوں تيري زلف کے سائے دھيان ميں رہتے ہيں ميں صبحوں کي شاميں لکھتا رہتا ہوں اپنے پيار کي پھول مہکتي راہوں ميں لوگوں کي ديواريں لکھتا رہتا ہوں تجھ سے مل کر سارے دکھ دہراؤں گا ہجر کي ساري باتيں لکھتا رہتا ہوں سوکھے پھول، کتابيں، زخم جدائی کے تيري سب سوغاتيں لکھتا رہتا ہوں اس کي بھيگي پلکيں ہستي رہتي ہيں محسن جب تک غزليں لکھتا رہتا ہوں
  9. Zarnish Ali

    عجب خوف مسلط تها....

    ﻋﺠﺐ ﺧﻮﻑ ﻣﺴﻠﻂ ﺗﮭﺎ ﮐﻞ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﭘﺮ ﮨﻮﺍ ﭼﺮﺍﻍ ﺟﻼﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺳﻨﮯ ﮔﺎ ﮐﻮﻥ ﻣﮕﺮ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﻧﭗ ﺯﮨﺮ ﭼﮭﮍﮐﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﭼﻨﺒﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺷﺐِ ﻓﺮﺍﻕ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﻦ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﻭﺍﺭ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺗﯿﺮﯼ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﮭﺎ ﺑﭽﮭﮍ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﺍﺱ ﭘﮩﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺟﻼ ﻧﮧ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭼﺮﺍﻍ ﺳﮯ ﻣﺤﺴﻦ ﺳﺘﻢ ﻧﺎ ﮐﺮ ﯾﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ! ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
  10. IK DIYA DIL MAI JALANA BHI, BUJHA BHI DENA اک دیا دل میں جلانا بھی، بجھا بھی دینا یاد کرنا بھی اسے روز، بھلا بھی دینا کیا کہوں میری چاہت ہے یا نفرت اس کی نام لکھنا بھی میرا، لکھ کے مٹا بھی دینا پھر نہ ملنے کو بچھڑتا ہوں تجھ سے لیکن مڑ کے دیکھوں تو پلٹنے کی دعا بھی دینا خط بھی لکھنا اسے مایوس بھی رہنا اس سے جرم کرنا بھی مگر خود کو سزا بھی دینا مجھ کو رسموں کا تکلف بھی گوارا لیکن جی میں آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا اس سے منسوب بھی کر لینا پرانے قصے اس کے بالوں میں نیا پھول سجا بھی دینا صورتِ نقش ِ قدم، دشت میں رہنا محسن اپنے ہونے سے نہ ہونے کا پتہ بھی دینا
  11. HER IK ZAKHM KA CHAHRA GILLA JESA HAI ہر ايک زخم کا چہرہ گلا جيسا ہے مگر يہ جاگتا منظر بھي خواب جييسا ہے يہ تلخ تلخ سا لہجہ، يہ تيز تيز سي بات مزاج يار کا عالم شراب جيسا ہے مرا سخن بھي چمن در چمن شفق کي پھوار ترا بدن بھي مہکتے گلاب جيسا ہے بڑا طويل، نہايت حسيں، بہت مبہم مرا سوال تمہارے جواب جيسا ہے تو زندگي کےحقائق کي تہہ ميں يوں نہ اتر کہ اس ندي کا بہاؤ چناب جيسا ہے تري نظر ہي نہيں حرف آشنا ورنہ ہر ايک چہرہ يہاں پر کتاب جيسا ہے چمک اٹھے تو سمندر، بجھے تو ريت کي لہر مرے خيال کا دريا سراب جيسا ہے ترے قريب بھي رہ کر نہ پا سکوں تجھ کو ترے خيال کا جلوہ حباب جيسا ہے
  12. Tujh per b afsoon daher ka- Chal jaye ga akhir تجھ پر بھی فسوں دہر کا ــ چل جائے گا آخر دُنیا کی طرح تو بھی ــ بدل جائے گا آخر پھیلی ہے ہر اِک سمت ـ ـ ـ حوادث کی کڑی دُھوپ پتھر ہی سہی ــ وہ بھی پگھل جائے گا آخر اَے میرے بدن ـ ـ ـ رُوح کی دولت پہ نہ اِترا یہ تیر بھی ــ ترکش سے نکل جائے گا آخر وہ صُبح کا تارہ ہے ـ ـ ـ تو پھر ماند بھی ہو گا چڑھتا ہُوا سُورج ہے ــ تو ڈھل جائے گا آخر دِل تُجھ سے بچھڑ کر بھی ـ ـ ـ کہاں جائے گا اَے دوست ؟ یادوں کے کھلونوں سے ــ بہل جائے گا آخر آوارہ و بدنام ہے محسن ـ ـ ـ تو ہمیں کیا؟؟ خُود ٹھوکریں کھا کھا کے ــ سنبھل جائے گا آخر شاعر: محسن نقوی
  13. کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسن تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو محسن نقوی
  14. یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے بچھڑ کے مجھ سے کبھی تونے یہ بھی سوچا ہے کہ ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختم وصل کا لمحہ ہے ، رائگاں نہ سمجھ کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے کچھ اور دیر نہ جھڑنا اداسیوں کے شجر کسے خبر کہ ترے سائے میں کون بیٹھا ہے یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے میں کس طرح تجھے دیکھوں ، نظر جھجکتی ہے ترا بدن ہے یہ کہ آئینوں کا دریا ہے ؟ میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہوا سا رہتا ہوں کبھی کبھی تونے مجھے ٹھیک سمجھا ہے مجھے خبر ہے کہ کیا ہے جدائیوں کا عذاب میں نے شاخ سے گل کو بچھڑتے دیکھا ہے میں مسکرا بھی پڑا ہوں تو کیوں خفا ہیں لوگ کہ پھول ٹوٹی ہوئی قبر پر بھی کھلتا ہے اسے گنوا کہ میں زندہ ہوں اس طرح محسن کہ جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتا ہے محسن نقوی
  15. Zarnish Ali

    suna hai zameen par wohi loog

    ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﻭﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﭘﺎﺭ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ۔۔۔۔ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﻔﺮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺴﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮨﻮ ﻟﮩﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﭼﯽ ! ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﯽ ﮨﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮑﻮﺕ ِ ﺷﺐ ِ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﻭﺍﺯ ِ ﺟﺎﮞ ﺑﻦ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﮨﻮ ﺍﮔﺮ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﭘﺎﺭ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻞ ﭼﮑﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﻣﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰﺍﮞ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﻮ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻏﻠﻂ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮨﻮ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
  16. میں چاہنے والوں کو مخاطب نہیں کرتا اور ترک تعلق کی میں وضاحت نہیں کرتا میں اپنی جفاؤں پہ نادم نہیں ہوتا میں اپنی وفاؤں کی تجارت نہیں کرتا خوشبو کسی تشہیر محتاج نہیں ہوتی سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا احساس کی سولی پہ لٹک جاتا ہوں اکثر میں جبر مسلسل کی شکائیت نہیں کرتا میں عظمت انسان کا قائل تو ہوں محسن لیکن کبھی بندوں کی میں عبادت نہیں کرتا محسن نقوی
  17. ABHI JURM-MUHABBAT MAI FAQT BHEEGI HAIN YA ANKHAIN ابھی جرمِ محبت میں فقط بھیگی ہیں یہ آنکھیں ابھی تو ہجر کے دشت و بیاباں پار کرنے ہیں ابھی ان ریگزاروں میں لہو بہنا ھے وعدوں کا ابھی راہوں کے سب کا نٹے مجھے پلکوں سے چننے ہیں ابھی پر خار راہوں میں مجھے تنہا نہیں چھوڑو ابھی تو ٹھیک سے مجھکو سنبھلنا بھی نہیں آتا رسیور میں مقید ہیں تمہارے رس بھرے لہجے ابھی پاؤں سے لپٹے ہیں وصال و قرب کے لمحے ہمارے درمیان رشتے ابھی نازک سے دھاگے ہیں انہیں جھٹکے سے مت کھولو یہ سارے ٹوٹ جائیں گے ابھی تم ہاتھ مت چھوڑو سنو کچھ دن ٹھہر جاؤ تیرے لہجے سے لگتا ھے بچھڑنا اب مقدر ھے پلٹنا گر ضروری ھے چلو کچھ خواب دے جاؤ جلا کے انہی خوابوں کو اندھیرے دور کر لوں گی تمہاری روح میں پھنسی میری سانسیں امانت ہیں انہیں پورا تو ہونے دو ابھی تم دور مت جاؤ سنو کچھ دن ٹھہر جاؤ ابھی رستہ نہیں بدلو ابھی تو ٹھیک سے مجھکو سنبھلنا بھی نہیں آتا ابھی تو ٹھیک سے مجھکو بچھڑنا بھی نہیں آتا
    Tears of love Love HurtsJurm e Mohabbat
  18. Zarnish Ali

    سفر تنہا نہیں کرتے

    سفر تنہا نہیں کرتے سنو ایسا نہیں کرتے جسے شفاف رکھنا ہو اُسے میلا نہیں کرتے تیری آنکھیں اجازت دیں تو ہم کیا نہیں کرتے بہت اُجڑے ہوئے گھر پر بہت سوچا نہیں کرتے سفر جس کا مقدر ہو اُسے روکا نہیں کرتے جو مل کر خود سے کھو جائے اسے رسوا نہیں کرتے یہ اُونچے پیڑ کیسے ہیں کہیں سایہ نہیں کرتے کبھی ہسنے سے ڈرتے ہیں کبھی رویا نہیں کرتے تیر آنکھوں کو پڑھتے ہیں تجھے دیکھا نہیں کرتے چلو تم راز ہو اپنا تمہیں افشا نہیں کرتے سحر سے پوچھ لو محسن ہم سویا نہیں کرتے محسن نقوی
  19. Zarnish Ali

    main ne dakh tha un dino main use

    ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﮔُﻼﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﭼﮭﻨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻟﮩﺠﮧ ﺷﺮﺍﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺯﻟﻔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮔﮭﭩﺎ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺭﺥ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﻮﮒ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺧﺪﻭﺧﺎﻝ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺍﺩﺏ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺯﺑﺎﮞ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﯽ ﻟﻮﮒ ﺳُﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮔﮭﻞ ﻣﻞ ﮐﮯ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺭﮨﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﯾﺎ ﻧﻤﺎ ﺳﺮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﯾﮧ ﮨﮯ ، ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺩِﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﭘﮧ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺻﻮﺭﺕِ ﺳﺎﯾﮧ ﻭ ﺳﺤﺎﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﯿﻨﺪﯾﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻧﺬﺭ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺭﺗﺠﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺩِﻝ ﮐﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺭﻧﮓ ﭘﮍﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﻧﭽﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﯾﮧ ﻣﮕﺮ ﺩﯾﺮ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻣﮕﺮ ﺩُﻭﺭ ﮐﺎ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ، ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻼﭖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺑﮭﺮﺍ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺗﻮ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﺎﻝ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﺷﺖِ ﮨﺠﺮﺍﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ، ﺍِﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﮔُﻼﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ
  20. محسن نقوی کی ایک منقبت ، حسین کے چاہنے والوں کے نام نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ جہانِ عزمِ وفا کا پیکر خِرد کا مرکز، جنوں کا محور جمالِ زھراسلام اللہ علیہا ، جلالِ حیدر ضمیرِ انساں، نصیرِ داور زمیں کا دل، آسماں کا یاور دیارِ صبر و رضا کا دلبر کمالِ ایثار کا پیمبر شعورِ امن و سکوں کا پیکر جبینِ انسانیت کا جھُومر عرب کا سہرا، عجم کا زیور حسین تصویرِ انبیاء ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین اہلِ وفا کی بستی حسین آئینِ حق پرستی حسین صدق و صفا کا ساقی حسین چشمِ اَنا کی مستی حسین پیش از عدم، تصور حسین بعد از قیامِ ہستی حسین نے زندگی بکھیری فضا سے ورنہ قضا برستی عروجِ ہفت آسمانِ عظمت حسین کے نقشِ پا کی مستی حسین کو خُلد میں نہ ڈھونڈو حسین مہنگا ہے خلد سستی حسین مقسومِ دین و ایماں حسین مفہوم "ھَل اَتٰی" ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین دل ہے حسین جاں ہے حسین قرآن کی زباں ہے حسین عرفاں کی سلطنت ہے حسین اسرا ر کا جہاں ہے حسین سجدوں کی سر زمیں ہے حسین ذہنوں کا آسماں ہے حسین زخموں بھری جبیں ہے حسین عظمت کا آستاں ہے ! اُٹھا رہا ہے جو لاشِ اکبر حسین بوڑھا نہیں جواں ہے وہ سر خروئے نشیبِ صحرا وہ سربلندِ سر سناں ہے ! وہ بدرِ افلاک آدمیّت وہ صدرِ اربابِ کربلا ہے نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین ایماں کی جستجو ہے حسین یزداں کی آبرو ہے حسین تنہا تھا کربلا میں حسین کا ذکر چار سو ہے فرات کی نبض رُک گئی ہے؟ حسین مصروفِ گفتگو ہے جہاں گلابوں سے اٹ گیا ہے حسین شاید لہو لہو ہے حیات کے ارتقا سے پوچھو حسین پیغمبرِ نمو ہے حسین کو حوصلہ نہ پوچھو حسین لُٹ کر بھی سُرخرو ہے وہ دیکھ فوجوں کے درمیاں بھی حسین تنہا ڈٹا ہواہے نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے حسین نِکھرا ہُوا قلندر حسین بھپرا ہُوا سمندر حسین بستے دلوں سے آگے حسین اُجڑے دلوں کے اندر حسین سلطانِ دین و ایماں حسین افکار کا سکندر ! حسین سے آدمی کا رُتبہ حسین ہے آدمی کا "مَن دَر" خدا کی بخشش ہی خیمہ زَن ہے حسین کی سلطنت کے اندر حسین داتا، حسین راجہ حسین بھگوان، حسین سُندر حسین آکاش کا رشی ہے حسین دھرتی کی آتما ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین ، میدان کا سپاہی حسین دشتِ اَنا کا راہی حسین فرقِ اَجل کا بَل ہے ! حسین انداز، کجکلاہی ! حسین کی گردَ پا، زمانہ حسین کی ٹھوکروں میں‌ شاہی حسین معراجِ فقرِ عالم حسین ، رمزِ جہاں پناہی حسین ایقان کا مُنارہ حسین اوہام کی تباہی ضمیر انصاف کی لغت میں حسین معیارِ بےگناہی بنامِ جبر و غرورِ شاہی حسین غیرت کا فیصلہ نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین فقرو اَنا کا غازی حسین جنگاہ میں‌ نمازی حسین حسنِ نیاز مندی حسین اعجازِ بے نیازی حسین آغازِ جاں نثاری حسین انجامِ جاں گدازی حسین توقیر کار بندی حسین تعبیر کار سازی حسین معجز نمائے دوراں حسین حق کی فسوں طرازی حسین ہارا تو یوں کہ جیسے حسین نے جیت لی ہو بازی حسین سارے جہاں کا وارث حسین کہنے کو بے نوا ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ ! حسین پیغمبرِ بہاراں حسین تسکین دل فگاراں حسین میر حجاز ہستی حسین سالارِ شہسواراں کہ دیدہ و دل کے دشت وور میں حسین تمثیلِ ابر و باراں حسین تدبیرِ جاں فروشاں حسین تقدیرِ سوگواراں کبھی تو چشمِ ہنر سے دیکھو حسین رشکِ رُخِ نگاراں ! حسین حسنِ مہِ محرّم حسین ہی عید ِ روزہ داراں ! حسین سرمایہ انبیا کا حسین اعجازِ اولیا ہے نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین اک دلنشیں کہانی حسین دستورِ حق کا بانی حسین عباس کا سراپا حسین اکبر کی نوجوانی حسین کردارِ اہلِ ایماں حسین معیارِ زندگانی حسین قاسم کی کم نمائی حسین اصغر کی بے زبانی حسین سجاد کی خموشی حسین باقر کی نوحہ خوانی حسین دجلہ کا خشک ساحل حسین صحرا کی بیکرانی حسین زینب سلام اللہ علیہا کی کسمپرسی حسین کلثوم سلام اللہ علیہا کی ردا ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
  21. تجھے اب کس لئے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے Poet: Mohsin Naqvi تجھے اب کس لئے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے جو پتے زرد ہو جائیں وہ شاخوں پر نہیں رہتے تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے جھکا دے گا تیری گردن کو یہ خیرات کا پتھر جہاں میں مانگنے والوں کے اونچے سر نہیں رہتے یقیناً یہ رعایا بادشاہ کو قتل کر دے گی مسلسل جبر سے محسن دلوں میں ڈر نہیں رہتے
  22. Zarnish Ali

    yun bhi hum door door rahty hai

    ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﺳﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﺪﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺭﺳﻤﺎ ﺑﮭﻼ ﺩﯾﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﺍﺱ ﺗﮑﻠﻒ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
  23. اس شہر میں ـــ ایسی بھی قیامت نہ ہوئی تھی تنہا تھے ـــ مـــگر خود سے تو وحشت نہ ہوئی تھی یہ دن ہیں ـ ـ ـ کہ یاروں کا بھروسا بھی نہیں ہے وہ دن تھے ـــ کہ دشـــمن سے بھی نفرت نہ ہوئی تھی اب سانس کا احساس بھی ـ ـ ـ اک بار گراں ہے خود اپنے خلاف ـــ ایسی بغاوت نہ ہوئی تھی اجڑے ہوئے اس دل کے ـ ـ ـ ہر اک زخم سے پوچھو! اس شہر میں ـــ کس کس سے مـــحبت نہ ہوئی تھی اب تیرے قریب آ کے بھی ـ ـ ـ کچھ سوچ رہا ہوں پہلے تجھے کھو کر بھی ـــ ندامت نہ ہوئی تھی ہر شام ابھرتا تھا ـ ـ ـ اسی طور سی مہتاب لیکن ــــــ دل وحشی کی یہ حالت نہ ہوئی تھی خوابوں کی ہوا راس تھی ـ ـ ـ جب تک مجھے "محسن" یوں جاگتے رہنا ـــ میری عادت نہ ہوئی تھی ..
  24. محبتوں میں حوس کے اسیر ہم بھی نہیں غلط نہ جان کے اتنے حقیر ہم بھی نہیں نہیں ہو تم بھی قیامت کی تند و تیز ہوا کسی کے نقشِ قدم کی لکیر ہم بھی نہیں ہماری ڈوبتی نبضوں سے زندگی تو نہ مانگ سخی تو ہیں مگر اتنے امیر ہم بھی نہیں شبِ سیاہ کے مہمان دار ٹہرے ہیں وگرنہ تیرگیوں کے سفیر ہم بھی نہیں ہمیں بجھا دے، ہماری انا کو قتل نہ کر کہ بے ضرر ہی سہی، بے ضمیر ہم بھی نہیں "محسن نقوی"
  25. متاعِ شام سفر بستیوں میں چھوڑ آئے بجھے چراغ تو ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے بچھڑ کے تجھ سے چلے ہم تو اب کے یوں بھی ہوا کہ تیری یاد کہیں راستوں میں چھوڑ آئے ہم اپنی دربدری کے مشاہدے اکثر نصیحتوں کی طرح کمسنوں میں چھوڑ آئے خراج سیل بھلا اس سے بڑھ کر کیا ہو کہ لوگ کھلے مکان بھری بارشوں میں چھوڑ آئے گھرے ہیں لشکر اعدا میں اور سوچتے ہیں ہم اپنے تیر تو اپنی صفوں میں چھوڑ آئے کسے خبر ہے کہ زخمی غزال کس کے لئے نشان لہو کے گھنے جنگلوں میں چھوڑ آئے ہمارے بعد بھی رونق رہے گی مقتل میں ہم اہلِ دل کو بڑے حوصلوں میں چھوڑ آئے اّیں گے کیا وہ پرندے جو اپنے رزق سمیت سفر کا شوق بھی ٹوٹے پروں میں چھوڑ آئے سدا سُکھی رہیں چہرے وہ ہم جنہیں محسن بجھے گھروں کی کھلی کھڑکیوں میں چھوڑ آئے سید محسن نقوی
×