Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'nazm' in content posted in Sahir Ludhianvi.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 8 results

  1. خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسلِ آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امنِ عالم کا خون ہے آخر بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ زندگی میّتوں پہ روتی ہے جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی آگ اور خون آج بخشے گی بھوک اور احتیاج کل دے گی اس لئے اے شریف انسانو! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں شمع جلتی رہے تو بہتر ہے برتری کے ثبوت کی خاطر خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے گھر کی تاریکیاں مٹانے کو گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں صرف میدانِ کشت وخوں ہی نہیں حاصلِ زندگی خِرد بھی ہے حاصلِ زندگی جنوں ہی نہیں آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں فکر کی روشنی کو عام کریں امن کو جن سے تقویت پہنچے ایسی جنگوں کا اہتمام کریں جنگ، وحشت سے بربریّت سے امن، تہذیب و ارتقا کے لئے جنگ، مرگ آفریں سیاست سے امن، انسان کی بقا کے لئے جنگ، افلاس اور غلامی سے امن، بہتر نظام کی خاطر جنگ، بھٹکی ہوئی قیادت سے امن، بے بس عوام کی خاطر جنگ، سرمائے کے تسلّط سے امن، جمہور کی خوشی کے لئے جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف امن، پُر امن زندگی کے لئے (ساحر لدھیانوی)
  2. تاج تیرے لئے اک مظہر الفت ہی سہی تجھ کو اس وادی ء رنگیں سے عقیدت ہی سہی میری محبوب ! کہیں اور ملا کر مجھ سے بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی ؟ میری محبوب ! پس پردہ تشہیر وفا تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جزبے ان کے لیکن ان کے لئے تشہیر کا سامان نہیں کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے یہ عمارات و مقابر ، یہ فصیلیں یہ حصار مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں سینہ ء دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور جزب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں میری محبوب ! انہیں بھی تو محبت ہو گی جن کی صنائی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل یہ چمن زار ،یہ جمنا کا کنارہ ، یہ محل یہ منقش درو دیوار ، یہ محراب ، یہ طاق اک شہنشاہ نے دولت کا سہارہ لے کر ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مزاق میری محبوب ! کہیں اور ملا کر مجھ سے
  3. میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں عمر بھر کے لیے آزار ہوئی جاتی ہے زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشاں سی تھی اب تو ہر سانس گراں بار ہوئی جاتی ہے میری اجڑی ہوئی نیندوں کے شبستانوں میں تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ہے کبھی اپنی سی، کبھی غیر نظر آئی ہے کبھی اخلاص کی مورت کبھی ہرجائی ہے پیار پر بس تو نہیں ہے مرا لیکن پھر بھی تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ہے جنہیں ان تمناوں کا اظہار کروں یا نہ کروں تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن میری راتیں تری خوشبو سے بسی رہتی ہیں تو کہیں بھی ہو ترے پھول سے عارض کی قسم تیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رہتی ہیں تیرے ہاتھوں کی حرارت، ترے سانسوں کی مہک تیرتی رہتی ہے احساس کی پہنائی میں ڈھونڈھتی رہتی ہیں تخیل کی بانہیں تجھ کو سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں تیرا اندازِ کرم ایک حقیقت ہے مگر یہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو تیری مانوس نگاہوں کا یہ محتاط پیام دل کے خوں کرنے کا ایک اور بہانہ ہی نہ ہو کون جانے میرے امروز کا فردا کیا ہے قربتیں بڑھ کے پشیمان بھی ہو جاتی ہیں دل کے دامن سے لپٹتی ہوئی رنگیں نظریں دیکھتے دیکھتے انجان بھی ہو جاتی ہیں میری درماندہ جوانی کی تمناوں کے مضمحل خواب کی تعبیر بتادے مجھ کو تیرے دامن میں گلستاں بھی ہیں ویرانے بھی میرا حاصل مری تقدیر بتا دے مجھ کو
  4. اے شریف انسانو ! خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسلِ آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امنِ عالم کا خون ہے آخر بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ زندگی میّتوں پہ روتی ہے جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی آگ اور خون آج بخشے گی بھوک اور احتیاج کل دے گی اس لئے اے شریف انسانو! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں شمع جلتی رہے تو بہتر ہے برتری کے ثبوت کی خاطر خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے گھر کی تاریکیاں مٹانے کو گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں صرف میدانِ کشت وخوں ہی نہیں حاصلِ زندگی خِرد بھی ہے حاصلِ زندگی جنوں ہی نہیں آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں فکر کی روشنی کو عام کریں امن کو جن سے تقویت پہنچے ایسی جنگوں کا اہتمام کریں جنگ، وحشت سے بربریّت سے امن، تہذیب و ارتقا کے لئے جنگ، مرگ آفریں سیاست سے امن، انسان کی بقا کے لئے جنگ، افلاس اور غلامی سے امن، بہتر نظام کی خاطر جنگ، بھٹکی ہوئی قیادت سے امن، بے بس عوام کی خاطر جنگ، سرمائے کے تسلّط سے امن، جمہور کی خوشی کے لئے جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف امن، پُر امن زندگی کے لئے
  5. Urooj Butt

    poetry سوچتا ہوں

    سوچتا ہوں کےمحبت سے کنارا کر لَوں دل کو بیگانہء ترغیبِ تمنا کر لوں سوچتا ہوں کہ محبتہے جنونِ رسوا چند بے کار سے بیہودہ خیالوں کا ہجوم ایک آزاد کو پابند بنانے کی ہوس ایک بیگانے کو اپنانے کی سعیِ موہوم سوچتا ہوں کہ محبت ہے سرور و مستی اس کا مٹ جانا مٹا دینا بہت مشکل ہے سوچتا ہوں کے محبت سے ہے تابندہ حیات اور یہ شمع بجھا دینا بہت مشکل ہے سوچتا ہوں کہ محبت پہ کڑی شرطیں ہیں اس تمدن میں مسرت پہ بڑی شرطیں ہیں سوچتا ہوں کہ محبت ہے اک افسردہ سی لاش چادرِ عزت و ناموس میں کفنائی ہوئی دورِ سرمایہ کی روندی ہوئی رسوا ہستی درگاہِ مذہب و اخلاق سے ٹھکرائی ہوئی سوچتا ہوں کہ بشر اور محبت کا جنوں ایسے بوسیدہ تمدن میں ہے اِک کارِ زبوں سوچتا ہوں کہ محبت نہ بچے گی زندہ پیش از وقت کہ سڑ جائے یہ گلتی ہوئی لاش یہی بہتر ہے کہ بیگانہء اَلفت ہو کر اپنے سینے میں کروں جذبہء نفرت کی تلاش سوچتا ہوں کہ محبت سے کنارا کر لوں خود کو بیگانہء ترغیبِ تمنا کر لوں
  6. تاج محل ( ساحر لدھیانوی کی ایک شاہکار نظم) تاج تیرے لئے اک مظہر الفت ہی سہی تجھ کو اس وادی ء رنگیں سے عقیدت ہی سہی میری محبوب ! کہیں اور ملا کر مجھ سے بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی ؟ میری محبوب ! پس پردہ تشہیر وفا تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جزبے ان کے لیکن ان کے لئے تشہیر کا سامان نہیں کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے یہ عمارات و مقابر ، یہ فصیلیں یہ حصار مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں سینہ ء دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور جزب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں میری محبوب ! انہیں بھی تو محبت ہو گی جن کی صنائی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل یہ چمن زار ،یہ جمنا کا کنارہ ، یہ محل یہ منقش درو دیوار ، یہ محراب ، یہ طاق اک شہنشاہ نے دولت کا سہارہ لے کر ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مزاق میری محبوب ! کہیں اور ملا کر مجھ سے
  7. چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں مرے ہمراہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں تعارف روگ بن جائے تو ا س کا بھولنا بہتر تعلق بوجھ بن جائے تو اس کا توڑنا اچھا وہ افسانہ جسے انجام تک لانا ناممکن ہو اسے ایک خوبصورت موڑ دیکر چھوڑنا اچھا چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں ساحر لدھیانوی
  8. سوچتا ہوں کہ محبتہے جنونِ رسوا چند بے کار سے بیہودہ خیالوں کا ہجوم ایک آزاد کو پابند بنانے کی ہوس ایک بیگانے کو اپنانے کی سعیِ موہوم سوچتا ہوں کہ محبت ہے سرور و مستی اس کا مٹ جانا مٹا دینا بہت مشکل ہے سوچتا ہوں کے محبت سے ہے تابندہ حیات اور یہ شمع بجھا دینا بہت مشکل ہے سوچتا ہوں کہ محبت پہ کڑی شرطیں ہیں اس تمدن میں مسرت پہ بڑی شرطیں ہیں سوچتا ہوں کہ محبت ہے اک افسردہ سی لاش چادرِ عزت و ناموس میں کفنائی ہوئی دورِ سرمایہ کی روندی ہوئی رسوا ہستی درگاہِ مذہب و اخلاق سے ٹھکرائی ہوئی سوچتا ہوں کہ بشر اور محبت کا جنوں ایسے بوسیدہ تمدن میں ہے اِک کارِ زبوں سوچتا ہوں کہ محبت نہ بچے گی زندہ پیش از وقت کہ سڑ جائے یہ گلتی ہوئی لاش یہی بہتر ہے کہ بیگانہء اَلفت ہو کر اپنے سینے میں کروں جذبہء نفرت کی تلاش سوچتا ہوں کہ محبت سے کنارا کر لوں خود کو بیگانہء ترغیبِ تمنا کر لوں
×