Jump to content

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

News Ticker

Search the Community

Showing results for tags 'ghazal' in content posted in Shair-o-Shaa'eri.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Islam
  • General Knowledge
  • Sports

Found 69 results

  1. مَن عِشق کی اگنی جلتی ہے تم بَنہیّاں تھامو جان پِیا میں رُوپ سہاگن دھارَن کو راہ دیکھوں نینَن تان پِیا بس ایک جھلک پہ جَگ سارا تَج تیرے پیچھے چل نِکلی تو عِشق میرا، تو دِین میرا تو عِلم میرا اِیمان پِیا میں ننگے پَیروں نَقش تیرے قدموں کے چُنتی آئی ہوں اب جان سے ہاری راہوں میں یہ رستہ تو انجان پِیا سِر مانگے تو میں حاضِر ہوں زَر مانگو تو میں بے زَر ہوں تم عِشق کی دولت دان کرو میں ہو جاؤں دَھنوان پِیا میں بھُول بھٹک کے ہار گئی ہر بار تمہارا نام لِیا اِس عِشق کی کملی جوگن کے ہر قِصّے کا عُنوان پِیا میں پیاس سجائے آنکھوں میں سب دَیر حرم میں ڈھونڈ پھری اب دیِپ جلائے مَن مندِر چُپ چاپ کھڑی حیران پِیا یہ عشق ادب سے عاری ہیں ان نینن سے کیا بات کروں تم بھید دلوں کے جانن ہو تم پر رکھتے ہیں مان پِیا میں عشق سمندر ڈُوب مروں میں دار پہ تیرے جھول رہوں میں پریم سفر پہ نکلی ہوں کیا جانوں خِرد گیان پِیا میں خاک کی جلتی بھٹی میں سب خاک جلا کر آئی ہوں اس خاک کی فانی دنیا کا ہر سودا تو نقصان پِیا جب من سے غیر ہٹا آئی سب کاغذ لفظ جلا آئی پھر کس کو اپنا حال کہوں تُو حال میرا پہچان پِیا پھر سُورج بجھتا جاتا ہے پھر رات کا کاجل پھیلے گا تُم کاجل نینن والوں کے مَن میں ٹھہرو مہمان پِیا میں ایک جھلک کو ترسی ہوں کچھ دید نما انوار کرو میں ایک جھلک کے صدقے میں ساری تیرے قربان پِیا
  2. عجب یہ حجر کا قصہ ہے عجب یہ شبِ جدائی ہے نہ میری آنکھ جھپکی ہے نہ دل نے لی اَنگڑائی ہے نہ اُنکو بھولا دل میرا نہ اُنکی یاد سے غافل کہ جسکو فرض کی مانند ہر اک پل یاد رکھنا ہو کہ جسکو قرض کی مانند ہر اک پل ساتھ رکھنا ہو بھلا کیسے بھلاتا دل کہ انکو یاد نہ کرنا وَبالِ جان بن جائے یہ سانسیں گھونٹ لی جائیں یہ آنکھیں موندھ لی جائیں جو ہوں ہم یاد سے غافل تو دھڑکن روک دی جائیں چلو یہ سب سمبھل جائیں مگر جو روح تڑپ جائے بتاو کیا کریں اُسکا کہ روح سےروح کا رشتہ ہے ازلوں سے یونہی لِپٹا وہ ہم کو بھول بھی جائیں تو ہم پےفرض ہوتا ہے اُنہیں دل کے باغیچے سے ان آنکھوں کےدریچے سے کسی مالا کی کلیوں سے کسی کوئل کی کو کو سے ہم اپنے آپ میں بھر لیں کہ ہر اک لفظ اپنے میں اُنہی کا رنگ و بو بھر لیں کہ جو بھی لفظ پرکھے گا ہمارے ہاتھ سے لکھے ہمیں بھی یاد رکھے گا کہ ذکرِ حسن جب ہو گا ہمارے لفظ کھوجے گا مگر پھر سحر میں جکڑا حوالے یوں بھی کچھ دے گا عجب وہ حجر کا قصہ تھا عجب وہ شبِ جدائی تھی نہ اسکی آنکھ جھپکی تھی نہ دل نے لی اَنگڑائی تھی مگر وہ ٹھان بیٹھا تھا اُسے لفظوں میں جَڑ دے گا محبت اَمر کر دے گا سو جَڑ ڈالا ہے ظالم نے نِصابوں میں حوالوں میں محبت کے سب بابوں میں! ©S.S Writes
  3. دِلِ گمشدہ ... کبھی مِل ذرا مجھے وقت دے، مری بات سُن مری حالتوں کو تو دیکھ لے مجھے اپنا حال بتا کبھی کبھی پاس آ, کبھی مِل سہی! مرا حال پوچھ! بتا مجھے مرے کس گناہ کی سزا ہے یہ؟ تُو جنون ساز بھی خود بنا مری وجہِ عشق یقیں ترا مِلا یار بھی تو، ترے سبب وہ گیا تو ، تُو بھی چلا گیا؟ دِلِ گمشدہ؟ ، یہ وفا ہے کیا؟ اِسے کِس ادا میں لکھوں بتا؟ اِسے قسمتوں کا ثمر لکھوں؟ یا لکھوں میں اِس کو دغا، سزا؟ دِلِ گمشدہ......... دِلِ گمشدہ
  4. چلو ھم مان لیتے ھیں۔ محبت اور سیاست میں سبھی اطوار جائز ھیں انا کی جنگ میں جاناں غلط بھی ٹھیک ھوتا ھے مگر یہ جنگ کیسی ھے تم ھی میرے مقابل ھو چلو ھم جیت کی خواھش تم ھی پہ وار دیتے ھیں دھنک کے پل پہ چل کے گگن کے پار جاتے ھیں چلو ھم ھار جاتے ھیں
  5. محبت مت سمجھ لینا کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا محبت کا لبادہ پانیوں کے رنگ جیسا ہے محبت ساتھ پردوں میں نہاں ہو کر عیاں ہے، یہ حقیقت ہے اور اس کی خوشبوؤں کو ہم دھنک میں ڈھونڈ سکتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کو جس نے پایا ہے وہ اپنا آپ کھو بیٹھا یہ مل کر بھی نہیں ملتی کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا کہ کس کو چُھو لیا جائے خُدا وہ ہو نہیں سکتا محبت ایسا منتر ہے فنا جو ہو نہیں سکتا
  6. poetry چُوڑیاں

    اُس کو ِجتنے بھی رنگ بَھاتے ہیں ویسی سب چُوڑیاں ہیں میرے پاد
  7. من مورکھ مٹی کا مادھو، ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے اس کو تم کیا دھوکا دو گے بات کی بات بہل جاتا ہے جی کی جی میں رہ جاتی ہے آیا وقت ہی ٹل جاتا ہے یہ تو بتاؤ کس نے کہا تھا، کانٹا دل سے نکل جاتا ہے جھوٹ موٹ بھی ہونٹ کھلے تو دل نے جانا، امرت پایا ایک اک میٹھے بول پہ مورکھ دو دو ہاتھ اچھل جاتا ہے جیسے بالک پا کے کھلونا، توڑ دے اس کو اور پھر روئے ویسے آشا کے مٹنے پر میرا دل بھی مچل جاتا ہے جیون ریت کی چھان پھٹک میں سوچ سوچ دن رین گنوائے بیرن وقت کی ہیرا پھیری پل آتا ہے پل جاتا ہے میرا جی روشن کر لوجی، بن بستی جوگی کا پھیرا دیکھ کر ہر انجانی صورت پہلا رنگ بدل جاتا ہے
  8. تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا لکھ نماز ، کروڑاں سجدے پھُوڑی اُتّے مَتھے بَھجدے ذکر جَلی وِچ تسبی رولی پر عیباں دی گنڈھ نہ کھولی منبر تے لمیاں تقریراں پاپی مَن دِیاں سو تفسیراں ڈھینچوں سِکھیا عقل دا کھوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا گھت مُصلّی، خیریں سَلّا چِلّے کیتے پڑھ پڑھ اللہ گلّاں دا کھڈکار نگلّا من ریہا جَھلّے دا جَھلّا عقل نے کِیتا کم اولّا اپنے سِر وِچ ماریا کھّلا پاپاں دے وِچ ہو گیا سوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا ویکھن والے ویکھ نہ سَکّے نظراں دِتّے سو سو دَھکّے کَن وچارے سُن سُن تَھکّے بولن والے ہوٹھ نہ اَکّے اَج تَن تیرتھ، کل تن مَکّے کِسے وی تھائیں مِلے نہ سکّے ٹیں ٹیں کردا فقہ دا طوطا !!... تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا
  9. ghazal Mohabat Ki Kahani

    Mohabat Ki Kahani Mein Koi Tarmeem Mat Karna Mujhe Tum Tor Dena Pr Mujhe Taqsem Mat Karna Zamanay K Dukhon Ko Main Seh Lon Ga Zabat Kr K Magr Tum Bhool Jane Ki Kabhi Talqeen Mat Karna Main Tum Se Pyar Karta Tha Main Tum Se Pyar Karta Hon Keh K Bewafa Mujh Ko Meri Toheen Mat Karna, Jo Thukrana Ho, ya Bhulana Chaho Tum Mujhe To Mohabat Ki Kahani Mein Koi Tarmeem Mat Karna, Mujhe Tum Tor To Dena Mgr Taqseem Mat Karna
  10. ••غزلِ•• دُشواریوں نے راہ کو آساں‌ بنا دیا ہر مرحَلے کو منزلِ جاناں بنا دیا کتنی تھی تابِ حُسْن کہ، اُس کی نگاہ نے ہر آرزو کو شعلہ بداماں بنا دیا چارہ گروں کی شعبدہ بازی پہ دل نِثار درماں کو درد، درد کو درماں بنا دیا محدودِ آرزوئے مُسرّت تھا دل مِرا وُسعَت نے غم کی، اِس کو بیاباں بنا دیا اک ذرۂ حقِیر کی قُوَّت تو دیکھئے تسخِیر کائِنات کو آساں بنا دیا رُخ پر تِرے ٹھہر کے مِری چشمِ شوق نے آرائشِ جمال کو آساں بنا دیا اک جُنْبِشِ نِگاہ بڑا کام کر گئی تارِ نظر کو جُزوِ رگِ جاں بنا دیا آیا ہے وہ بھی وقت، کہ اکثر بہار نے ہرچاکِ گُل کو میرا گریباں بنا دیا اخگر نِقاب اُلٹ کے، کِسی خوش جمال نے کارِ دِل و نِگاہ کو آساں بنا دیا
  11. poetry gham e Hijraan

    Ghum e Hijran ki tere pass dawa hy ky nahi غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں جاں بلب ہے ترا بیمار ، سنا ہے کہ نہیں وہ جو آیا تھا، تو دل لے کے گیا ہے کہ نہیں جھانک لے سینے میں کم بخت ذرا ، ہے کہ نہیں مخمصے میں تری آہٹ نے مجھے ڈال دیا یہ مرے دل کے دھڑکنے کی صدا ہے کہ نہیں سامنے آنا ، گزر جانا ، تغافل کرنا کیا یہ دنیا میں قیامت کی سزا ہے کہ نہیں اہل دل نے اُسے ڈُھونڈا ، اُسے محسوس کیا سوچتے ہی رہے کچھ لوگ ، خدا ہے ، کہ نہیں تم تو ناحق مری باتوں کا برا مان گئے میں نے جو کچھ بھی کہا تم سے ، بجا ہے کہ نہیں؟ آبرو جائے نہ اشکوں کی روانی سے نصیر سوچتا ہوں ، یہ محبت میں روا ہے کہ نہیں
  12. Maine is toor se chaha tuje aksar jaana میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں جیسے ماہتاب کو انت سمندر چاہے جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے جیسے خوشبو کا ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے جیسے بارش کی دعا آبلہ با مانگتے ہیں میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے خواہشِ دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لئے توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے میں نے چاہا کہ ترے حسن کی گلنار فضا میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستاں کی بہار تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول میرے خاموش خیالوں مین تکلم تیرا رقص کرتا رہے، بھرتا رہے خوشبو کا خمار میری خواہش کے جزیروں میں تبسم تیرا تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی تیری سانسوں میں مسیحائی تھی لیکن تو بھی چارہِ زخمِ غمِ دیدہِ تر کر نہ سکی تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے تو کہ سیماب طبیعیت ہے تجھے معلوم موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی یاد آئے گا تری دید کا منظر جاناں مجھ سے مانگے گا ترے عہدِ محبت کا حساب تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں یوں مرے دل کے برابر ترا غم آیا ہے ! جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں
  13. Her Aik Harf Hu Imkaan ! Tere Jesa Hu ہر ایک حرف ہو امکان! تیرے جیسا ہو مری کتاب کا عنوان تیرے جیسا ہو ہزار بار گوارا ہے پارسائی کو جو میری ذات پہ بہتان تیرے جیسا ہو کوئی سوال جو مشکل نہ ہو تیرے جیسا؟ کوئی جواب جو آسان تیرے جیسا ہو؟ میں عمر قید بصد ناز کاٹ سکتی ہوں مرے نصیب میں زندان تیرے جیسا ہو !! محبتوں کا صلہ ہو تو ہو ترے جیسا محبتوں میں ہو نقصان، تیرے جیسا ہو میں اُس کے حال پہ قربان میرے دل جو بھی وفا کی راہ میں ہلکان تیرے جیسا ہو مجھے قبول ہے، بارِ دگر عنایت ہو مگر یہ شرط ہے احسان تیرے جیسا ہو شفا بھی دیتا ہے یہ معجزہ محبت کا کسی مریض کا ایمان تیرے جیسا ہو
  14. پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہے جذبہ عشق سرِ دار مجھے کھینچتا ہے میں محبت کے مضافات کا باشندہ ہوں کیوں ترا شہرِ پُر اسرار مجھے کھینچتا ہے یہ بھی حیرت ہے عجب، خود مری تمثال کے ساتھ آئینہ بھی پسِ دیوار مجھے کھینچتا ہے دم بھی لینے نہیں دیتا ہے مسافت کاجنون پَا برہنہ وہ سرِ خار مجھے کھینچتا ہے پھر کوئی تیر ہدف کرتا ہے مشکیرہ کو پھر کوئی دستِ کماں دار مجھے کھینچتا ہے بولیاں جس کی لگے میں کوئی یوسف تو نہیں کس لئے مصر کا بازار مجھے کھینچتا ہے ہے کوئی گریہ کن حرف پسِ خیمہ جاں پھر کوئی نالہ آزار مجھے کھینچتا ہے تجھ کو معلوم ہے شاہدؔ بھی ہے مغرور بہت کیوں ترا حُسن انادار مجھے کھینچتا ہے
  15. Samandar Me Utarta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Teri Ankhon Ko Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Tumhara Nam Parhne Ki Ijazat Chin Gai Jab Se Koi Bhi Lafz Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Me Huns Kar Jhail Leta Hun Judai Ki Sabhi Rasmen Galy Jab Us K Lagta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Na-Jany Ho Gaya Hun Is Qadar Hassas Me Kab Se Kisi Se Bat Karta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Wo Sab Guzry Hue Lamhaat Mujh Ko Yad Ate Hain Tumhare Khat Jo Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Me Sara Din Bohat Masroof Rehta Hun Magr Junhi Qadam Chokhat Pe Rakhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Har Aik Muflis K Mathy Par Alam Ki Dastany Hain Koi Chehra Bhi Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Bary Logon K Oonchy, Bad-Numa Or Sard Mehlon Ko Gareeb Ankhon Se Takta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Tere Koochy Se Ab Mera Ta'aluq Wajabi Sa Hai Magr Jab Bhi Guzrta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Hazar Mosamon Ki Hukmarani Hai Mere Dil Pe WASI Me Jab Bhi Hansta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain...
  16. میں بُرا تھا یا بھلا تھا اُسے گلا تو نہ تھا میری وجہ سےشہر بھر میں وہ رسواہ تو نہ تھا اُس نے چاھا تھا مجھےجان سے بھڑ کر لیکن چھوڑ کے مجھ کووہ تنہا تھاادھورا تو نہ تھا میں بُرا تھا یا بھلا تھا اُسے گلا تو نہ تھا میں کنارہ تھا مگر بِکھری ہوئ موجوں کی طرح ایک دن اُس کومیرے سر سے گزر جانا تھا وہ میری پیاس تھا لیکن میرا پیاسا تو نہ تھا میں بُرا تھا یا بھلا تھا اُسے گلا تو نہ تھا سایہ ہمسایہ تھا وہ ساتھ کہاں تک دیتا میرا ہو کر بھی وہ میرے لئیے کیا کر لیتا راحتِ دل تھا مگرغم کا ماداوہ تو نہ تھا میں بُرا تھا یا بھلا تھا اُسے گلا تو نہ تھا
  17. کبھی تو شہرِ ستمگراں میں کوئی محبت شناس آئے وہ جس کی آنکھوں سے نور چھلکے لبوں سے چاہت کی باس آئے چلے تو خوشیوں کے شوخ جذبے ہماری آنکھوں میں موجزن تھے مگر نا پوچھو کہ واپسی کے سفر سے کِتنے اُداس آئے ہمارے ہاتھوں میں اِک دِیا تھا ہوا نے وہ بھی بُجھا دیا تھا ہیں کس قدر بدنصیب ہم بھی، ہمیں اُجالے نہ راس آئے ہماری جانِب سے شہر والوں میں یہ منادی کرا دو ”محسن جسے طلب ہو متاعِ غم کی وہ ہم فقیروں کے پاس آئے #محسن_نقوی
  18. poetry تیری خوشبو

    یہ دل روشن ہے تیری روشنی سے سراپا ان چراغوں کا تجھے حیرت سے تکتا ہے میری ویران حسرت کو وہی آباد کرتا ہے جو سایہ ساتھ رکھتا ہے، جو وعدے کو نبھاتا ہے محبت فرض اُن پر ہے جنہیں سونا نہیں آتا یہ حکمت اُن پہ واجب ہے جنہیں رونا نہیں اتا کسی تاریک گوشے میں، کہیں شعلہ بھڑکتا ہے پُجاری کی عقیدت سے خدا کا دل دھڑکتا ہے جہاں میں خواہشوں کے پھل تیری پہلی نظر سے ہیں نفس کی کاوشوں کے پھل تیری پہلی نظر سے ہیں وفاداری غلامی ہے، یہ مجھ کو راس آتی ہے ندامت کی اک ادا سے دل کو میرے کھینچ لاتی ہے مقدس تیرگی میں بس تجھے محسوس کرتا ہوں میں ہر پل روشنی میں بس تجھے محسوس کرتا ہوں مجھے معذور خوابوں سے یہی بیدار کرتی ہے سوا تیرے ہر اک شے بس مجھے بے زار کرتی ہے مجھے مسرور کرتی ہے، میری تلخی بُھلاتی ہے میرے محبوب موسم کو میرا اپنا بناتی ہے یہ اُڑتی بادلوں میں اور کبھی اطراف پھرتی ہے میرے اندر کی چنگاری فروزاں کرتی رہتی ہے عجب انصاف کرتی ہے، مُجھے عادل بناتی ہے تیری خوشبو مجھے سرشار رکھتی ہے (سہیل احمد )
  19. Tum meri ankh k tewar na bhula paoge Ankahi bat ko samjhoge to yad aunga Ham ne khushyon ki tarah dukh bhi ikathe dekhe Safah-e-zist ko paltoge to yad aunga Isi andaz mein hote the mukhatib mujh se Khat kisi aur ko likhoge to yad aunga Sard raton k mahkate hue sannaton mein Jab kisi phul ko chumoge to yad aunga Ab tere ashk main honthon se chura leta hun Hath se khud inhen ponchoge to yad aunga Shal pahnayega ab kaun decembar mein tumhen Barishon mein kabhi bhigo ge to yad aunga Aj tum mahfil-e-yaran pe ho magrur bahut Jab kabhi tut k bikhroge to yad aunga Hadse ayenge jiwan mein to tum ho k nidhal Kisi diwar ko thamoge to yad aunga Is mein shamil hai meri bakht ki tariki bhi Tum siyah rang jo pahnoge to yad aunga
  20. poetry مراجعت

    چلو اک بار پھر اپنی انہیں قبروں کی جانب لوٹ جائیں ھم جہاں اس حشر بے داور سے پہلے نیند کی صدیاں گزاری تھیں چلو پھر اپنے کفنوں میں لپٹ جائیں لحد کی خاک چہروں پر بکھیریں اور سو جائیں سوا نیزے پہ سورج ھے مگر اب تک ھماری تشنہ کامی نے میان عرصئہ محشر،کہیں بھی چشمئہ کوثر نہیں دیکھا کہیں میزان کی تنصیب کا منظر نہیں دیکھا کسی ظالم کے بائیں ھاتھ اعمال کا دفتر نھیں دیکھا سوا نیزے پہ سورج ھے مگر وہ عدل کا دن، داد خواہی کی گھڑی اب تک نہیں آئی چلو اک بار پھر اپنی انہیں قبروں کی جانب لوٹ جائیں ھم کہ وہ اک کاروبار خسروی تھا اور ھم اسکو کسی کے عہد یوم الدین کی تکمیل سمجھے تھے وہ اک دجال کی آواز تھی جس کو ھم اپنی سادگی صور اسرافیل سمجھے تھے
  21. poetry چمکتا سراب

    پہنچ سے دُور ۔۔ چمکتا سراب ۔۔ یعنی تُو مجھے دکھایا گیا ایک خواب یعنی تُو مَیں جانتا ھوں ببُول اور گلاب کے معنی ببُول یعنی زمانہ ، گلاب یعنی تُو جمالیات کو پڑھنے کا شوق تھا ، سو مجھے عطا ھوا ھے مکمل نصاب یعنی تُو کہاں یہ ذرّہء تاریک بخت یعنی مَیں کہاں وہ نُور بھرا ماھتاب یعنی تُو بدل گئی ھے بہت مملکت مرے دِل کی کہ آگیا ھے یہاں انقلاب یعنی تُو ھر اِک غزل کو سمجھنے کا وقت ھے نہ دماغ مجھے بہت ھے فقط انتخاب یعنی تُو کبھی تو میرے اندھیروں کو روشنی دے گا گریز کرتا ھوا ماھتاب یعنی تُو اِدھر ھے کوہ کنِ دشتِ عشق یعنی مَیں اُدھر ھے حُسنِ نزاکت مآب یعنی تُو اُجاڑ گُلشنِ دل کو بڑی دعاوں کے بعد ھوا نصیب گُلِ باریاب یعنی تُو بہت طویل سہی داستانِ دل ، لیکن بس ایک شخص ھے لُبِّ لباب یعنی تُو کبھی کبھی نظر آتا ھے دشتِ ھجراں میں جنُوں کی پیاس بڑھاتا سراب یعنی تُو چکھے بغیر ھی جس کا نشہ مُسلسل ھے مجھے بہم ھے اِک ایسی شراب یعنی تُو کوئی سوال ھے جس کو جواب مِلتا نہیں سوال یعنی کہ فارس ، جواب یعنی تُو
  22. ﯾﮩﺎﮞ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﮕﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﻭﺭ، ﮐﯿﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﻟﮩﺮ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮔﺰﺭﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﻟﻔﻆ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ، ﺍﻭﺭ، ﺍﺩﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﯿﺖ ﺟﺎﺗﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﮔﻢ ﮔﺸﺘﮧ ﺻﺪﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺍﭨﮭﻨﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩِ ﺻﺒﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﺰﺭ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺏ ﮐﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﮎ ﺷﻮﺭ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﭙﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺲ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﮐﮫ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺷﮏ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺟﻞ ﮐﺮ ﻓﻨﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﮐﯿﻨﭽﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻧﯿﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻇﻔﺮ، ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ، ﻭﺭﻧﮧ، ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺮﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ، ﯾﺎ ﺑﮭﻼ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ کو
  23. poetry Zinda tha to kisi ne na pucha.

    Zinda tha to kisi ne na pucha haalat-e-jigar, Ab mar gaye hain to mitti main dabanay aagaye, Chor k dunya ko madhosh huye thy hum, Woh na janay kya soch kar humko jaganay aagaye, Na janay kis se pucha hai wafa na pata mera, Meri qabar pe bhi humko jaganay aagaye, Hum to andhere main sonay k aadi they, Or woh bewafa meri qabar per diye jalanay aagaye. Zinda tha to ek nazar na dekha pyar se Faraz! Mar gaye hain to ab qabar pe aansu...
  24. poetry Tery baad bi jana

    Wohi Gardashain Wohi Paich-o-Kham Tere Baad Bhi, Wohi Houslay Mere Dum Ba Dum Tere Baad Bhi, Tere Sath Thi Teri Jafa Mujhay Mo”atabar, Tere Saaray Gham Mujhay Mohtaram Tere Baad Bhi, Mere Sath He Meri Har Khushi Teri Muntazir, Teri Muntazir Meri Chasham-e-Namm Tere Baad Bhi, Tu Kisi K Qalab-o-ArzoO Mein Dhal Gaya, Main Na Ho Saka Kabhi Khud Mein Zamm Tere Baad Bhi, Mere Baad Kitnay He RoOp Tu Ne Badal Liye, Main Wohin HoOn Ab Teri Qasam Tere Baad Bhi .
  25. ﻭﺍﺳﻄﮯ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﻣﻔﻘﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯﻣﺴﺪﻭﺩ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﭼﻮﺭ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺑﭽﺎ ﮐﮯ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺫﮨﻦ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﺣﺴﺮﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﻣُﺤﻠّﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻝ ... ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮧ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﺳﺘﮑﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﺭ ﭘﮧ ﺳﺮ ﭘﭩﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﭘﺮ , ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﺎ ﮐﺮ ﺗﮭﮏ ﮐﮯ ... ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺭﻭﺯ ﻟﻮﭦ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﭩﺘﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ .... ﭼﻮﺭ ﺭﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﺯ ﺁﻧﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺩﻝ ، ﻣﮕﺮ ... ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮑﺘﺎ
×