Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'ghazal' in content posted in Shair-o-Shaa'eri.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 69 results

  1. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  2. روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں مل کے ان کی نگاہ جادو سے دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں مجھ کو دکھلا کے راہ کوچہء یار کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے دل میں گویا سما گئیں آنکھیں محفل یار میں بہ ذوق نگاہ لطف کیا کیا اٹھا گئیں آنکھیں حال سنتے وہ میرا کیا حسرت وہ تو کہئے سنا گئیں آنکھیں
  3. waqas dar

    poetry kahan hute hu

    ہجر میں خون رلاتے ہو کہاں ہوتے ہو لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو کہاں ہوتے ہو مجھ سے بچھڑے ہو تو محبوب نظر ہو کس کے آج کل کس کو مناتے ہو کہاں ہوتے ہو شب کی تنہائی میں اکثر یہ خیال آتا ہے اپنے دکھ کس کو سناتے ہو کہاں ہوتے ہو تم تو خوشیوں کی رفاقت کے لیے بچھڑے تھے اب اگر اشک بہاتے ہو تو کہاں ہوتے ہو شہر کے لوگ بھی اب یہ سوال کرتے ہیں اب کم کم نظر آتے ہو کہاں ہوتے ہو
  4. تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا لکھ نماز ، کروڑاں سجدے پھُوڑی اُتّے مَتھے بَھجدے ذکر جَلی وِچ تسبی رولی پر عیباں دی گنڈھ نہ کھولی منبر تے لمیاں تقریراں پاپی مَن دِیاں سو تفسیراں ڈھینچوں سِکھیا عقل دا کھوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا گھت مُصلّی، خیریں سَلّا چِلّے کیتے پڑھ پڑھ اللہ گلّاں دا کھڈکار نگلّا من ریہا جَھلّے دا جَھلّا عقل نے کِیتا کم اولّا اپنے سِر وِچ ماریا کھّلا پاپاں دے وِچ ہو گیا سوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا ویکھن والے ویکھ نہ سَکّے نظراں دِتّے سو سو دَھکّے کَن وچارے سُن سُن تَھکّے بولن والے ہوٹھ نہ اَکّے اَج تَن تیرتھ، کل تن مَکّے کِسے وی تھائیں مِلے نہ سکّے ٹیں ٹیں کردا فقہ دا طوطا !!... تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا
  5. عجب یہ حجر کا قصہ ہے عجب یہ شبِ جدائی ہے نہ میری آنکھ جھپکی ہے نہ دل نے لی اَنگڑائی ہے نہ اُنکو بھولا دل میرا نہ اُنکی یاد سے غافل کہ جسکو فرض کی مانند ہر اک پل یاد رکھنا ہو کہ جسکو قرض کی مانند ہر اک پل ساتھ رکھنا ہو بھلا کیسے بھلاتا دل کہ انکو یاد نہ کرنا وَبالِ جان بن جائے یہ سانسیں گھونٹ لی جائیں یہ آنکھیں موندھ لی جائیں جو ہوں ہم یاد سے غافل تو دھڑکن روک دی جائیں چلو یہ سب سمبھل جائیں مگر جو روح تڑپ جائے بتاو کیا کریں اُسکا کہ روح سےروح کا رشتہ ہے ازلوں سے یونہی لِپٹا وہ ہم کو بھول بھی جائیں تو ہم پےفرض ہوتا ہے اُنہیں دل کے باغیچے سے ان آنکھوں کےدریچے سے کسی مالا کی کلیوں سے کسی کوئل کی کو کو سے ہم اپنے آپ میں بھر لیں کہ ہر اک لفظ اپنے میں اُنہی کا رنگ و بو بھر لیں کہ جو بھی لفظ پرکھے گا ہمارے ہاتھ سے لکھے ہمیں بھی یاد رکھے گا کہ ذکرِ حسن جب ہو گا ہمارے لفظ کھوجے گا مگر پھر سحر میں جکڑا حوالے یوں بھی کچھ دے گا عجب وہ حجر کا قصہ تھا عجب وہ شبِ جدائی تھی نہ اسکی آنکھ جھپکی تھی نہ دل نے لی اَنگڑائی تھی مگر وہ ٹھان بیٹھا تھا اُسے لفظوں میں جَڑ دے گا محبت اَمر کر دے گا سو جَڑ ڈالا ہے ظالم نے نِصابوں میں حوالوں میں محبت کے سب بابوں میں! ©S.S Writes
  6. دِلِ گمشدہ ... کبھی مِل ذرا مجھے وقت دے، مری بات سُن مری حالتوں کو تو دیکھ لے مجھے اپنا حال بتا کبھی کبھی پاس آ, کبھی مِل سہی! مرا حال پوچھ! بتا مجھے مرے کس گناہ کی سزا ہے یہ؟ تُو جنون ساز بھی خود بنا مری وجہِ عشق یقیں ترا مِلا یار بھی تو، ترے سبب وہ گیا تو ، تُو بھی چلا گیا؟ دِلِ گمشدہ؟ ، یہ وفا ہے کیا؟ اِسے کِس ادا میں لکھوں بتا؟ اِسے قسمتوں کا ثمر لکھوں؟ یا لکھوں میں اِس کو دغا، سزا؟ دِلِ گمشدہ......... دِلِ گمشدہ
  7. مَن عِشق کی اگنی جلتی ہے تم بَنہیّاں تھامو جان پِیا میں رُوپ سہاگن دھارَن کو راہ دیکھوں نینَن تان پِیا بس ایک جھلک پہ جَگ سارا تَج تیرے پیچھے چل نِکلی تو عِشق میرا، تو دِین میرا تو عِلم میرا اِیمان پِیا میں ننگے پَیروں نَقش تیرے قدموں کے چُنتی آئی ہوں اب جان سے ہاری راہوں میں یہ رستہ تو انجان پِیا سِر مانگے تو میں حاضِر ہوں زَر مانگو تو میں بے زَر ہوں تم عِشق کی دولت دان کرو میں ہو جاؤں دَھنوان پِیا میں بھُول بھٹک کے ہار گئی ہر بار تمہارا نام لِیا اِس عِشق کی کملی جوگن کے ہر قِصّے کا عُنوان پِیا میں پیاس سجائے آنکھوں میں سب دَیر حرم میں ڈھونڈ پھری اب دیِپ جلائے مَن مندِر چُپ چاپ کھڑی حیران پِیا یہ عشق ادب سے عاری ہیں ان نینن سے کیا بات کروں تم بھید دلوں کے جانن ہو تم پر رکھتے ہیں مان پِیا میں عشق سمندر ڈُوب مروں میں دار پہ تیرے جھول رہوں میں پریم سفر پہ نکلی ہوں کیا جانوں خِرد گیان پِیا میں خاک کی جلتی بھٹی میں سب خاک جلا کر آئی ہوں اس خاک کی فانی دنیا کا ہر سودا تو نقصان پِیا جب من سے غیر ہٹا آئی سب کاغذ لفظ جلا آئی پھر کس کو اپنا حال کہوں تُو حال میرا پہچان پِیا پھر سُورج بجھتا جاتا ہے پھر رات کا کاجل پھیلے گا تُم کاجل نینن والوں کے مَن میں ٹھہرو مہمان پِیا میں ایک جھلک کو ترسی ہوں کچھ دید نما انوار کرو میں ایک جھلک کے صدقے میں ساری تیرے قربان پِیا
  8. من مورکھ مٹی کا مادھو، ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے اس کو تم کیا دھوکا دو گے بات کی بات بہل جاتا ہے جی کی جی میں رہ جاتی ہے آیا وقت ہی ٹل جاتا ہے یہ تو بتاؤ کس نے کہا تھا، کانٹا دل سے نکل جاتا ہے جھوٹ موٹ بھی ہونٹ کھلے تو دل نے جانا، امرت پایا ایک اک میٹھے بول پہ مورکھ دو دو ہاتھ اچھل جاتا ہے جیسے بالک پا کے کھلونا، توڑ دے اس کو اور پھر روئے ویسے آشا کے مٹنے پر میرا دل بھی مچل جاتا ہے جیون ریت کی چھان پھٹک میں سوچ سوچ دن رین گنوائے بیرن وقت کی ہیرا پھیری پل آتا ہے پل جاتا ہے میرا جی روشن کر لوجی، بن بستی جوگی کا پھیرا دیکھ کر ہر انجانی صورت پہلا رنگ بدل جاتا ہے
  9. Urooj Butt

    poetry چُوڑیاں

    اُس کو ِجتنے بھی رنگ بَھاتے ہیں ویسی سب چُوڑیاں ہیں میرے پاد
  10. چلو ھم مان لیتے ھیں۔ محبت اور سیاست میں سبھی اطوار جائز ھیں انا کی جنگ میں جاناں غلط بھی ٹھیک ھوتا ھے مگر یہ جنگ کیسی ھے تم ھی میرے مقابل ھو چلو ھم جیت کی خواھش تم ھی پہ وار دیتے ھیں دھنک کے پل پہ چل کے گگن کے پار جاتے ھیں چلو ھم ھار جاتے ھیں
  11. محبت مت سمجھ لینا کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا محبت کا لبادہ پانیوں کے رنگ جیسا ہے محبت ساتھ پردوں میں نہاں ہو کر عیاں ہے، یہ حقیقت ہے اور اس کی خوشبوؤں کو ہم دھنک میں ڈھونڈ سکتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کو جس نے پایا ہے وہ اپنا آپ کھو بیٹھا یہ مل کر بھی نہیں ملتی کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا کہ کس کو چُھو لیا جائے خُدا وہ ہو نہیں سکتا محبت ایسا منتر ہے فنا جو ہو نہیں سکتا
  12. پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہے جذبہ عشق سرِ دار مجھے کھینچتا ہے میں محبت کے مضافات کا باشندہ ہوں کیوں ترا شہرِ پُر اسرار مجھے کھینچتا ہے یہ بھی حیرت ہے عجب، خود مری تمثال کے ساتھ آئینہ بھی پسِ دیوار مجھے کھینچتا ہے دم بھی لینے نہیں دیتا ہے مسافت کاجنون پَا برہنہ وہ سرِ خار مجھے کھینچتا ہے پھر کوئی تیر ہدف کرتا ہے مشکیرہ کو پھر کوئی دستِ کماں دار مجھے کھینچتا ہے بولیاں جس کی لگے میں کوئی یوسف تو نہیں کس لئے مصر کا بازار مجھے کھینچتا ہے ہے کوئی گریہ کن حرف پسِ خیمہ جاں پھر کوئی نالہ آزار مجھے کھینچتا ہے تجھ کو معلوم ہے شاہدؔ بھی ہے مغرور بہت کیوں ترا حُسن انادار مجھے کھینچتا ہے
  13. Pearl Meaow

    ghazal Mohabat Ki Kahani

    Mohabat Ki Kahani Mein Koi Tarmeem Mat Karna Mujhe Tum Tor Dena Pr Mujhe Taqsem Mat Karna Zamanay K Dukhon Ko Main Seh Lon Ga Zabat Kr K Magr Tum Bhool Jane Ki Kabhi Talqeen Mat Karna Main Tum Se Pyar Karta Tha Main Tum Se Pyar Karta Hon Keh K Bewafa Mujh Ko Meri Toheen Mat Karna, Jo Thukrana Ho, ya Bhulana Chaho Tum Mujhe To Mohabat Ki Kahani Mein Koi Tarmeem Mat Karna, Mujhe Tum Tor To Dena Mgr Taqseem Mat Karna
  14. ••غزلِ•• دُشواریوں نے راہ کو آساں‌ بنا دیا ہر مرحَلے کو منزلِ جاناں بنا دیا کتنی تھی تابِ حُسْن کہ، اُس کی نگاہ نے ہر آرزو کو شعلہ بداماں بنا دیا چارہ گروں کی شعبدہ بازی پہ دل نِثار درماں کو درد، درد کو درماں بنا دیا محدودِ آرزوئے مُسرّت تھا دل مِرا وُسعَت نے غم کی، اِس کو بیاباں بنا دیا اک ذرۂ حقِیر کی قُوَّت تو دیکھئے تسخِیر کائِنات کو آساں بنا دیا رُخ پر تِرے ٹھہر کے مِری چشمِ شوق نے آرائشِ جمال کو آساں بنا دیا اک جُنْبِشِ نِگاہ بڑا کام کر گئی تارِ نظر کو جُزوِ رگِ جاں بنا دیا آیا ہے وہ بھی وقت، کہ اکثر بہار نے ہرچاکِ گُل کو میرا گریباں بنا دیا اخگر نِقاب اُلٹ کے، کِسی خوش جمال نے کارِ دِل و نِگاہ کو آساں بنا دیا
  15. Hareem Naz

    poetry gham e Hijraan

    Ghum e Hijran ki tere pass dawa hy ky nahi غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں جاں بلب ہے ترا بیمار ، سنا ہے کہ نہیں وہ جو آیا تھا، تو دل لے کے گیا ہے کہ نہیں جھانک لے سینے میں کم بخت ذرا ، ہے کہ نہیں مخمصے میں تری آہٹ نے مجھے ڈال دیا یہ مرے دل کے دھڑکنے کی صدا ہے کہ نہیں سامنے آنا ، گزر جانا ، تغافل کرنا کیا یہ دنیا میں قیامت کی سزا ہے کہ نہیں اہل دل نے اُسے ڈُھونڈا ، اُسے محسوس کیا سوچتے ہی رہے کچھ لوگ ، خدا ہے ، کہ نہیں تم تو ناحق مری باتوں کا برا مان گئے میں نے جو کچھ بھی کہا تم سے ، بجا ہے کہ نہیں؟ آبرو جائے نہ اشکوں کی روانی سے نصیر سوچتا ہوں ، یہ محبت میں روا ہے کہ نہیں
  16. Maine is toor se chaha tuje aksar jaana میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں جیسے ماہتاب کو انت سمندر چاہے جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے جیسے خوشبو کا ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے جیسے بارش کی دعا آبلہ با مانگتے ہیں میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے خواہشِ دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لئے توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے میں نے چاہا کہ ترے حسن کی گلنار فضا میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستاں کی بہار تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول میرے خاموش خیالوں مین تکلم تیرا رقص کرتا رہے، بھرتا رہے خوشبو کا خمار میری خواہش کے جزیروں میں تبسم تیرا تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی تیری سانسوں میں مسیحائی تھی لیکن تو بھی چارہِ زخمِ غمِ دیدہِ تر کر نہ سکی تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے تو کہ سیماب طبیعیت ہے تجھے معلوم موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی یاد آئے گا تری دید کا منظر جاناں مجھ سے مانگے گا ترے عہدِ محبت کا حساب تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں یوں مرے دل کے برابر ترا غم آیا ہے ! جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں
  17. Her Aik Harf Hu Imkaan ! Tere Jesa Hu ہر ایک حرف ہو امکان! تیرے جیسا ہو مری کتاب کا عنوان تیرے جیسا ہو ہزار بار گوارا ہے پارسائی کو جو میری ذات پہ بہتان تیرے جیسا ہو کوئی سوال جو مشکل نہ ہو تیرے جیسا؟ کوئی جواب جو آسان تیرے جیسا ہو؟ میں عمر قید بصد ناز کاٹ سکتی ہوں مرے نصیب میں زندان تیرے جیسا ہو !! محبتوں کا صلہ ہو تو ہو ترے جیسا محبتوں میں ہو نقصان، تیرے جیسا ہو میں اُس کے حال پہ قربان میرے دل جو بھی وفا کی راہ میں ہلکان تیرے جیسا ہو مجھے قبول ہے، بارِ دگر عنایت ہو مگر یہ شرط ہے احسان تیرے جیسا ہو شفا بھی دیتا ہے یہ معجزہ محبت کا کسی مریض کا ایمان تیرے جیسا ہو
  18. Samandar Me Utarta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Teri Ankhon Ko Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Tumhara Nam Parhne Ki Ijazat Chin Gai Jab Se Koi Bhi Lafz Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Me Huns Kar Jhail Leta Hun Judai Ki Sabhi Rasmen Galy Jab Us K Lagta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Na-Jany Ho Gaya Hun Is Qadar Hassas Me Kab Se Kisi Se Bat Karta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Wo Sab Guzry Hue Lamhaat Mujh Ko Yad Ate Hain Tumhare Khat Jo Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Me Sara Din Bohat Masroof Rehta Hun Magr Junhi Qadam Chokhat Pe Rakhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Har Aik Muflis K Mathy Par Alam Ki Dastany Hain Koi Chehra Bhi Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Bary Logon K Oonchy, Bad-Numa Or Sard Mehlon Ko Gareeb Ankhon Se Takta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Tere Koochy Se Ab Mera Ta'aluq Wajabi Sa Hai Magr Jab Bhi Guzrta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Hazar Mosamon Ki Hukmarani Hai Mere Dil Pe WASI Me Jab Bhi Hansta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain...
  19. Mat toor wo ta'lluq , jo teri zaat sey hai Tu khafa akhir ,meri kis baat se hai... Tu bhe na uljha kar mujh se istarha Jab k tu wakif meri aa'd'aat se hai... Wo jo guzaray thy teri qurbat main kbhe Bay hadd muhabbat mujhy un lamhaat se hai... Tera mera naa'ta jurra hai kuch aisey Jaisay din ka rishta har ik raat se hai ... Kaisay jee lain tujh se juda ho k hum Hamari toh har sans wabsta teri zaat se hai...
  20. ایک بحر میں پانچ غزلیں *********************** 1. نہ آیا ہوں نہ میں لایا گیا ہوں میں حرفِ کن ہوں فرمایا گیا ہوں میری اپنی نہیں ہے کوئی صورت ہر اک صورت سے بہلایا گیا ہوں بہت بدلے میرے انداز لیکن جہاں کھویا وہیں پایا گیا ہوں وجودِ غیر ہو کیسے گوارا تیری راہوں میں بے سایا گیا ہوں نجانے کون سی منزل ہے واصف جہاں نہلا کے بلوایا گیا واصف علی واصف _______ 2. فلک سے خاک پر لایا گیا ہوں کہاں کھویا کہاں پایا گیا ہوں میں زیور ہوں عروسِ زِندگی کا بڑے تیور سے پہنایا گیا ہوں نہیں عرض و گزارش میرا شیوہ صدائے کُن میں فرمایا گیا ہوں بتا اے انتہائے حسنِ دنیا میں بہکا ہوں کہ بہکایا گیا ہوں مجھے یہ تو بتا اے شدتِ وصل میں لِپٹا ہوں کہ لِپٹایا گیا ہوں بدن بھیگا ہوا ہے موتیوں سے یہ کِس پانی سے نہلایا گیا ہوں اگر جانا ہی ٹھہرا ہے جہاں سے تو میں دنیا میں کیوں لایا گیا ہوں یہ میرا دل ہے یا تیری نظر ہے میں تڑپا ہوں کہ تڑپایا گیاہوں مجھے اے مہرباں یہ تو بتا دے میں ٹھہرا ہوں کہ ٹھہرایا گیا ہوں تِری گلیوں سے بچ کر چل رہا تھا تِری گلیوں میں ہی پایا گیا ہوں جہاں روکی گئی ہیں میری کِرنیں وہاں میں صورتِ سایہ گیا ہوں عدیم اِک آرزو تھی زِندگی میں اُسی کے ساتھ دفنایا گیا ہوں عدیم ہاشمی _______ 3. جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں وہیں ڈوبا ہوا پایا گیا ہوں بلا کافی نہ تھی اک زندگی کی دوبارہ یاد فرمایا گیا ہوں سپرد خاک ہی کرنا ہے مجھ کو تو پھر کاہے کو نہلایا گیا ہوں اگرچہ ابرِ گوہر بار ہوں میں مگر آنکھوں سے برسایا گیا ہوں کوئی صنعت نہیں مجھ میں تو پھر کیوں نمائش گاہ میں لایا گیا ہوں مجھے تو اس خبر نے کھو دیا ہے سنا ہے میں کہیں پایا گیا ہوں حفیظ اہل زباں کب مانتے تھے بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں حفیظ جالندھری ______ 4. جہاں معبود ٹھہرايا گيا ہوں وہيں سولی پہ لٹکايا گيا ہوں سنا ہر بار ميرا کلمۂ صدق مگر ہر بار جھٹلايا گيا ہوں مرے نقشِ قدم نظروں سے اوجھل مگر ہر موڑ پر پايا گيا ہوں کبھی ماضی کا جيسے تذکرہ ہو زباں پر اس طرح لايا گيا ہوں جو موسی ہوں تو ٹھکرايا گيا تھا جو عيسی ہوں تو جھٹلايا گيا ہوں جہاں ہے رسم قتلِ انبيا کی وہاں مبعوث فرمايا گيا ہوں ابھی تدفين باقی ہے ابھی تو لہو سے اپنے نہلايا گيا ہوں دوامی عظمتوں کے مقبرے ميں ہزاروں بار دفنايا گيا ہوں ميں اس حيرت سرائے آب و گل ميں بحکمِ خاص بھجوايا گيا ہوں کوئی مہمان ناخواندہ نہ سمجھے بصد اصرار بلوايا گيا ہوں بطورِ ارمغاں لايا گيا تھا بطورِ ارمغاں لايا گيا ہوں ترس کيسا کہ اس دارالبلا ميں ازل کے دن سے ترسايا گيا ہوں اساسِ ابتلا محکم ہے مجھ سے کہ ديواروں ميں چنوايا گيا ہوں کبھی تو نغمۂ داؤد بن کر سليماں کے لئے گايا گيا ہوں نجانے کون سے سانچے ميں ڈھاليں ابھی تو صرف پگھلايا گيا ہوں جہاں تک مہرِ روز افروز پہنچا وہيں تک صورتِ سايہ گيا ہوں رئیس امروہوی ______ 5. تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں دلِ مضطر سے پوچھ اے رونقِ بزم میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں سویرا ہے بہت اے شورِ محشر ابھی بے کار اٹھوایا گیا ہوں قدم اٹھتے نہیں کیوں جانبِ دیر کسی مسجد میں بہکایا گیا ہوں کجا میں اور کجا اے شاد دنیا کہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں شاد عظیم آبادی ♡♡♡♡♡
  21. seems77

    poetry تیری خوشبو

    یہ دل روشن ہے تیری روشنی سے سراپا ان چراغوں کا تجھے حیرت سے تکتا ہے میری ویران حسرت کو وہی آباد کرتا ہے جو سایہ ساتھ رکھتا ہے، جو وعدے کو نبھاتا ہے محبت فرض اُن پر ہے جنہیں سونا نہیں آتا یہ حکمت اُن پہ واجب ہے جنہیں رونا نہیں اتا کسی تاریک گوشے میں، کہیں شعلہ بھڑکتا ہے پُجاری کی عقیدت سے خدا کا دل دھڑکتا ہے جہاں میں خواہشوں کے پھل تیری پہلی نظر سے ہیں نفس کی کاوشوں کے پھل تیری پہلی نظر سے ہیں وفاداری غلامی ہے، یہ مجھ کو راس آتی ہے ندامت کی اک ادا سے دل کو میرے کھینچ لاتی ہے مقدس تیرگی میں بس تجھے محسوس کرتا ہوں میں ہر پل روشنی میں بس تجھے محسوس کرتا ہوں مجھے معذور خوابوں سے یہی بیدار کرتی ہے سوا تیرے ہر اک شے بس مجھے بے زار کرتی ہے مجھے مسرور کرتی ہے، میری تلخی بُھلاتی ہے میرے محبوب موسم کو میرا اپنا بناتی ہے یہ اُڑتی بادلوں میں اور کبھی اطراف پھرتی ہے میرے اندر کی چنگاری فروزاں کرتی رہتی ہے عجب انصاف کرتی ہے، مُجھے عادل بناتی ہے تیری خوشبو مجھے سرشار رکھتی ہے (سہیل احمد )
  22. Ek ghazal tere Liye Zaroor likhon ga.. Be hisab us mein Tera qasoor likhon ga.. Tu guftaar ka maahir Tu qirdaar ka maahir, Pr husn ko tere Tera ghuroor likhon ga.. Toot gaye bachpan k Tere sary khilony, Ab dilon sy kheLna Tera dastoor likhon ga.. Raha ishq ka Da’awa Tujhe tamam umr, Wafa ki dehleez se tujhe mafroor likhon ga.. Khud saakhta jo hy Tera judai ka faisla, Aesy har iqdaam ko Na-Manzoor likhon ga. Aik ghazal tery liye Zaroor likhon ga Be hisab us main Tera qusoor likhon ga
  23. Zarnish Ali

    poetry mujh kamli ka////

    ﻣﺠﮫ ﮐﻤﻠﯽ ﮐﺎ ﺳﻨﮕﮭﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﺍﻥ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﭘﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﺑﻦ ﺩﺭ، ﭼﮭﺖ، ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮈﺳﮯ ﺗﺠﮫ ﺑﻦ ﺳﻮﻧﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﮨﺮ ﺟﺬﺑﮯ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺗﻮ ﺳﺎﻧﻮﻝ ، ﺗﻮﺩﻟﺪﺍﺭ ﭘﯿﺎ ﺍﻥ ﺳﺮ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﮑﻢ ﺗﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻧﻮﮞ ﮨﺮ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﺗﻮ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﻏﻤﺨﻮﺍﺭ ﺳﺠﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﭘﯿﺎ ﺍﺏ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﭼُﻮﺭ ﻭ ﭼُﻮﺭﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﺏ ﺁ ﻣﻞ ﺗﻮ ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﺍﮎ ﺩﮐﮫ ﻧﮯ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺎ ﺍﺏ ﻟﮯ ﭼﻞ ﻧﮕﺮﯼ ﭘﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﮨﮯ ﻣﻦ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﮎ ﺍٓﺱ ﺗﺮﯼ ﺗُﻮ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﮨﺮ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺎ ﮐﺮ ﮨﺠﺮ ﻣﻠﮯ ﺳﺐ ﺭﺍﮨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﺮ ﺧﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﺳﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻋﺎ ﯾﮧ ﺩﻝ ﺗﯿﺮﺍ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﺍﮎ ﺳﮑﮫ ﺳﮯ ﺳﻮﺋﮯ ﻭﺻﻞ ﺗﺮﺍ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﮨﻮ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﭘﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﺍﮎ ﺑﺎﺕ ﺗﻮﮐﺮ ﻣﺖ ﭼﭗ ﭼﭗ ﺭﮦ ﮐﺮ ﻣﺎﺭ ﭘﯿﺎ ﺗﮏ ﺗﮏ ﺭﺍﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﻧﯿﻦ ﺗﮭﮑﮯ ﯾﮧ ﺑﺮﺳﯿﮟ ﺯﺍﺭ ﻭ ﺯﺍﺭ ﭘﯿﺎ ﺍﺏ ﺩﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﯿﺎ
  24. میں بُرا تھا یا بھلا تھا اُسے گلا تو نہ تھا میری وجہ سےشہر بھر میں وہ رسواہ تو نہ تھا اُس نے چاھا تھا مجھےجان سے بھڑ کر لیکن چھوڑ کے مجھ کووہ تنہا تھاادھورا تو نہ تھا میں بُرا تھا یا بھلا تھا اُسے گلا تو نہ تھا میں کنارہ تھا مگر بِکھری ہوئ موجوں کی طرح ایک دن اُس کومیرے سر سے گزر جانا تھا وہ میری پیاس تھا لیکن میرا پیاسا تو نہ تھا میں بُرا تھا یا بھلا تھا اُسے گلا تو نہ تھا سایہ ہمسایہ تھا وہ ساتھ کہاں تک دیتا میرا ہو کر بھی وہ میرے لئیے کیا کر لیتا راحتِ دل تھا مگرغم کا ماداوہ تو نہ تھا میں بُرا تھا یا بھلا تھا اُسے گلا تو نہ تھا
  25. کبھی تو شہرِ ستمگراں میں کوئی محبت شناس آئے وہ جس کی آنکھوں سے نور چھلکے لبوں سے چاہت کی باس آئے چلے تو خوشیوں کے شوخ جذبے ہماری آنکھوں میں موجزن تھے مگر نا پوچھو کہ واپسی کے سفر سے کِتنے اُداس آئے ہمارے ہاتھوں میں اِک دِیا تھا ہوا نے وہ بھی بُجھا دیا تھا ہیں کس قدر بدنصیب ہم بھی، ہمیں اُجالے نہ راس آئے ہماری جانِب سے شہر والوں میں یہ منادی کرا دو ”محسن جسے طلب ہو متاعِ غم کی وہ ہم فقیروں کے پاس آئے #محسن_نقوی
×