Jump to content

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

News Ticker

Search the Community

Showing results for tags 'poetry' in content posted in Shair-o-Shaa'eri.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Islam
  • General Knowledge
  • Sports

Found 632 results

  1. دس ایس ہجر دی "حد" مینوں تُو فیر ملیں گا "کد" مینوں؟؟؟ مُک جان حیاتی دے "دُکھڑے'' آ "کول" میرے یا "سد' ،مینو
  2. poetry میری مرضی

    جس سے چاہوں ہاتھ ملاؤں میری مرضی پھر آنکھوں سے دھوکا کھاؤں میری مرضی میرے لفظ ہیں، تم کو کیا تکلیف ہے ان سے جو بھی لکھ لوں، جس کو سناؤں، میری مرضی اس کا ہجر منانا ہی جب واجب ٹھہرا روؤں پیٹوں، ناچوں گاؤں، میری مرضی تیرے شہر میں اپنی بھی پہچان ہے کافی کچھ دن ٹھہروں، آؤں جاؤں، میری مرضی تیری باتیں لوگ سمجھتے ہیں تو سمجھیں جیسے بھی میں شعر سناؤں، میری مرضی کون سا تم بھی ساتھ چلے، جس راہ پڑا میں لوٹ آؤں یا آگے جاؤں، میری مرضی تم نے اس کا کیا چھوڑا، جو پوچھ رہے ہو اب میں جیسے دل بہلاؤں، میری مرضی روح میں کوئی ماتم برپا ہے، سو ہے نوحہ پڑھ لوں، ساز بجاؤں، میری مرضی
  3. 🌹 کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا میرے پیار دے وِچ او رنگ جاوے اوتھے دِل دھڑکے، ایتھے جاں جاوے او ھسّے شام نِکھر جاوے اودی زلف توں رات وِکھر جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا اُس ھتھ نال نبظ اے گنڈ جاوے اُس ھتھ نال ھتھ جے مِل جاوے مری دنیا ارش اے ہو جاوے چاہے لکھ وار ہیاتی رُل جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا او شام کہے، دن ڈھل جاوے او گیت کہے دِن چڑھ جاوے اوھدی چال تے ندیا مُڑ جاوے اوھدی اَکھ وِچ ساغر ڈُب جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا مری ذات توں دوری بُھل جاوے او تتلی وانگوں رنگ جاوے کوئی ایسا سجدہ ہو جاوے میں ھتھ چاواں، رَب مَن جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا
  4. " غالب " نظر کے سامنے حسن و جمال تھا " محسن " وہ بشر خود میں سراپا کمال تھا ہم نے " فراز " ایسا کوئی دیکھا نہیں تھا ایسا لگا " وصی " کہ وہ گڈری میں لعل تھا اب " میر " کیا بیان کریں اس کی نزاکت ہم " فیض " اسے چھو نہ سکے یہ ملال تھا اس کو " قمر " جو دیکھا تو حیران رہ گئے اے " داغ " تیری غزل تھا وہ بیمثال تھا " اقبال " تیری شاعری ہے جیسے باکمال وہ بھی " جگر " کے لفظوں کا پر کیف جال تھا بلکل تمہارے گیتوں کے جیسا تھا وہ " قتیل " یعنی " رضا " یہ سچ ہے کہ وہ لازوال تھا
  5. مقابل ہوں جو وہ میرے تو سب کچھ وار جاتے ہیں ہم اپنی ذات کی خوشیاں اُنہی سے جوڑ جاتے ہیں وہ ہم کو جیت جاتے ہیں, ہم اُن پے ہار جاتے ہیں وہ اپنی اِک نگاہ بخشیں تو ہم کو مار جاتے ہیں ©S.S Writes
  6. Dil k zindaan

    تمہیں اپنے دل کے زندان میں مقید کر کے😍 تاوان میں تم سے عمر بھر کا ساتھ مانگوں گا....😉 #بابو ❤
  7. kabhi mil jaye

    ‏‎گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا بادلوں کے اڑتے ٹکڑوں میں ترا چہرا سا تھا ۔۔۔ پھر کبھی مل جائے شاید زندگی کی بھیڑ میں جس کی باتیں پیاری تھیں اور نام کچھ اچھا سا تھا ۔۔۔!
  8. مَن عِشق کی اگنی جلتی ہے تم بَنہیّاں تھامو جان پِیا میں رُوپ سہاگن دھارَن کو راہ دیکھوں نینَن تان پِیا بس ایک جھلک پہ جَگ سارا تَج تیرے پیچھے چل نِکلی تو عِشق میرا، تو دِین میرا تو عِلم میرا اِیمان پِیا میں ننگے پَیروں نَقش تیرے قدموں کے چُنتی آئی ہوں اب جان سے ہاری راہوں میں یہ رستہ تو انجان پِیا سِر مانگے تو میں حاضِر ہوں زَر مانگو تو میں بے زَر ہوں تم عِشق کی دولت دان کرو میں ہو جاؤں دَھنوان پِیا میں بھُول بھٹک کے ہار گئی ہر بار تمہارا نام لِیا اِس عِشق کی کملی جوگن کے ہر قِصّے کا عُنوان پِیا میں پیاس سجائے آنکھوں میں سب دَیر حرم میں ڈھونڈ پھری اب دیِپ جلائے مَن مندِر چُپ چاپ کھڑی حیران پِیا یہ عشق ادب سے عاری ہیں ان نینن سے کیا بات کروں تم بھید دلوں کے جانن ہو تم پر رکھتے ہیں مان پِیا میں عشق سمندر ڈُوب مروں میں دار پہ تیرے جھول رہوں میں پریم سفر پہ نکلی ہوں کیا جانوں خِرد گیان پِیا میں خاک کی جلتی بھٹی میں سب خاک جلا کر آئی ہوں اس خاک کی فانی دنیا کا ہر سودا تو نقصان پِیا جب من سے غیر ہٹا آئی سب کاغذ لفظ جلا آئی پھر کس کو اپنا حال کہوں تُو حال میرا پہچان پِیا پھر سُورج بجھتا جاتا ہے پھر رات کا کاجل پھیلے گا تُم کاجل نینن والوں کے مَن میں ٹھہرو مہمان پِیا میں ایک جھلک کو ترسی ہوں کچھ دید نما انوار کرو میں ایک جھلک کے صدقے میں ساری تیرے قربان پِیا
  9. عجب یہ حجر کا قصہ ہے عجب یہ شبِ جدائی ہے نہ میری آنکھ جھپکی ہے نہ دل نے لی اَنگڑائی ہے نہ اُنکو بھولا دل میرا نہ اُنکی یاد سے غافل کہ جسکو فرض کی مانند ہر اک پل یاد رکھنا ہو کہ جسکو قرض کی مانند ہر اک پل ساتھ رکھنا ہو بھلا کیسے بھلاتا دل کہ انکو یاد نہ کرنا وَبالِ جان بن جائے یہ سانسیں گھونٹ لی جائیں یہ آنکھیں موندھ لی جائیں جو ہوں ہم یاد سے غافل تو دھڑکن روک دی جائیں چلو یہ سب سمبھل جائیں مگر جو روح تڑپ جائے بتاو کیا کریں اُسکا کہ روح سےروح کا رشتہ ہے ازلوں سے یونہی لِپٹا وہ ہم کو بھول بھی جائیں تو ہم پےفرض ہوتا ہے اُنہیں دل کے باغیچے سے ان آنکھوں کےدریچے سے کسی مالا کی کلیوں سے کسی کوئل کی کو کو سے ہم اپنے آپ میں بھر لیں کہ ہر اک لفظ اپنے میں اُنہی کا رنگ و بو بھر لیں کہ جو بھی لفظ پرکھے گا ہمارے ہاتھ سے لکھے ہمیں بھی یاد رکھے گا کہ ذکرِ حسن جب ہو گا ہمارے لفظ کھوجے گا مگر پھر سحر میں جکڑا حوالے یوں بھی کچھ دے گا عجب وہ حجر کا قصہ تھا عجب وہ شبِ جدائی تھی نہ اسکی آنکھ جھپکی تھی نہ دل نے لی اَنگڑائی تھی مگر وہ ٹھان بیٹھا تھا اُسے لفظوں میں جَڑ دے گا محبت اَمر کر دے گا سو جَڑ ڈالا ہے ظالم نے نِصابوں میں حوالوں میں محبت کے سب بابوں میں! ©S.S Writes
  10. دِلِ گمشدہ ... کبھی مِل ذرا مجھے وقت دے، مری بات سُن مری حالتوں کو تو دیکھ لے مجھے اپنا حال بتا کبھی کبھی پاس آ, کبھی مِل سہی! مرا حال پوچھ! بتا مجھے مرے کس گناہ کی سزا ہے یہ؟ تُو جنون ساز بھی خود بنا مری وجہِ عشق یقیں ترا مِلا یار بھی تو، ترے سبب وہ گیا تو ، تُو بھی چلا گیا؟ دِلِ گمشدہ؟ ، یہ وفا ہے کیا؟ اِسے کِس ادا میں لکھوں بتا؟ اِسے قسمتوں کا ثمر لکھوں؟ یا لکھوں میں اِس کو دغا، سزا؟ دِلِ گمشدہ......... دِلِ گمشدہ
  11. عشق جب تم کو راس آئے گا زخم کھاؤ گے، مسکراؤ گے وہ تمہیں توڑ توڑ ڈالے گا تم بہت ٹوٹ ٹوٹ جاؤ گے یاد آئیں گی گمشدہ نیندیں خواب رکھ رکھ کر بھول جاؤ گے
  12. چلو ھم مان لیتے ھیں۔ محبت اور سیاست میں سبھی اطوار جائز ھیں انا کی جنگ میں جاناں غلط بھی ٹھیک ھوتا ھے مگر یہ جنگ کیسی ھے تم ھی میرے مقابل ھو چلو ھم جیت کی خواھش تم ھی پہ وار دیتے ھیں دھنک کے پل پہ چل کے گگن کے پار جاتے ھیں چلو ھم ھار جاتے ھیں
  13. محبت مت سمجھ لینا کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا محبت کا لبادہ پانیوں کے رنگ جیسا ہے محبت ساتھ پردوں میں نہاں ہو کر عیاں ہے، یہ حقیقت ہے اور اس کی خوشبوؤں کو ہم دھنک میں ڈھونڈ سکتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کو جس نے پایا ہے وہ اپنا آپ کھو بیٹھا یہ مل کر بھی نہیں ملتی کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا کہ کس کو چُھو لیا جائے خُدا وہ ہو نہیں سکتا محبت ایسا منتر ہے فنا جو ہو نہیں سکتا
  14. poetry چُوڑیاں

    اُس کو ِجتنے بھی رنگ بَھاتے ہیں ویسی سب چُوڑیاں ہیں میرے پاد
  15. من مورکھ مٹی کا مادھو، ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے اس کو تم کیا دھوکا دو گے بات کی بات بہل جاتا ہے جی کی جی میں رہ جاتی ہے آیا وقت ہی ٹل جاتا ہے یہ تو بتاؤ کس نے کہا تھا، کانٹا دل سے نکل جاتا ہے جھوٹ موٹ بھی ہونٹ کھلے تو دل نے جانا، امرت پایا ایک اک میٹھے بول پہ مورکھ دو دو ہاتھ اچھل جاتا ہے جیسے بالک پا کے کھلونا، توڑ دے اس کو اور پھر روئے ویسے آشا کے مٹنے پر میرا دل بھی مچل جاتا ہے جیون ریت کی چھان پھٹک میں سوچ سوچ دن رین گنوائے بیرن وقت کی ہیرا پھیری پل آتا ہے پل جاتا ہے میرا جی روشن کر لوجی، بن بستی جوگی کا پھیرا دیکھ کر ہر انجانی صورت پہلا رنگ بدل جاتا ہے
  16. ، کہنے کو محبت ہے لیکن اب ایسی محبت کیا کرنی،؟ ،جو نیند چُرا لے آنکھوں سے ،جو خواب دکھا کر آنکھوں کو ،تعبیر میں کانٹے دے جاۓ ،جو غم کی کالی راتوں سے ،ہر آس کا جگنو لے جائے ،جو خواب سجاتی آنکھوں کو ،آنسو ہی آنسو دے جائے ،جو مشکل کر دے جینے کو ،جو مرنے کو آسان کرے ،وہ دل جو پیار کا مندر ہو ،اس مندر کو برباد کرے ،اور یادوں کو مہمان کرے اب ایسی محبت کیا کرنی،؟ ،جو عمر کی نقدی لے جائے ،اور پھر بھی جھولی خالی ہو ،وہ صورت دل كا روگ بنے ،جو صورت دیکھی بھالی ہو ،جو قیس بنا دے انساں کو ،جو رانجھا اور فرہاد کرے ،جو خوشیوں کو برباد کرے اب ایسی محبت کیا کرنی،؟ ،دیکھو تو محبت بارے میں ،ہر شخص یہی کچھ کہتا ہے ،سوچو تو محبت کے اندر ،اک درد ہمیشہ رہتا ہے ،پھر بھی جو چیز محبت ہوتی ہے ،کب ان باتوں سے ڈرتی ہے ،کب انکے باندھے رکتی ہے ،جس دل میں اسنے بسنا ہو ،بس چپکے سے بس جاتی ہے ،اک بار محبت ہو جائے ،پھر چاہے جینا مشکل ہو ،یا جھولی خالی رہ جائے ،یا آنکھیں آنسو بن جائیں . پھر اسکی حکومت ہوتی ہے
  17. *امتحان جامعہ کا وہ زمانہ یاد ہے* *رات بھرجگ کرکتابوں، کو ملانایاد ہے* *مسجدو دارالإقامہ اور مزار پاک میں* *ہر جگہ ہر پل وہاں رٹا لگانا یاد ہے* *بےخودی ,وارفتگی اور فکر دائم کے سبب* *مضمحل ہوکر کہیں بھی، لیٹ جانا یاد ہے* *بال, ناخن اور کپڑوں کا نہیں رہتا خیال* *ناشتہ, کھانا بھی اکثر، بھول جانا یاد ہے* *منطقی اور فلسفی پر پیچ بحثوں کے سبب* *تار ذہنی بھی کسی کا، چھوٹ جانا یاد ہے* *جبل شامخ کی طرح لگتا ہمیں جن کا نصاب* *ان کتابوں کا فقط ، پرچہ ملانا یاد ہے* *امتحاں میں جب کبھی ٹکرا گیا کوئی سوال* *اضطراری کیف میں خوشیاں منانا یادہے* *لائٹ دینے میں اگر تاخیر کردیتا شمیم* *مشتعل ہوکر ہمارا ، ہٹہٹانا یادہے* *ہم پڑھیں گے ابتدا سے اب نہ چھوڑ یں گے سبق* *امتحاں کے بعد وعدہ، بھول جانا یاد ہے* *ہے دعا نعمان کی یہ پاس ہوجائیں سبھی* *اے خدا ہم کو بھی اپنا وہ زمانہ یاد ہے*
  18. تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا لکھ نماز ، کروڑاں سجدے پھُوڑی اُتّے مَتھے بَھجدے ذکر جَلی وِچ تسبی رولی پر عیباں دی گنڈھ نہ کھولی منبر تے لمیاں تقریراں پاپی مَن دِیاں سو تفسیراں ڈھینچوں سِکھیا عقل دا کھوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا گھت مُصلّی، خیریں سَلّا چِلّے کیتے پڑھ پڑھ اللہ گلّاں دا کھڈکار نگلّا من ریہا جَھلّے دا جَھلّا عقل نے کِیتا کم اولّا اپنے سِر وِچ ماریا کھّلا پاپاں دے وِچ ہو گیا سوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا ویکھن والے ویکھ نہ سَکّے نظراں دِتّے سو سو دَھکّے کَن وچارے سُن سُن تَھکّے بولن والے ہوٹھ نہ اَکّے اَج تَن تیرتھ، کل تن مَکّے کِسے وی تھائیں مِلے نہ سکّے ٹیں ٹیں کردا فقہ دا طوطا !!... تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا
  19. poetry New Year Poetry

    خواب میں منظر رہ جاتا ہے تکیے پر سر رہ جاتا ہے آ پڑتی ہے جھیل آنکھوں میں ہاتھ میں پتھر رہ جاتا ہے روز کسی حیرت کا دھبہ آئینے پر رہ جاتا ہے دل میں بسنے والا اک دن جیب کے اندر رہ جاتا ہے ندیا پر ملنے کا وعدہ میز کے اوپر رہ جاتا ہے سال گزر جاتا ہے سارا اور کلینڈر رہ جاتا ہے آنگن کی خواہش میں کوئی بام کے اوپر رہ جاتا ہے لگ جاتی ہے ناؤ اس پار اور سمندر رہ جاتا ہے رخصت ہوتے ہوتے کوئی دروازے پر رہ جاتا ہے
  20. صورت صبح بہاراں چمن آراستہ ہے چہرہ شاداب ہے اور پیرہن آراستہ ہے شہر آباد ہے اک زمزمہء ہجر سے اور گھر تری یاد سے اے جان من ! آراستہ ہے جیسے تیار ہے آگے کوئی ہنگامہء زیست اس طرح راہ میں باغ عدن آراستہ ہے کوئی پیغام شب وصل ہوا کیا لائی روح سرشار ہوئی ہے، بدن آراستہ ہے اے غم دوست ! تری آمد خوش رنگ کی خیر تیرے ہی دم سے یہ بزم سخن آراستہ ہے دل کے اک گوشہء خاموش میں تصویر تری پاس اک شاخ گل یاسمن آراستہ ہے رامش و رنگ سے چمکے ہے مرا خواب ایسے نیند میں جیسے کوئی انجمن آراستہ ہے اس نے سورج کی طرح ایک نظر ڈالی تھی رشتہء نور سے اب بھی کرن آراستہ ہے کیا کسی اور ستارے پہ قدم میں نے رکھا کیسی پیراستہ دنیا، زمن آراستہ ہے کیسے آئے گا زمانہ مجھے ملنے کے لیے میرے رستے میں تو دنیائے فن آراستہ ہے
  21. نہ میں خواب گر نہ میں کوزہ گر میری منزلیں کہیں اور ھیں مجھے اس جہاں کی تلاش ھے جہاں ھجر روح وصال ھے ابھی در وہ مجھ پہ کھلا نہیں ابھی آگ میں ھوں میں جل رھا ابھی اسکا عرفاں ھوا نہیں مجھے رقص رومی ملا نہیں ابھی ساز روح بجا نہیں رہ سرمدی کا خیال ھے میں ازل سے جسکا ھوں منتظر مجھے اس ابد کی تلاش ھے نہ میں گیت ھوں نہ میں خواب ھوں نہ سوال ھوں نہ جواب ھوں نہ عذاب ھوں نہ ثواب ھوں میں مکاں میں ھوں اک لا مکاں میں ھوں بے نشان کا اک نشاں میری اک لگن میری زندگی میری زندگی میری بندگی میرے من میں ایک ھی آگ ھے مجھے رقص رومی کی لاگ ھے میرا مست کتنا یہ راگ ھے کہ بلند میرا یہ بھاگ ھے نہ میں خواب گر، نہ میں کوزہ گر
  22. غیر کے چاک گریباں کو بھی ٹانکا کیجے اور کچھ اپنے گریباں میں بھی جھانکا کیجے بن کے منصف جو کٹہروں میں بلائیں سب کو اس ترازو میں ذرا خود کو بھی جانچا کیجے خود میں دعویٰ جو بڑائی کا لئے پھرتے ہیں یہ بھی فتنہ ہے ذرا اس کو بھی چلتا کیجے سب کو دیتے ہیں سبق آپ بھلے کاموں کا پہلے اس فن میں ذرا خود کو تو یکتا کیجے راستی پر ہیں فقط آپ غلط ہیں سارے اس تعصب میں حقیقت کو نہ دھندلا کیجے ہے توقع کہ محبت سے سبھی پیش آئیں خود محبت سے کوئی ایک تو اپنا کیجے اور کے نقص پہ جو اُگلے زباں تیری زہر اپنے حصے کا ذرا زہر بھی پھانکا کیجے برہمی ٹھیک ہے جاہل کی جہالت پہ مگر علم حاضر ہے ذرا خود کو تو بینا کیجے کاہے ابرک ہے گلہ رات کی تاریکی کا آپ کا کام ہے لفظوں سے اجالا کیجے اتباف ابرک
  23. jhoot

    ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﺟﮭﻮﭦ ﻭﮦ ﮨﻢ ﺳﮯ، "ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮐﺘﻨﺎ,,, ﯾﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﺑﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ -----🌠🌠
  24. ! پھڑ ونجھلی بدل تقدیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا تیری اک ذات نال وسدا جہان اے تن من کیتا اساں تیتھوں قربان اے ! سچے پیار دے گواہ پنج پیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا اکھاں تینوں ویکھیا تے ہو گیاں تیریاں میریاں تے سانہواں ہن رہیاں نہیں میریاں ! وِسے من وچ تیری تصویر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا بھلا ہووے رانجھنا بختاں دے تارے دا راہ جہنے دسیا اے تخت ہزارے دا ! میری جند جان تیری جاگیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھا مجھیاں دا چاک نئیں توں جگ تیرا چاک اے دنیا دا روپ تیرے جوڑیاں دی خاک اے ! تیرے جوڑیاں اچ ہووے گی اخیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا کیدو بھانویں دیندا رہوے پہرا ساڈے پیار دا سنگ تیرا ہووے تے کی خوف اے سنسار دا ! وے میں رسماں دی توڑاں گی زنجیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا بنا ساقی جس طرح میخانیاں دے حال نیں تیرے بنا بیلے دیاں رونقاں محال نیں ! مر جاواں جے میں بدلاں ضمیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا
    Heer Ranjha Ranjha Wallpaper vanjli
  25. سال بہ سال ، یہ سال بدل جاتے ہیں ایّامِ زیست کمال ، زوال بدل جاتے ہیں اِک لمحہ خاص بھی ہوجاتے ہیں خاک لوگ بھی کیا کیا ، کمال بدل جاتے ہیں مُحبتیں ، عشق ، نفرتیں ، دائمی جُدائیاں دھیرے دھیرے سب خیال بدل جاتے ہیں تشنہ لبیِ مانندِ دشت صحرا جاتی نہی جواب مل جائیں تو سوال بدل جاتے ہیں سمجھ جاؤں ، جب فریب یار و اغیار کے سب یہ میرے پھر نئی چَال بدل جاتے ہیں مطلب ہوجائیں پورے ، جب بے وفاؤں کے حسبِ ضرورت ، یہ حال بدل جاتے ہیں پہلو میں روز ، نئے لوگ بدلتے ہوئے یہ لوگ سمتیں جنوب سے شمال بدل جاتے ہیں خواہشِ وصلِ حُسن کو جب مل جائے تعبیر پھر نظریں ، زاویہ جمال بدل جاتے ہیں جفا ، دھوکہ ، فریب ، جھوٹ ، خود غرضی مطلب ، ضرورتیں ، رویّے ، اشکال بدل جاتے ہیں
×