Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'آئے'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 7 results

  1. عشق جب تم کو راس آئے گا زخم کھاؤ گے، مسکراؤ گے وہ تمہیں توڑ توڑ ڈالے گا تم بہت ٹوٹ ٹوٹ جاؤ گے یاد آئیں گی گمشدہ نیندیں خواب رکھ رکھ کر بھول جاؤ گے
  2. پیام آئے ہیں اُس یارِ بے وفا کے مجھے جسے قرار نہ آیا کہیں، بُھلا کے مجھے جدائیاں ہوں تو ایسی کہ عمر بھر نہ مِلیں فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم کہ لے اڑا ہے کوئی دوش پر ہَوا کے مجھے میں خود کو بُھول چکا تھا، مگر جہاں والے اُداس چھوڑ گے آئنہ دِکھا کے مجھے تمہارے بام سے اب کم نہیں ہے رفعتِ دار جو دیکھنا ہو تو دیکھو نظر اُٹھا کے مجھے کھنچی ہُوئی ہے مِرے آنسوؤں میں اِک تصویر فراز! دیکھ رہا ہے وہ، مُسکرا کے مجھے احمد فراز
  3. بزمِ کونین سجانے کے لیے آپ ﷺ آئے شمعِ توحید جلانے کے لیے آپ ﷺ آئے ایک پیغام ، جو ہو دل میں اُجالا کردے ساری دُنیا کو سُنانے کے لیے آپ ﷺ آئے ایک مدّت سے بھٹکتے ہوئے انسانوں کو ایک مرکز پہ بلانے کے لیے آپ ﷺ آئے ناخدا بن کے اُبلتے ہوئے طوفانوں میں کشتیاں پار لگانے کے لیے آپ ﷺ آئے قافلہ والے بھٹک جائیں نہ منزل سے کہیں دُور تک راہ دکھانے کے لیے آپ ﷺ آئے چشمِ بید کو اسرارِ خدائی بخشے سونے والوں کو جگانے کے لیے آپ ﷺ آئے (ساغر صدیقی) New Content added Less than in a minutes & merged. محمد ﷺ باعثِ حُسن جہاں ایمان ہے میرا محمد ﷺ حاصلِ کون و مکاں ایمان ہے میرا محمد ﷺ اوّل و آخر محمد ﷺ ظاہر و باطن محمد ﷺ ہیں بہر صورت عیاں ایمان ہے میرا شرف اِک کملی والے نے جنہیں بخشا ہے قدموں میں وہ صحرا بن گئے ہیں گلستاں ایمان ہے میرا محبت ہے جسے غارِ حرا میں رونے والے سے وہ انساں ہے خدا کا رازداں ایمان ہے میرا معطّر کر گئے ساغرؔ فضائے گلشنِ ہستی نبی ﷺ کے گیسوئے عنبر فشاں ایمان ہے میرا (ساغر صدیقی)
  4. فقیرانہ آئے صدا کرچلے میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے جو تجھ بِن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اُس عہد کو اب وفا کر چلے شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی کہ مقدور تک تو دوا کر چلے وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے ہر اک چیز سے دل اُٹھا کر چلے کوئی ناامیدانہ کرتے نگاہ سو تم ہم سے منہ بھی چُھپا کر چلے بہت آرزو تھی گلی کی تری سو یاں سے لہو میں نہا کر چلے دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی حقِ بندگی ہم ادا کر چلے پرستش کی یاں تک کہ اے بُت تجھے نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے نہ دیکھا غمِ دوستاں شکر ہے ہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے گئی عمر در بندِ فکرِ غزل سو یہ کام ایسا بڑا کر چلے کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے شاعر میر تقی میر
  5. یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے نہ گئے کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے اب وہ نیندوں کا اُجڑنا تو نہیں دیکھیں گے وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے رات بھر میں نے کھُلی آنکھوں سے سپنا دیکھا رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چُرائے نہ گئے بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آ کر ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے تیز بارش ہو ، گھنا پیڑ ہو ، اِک لڑکی ہو ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے پروین شاکر
  6. اب کے سال پونم میں جب تو آئے گی ملنے ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گزاریں گے دھڑکنیں بچھا دیں گے، شوخ ترے قدموں میں ہم نگاہوں سے تیری، آرتی اتاریں گے . تو کہ آج قاتل ہے، پھر بھی راحتِ دل ہے زہر کی ندی ہے تو، پھر بھی قیمتی ہے تو پَست حوصلے والے، تیرا ساتھ کیا دیں گے زندگی اِدھر آجا! ہم تجھے گزاریں گے . آہنی کلیجے کو، زخم کی ضرورت ہے انگلیوں سے جو ٹپکے، اُس لہو کی حاجت ہے آپ زلفِ جاناں کے خم سنواریے صاحب زندگی کی زلفوں کو آپ کیا سنواریں گے . ہم تو وقت ہیں، پل ہیں، تیز گام گھڑیاں ہیں بے قرار لمحے ہیں، بے تھکان صدیاں ہیں کوئی ساتھ میں اپنے، آئے یا نہیں آئے جو ملے گا رستے میں، ہم اسے پکاریں گے ناصر کاظمی
  7. کبھی جب میں نہیں ہوں گا تمہیں سب یاد آئے گا وہ میری بے کراں چاہت تمہارے نام کی عادت وہ میرے عشق کی شدت وصال و ہجر کی لذت تمہاری ہر ادا کو شاعری کا رنگ دے دینا خود اپنی خواہشوں کو بے بسی کا رنگ دے دینا تمہیں سب یاد آئے گا وہ میری آنکھ کا نم بھی وفاؤں کا وہ موسم بھی جنوں خیزی کا عالم بھی مری ہر اک خوشی غم بھی مرا وہ مسکرا کر درد کو دل سے لگا لینا تمہاری خواب سی آنکھوں کا ہر آنسو چرا لینا تمہیں سب یاد آئے گا تمہاری سوچ میں رہنا تمہاری بے رخی سہنا بُھلا کر رنجشیں ساری فقط "اپنا" تمہیں کہنا تمہارے نام کو تسبیح کی صورت بنا لینا تمہارے ذکر سے دل کا ہر اک گوشہ سجا لینا ابھی تو مسکرا کر تم مری باتوں کو سنتی ہو مگر یہ جان لو جاناں تمہیں سب یاد آئے گا کبھی جو میں نہیں ہوں گا
×