Jump to content

Please Disable Your Adblocker. We have only advertisement way to pay our hosting and other expenses.  

Search the Community

Showing results for tags 'اور'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Premium Files
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 14 results

  1. کیوں کسی اور کو دکھ درد سناؤں اپنے اپنی آنکھوں سے بھی میں زخم چھپاؤں اپنے میں تو قائم ہوں ترے غم کی بدولت ورنہ یوں بکھر جاؤں کہ خود ہاتھ نہ آؤں اپنے شعر لوگوں کے بہت یاد ہیں اوروں کے لیے تو ملے تو میں تجھے شعر سناؤں اپنے تیرے رستے کا جو کانٹا بھی میسر آئے میں اسے شوق سے کالر پر سجاؤں اپنے سوچتا ہوں کہ بجھا دوں میں یہ کمرے کا دیا اپنے سائے کو بھی کیوں ساتھ جگاؤں اپنے اس کی تلوار نے وہ چال چلی ہے اب کے پاؤں کٹتے ہیں اگر ہاتھ بچاؤں اپنے آخری بات مجھے یاد ہے اس کی انورؔ جانے والے کو گلے سے نہ لگاؤں اپنے
  2. اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا لفظ گِرنے نہ پائے ہونٹوں سے وقت کے ہاتھ اُن کو چُن لیں گے کان رکھتے ہیں یہ در و دیوار راز کی ساری بات سُن لیں گے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا ایسے بولو کہ دِل کا افسانہ دِل سُنے اور نِگاہ دُہرائے اپنے چاروں طرف کی یہ دُنیا سانس کا شور بھی نہ سُن پائے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا آئیے بند کر لیں دروازے رات سپنے چُرا نہ لے جائے کوئی جھونکا ہَوا کا آوارہ دِل کی باتوں کو اُڑا نہ لے جائے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہو گا
  3. آئن سٹائن اور اُس کی بیوی آئن سٹائن نے دوسری شادی مالیوا نامی خاتون سے کی، اِس شادی کی دلچسپ بات وہ معاہدہ ہے جو اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ کیا، معاہدے میں طے پایا کہ اُس کی بیوی اُس کے کپڑے اور سامان ہمیشہ صاف اور بہترین حالت میں رکھے گی،تینوں وقت کا کھانا آئن سٹائن کو اُس کے کمرے میں دیا جائے گا،آئن سٹائن کے کمرے ، سٹڈی روم اور خاص طور پر اُس کی میز بالکل صاف رکھی جائے گی اور کوئی فالتوچیز یہاں نظر نہیں آئے گی، جب تک آئن سٹائن کا موڈ نہ ہو، بیگم اُس سے کوئی بات نہیں کرے گی، آئن سٹائن دیگر لوگوں کے سامنے اپنی بیگم سے لاتعلق رہے گا!غالباً یہی وہ مجاہدانہ اقدام ہیں جن کی بدولت آئن سٹائن نے اتنی ذہانت پائی۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر آئن بھائی اپنی بیوی سے اتنا سخت رویہ نہ رکھتے اور نرمی سے پیش آتے تو صورتحال کیا ہونی تھی۔ !!! بیوی: آئن۔۔۔وے آئن۔۔۔ آئن سٹائن: جی جان ۔۔۔ کیاہوا ؟؟؟ !! بیوی : وے کوکنگ آئل ختم ہوگیا ہے آئن سٹائن: اوہو۔۔۔جان ابھی دو دن پہلے تو لایا تھا۔ بیوی: وے یاد کر۔۔۔تجھے پانچ کلو کاڈبہ لانے بھیجا تھا اور تُو کلو والا پیکٹ لے آیا تھا۔ آئن سٹائن: اچھا تھوڑی دیر تک لادیتا ہوں، ذرا ایک سائنسی تھیوری لکھ لوں۔ بیوی: وے اگ لگے تیری سائنس کو۔۔۔آئل لے کے آ ، اور ہاں ایک پیکٹ ماچسوں کا اور پانچ روپے کا ’’استنبول کا چھلکا‘‘ بھی لیتے آنا آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔بس صر ف آدھے گھنٹے کی مہلت دے دو،میری ریسرچ مکمل ہونے والی ہے۔ بیوی: دفع دور۔۔۔جب دیکھو سائنس ،جب دیکھو سائنس۔۔۔نہ تونے اتنی سائنس پڑھ کے کون سا عالم لوہار بن جانا ہے؟؟؟ آئن سٹائن: پلیز جان ایسا مت کہو۔۔۔سائنس میری زندگی ہے، میں ہر وقت سائنس کے حصار میں رہتا ہوں۔ بیوی: ہا۔۔۔ہائے۔۔۔شادی سے پہلے تو تم نے کہا تھا کہ میں گڑھی شاہو میں رہتا ہوں؟؟؟ آئن سٹائن: اوہو جان، میرا مطلب ہے کہ میں ہروقت سائنس میں گم رہتا ہوں، سائنس میرا عشق ہے، میرا پیار ہے۔ !!! بیوی: لخ لعنت ہے بھئی تیرے عشق پر۔۔۔اگر اتنا بڑا سائنسدان ہے تو میری ایک بات کا جواب دے۔۔۔ !!! آئن سٹائن: پوچھو جان۔۔۔ بیوی: عورت اگر واہیاتی پر اُتر آئے تو ورلڈ ریکار ڈ بنانے کے لیے کیا کچھ کرسکتی ہے؟ ، آئن سٹائن: پلیز جان۔۔۔ایسے سوال مت پوچھو، میں آئن سٹائن ہوں بیوی: وے یہ تو بڑا آسان سا سوال تھا۔۔۔چل یہ بتا میری وڈی خالہ کا السر کب ٹھیک ہوگا ؟؟؟ آئن سٹائن: وہ۔۔۔مم۔۔۔مجھے کیا پتا ؟؟؟ !!! بیوی: مجھے پہلے ہی پتا تھا تیرے جیسے نکمے بندے کو سواہ تے مٹی پتا ہونا ہے۔۔۔روندا سائنس نوں۔۔۔ آئن سٹائن: پپ۔۔۔پلیز جان۔۔۔اگر اجازت ہو تو تھوڑا کام کرلوں؟؟؟ بیوی: وے کام تونے کیا کرنا ہے، ویلیاں کھائی جاتا ہے، ہزار دفعہ کہا ہے میرے تائے کے بیٹے کے ساتھ سبزی منڈی چلا جایا کر، وہ بھی بہت !!! بڑا سائنسدان ہے۔۔۔ آئن سٹائن: وہ کیا کرتاہے جان؟؟؟ !!! بیوی: سبزی منڈی میں بڑے اور چھوٹے پیاز الگ الگ کرتاہے۔۔۔ !!! آئن سٹائن: لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔۔۔جان کہاں وہ ، کہاں میں۔۔۔ !!! بیوی: ظاہری بات ہے کہاں وہ روز کا دو سوروپیہ کمانے والا اور کہاں تُوسسرالیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا۔۔۔ !!! آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ایسے تو نہ کہو۔۔۔میرے سسرالی تو خود لنگر پر گذارہ کرتے ہیں۔۔۔ !!! بیوی: کیا کہا؟۔۔۔وے تیرا بیڑا غرق۔۔۔تیری ریسرچ میں کیڑے پڑیں۔۔۔وہ نہ مدد کریں تو تُو بھوکا مرجائے۔۔۔ !!!آئن سٹائن: اچھا پلیز جان۔۔۔یہ لڑائی بعد میں کرلینا۔۔۔میرا ذہن کسی اور طرف ہے۔۔۔ بیوی: مجھے پہلے ہی شک تھا، سامنے والی ہمسائی کی کھڑکی بھی تھوڑی سی کھلی ہوئی ہے، سچ سچ بتا آئن سٹائن۔۔۔تیرا ذہن کس کی طرف ہے؟جھوٹ بولا تو میں تیری سائنس بند کروں گی۔ آئن سٹائن: فار گاڈ سیک جان۔۔۔میرے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت نہیں، میرا دماغ توہر وقت اپنے سائنسی کام میں مگن رہتا ہے۔ !!! بیوی: سب جانتی ہوں میں تیرے نکمے سائنسی دماغ کو۔۔۔ٹی وی کا ریموٹ تو تجھ سے ٹھیک ہوتا نہیں، وڈا آیا سائنسدان۔۔۔ !!! آئن سٹائن: (آہ بھر کر) ٹھیک ہے میری جان۔۔۔آج سے سائنس ختم، کل سے میں بھی سبزی منڈی جایا کروں گا۔۔۔ !!! بیوی: (خوشی سے) واقعی؟ ہائے آئن سٹائن۔۔ ۔تم کتنے جینئس ہو۔۔۔
  4. نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے‘ وہ بار بار انگلی کی نوک سے آنسو صاف کرتا تھا اور شرمندگی سے دائیں بائیں دیکھتا تھا‘ میں اسے پچھلے پندرہ منٹ سے دیکھ رہا تھا ‘ اس کی زندگی طوفانوں میں گھری تھی‘ وہ تین سال کا تھا تو اس کی والدہ انتقال کرگئی ‘ والد نے دوسری شادی کرلی‘ سوتیلی ماں سوتیلی زیادہ تھی اور ماں کم لہٰذا جوانی تک گھر اس کےلئے گھر نہیں تھا‘ اس کا سارا بچپن ‘ سارا لڑکپن اور جوانی کا ایک لمبا حصہ محرومیوں میں گزرا‘ وہ معمولی معمولی خواہشوں کےلئے ترستا رہا‘ سکول میں اسے اچھے استاد اور ہمدرد دوست نہ ملے‘ اس نے ایف ایس سی کی کوشش کی لیکن ناکام ہوگیا‘ ایف اے میں اس کے نمبر اچھے نہ آئے‘ اس نے سپورٹس مین بننے کی کوشش کی لیکن نہ بن سکا‘ اس نے اداکاری‘ صدا کاری اور مصوری کی کوشش کی لیکن فیل ہوگیا‘ اس نے موسیقی سیکھنے کی کوشش کی لیکن اس میں بھی آگے نہ بڑھ سکا‘ بی اے میں وہ معمولی نمبروں سے پاس ہوا‘ اس نے ایم اے کیا تو اس میں بھی اس کی کوئی پوزیشن نہ تھی‘ وہ نوکریاں تلاش کرتا رہا‘ ہر جگہ درخواست دی‘ ہر ٹیسٹ میں بیٹھا‘ ہر جگہ انٹرویو دیا لیکن ناکام رہا‘ اس نے اپنا کاروبار شروع کیا وہ بھی نہ چل سکا‘ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کسی ناکام شخص کے حوالے کرنے کےلئے تیار نہیں تھے لہٰذا245 ممالک پر پھیلی اس دنیا میں اس کا کوئی دوست نہ تھا‘ وہ کتابیں پڑھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن آدھی سے زیادہ کتاب نہیں پڑھ سکتا‘ وہ آدھی فلم دیکھ کر اٹھ جاتا تھا اور کوئی گانا پورا نہیں سن سکتا تھا‘ وہ تبلیغی جماعت میں شامل ہوا لیکن راستے سے بھاگ آیا‘ وہ کبھی سگریٹ پینا شروع کردیتا تھا اور کبھی سگریٹ نوشی ترک کردیتا تھا‘ وہ کبھی مولوی بن جاتا تھا اور کبھی ڈانسروں کے ساتھ شامل ہوجاتا تھا اور وہ کبھی کسی درگاہ پر بیٹھ جاتا تھا اور کبھی رندوں اور جواریوں کی محفل کا حصہ بن جاتا تھا‘ اسے سمجھ نہیں آتی تھی وہ کیا ہے‘ وہ کیوں ہے اور اس نے زندگی میں کیا کرنا ہے ؟ اس کا کہنا تھا‘ وہ دنیا کا ناکام ترین شخص ہے! میں بڑے غور سے اس کی کہانی سنتا رہا‘ وہ بول بول کر تھک گیا تو میں نے اسے پانی کا گلاش پیش کیا اور اس سے پوچھا ” تم جانتے ہو دنیا میں کتنے موسم ہیں“ وہ ذرا سوچ کر بولا ” سردی‘ گرمی‘ بہار اور خزاں چار موسم ہیں“ میں نے پوچھا ” سردیوں میں کیا ہوتا ہے!“ اس نے خفگی سے میری طرف دیکھا اور ناراض لہجے میں بولا ” سردیوں میں سردی ہوتی ہے!“ میں نے مسکرا کر گردن ہلائی اور اس سے سوال کیا ” ہم سردیوں میں سردی سے بچنے کےلئے کیا کرتے ہیں“ وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگا‘ میں نے عرض کیا” ہم کوئلوں کی انگیٹھی جلا لیتے ہیں‘ ہم ہیٹر کا بندوبست کرتے ہیں ‘ ہم گرم کپڑے پہنتے ہیں‘ سویٹر ‘جرسیاں‘ کوٹ اور جیکٹس پہنتے ہیں‘ گردن کے گرد مفلر لپیٹ لیتے ہیں اور سر پر اونی ٹوپی پہن لیتے ہیں‘ ہم پاﺅں میں گرم جرابیں اور بند جوتے پہنتے ہیں اور کم سے کم باہر نکلتے ہیں‘ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں ؟“ میں اس کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ ذرا دیر رک کر بولا ” ہم سردی سے بچنے کےلئے کرتے ہیں“ میں نے انکار میں سر ہلایا اور آہستہ سے جواب دیا ” نہیں ہم جانتے ہیں سردیاں چند دنوں کی بات ہے اگر ہم نے یہ دو تین ماہ گزار لئے تو موسم کھل جائے گا اور ہم گرم کپڑوں کے بغیر باہرنکل سکیں گے“ وہ خاموش رہا‘ میں نے عرض کیا ” گرمیوں میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے ہم ٹھنڈے کپڑے پہنتے ہیں‘ کمروں میں پنکھے‘ روم کولر اور ایئر کنڈیشنر لگا لیتے ہیں‘ درختوں کے نیچے بیٹھتے ہیں اور سایوں میں چلتے ہیں‘ ہم دن میں دو دو تین تین بار غسل کرتے ہیں‘ شربت پیتے ہیں اور گرم دوپہروں میں باہر نہیں نکلتے‘ کیوں؟“ میں نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں‘ وہ خاموشی سے میری طرف دیکھتا رہا‘ میں نے دوبارہ عرض کیا ” موسم خزاں میں پودوں کے پتے گرجاتے ہیں‘ ساری گھاس جل جاتی ہے اور درخت ٹنڈ ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد بہار آتی ہے‘ گھاس کی کونپلیں نکلتی ہیں‘ شاخیں ہری ہوتی ہیں‘ ان پر پتے نکلتے ہیں اور پتوں کے ساتھ پھول کھلتے ہیں“ میں خاموش ہوگیا‘ اس نے کروٹ بدلی اور گرم آواز میں بولا ” لیکن سر ان موسموں کا میری کہانی کے ساتھ کیا تعلق ‘ جناب عالیٰ آپ بالکل لایعنی اور فضول بات کررہے ہیں‘ میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں اور آپ کچھ جواب دے رہے ہیں‘ مجھے آپ کی بالکل سمجھ نہیں آرہی“ میں نے قہقہہ لگایا اور نوجوان سے عرض کیا” میں دوباتیں ثابت کرنا چاہتا ہوں ہم لوگ موسم کی سختیاں اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوتا ہے یہ سردیاں‘ یہ گرمیاں اور یہ خزاں چند دنوں کی بات ہے اور اس کے بعد وقت بدل جائے گا‘ اگر ہم اس حقیقت سے واقف نہ ہوں تو تم یقین کرو ہم لوگ سردیوں میں جم جائیں یا پھر گرمیوں میں پگھل جائیں‘ تمہار پہلا مسئلہ یہ ہے تم وقت کی حقیقت سے واقف نہیں ہو‘ تم یہ نہیں جانتے تبدیل ہونا وقت کی فطرت ہے‘ جب تک زندگی اور کائنات قائم ہے وقت تبدیل ہوتا رہے گا‘ سردیاں گرمیوں میں ضرور تبدیل ہوں گی اور گرمیاں سردیوں میں ضرور ڈھلیں گی‘ شام کی صبح ضرور ہوگی اور صبح شام کے پردوں میں ضرور گم ہو گی‘ ناکامی کامیابی میں ضرور بدلے گی‘ کمال ضرور زوال پذیر ہوگا اور طاقت کمزور‘ کمزور طاقت اور اختیار بے اختیاری میں ضرور تبدیل ہوگا‘ خوشبو بدبو اور بدبو خوشبو میں ضرور تبدیل ہو گی اور دوسرا تم یہ نہیں جانتے دنیا کی کوئی طاقت موسموں کو نہیں بدل سکتی‘ دنیا کے سارے حکمران‘ سارے اختیارات اور ساری قوتیں مل کر سردیوں کو نہیں رو ک سکتیں‘ دنیا کا کوئی شخص گرمیوں کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا اور دنیا کی کوئی طاقت خزاں اور بہار کو نہیں روک سکتی‘ دنیا کا کوئی شخص ناکامی‘ مشکل‘ سختی اور بیماری سے نہیں بچ سکتا اور دنیا کا کوئی شخص سدا کامیاب ‘ ہمیشہ خوشحال‘ تامرگ صحت مند اور پوری زندگی سکھی نہیں رہ سکتا‘ وقت اور کیفیت کبھی یکساں نہیں رہتی“ وہ خاموشی سے سنتا رہا‘ میں نے عرض کیا ” ہم لوگ موسموں‘ وقت اور کیفیتوں کو تبدیل نہیں کر سکتے‘ ہم ان کے ساتھ صرف ایڈجسٹ کر سکتے ہیں‘ آندھی آئے تو ہمیں نیچے بیٹھ جانا چاہیے‘سردیاں ہوں تو آگ جلا کر سردی گزرنے کا انتظار کریں‘ گرمیاں آئیں تو ٹھنڈی جگہ بیٹھ جائیں اور ہلکے پھلکے کپڑے پہن لیں‘ خزاں آئے تو ٹنڈ منڈ درختوں کے ساتھ سمجھوتہ کرلیں اور بہار آئے تو چند دن کی بہار سے لطف اٹھا ئیں‘ ہمارے پاس وقت اور موسموں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا‘ اسی طرح ہم نے برے وقتوں ‘ ناکامیوں‘ خرابیوں ‘ بیماریوں اور پریشانیوں کے ساتھ بھی ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے‘ اگر ہماری ماں تین سال میں ہمیں چھوڑ گئی تو ہم اسے واپس نہیں لا سکتے چنانچہ ہم نے ماں کی کمی کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہے‘ ہمیں اچھے سکول‘ اچھے استاد اور اچھے کلاس فیلو نہیں ملے‘ ہم کسی کلاس میں اچھے نمبر نہیں لے سکے‘ ہمیں نوکری نہیں ملی‘ ہم بزنس میں ناکام ہوگئے اور ہماری شادی مرضی کے مطابق نہیں ہوئی تو ہم نے ان کمیوں کے ساتھ بھی ایڈجسٹ کرنا ہے‘ ہم نے کبھی اپنی خواہشوں پر کمبل دے دینا ہے اور کبھی اپنی حسرتوں کو سائے میں لٹا دینا ہے‘ ہم نے کبھی اپنی آرزوﺅں کو دو دو بار غسل دینا اور کبھی انہیں ہیٹر کے سامنے بٹھا دینا ہے‘ ہم نے کبھی آندھیوں میں زمین پر لیٹ کر وقت بدلنے کا انتظار کرنا ہے اور کبھی درختوں پر چڑھ کر صبح کی راہ تکنی ہے‘ ہم نے زندگی کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہے“ میں رکا اور ذرا دیر بعد بولا”ہم میں سے جو لوگ موسموں کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کرتے وہ جم جاتے ہےں یا پگھل جاتے ہےں“ میں خاموش ہو گیا‘ وہ سوچتا رہا اور سوچتے سوچتے بولا ” لیکن سر میں نے کب تک ایڈجسٹ کرنا ہے“ میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور ہنس کر جواب دیا ” جب تک تمہارے مقدر کی آندھی نہیں تھم جاتی‘ یاد رکھو دنیا کی کوئی سختی ساڑھے سات برس سے لمبی نہیں ہوتی اور دنیا کا کوئی شخص جس کیفیت میں پیدا ہوتا ہے اس کیفیت میں فوت نہیں ہوتا اور دنیا کا کوئی ناکام شخص پوری زندگی ناکام نہیں رہتا کیونکہ تبدیلی وقت کا مقدر بھی ہے اور فطرت بھی“۔
  5. اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ اے شبِ فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز ہے ہے خدا نہ کرے کہ تجھے بھی رلائیں ہم احمد فراز
  6. .....عشق مجازی اور عشق حقیقی بات ہو رہی تھی پیار محبت اور عشق کی۔ سب اپنی اپنی زبان میں داستان عشق بیان کر رہے تھے۔ کہ اتنے میں مجھے کسی نے کہا کہ آپ ہر بات کو اسلام کے ساتھ منسوب کر دیتے ہیں آج کیوں خاموش ہیں۔ کیا عشق اسلام میں منع ھے۔ تو میں نے عرض کی کہ اس عشق کی وجہ سے تو یہ کائنات تخلیق ہوئی ھے تو پھر اسلام میں یہ کیسے منع ہس سکتا ھے۔ میری نظر میں تو پہلا عاشق ہی رب تعالیٰ ھے اور ہم میں سے جو کوئی بھی عشق میں مبتلا ہوتا ہے وہ سنت الٰہی پوری کر رہا ہوتا ھے۔ یہ عشق بھی بڑی عجب شے ہے جوں جوں اس عشق میں داخل ہوتے جائیں آپ روبوٹ سے بنتے چلے جاتے ہیں۔ عاشق قربانی کے جذبے سے سرشار اپنے معشوق کے لئیے سب کچھ لٹانے کے لئیے ہر لمحہ تیار رہتا ھے۔ عشق کی بھی کئی قِسمیں ہیں لیکن عرف عام میں صرف دو اقسام ہیں ایک عشق مجازی اور دوسرا عشق حقیقی۔ عشق مجازی میری نظر میں صرف آداب عشق سیکھنے کی ابتدا ھے جس میں عاشق اپنے معشوق کی خوشی کے لئیے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئیے کمر بستہ رہتا ھے لیکن اس کو سب سے چھپا کر رکھنا چاہتا ھے۔ عاشق چاہتا ھے کہ میں اپنے معشوق سے بے پناہ پیار کروں اور وہ مجھ سے پیار کرے لیکن کوئی ہمارے بیچ میں نہ آئے۔ جبکہ عشق حقیقی میں عاشق اپنے معشوق سے جتنا والہانہ عشق کرتا ھے اتنا ہی دوسروں سے بھی اپنے معشوق کے لئیے پیار کا خواہاں ہوتا ھے۔ آپ دیکھیں کہ رب جلیل نے اپنے محبوب سے عشق کیا تو اس کے لئیے ایک کائنات تخلیق کی پھر جنات اور ملائکہ سب کو اس کے جدِ امجد کی تخلیق کے وقت سر بسجود ہونے کا حکم فرمایا۔ اک بر گزیدہ عابد و زاہد جس نے کروڑوں برس الله جلِ شانه کی عبادت و ریاضت کی تھی اس نے یہ کہہ کر سجدے سے انکار کر دیا کہ یا الله اس ماٹی کے پتلے کا کوئی زرہ ایسا نہیں جہاں میری جبین سجدہ تیز نہ ہوئی ہو اور نہ کوئی زرا ایسا ھے جو میرے زیر پا نہ ہوا ہو تو پھر اسے سجدہ کیوں کروں۔ بس اتنی سی بات پہ اس کی تمام عبادات ختم کر دی گئیں اور رب نے اسے رہتی دنیا تک کے لئیے ملعون قرار دے دیا۔ اک لمحے کے لئیے سوچیں کہ ہم سارے دن میں کتنی بڑی بڑی خطائیں کرتے ہیں اور ہمارے نامہء اعمال میں نیکیاں برائے نام سی ہیں اس کے باوجود ہم رحمتِ خدا وندی سے سرشار رہتے ہیں اور ابلیس کی اک خطا اسے ملعون ناتمام کر گئی وجہ کیا تھی زرا سی غور طلب بات ھے یہ وجہ صرف یہ تھی کہ مولاءِکُل نے آدم کی تخلیق تو کی ھی تھی اپنے محبوب کے ظہور کے لئیے تو یہ بات پاک پروردگار کو پسند نہ تھی کہ کوئی اس کے محبوب کے ظہور کے اسباب کی مخالفت کرے۔ بس اتنی سی وجہ کے باعث اسے ملعون قرار دے دیا گیا۔ اب آپ اسے غرور ابلیس کی سزا کہو یا حکم خدا وندی کی خلاف ورزی لیکن سچ تو یہ تھا۔ اور دیکھو الله نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے اور سب نے تبلیغ خدا وندی کے ساتھ ساتھ نجات کا زریعہ یہ بھی بتایا کہ وہ جو آخر میں اک نبی آئے گا وہ سب کا نجات دھندہ ہو گا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ الله جل شانه جہاں اپنے فرشتوں کو تسبیح کا حکم دیتے ہیں وہاں ہمیں بھی حکم ملتا ھے کہ میں اور میرے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ لہٰذا اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو۔ یہ عشق پہلا عشق ھے۔ جو میرے الله نے شروع کیا۔ اس کے بعد عشق الٰہی شروع ہوتا ھے اور اس کی تو بے شمار مثالیں ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کے دور کی اور اسی طرح آج تک چلے آرہے ہیں عاشقِ الٰہی اور عشاق محمدی۔ کوئی عاشق غازی علم دین بن جاتا ھے اور کوئی غازی غلام محمد بن جاتا ھے یہ سب عشق حقیقی کے مرتکب ہیں۔ اور ہم عشق مجازی میں ہی مر رہے ہوتے ہیں۔ کسی نے پوچھا تھا کہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر کیسے ہوتا ہے تو مجھے ایک قصہ یاد آگیا اک غریب عورت کسی رئیس کے گھر کام کرنے جاتی تھی ایک دن کسی وجہ سے اسے اپنے بیٹے کو بھی وہاں لے جانا پڑ گیا اس کے بیٹے کی نظر رئیس کی بیٹی پر پڑ گئی اور وہ اس کےحُسن کا دیوانہ ہو گیا۔ اب وہ ہر روز ماں سے ضد کرے کہ ایک جھلک مجھے اس حسن بیکراں کی دکھلا دی ورنہ میں مر جاؤں گا۔ ماں نے مجبور ہو کر اس رئیس زادی کو اپنا دکھڑا سنایا تو اس نے کہا کہ میرا باپ الله کے نیک بندوں سے بڑا پیار کرتا ھے تم اپنے بیٹے کو کہو کہ وہ جنگل میں بیٹھ جائے کچھ عرصہ میں اس کی شہرت ہو گی تو میرا باپ خود ہمیں اس کو سلام کرنے کے لئیے بھیج دے گا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو ساری بات بتا دی۔ اور وہ اس کے لئیے تیار ہو گیا اس نے کہا ماں تم مجھے رات کے اندھیرے میں کھانا دے آیا کرنا تو میں وہاں بیٹھا رہوں گا۔ اب یہ سلسلہ شروع ہو گیا کہ لوگوں میں مشہور ھو گیا کہ اک الله کا بندہ جنگل میں بیٹھا ھے اور ہر وقت الله الله کرتا ھے رئیس کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کو کہا کہ تم لوگ بھی الله کے نیک بندے کو سلام کر آؤ۔ وہ ماں بیٹی اب جنگل میں پہنچ گئیں اور اس لڑکی نے اپنے رخ روشن سے پردہ ھٹا کر انہیں مخاطب کیا کہ لو اب جی بھر کر مجھے دیکھ لو کہ تم نے یہ سارا ڈھونگ میرے ہی لئیے رچا رکھا ھے۔ لیکن وہ بندہ خدا ویسے ہی آنکھیں بند کئیے الله الله کرتا رہا۔ کئی بار کہنے کے بعد لڑکی کو غصہ آگیا اور اس نے ان کے منہ پر تھپڑ مار کر کہا کہ اب دیکھتے کیوں نہیں ہو میری طرف کے اس حسن کے آشکار ہو کر ہی آپ نے یہ ڈھونگ بنا رکھا ھے تو اب مجھے کیوں نہیں دیکھ رھے ہو۔ اس پر انہوں نے کہا بی بی جاؤ اب میں جو حسن دیکھ چکا ہوں اس کے سامنے یہ دنیاوی حسن تو اک زرہ برابر بھی نہیں۔ کیونکہ وہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف چلے گئے تھے۔ اس لئیے یاد رکھیں کہ عشق مجازی عشق حقیقی کا پہلا زینہ ھے اور اس عشق مجازی کی کامیابی آپ کو محبت کی طرف لے جاتی ھے اور اس کا فراق آپ کو عشق حقیقی کی طرف لے جاتا ھے۔
  7. Farz namaz or tahajud کیا آپ کو معلوم ہے فرض نمازوں اور تہجد میں کیا فرق ہے؟ ۱.فرض نمازوں کے لئے انسان منادی دیتا ہے جبکہ تہجد کے لیے اللہ پاک منادی دیتا ہے ۲. فرض نماز کی ندا (اذان) کو تمام انسان سنتے ہیں جبکہ تہجد کی ندا کو بعض خوش بخت انسان سنتے ہیں ۳. فرض نماز کو بہت سارے لوگ پڑھتے ہیں لیکن تہجد اللہ کے خاص بندے پڑھتے ہیں ۴.فرض نماز کی پکار حی علی الصلاہ یعنی آؤ نماز کی طرف جبکہ تہجد کی پکار ہے ہے کوئی مانگنے والا کہ اس کو میں عطا کروں اے اللہ تہجد کی محبت اور توفیق عطا فرما. آمین
  8. .....عشق مجازی اور عشق حقیقی بات ہو رہی تھی پیار محبت اور عشق کی۔ سب اپنی اپنی زبان میں داستان عشق بیان کر رہے تھے۔ کہ اتنے میں مجھے کسی نے کہا کہ آپ ہر بات کو اسلام کے ساتھ منسوب کر دیتے ہیں آج کیوں خاموش ہیں۔ کیا عشق اسلام میں منع ھے۔ تو میں نے عرض کی کہ اس عشق کی وجہ سے تو یہ کائنات تخلیق ہوئی ھے تو پھر اسلام میں یہ کیسے منع ہس سکتا ھے۔ میری نظر میں تو پہلا عاشق ہی رب تعالیٰ ھے اور ہم میں سے جو کوئی بھی عشق میں مبتلا ہوتا ہے وہ سنت الٰہی پوری کر رہا ہوتا ھے۔ یہ عشق بھی بڑی عجب شے ہے جوں جوں اس عشق میں داخل ہوتے جائیں آپ روبوٹ سے بنتے چلے جاتے ہیں۔ عاشق قربانی کے جذبے سے سرشار اپنے معشوق کے لئیے سب کچھ لٹانے کے لئیے ہر لمحہ تیار رہتا ھے۔ عشق کی بھی کئی قِسمیں ہیں لیکن عرف عام میں صرف دو اقسام ہیں ایک عشق مجازی اور دوسرا عشق حقیقی۔ عشق مجازی میری نظر میں صرف آداب عشق سیکھنے کی ابتدا ھے جس میں عاشق اپنے معشوق کی خوشی کے لئیے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئیے کمر بستہ رہتا ھے لیکن اس کو سب سے چھپا کر رکھنا چاہتا ھے۔ عاشق چاہتا ھے کہ میں اپنے معشوق سے بے پناہ پیار کروں اور وہ مجھ سے پیار کرے لیکن کوئی ہمارے بیچ میں نہ آئے۔ جبکہ عشق حقیقی میں عاشق اپنے معشوق سے جتنا والہانہ عشق کرتا ھے اتنا ہی دوسروں سے بھی اپنے معشوق کے لئیے پیار کا خواہاں ہوتا ھے۔ آپ دیکھیں کہ رب جلیل نے اپنے محبوب سے عشق کیا تو اس کے لئیے ایک کائنات تخلیق کی پھر جنات اور ملائکہ سب کو اس کے جدِ امجد کی تخلیق کے وقت سر بسجود ہونے کا حکم فرمایا۔ اک بر گزیدہ عابد و زاہد جس نے کروڑوں برس الله جلِ شانه کی عبادت و ریاضت کی تھی اس نے یہ کہہ کر سجدے سے انکار کر دیا کہ یا الله اس ماٹی کے پتلے کا کوئی زرہ ایسا نہیں جہاں میری جبین سجدہ تیز نہ ہوئی ہو اور نہ کوئی زرا ایسا ھے جو میرے زیر پا نہ ہوا ہو تو پھر اسے سجدہ کیوں کروں۔ بس اتنی سی بات پہ اس کی تمام عبادات ختم کر دی گئیں اور رب نے اسے رہتی دنیا تک کے لئیے ملعون قرار دے دیا۔ اک لمحے کے لئیے سوچیں کہ ہم سارے دن میں کتنی بڑی بڑی خطائیں کرتے ہیں اور ہمارے نامہء اعمال میں نیکیاں برائے نام سی ہیں اس کے باوجود ہم رحمتِ خدا وندی سے سرشار رہتے ہیں اور ابلیس کی اک خطا اسے ملعون ناتمام کر گئی وجہ کیا تھی زرا سی غور طلب بات ھے یہ وجہ صرف یہ تھی کہ مولاءِکُل نے آدم کی تخلیق تو کی ھی تھی اپنے محبوب کے ظہور کے لئیے تو یہ بات پاک پروردگار کو پسند نہ تھی کہ کوئی اس کے محبوب کے ظہور کے اسباب کی مخالفت کرے۔ بس اتنی سی وجہ کے باعث اسے ملعون قرار دے دیا گیا۔ اب آپ اسے غرور ابلیس کی سزا کہو یا حکم خدا وندی کی خلاف ورزی لیکن سچ تو یہ تھا۔ اور دیکھو الله نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے اور سب نے تبلیغ خدا وندی کے ساتھ ساتھ نجات کا زریعہ یہ بھی بتایا کہ وہ جو آخر میں اک نبی آئے گا وہ سب کا نجات دھندہ ہو گا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ الله جل شانه جہاں اپنے فرشتوں کو تسبیح کا حکم دیتے ہیں وہاں ہمیں بھی حکم ملتا ھے کہ میں اور میرے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ لہٰذا اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو۔ یہ عشق پہلا عشق ھے۔ جو میرے الله نے شروع کیا۔ اس کے بعد عشق الٰہی شروع ہوتا ھے اور اس کی تو بے شمار مثالیں ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کے دور کی اور اسی طرح آج تک چلے آرہے ہیں عاشقِ الٰہی اور عشاق محمدی۔ کوئی عاشق غازی علم دین بن جاتا ھے اور کوئی غازی غلام محمد بن جاتا ھے یہ سب عشق حقیقی کے مرتکب ہیں۔ اور ہم عشق مجازی میں ہی مر رہے ہوتے ہیں۔ کسی نے پوچھا تھا کہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر کیسے ہوتا ہے تو مجھے ایک قصہ یاد آگیا اک غریب عورت کسی رئیس کے گھر کام کرنے جاتی تھی ایک دن کسی وجہ سے اسے اپنے بیٹے کو بھی وہاں لے جانا پڑ گیا اس کے بیٹے کی نظر رئیس کی بیٹی پر پڑ گئی اور وہ اس کےحُسن کا دیوانہ ہو گیا۔ اب وہ ہر روز ماں سے ضد کرے کہ ایک جھلک مجھے اس حسن بیکراں کی دکھلا دی ورنہ میں مر جاؤں گا۔ ماں نے مجبور ہو کر اس رئیس زادی کو اپنا دکھڑا سنایا تو اس نے کہا کہ میرا باپ الله کے نیک بندوں سے بڑا پیار کرتا ھے تم اپنے بیٹے کو کہو کہ وہ جنگل میں بیٹھ جائے کچھ عرصہ میں اس کی شہرت ہو گی تو میرا باپ خود ہمیں اس کو سلام کرنے کے لئیے بھیج دے گا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو ساری بات بتا دی۔ اور وہ اس کے لئیے تیار ہو گیا اس نے کہا ماں تم مجھے رات کے اندھیرے میں کھانا دے آیا کرنا تو میں وہاں بیٹھا رہوں گا۔ اب یہ سلسلہ شروع ہو گیا کہ لوگوں میں مشہور ھو گیا کہ اک الله کا بندہ جنگل میں بیٹھا ھے اور ہر وقت الله الله کرتا ھے رئیس کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کو کہا کہ تم لوگ بھی الله کے نیک بندے کو سلام کر آؤ۔ وہ ماں بیٹی اب جنگل میں پہنچ گئیں اور اس لڑکی نے اپنے رخ روشن سے پردہ ھٹا کر انہیں مخاطب کیا کہ لو اب جی بھر کر مجھے دیکھ لو کہ تم نے یہ سارا ڈھونگ میرے ہی لئیے رچا رکھا ھے۔ لیکن وہ بندہ خدا ویسے ہی آنکھیں بند کئیے الله الله کرتا رہا۔ کئی بار کہنے کے بعد لڑکی کو غصہ آگیا اور اس نے ان کے منہ پر تھپڑ مار کر کہا کہ اب دیکھتے کیوں نہیں ہو میری طرف کے اس حسن کے آشکار ہو کر ہی آپ نے یہ ڈھونگ بنا رکھا ھے تو اب مجھے کیوں نہیں دیکھ رھے ہو۔ اس پر انہوں نے کہا بی بی جاؤ اب میں جو حسن دیکھ چکا ہوں اس کے سامنے یہ دنیاوی حسن تو اک زرہ برابر بھی نہیں۔ کیونکہ وہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف چلے گئے تھے۔ اس لئیے یاد رکھیں کہ عشق مجازی عشق حقیقی کا پہلا زینہ ھے اور اس عشق مجازی کی کامیابی آپ کو محبت کی طرف لے جاتی ھے اور اس کا فراق آپ کو عشق حقیقی کی طرف لے جاتا ھے۔
  9. درودِ پاک بہت بڑا سہارا اور خزانہ ھے عمل نیت کا محتاج ہے. مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے. درود پاک کثرت سے پڑهنےکی نیت کرنے والوں میں شامل ہوجا ئیں اس مبارک نیت میں شامل ہونےکی دعوت دیں اور آپ بهی شامل ہوجا ئیں. أعوذ بالله من الشيطان الرجيم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ إِنَّ الـلَّـهَ وَمَـلَـائِـكَـتَـهُ يُـصَـلُّـونَ عَـلَـى الـنَّـبِـيِّ يَـا أَيُّـهَـا الَّـذِيـنَ آمَـنُـوا صَـلُّـوا عَـلَـيْـهِ وَسَـلِّـمُـوا تَـسْـلِـيـمًـا {Al-Ahzab:56 بے شک الله اور اس کےفرشتےدرود بهيجتےھيں آپ صلی اللہ علیه وآله وسلم پر۰ اے ایمان والوں! تم بھی آپ صلی الله علیه وآله وسلم پر درود و سلام بهيجو۰ أعوذ بالله من الشيطان الرجيم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِہٖ وَسَلِّمُ ****************************************************---------------------------------------------------------------------------------- درود شریف عملِ الٰہی ہے۔ سُنت رب العرش عظیم ہے۔ اللّٰہ اور جناب نبی ء کریم صلى الله عليه و سلم کی رضا ہے۔افضل ترین عمل ہے ، عافیتِ دارین ہے ، نجات ہے ، دونوں جہاں کی بڑائی کا ضامن ہے ، رہبر و رہنما ہے ، معلم ہے ، واجبات و فرائض کی سب سے بڑی عادت ہے ، ردِ بَلا ہے ، عذاب قبر سے حفاظت ہے ، گناہوں کا کفارہ ہے ، قبولیتِ دُعا کی ضمانت ہے ، دین و دنیا کی تمام مہمات میں سریع التاثیر ہے۔ ہر عبادت اللّٰہ کے لئے ہوتی ہے لیکن درود شریف اللّٰہ کا عمل ہے، اپنے رب کی ہاں میں ہاں ملانے کا نام ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے اگر ہم کسی پر اپنا عتاب و عذاب نازل کریں اور اس کا دل مسجد میں یا نماز میں لگا ہو یا پھر درود پڑ ھتا ہوگا تو ہمارا عتاب و عذاب بھی رحمتوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اگر آسمانوں سے آگ اور پتھر برسنے لگیں اور زمین فتنہ فساد کا لاوہ اُبلنے لگے تو دو ہی لوگ محفوظ رہینگے ،ایک وہ جس کا دل نماز یا مسجد میں لگا ہوگا ،دوسرا وہ جو درود پڑھتا ہوگا۔ ****************************************************** ************************************************************************************ درود پاک واحد الاحد ذریعہ ہے، آنحضور ﷺ کی نگاہ کرم میں رہنے کا، اور جس دن اک اشارہ ہوگیا نہ، پھر سمجھو کے بیڑہ پار ہے۔ ********************************************************************* فرمانِ مُصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم قیامت کے دن لوگوں میں سے میرے نزدیک زیادہ قریب وہ ہوگا جس نے دنیا میں مجھ پر زیادہ دُرُود پڑھا ہوگا ( ترمذی ، کنزالعمال ) ***************************************************************** فرمانِ مُصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم جس نے مجھ پرایک مرتبہ درودِ پاک پڑھا اللہ ( عزوجل ) اُس کے لئے دس ۱۰ نیکیاں لِکھ دیتا ہے اور دس ۱۰ گناہ معاف فرمادیتا ہے اور اُس کےدس ۱۰ درجات بُلند فرماتا ہے اور یہ دس ۱۰ غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ( الترغیب والترہیب ) **************************************************************** فرمانِ مُصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم تم اپنی مجلِسوں کو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھ کر آراستہ کرو کیونکہ تمہارا دُرُودِ پاک پڑھنا قِیامت کے روز تمہارے لئے نُور ہوگا ( جَامِعِ صِغِیْر ) **************************************************************** فرمانِ مُصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم بخیل ہے وہ شخص جس کے پاس میرا ذکر ہُوا اور اُس نے مجھ پر دُرُودشریف نہ پڑھا (مِشکوٰۃ ) *************************************************************** فرمانِ مُصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم تمہارا مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھنا تمہاری دعاؤں کا مُحافظ ہے اور تمہارے لئے پروردگار کی رضا کا باعث ہے اور تمہارے اعمال کی طہارت ہے ( سعادۃُ الدارین ) ****************************************************************************************************************************** درود وسلام وہ واحد عبادت ھے جو ھر حال ميں قبول ومنظور ھوتی ھے **** =========================================== استغفار کے فوائدقرآن وسنت کی روشنی میں* استغفار کے بہت سے فوائد ہیں جنمیں سے چند درج ذیل ہیں:١ ۔ *استغفار گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے* ارشاد باری تعالی ہےوَمَن یَعْمَلْ سُوء اً أَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّہَ یَجِدِ اللّہَ غَفُوراً رَّحِیْما)''جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو بخشنے والا'مہربانی کرنے والا پائے گا''(سورئہ نساء:١١٠) ٢۔ *استغفار گناہوں کے مٹانے اوردرجات کی بلندی کا ذریعہ ہے* 'رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''اللہ تعالی جب جنت میں نیک بندے کے درجہ کو بلند فرمائے گا تو بندہ عرض کرے گا :پروردگار یہ مرتبہ مجھے کیسے ملا؟اللہ تعالی فرمائے گاتیرے لئے تمہارے بچوں کے استغفار کے سبب ''(مسند احمد'شعیب ارنؤوط نے اس کی سند کو حسن قراردیا ہے ) ٣۔ *استغفار بارش کے نزول 'مال واولادکی ترقی اور دخول حنت کا سبب ہے* ' ارشاد باری تعالی ہے فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ اِنَّہُ کَانَ غَفَّاراً ' یُرْسِلِ السَّمَاء عَلَیْْکُمْ مِّدْرَاراً ' وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَل لَّکُمْ جَنَّاتٍ وَّیَجْعَل لَّکُمْ أَنْہَاراً)''اور میں(نوح علیہ السلام) نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ(اور معافی مانگو)وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے 'وہ تم پرآسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑدے گا'اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اولاد میں ترقی دے گا'اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا''(سورئہ نوح:١٠۔١٢) ٤۔ *استغفار ہر طرح کی طاقت وقوت کی زیادتی کا ذریعہ ہے* :ارشاد باری تعالی ہےوَیَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوْا ِلَیْْہِ یُرْسِلِ السَّمَاء َ عَلَیْْکُم مِّدْرَاراً وَیَزِدْکُمْ قُوَّةًالَی قُوَّتِکُمْ وَلاَ تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْن)''اے میری قوم کے لوگو!تم اپنے پالنے والے سے اپنی تقصیروں کی معافی طلب کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو'تاکہ وہ برسنے والے بادل تم پر بھیج دے اور تمہاری طاقت پراور طاقت وقوت بڑھادے اور تم جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو''(سورئہ ہود:٥٢) ٥۔ *استغفار سامانِ زندگی کا سبب ہے* ارشاد باری تعالی ہےوَأَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُواْ ِلَیْْہِ یُمَتِّعْکُم مَّتَاعاً حَسَناً ِالَی أَجَلٍ مُّسَمًّی وَّیُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہُ)٫٫اور یہ کہ تم لوگ اپنے گناہ اپنے رب سے معاف کراؤپھر اسی کی طرف متوجہ رہو وہ تم کو وقت مقرر تک اچھا سامان (زندگی)دے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب دے گا''(سورئہ ہود:٣) ٦۔ *استغفار بندے کے دنیاوی واخروی عذاب سے بچاؤ کا ذریعہ ہے* ارشاد باری تعالی ہےوَمَا کَانَ اللّہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنتَ فِیْہِمْ وَمَا کَانَ اللّہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُون)''اور اللہ تعالی ایسا نہ کرے گاکہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گااس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں''(سورئہ انفال:٣٣) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''بندہ عذاب الہی سے محفوظ رہتا ہے جب تک وہ استغفار کرتارہتا ہے ''(مسند احمد'شعیب ارنؤوط نے اس حدیث کو حسن قراردیا ہے )۔ ٧۔ *استغفار نزولِ رحمت کا سبب ہے* ارشاد باری تعالی ہےقَالَ یَا قَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون)''آپ نے فرمایا اے میری قوم کے لوگو!تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں مچارہے ہو؟ تم اللہ تعالی سے استغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے ''(سورئہ نمل:٤٦) ٨۔ *استغفاردلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے* نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''کہ مومن بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے اگر وہ گناہ چھوڑکر توبہ واستغفار کر لیتا ہے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور اگرگناہ پرگناہ کئے جاتا ہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے پورے دل پر چھاجاتی ہے یہی وہ ''رین ''ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے (کَلَّا بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوا یَکْسِبُونَ)٫٫یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے''(مسند احمد' شعیب ارنؤوط نے اس کی سند کوقوی قراردیا ہے )۔ ٩۔ *استغفار قربت ِالہی کا سبب ہے*ارشاد باری تعالی ہے ہُوَ أَنشَأَکُمْ مِّنَ الأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیْہَا فَاسْتَغْفِرُوْہُ ثُمَّ تُوبُوْا ِلَیْْہِ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْب مُّجِیْب)''اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے اور اسی نے اس زمین میں تمہیں بسایا ہے پس تم اس سے معافی طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو بیشک میرا رب قریب اور دعاؤں کاقبول کرنے والا ہے'' (سورئہ ہود:٦١)۔ ١٠۔ *استغفار اللہ کی محبت اور اس کے لطف وکرم کا سبب ہے* ارشاد باری تعالی ہے وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوْا ِلَیْْہِ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْم وَدُود)٫٫تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی والا اور بہت محبت کرنے والا ہے''(سورئہ ہود:٩٠) ١١۔ *استغفار بعض گناہ کبیرہ کی بخشش کا ذریعہ ہے* نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کہ جس نے کہا:'' أَسْتَغْفِرُ اللّہَ الّذِیْ لَا الَہَ الَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَأَتُوْبُ اِلَیْہِ'' تو اللہ تعالی اس کے گناہ کو معاف فرمادے گااگرچہ وہ میدانِ جنگ سے بھاگا ہو''(سنن ابوداود' علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے )۔ ١٢۔ *استغفارقبر میں میت کی ثابت قدمی کا باعث ہے* نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو اس کے پاس ٹھہر کر فرماتے :''اپنے بھائی کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کرواور اس کے ثابت قدمی کی دعا کروکیوں کہ اس وقت اس سے سوال کیا جائے گا''(سنن ابوداود ' )۔ = ۔========== ?? اللَّهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِہٖ وَسَلِّمُ ??
  10. دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا کیا ملا آخر تجھے، سایوں کے پیچھے بھاگ کر اے دلِ ناداں، تجھے کیا ہم نے سمجھایا نہ تھا اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جو جس میں مخل زندگی میں اس قدر ہم نے سکوں پایا نہ تھا خوب روئے چھپ کے گھر کی چار دیواری میں ہم حال دل کہنے کے قابل کوئی ہمسایا نہ تھا ہو گئے قلاش جب سے آس کی دولت لٹی پاس اپنے، اور تو کوئی بھی سرمایہ نہ تھا وہ پیمبر ہو کہ عاشق، قتل گاہ شوق میں تاج کانٹوں کا کسے دنیا نے پہنایا نہ تھا صرف خوشبو کی کمی تھی غور کے قابل قتیل ورنہ گلشن میں کوئی بھی پھول مرجھایا نہ تھا
  11. کوئی دن گر زندگانی اور ہے اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاں سوزِ غم ہاۓ نہانی اور ہے بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں پر کچھ اب کے سر گرانی اور ہے دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر کچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے قاطعِ اعمار ہیں اکثر نجوم وہ بلاۓ آسمانی اور ہے ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام ایک مرگِ ناگہانی اور ہے
  12. ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں جو لالچوں سے تجھے ، مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں یہ کون ہے سر ساحل کے ڈوبنے والے سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئے ہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اسکی خیر خبر چلو فراز کوئے یار چل کے دیکھتے ہیں
  13. ﻋﺰﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﭼﺎﮬﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮈﻭﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮬﮯ ﻣﻨﺰﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﮌﻧﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮬﮯ ﺑﮭﻮﻟﻨﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﺶ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﮐُﭽﮫ ﺣﺴﯿﻦ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﯽ ﮐُﭽﮫ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺤﺮﯾﺮﯾﮟ ﭘﺎﺅﮞ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍﮮ ﮬﻮﮞ ﮐﮭﻮﻟﻨﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮬﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﻮﭼﻨﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻣِﻠﺘﺎ ﮬﺮ ﺭﺷﺘﮧ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ #ﮐﮧ_ﻋﺰﺗﻮﮞ_ﺳﮯ_ﺑﮍﮪ_ﮐﺮ_ﺗﻮ #ﺍﻭﺭ_ﮐُﭽﮫ_ﻧﮩﯿﮟ_ﮬﻮﺗﺎ‎
  14. کچھ اور عشق کا حاصل نہ عشق کا مقصود جزانیکہ لطفِ خلشائے نالۂ بے سُود مگر یہ لُطف بھی ہے کچھ حجاب کے دم سے جو اُٹھ گیا کہیں پردہ تو پھر زیاں ہے نہ سُود ہلائے عشق نہ یُوں کائناتِ عالم کو یہ ذرے دے نہ اُٹھیں سب شرارۂ مقصود کہو یہ عشق سے چھیڑے تو سازِ ہستی کو ہرایک پردہ میں ہے نغمہ "ہوالموجُود یہ کون سامنے ہے؟ صاف کہہ نہیں سکتے بڑے غضب کی ہے نیرنگی طلسمِ نمُود اگرخموش رہوں میں، تو تُو ہی سب کچھ ہے جو کچھ کہا، تو تِرا حُسْن ہوگیا محدُود جو عرض ہے، اُسے اشعار کیوں مِرے کہیئے اُچھل رہے ہیں جگر پارہ ہائے خُوں آلوُد نہ میرے ذوقِ طلب کو ہے مدّعا سے غرض نہ گامِ شوق کو پروائے منزلِ مقصُود مِرا وجُود ہی خود انقیاد و طاعت ہے کہ ریشہ ریشہ میں ساری ہے اِک جبِینِ سجُود
×