Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'اپنا'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Premium Files
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 4 results

  1. کیا حال سنائیں دُنیا کا کیا بات بتائیں لوگوں کی دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہیں ادائیں لوگوں کی کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں دنیا کو سنانے کے قابل کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں بس دل میں چھپانے کے قابل کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں اک بار گئے تو آتے نہیں ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں پرچھائی بھی انکی پاتے نہیں کچھ لوگ خیالوں کے اندر جذبوں کی روانی ہوتے ہیں کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں کچھ لوگ کنارا ہوتے ہیں کچھ ڈوبنے والی جانوں کو تنکوں کا سہارا ہوتے ہیں کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ کچھ ریت گھروندہ چھوٹا سا کچھ لوگ مثال ابر رواں کچھ اونچے درختوں کا سایہ کچھ لوگ چراغوں کی صورت راہوں میں اجالا کرتے ہیں کچھ لوگ اندھیروں کی کالک چہرے پر اچھالا کرتے ہیں کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں دو گام چلے اور رستے الگ کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ کیا حال سنائیں اپنا تمہیں کیا بات بتائیں جیون کی اک آنکھ ہماری ہستی ہے اک آنکھ میں رت ہے ساون کی ہم کس کی کہانی کا حصہ ہم کس کی دعا میں شامل ہیں ہے کون جو رستہ تکتا ہے ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں کس کس کا پکڑ کر دامن ہم اپنی ہی نشانی کو پوچھیں ہم کھوئے گئے کن راہوں میں اس بات کو صاحب جانے دیں کچھ درد سنبھالے سینے میں کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے اک عمر گنوائی ہے اپنی، کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے دل خرچ کیا ہے لوگوں پر جان کھوئی ہے غم پایا ہے اپنا تو یہی سرمایہ ہے اپنا تو یہی سرمایہ ہے
  2. عجب اپنا حال ہوتا_________، جو وصال یار ہوتا کبھی جان صدقے ہوتی،______ کبھی دل نثار ہوتا کوئی فتنہ تا قیامت_________ نہ پھر آشکار ہوتا ترے دل پہ کاش اے ظالم____ مجھے اختیار ہوتا جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا تمھیں منصفی سے کہہ دو_ تمہیں اعتبار ہوتا.. ¡? غمِ عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے یہ وہ زہر ہے کہ_______ آخر میں خوشگوار ہوتا یہ مزہ تھا دل لگی کا_______، کہ برابر آگ لگتی نہ تجھے قرار ہوتا،________ نہ مجھے قرار ہوتا یہ مزا ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں کوئی غیر غیر ہوتا،_________ کوئی یار یار ہوتا ترے وعدے پر ستمگر،_____ابھی اور صبر کرتے اگر اپنی زندگی کا،_________ ہمیں اعتبار ہوتا یہ وہ دردِ دل نہیں ہے کہ___ ہو چارہ ساز کوئی اگر ایک بار مٹتا تو______________ ہزار بار ہوتا مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے درِ یار کعبہ بنتا______________ جو مرا مزار ہوتا تمہیں ناز ہو نہ کیونکر______ کہ لیا ہے داغ کا دل یہ رقم نہ ہاتھ لگتی___________ نہ یہ افتخار ہوتا
  3. کِسی کا درد ہو دِل بے قرار اپنا ہے ہَوا کہِیں کی ہو، سینہ فگار اپنا ہے ہو کوئی فصل مگر زخم کِھل ہی جاتے ہیں سدا بہار دلِ داغدار اپنا ہے بَلا سے ہم نہ پیئیں، میکدہ تو گرم ہُوا بقدرِ تشنگی رنجِ خُمار اپنا ہے جو شاد پھرتے تھے کل، آج چُھپ کے روتے ہیں ہزار شُکر غمِ پائیدار اپنا ہے اِسی لیے یہاں کُچھ لوگ ہم سے جلتے ہیں کہ جی جلانے میں کیوں اِختیار اپنا ہے نہ تنگ کر دلِ مخزوں کو اے غمِ دنیا ! خُدائی بھر میں یہی غم گسار اپنا ہے کہیں مِلا تو کِسی دن منا ہی لیں گے اُسے وہ ذُود رنج سہی ، پھر بھی یار اپنا ہے وہ کوئی اپنے سِوا ہو تو اُس کا شِکوہ کرُوں جُدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے نہ ڈھونڈھ ناصرِ آشفتہ حال کو گھر میں وہ بُوئے گُل کی طرح بے قرار اپنا ہے ناصرکاظمی ………………………………………
  4. ﺍﺏ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟُﺰ ﺷﺐِ ﺗﻨﮩﺎ، ﺷﺮﯾﮏِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﮩﺮ ﮐﯽ ﺧﺎﻣﺸﯽ ﮐﮯ ﺧﻮﻑ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﺷﮩﺮ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﯾﺎ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﻢ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﺻﺒﺢ ﺗﮏ ﺟﻠﻨﺎ ﺳِﮑﮭﺎ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺷﺎﻡ ﺩﮮ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﺤﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﻞ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﻡ ﻭ ﺩَﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻓﻦ ﮐﯽ، ﻣﺘﺎﻉِ ﻓﻦ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﭘﺘﮭّﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﯿﺸﮧ ﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺩﺭﺩ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺑﻮﻝ ﺍﭨﮭّﮯ ﺳﮑﻮﺕِ ﺷﮩﺮِ ﺟﺎﮞ ﺯﺧﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﮮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
×