Jump to content

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to create topics, post replies to existing threads, give reputation to your fellow members, get your own private messenger, post status updates, manage your profile and so much more. If you already have an account, login here - otherwise create an account for free today!

Welcome to our forums
Welcome to our forums, full of great ideas.
Please register if you'd like to take part of our project.
Urdu Poetry & History
Here you will get lot of urdu poetry and history sections and topics. Like/Comments and share with others.
We have random Poetry and specific Poet Poetry. Simply click at your favorite poet and get all his/her poetry.
Thank you buddy
Thank you for visiting our community.
If you need support you can post a private message to me or click below to create a topic so other people can also help you out.

Search the Community

Showing results for tags 'اپنا'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Categories

  • Islamic
  • Funny Videos
  • Movies
  • Songs
  • Seasons
  • Online Channels

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 8 results

  1. اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس کبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا احمدفراز
  2. خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسلِ آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امنِ عالم کا خون ہے آخر بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ زندگی میّتوں پہ روتی ہے جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی آگ اور خون آج بخشے گی بھوک اور احتیاج کل دے گی اس لئے اے شریف انسانو! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں شمع جلتی رہے تو بہتر ہے برتری کے ثبوت کی خاطر خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے گھر کی تاریکیاں مٹانے کو گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں صرف میدانِ کشت وخوں ہی نہیں حاصلِ زندگی خِرد بھی ہے حاصلِ زندگی جنوں ہی نہیں آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں فکر کی روشنی کو عام کریں امن کو جن سے تقویت پہنچے ایسی جنگوں کا اہتمام کریں جنگ، وحشت سے بربریّت سے امن، تہذیب و ارتقا کے لئے جنگ، مرگ آفریں سیاست سے امن، انسان کی بقا کے لئے جنگ، افلاس اور غلامی سے امن، بہتر نظام کی خاطر جنگ، بھٹکی ہوئی قیادت سے امن، بے بس عوام کی خاطر جنگ، سرمائے کے تسلّط سے امن، جمہور کی خوشی کے لئے جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف امن، پُر امن زندگی کے لئے (ساحر لدھیانوی)
  3. کیا حال سنائیں دُنیا کا کیا بات بتائیں لوگوں کی دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہیں ادائیں لوگوں کی کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں دنیا کو سنانے کے قابل کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں بس دل میں چھپانے کے قابل کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں اک بار گئے تو آتے نہیں ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں پرچھائی بھی انکی پاتے نہیں کچھ لوگ خیالوں کے اندر جذبوں کی روانی ہوتے ہیں کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں کچھ لوگ کنارا ہوتے ہیں کچھ ڈوبنے والی جانوں کو تنکوں کا سہارا ہوتے ہیں کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ کچھ ریت گھروندہ چھوٹا سا کچھ لوگ مثال ابر رواں کچھ اونچے درختوں کا سایہ کچھ لوگ چراغوں کی صورت راہوں میں اجالا کرتے ہیں کچھ لوگ اندھیروں کی کالک چہرے پر اچھالا کرتے ہیں کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں دو گام چلے اور رستے الگ کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ کیا حال سنائیں اپنا تمہیں کیا بات بتائیں جیون کی اک آنکھ ہماری ہستی ہے اک آنکھ میں رت ہے ساون کی ہم کس کی کہانی کا حصہ ہم کس کی دعا میں شامل ہیں ہے کون جو رستہ تکتا ہے ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں کس کس کا پکڑ کر دامن ہم اپنی ہی نشانی کو پوچھیں ہم کھوئے گئے کن راہوں میں اس بات کو صاحب جانے دیں کچھ درد سنبھالے سینے میں کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے اک عمر گنوائی ہے اپنی، کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے دل خرچ کیا ہے لوگوں پر جان کھوئی ہے غم پایا ہے اپنا تو یہی سرمایہ ہے اپنا تو یہی سرمایہ ہے
  4. لمحہ بھر اپنا خوابوں کو بنانے والے اب نہ آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والے کیا ملے گا تجھے بکھرے ہوئے خوابوں کے سوا ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے سب نے پہنا تھا بڑے شوق سے کاغذ کا لباس اس قدر لوگ تھے بارش میں نہانے والے مر گئے ہم تو یہ کتبے پر لکھا جائے گا سو گئے آپ زمانے کو جگانے والے در و دیوار پر حسرت سی برستی ہے محسن! جانے کس دیس گئے پیار نبھانے والے
  5. عجب اپنا حال ہوتا_________، جو وصال یار ہوتا کبھی جان صدقے ہوتی،______ کبھی دل نثار ہوتا کوئی فتنہ تا قیامت_________ نہ پھر آشکار ہوتا ترے دل پہ کاش اے ظالم____ مجھے اختیار ہوتا جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا تمھیں منصفی سے کہہ دو_ تمہیں اعتبار ہوتا.. ¡? غمِ عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے یہ وہ زہر ہے کہ_______ آخر میں خوشگوار ہوتا یہ مزہ تھا دل لگی کا_______، کہ برابر آگ لگتی نہ تجھے قرار ہوتا،________ نہ مجھے قرار ہوتا یہ مزا ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں کوئی غیر غیر ہوتا،_________ کوئی یار یار ہوتا ترے وعدے پر ستمگر،_____ابھی اور صبر کرتے اگر اپنی زندگی کا،_________ ہمیں اعتبار ہوتا یہ وہ دردِ دل نہیں ہے کہ___ ہو چارہ ساز کوئی اگر ایک بار مٹتا تو______________ ہزار بار ہوتا مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے درِ یار کعبہ بنتا______________ جو مرا مزار ہوتا تمہیں ناز ہو نہ کیونکر______ کہ لیا ہے داغ کا دل یہ رقم نہ ہاتھ لگتی___________ نہ یہ افتخار ہوتا
  6. بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا اب مجھے چھوڑ کے دنیا میں تماشا نہ بنا نہ دکھا پائے گا تُو خواب میری آنکھوں کے اب بھی کہتا ہوں مصور میرا چہرہ نہ بنا اک یہی غم میرے مرنے کیلئے کافی ہے جیسا تُو چاہتا تھا مجھ کو میں ویسا نہ بنا ایک بات اور پتے کی میں بتاؤں تجھ کو آخرت بنتی چلی جائے گی، دنیا نہ بنا یہ خدا بن کے رعایت نہیں کرتے ہیں وصیؔ .....حسن والوں کو کبھی قبلہ و کعبہ نہ بنا
  7. کِسی کا درد ہو دِل بے قرار اپنا ہے ہَوا کہِیں کی ہو، سینہ فگار اپنا ہے ہو کوئی فصل مگر زخم کِھل ہی جاتے ہیں سدا بہار دلِ داغدار اپنا ہے بَلا سے ہم نہ پیئیں، میکدہ تو گرم ہُوا بقدرِ تشنگی رنجِ خُمار اپنا ہے جو شاد پھرتے تھے کل، آج چُھپ کے روتے ہیں ہزار شُکر غمِ پائیدار اپنا ہے اِسی لیے یہاں کُچھ لوگ ہم سے جلتے ہیں کہ جی جلانے میں کیوں اِختیار اپنا ہے نہ تنگ کر دلِ مخزوں کو اے غمِ دنیا ! خُدائی بھر میں یہی غم گسار اپنا ہے کہیں مِلا تو کِسی دن منا ہی لیں گے اُسے وہ ذُود رنج سہی ، پھر بھی یار اپنا ہے وہ کوئی اپنے سِوا ہو تو اُس کا شِکوہ کرُوں جُدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے نہ ڈھونڈھ ناصرِ آشفتہ حال کو گھر میں وہ بُوئے گُل کی طرح بے قرار اپنا ہے ناصرکاظمی ………………………………………
  8. ﺍﺏ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟُﺰ ﺷﺐِ ﺗﻨﮩﺎ، ﺷﺮﯾﮏِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﮩﺮ ﮐﯽ ﺧﺎﻣﺸﯽ ﮐﮯ ﺧﻮﻑ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﺷﮩﺮ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﯾﺎ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﻢ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﺻﺒﺢ ﺗﮏ ﺟﻠﻨﺎ ﺳِﮑﮭﺎ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺷﺎﻡ ﺩﮮ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﺤﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﻞ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﻡ ﻭ ﺩَﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻓﻦ ﮐﯽ، ﻣﺘﺎﻉِ ﻓﻦ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﭘﺘﮭّﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﯿﺸﮧ ﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺩﺭﺩ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺑﻮﻝ ﺍﭨﮭّﮯ ﺳﮑﻮﺕِ ﺷﮩﺮِ ﺟﺎﮞ ﺯﺧﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﮮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
×
×
  • Create New...