Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'ایسا'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 5 results

  1. تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے ویراں ہو رہ گزارِحیات جیسے خوابوں کے رنگ پھیکے ہوں جیسے لفظوں سے موت رِستی ہو جیسے سانسوں کے تار بکھرے ہوں جیسے نو حہ کناں ہو صبح چمن تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے خوشبو نہیں ہو کلیوں میں جیسے سُونا پڑا ہو شہرِ دل جیسے کچھ بھی نہیں ہو گلیوں میں جیسے خوشیوں سے دشمنی ہو جائے جیسے جذبوں سے آشنائی نہ ہو تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے اک عمر کی مسافت پر بات کچھ بھی سمجھ نہ آئی ہو جیسے چپ چپ ہوں آرزو کے شجر جیسے رک رک کے سانس چلتی ہو جیسے بے نام ہو دعا کا سفر جیسے قسطوں میں عمر کٹتی ہو تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے اک خوف کے جزیرے میں کوئی آواز دے کے چھپ جائے جیسے ہنستے ہوئے اچانک ہی غم کی پروا سے آنکھ بھر جائے تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
  2. چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ وہ آنکھیں میری ہو جائیں کوئی صوم صلوٰۃ دُرُود بتا کہ وجّد وُجُود میں آ جائے کوئی تسبیح ہو کوئی چِلا ہو کوئی وِرد بتا وہ آن ملے مُجھے جینے کا سامان ملے گر نہیں تو میری عرضی مان مُجھے مانگنے کا ہی ڈھنگ سِکھا کہ اشّک بہیں میرے سجّدوں میں اور ہونٹ تھرا تھر کانپیں بّس میری خاموشی کو بھّید مِلے کوئی حرف ادا نہ ہو لیکن میری ہر اِک آہ کا شور وہاں سرِ عرش مچّے میرے اشکوں میں کوئی رنگ مِلا میرے خالی پن میں پُھول کِھلا مُجھے یار ملا سرکار ملا اے مالک و مُلک، اے شاہ سائیں مُجھے اور نہ کوئی چاہ سائیں مری عرضی مان، نہ خالی موڑ مُجھے مان بہت مرا مان نہ توڑ چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ وہ آنکھیں میری ہوجائیں ۔ کوئی ایسا جادو ٹونہ کر۔ مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو۔ یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔ میں شمع، وہ پروانہ ہو۔ زرا دیکھ کے چال ستاروں کی۔ کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔ جو کر دے بخت سکندر سا کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔ کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے ۔ کوئی ایسا دے تعویز مجھے۔ وہ مجھ پر عاشق ہو جائے۔۔ کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔ مری راہ میں پھول گلاب آئیں۔ کوئی پانی پھوک کے دے ایسا۔ وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔ کوئی ایسا کالا جادو کر جو جگمگ کر دے میرے دن۔ وہ کہے مبارک جلدی آ ۔ اب جیا نہ جائے تیرے بن۔ کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے ۔ جس رہ سے وہ دلدار ملے۔ کوئی تسبیح دم درود بتا ۔ جسے پڑھوں تو میرا یار ملے کوئی قابو کر بے قابو جن۔ کوئی سانپ نکال پٹاری سے کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔ کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔ وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔ کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔ وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔ کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔ اسے لگے میں چاند کے جیسی ہوں ۔ جو مرضی میرے یار کی ہے۔ اسے لگے میں بالکل ویسی ہوں۔ کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔ جو اشک بہا دے سجدوں میں۔ اور جیسے تیرا دعوی ہے محبوب ہو میرے قدموں میں ۔ پر عامل رک، اک بات کہوں۔ یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟ محبوب تو ہے سر آنکھوں پر۔ مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا۔ اور عامل سن یہ کام بدل۔ یہ کام بہت نقصان کا ہے۔ سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ جو مالک کل جہان کا ہے
  3. کو ئی ایسا شبد لکھے کوئی جو دلگیروں کا گیت بنے کوئی لفظ تحمّل والا ھو کوئی بات کہ جیسے ماں بولے جسے سن کر زخم بھریں دل کے جسے چُھو کے رنج نہ ھو کوئی کوئی ایسا شبد لکھے کوئی جو ٹھنڈک ھو، آزار نہ ھو جو جیون بھر کا عطر بنے جو رستہ ھو دیوار نہ ھو کوئی کافی شاہ عنایت سی کوئی رمز بِھٹائی چاھت سی کوئی ھُوک سچل سرمست بھری جس لفظ کی گدڑی کے اندر انسان کی اک پہچان بھی ھو جو پورب پچھم سے آگے بغداد بھی ھو ملتان بھی ھو کوئی ایسا شبد لکھے کوئی جسے پڑھ کر اک حیرانی ھو جسے کھول کے دیکھیں تو اس میں ھر مشکل کی آسانی ھو جو طنز نہ ھو تحقیر نہ ھو کوئی ھو جو ایسا شبد لکھے وہ چاھے سنت فقیر نہ ھو بھلے ناسخ غالب میر نہ ھو پر ھو تو سہی کوئی ایسا کوئی ایسا _____جو یہ شبد لکھے جو دلگیروں کا گیت بنے جو انسانوں کا میت بنے ۔۔
  4. مجھے ایسا لطف عطا کیا، جو ہجر تھا نہ وصال تھا مرے موسموں کے مزاج داں، تجھے میرا کتنا خیال تھا کسی اور چہرے کو دیکھ کر، تری شکل ذہن میں آگئی تیرا نام لے کے ملا اسے، میرے حافظے کا یہ حال تھا کبھی موسموں کے سراب میں، کبھی بام و در کے عذاب میں وہاں عمر ہم نے گزار دی، جہاں سانس لینا مُحال تھا کبھی تُو نے غور نہیں کیا، کہ یہ لوگ کیسے اُجڑ گئے؟ کوئی میر جیسا گرفتہ دل، تیرے سامنے کی مثال تھا تیرے بعد کوئی نہیں ملا، جو یہ حال دیکھ کے پوچھتا مجھے کس کی آگ جُھلسا گئی؟ میرے دل کو کس کا مَلال تھا؟ کہیں خون ِدل سے لکھا تو تھا، تیرے سال ِہجر کا سانحہ وہ ادھوری ڈائری کھو گئی، وہ نجانے کون سا سال تھا؟ اعتبار ساجد
  5. کوئی ایسا جادو ٹونہ کر۔ مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو۔ یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔ میں شمع، وہ پروانہ ہو۔ زرا دیکھ کے چال ستاروں کی۔ کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔ جو کر دے بخت سکندر سا کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔ کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے ۔ کوئی ایسا دے تعویز مجھے۔ وہ مجھ پر عاشق ہو جائے۔۔ کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔ مری راہ میں پھول گلاب آئیں۔ کوئی پانی پھوک کے دے ایسا۔ وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔ کوئی ایسا کالا جادو کر جو جگمگ کر دے میرے دن۔ وہ کہے مبارک جلدی آ ۔ اب جیا نہ جائے تیرے بن۔ کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے ۔ جس رہ سے وہ دلدار ملے۔ کوئی تسبیح دم درود بتا ۔ جسے پڑھوں تو میرا یار ملے کوئی قابو کر بے قابو جن۔ کوئی سانپ نکال پٹاری سے کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔ کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔ وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔ کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔ وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔ کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔ اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں ۔ جو مرضی میرے یار کی ہے۔ اسے لگے میں بالکل ویسا ہوں۔ کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔ جو اشک بہا دے سجدوں میں۔ اور جیسے تیرا دعوی ہے محبوب ہو میرے قدموں میں ۔ پر عامل رک، اک بات کہوں۔ یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟ محبوب تو ہے سر آنکھوں پر۔ مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا۔ اور عامل سن یہ کام بدل۔ یہ کام بہت نقصان کا ہے۔ سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ جو مالک کل جہان کا ہے۔
×