Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'ایسی'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 2 results

  1. باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں سوچا ہے خموشی سے ہر اک زہر کو پی جائیں اپنا تو نہیں کوئی وہاں پوچھنے والا اس بزم میں جانا ہے جنہیں اب تو وہی جائیں اب تجھ سے ہمیں کوئی تعلق نہیں رکھنا اچھا ہو کہ دل سے تری یادیں بھی چلی جائیں اک عمر اٹھائے ہیں ستم غیر کے ہم نے اپنوں کی تو اک پل بھی جفائیں نہ سہی جائیں جالبؔ غم دوراں ہو کہ یاد رخ جاناں تنہا مجھے رہنے دیں مرے دل سے سبھی جائیں
  2. جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی یہ ہاتھ چُومے گئے ، پھر بھی بے گلاب رہے جو رُت بھی آئی ، خزاں کے سفیر ایسی تھی وہ میرے پاؤں کو چھُونے جھُکا تھا جس لمحے جو مانگتا اُسے دیتی ، امیر ایسی تھی شہادتیں مرے حق میں تمام جاتی تھیں مگر خموش تھے منصف ، نظیر ایسی تھی کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر تمام عُمر نہ اُڑتی ، اسیر ایسی تھی پھر اُس کے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم جُدائیوں کی گھڑی چشم گیر ایسی تھی بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھی ردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی کبھی نہ چاہنے والوں کا خوں بہا مانگا نگارِ شہرِ سخن بے ضمیر ایسی تھی
×