Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'بھی'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 21 results

  1. میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی
  2. رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے یہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خواب وہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے پھر دل میں تیری یاد کے ، منظر ھیں فروزاں ایسے میں کوئی ، دیکھنے والا بھی نہیں ھے ھمراہ بھی خواھش سے ، نہیں رھتا ھمارے اور بامِ رفاقت سے ، اُترتا بھی نہیں ھے اِس عمر کے صحرا سے ، تری یاد کا بادل ٹلتا بھی نہیں ، اور برستا بھی نہیں ھے نوشی گیلانی
  3. غیر کے چاک گریباں کو بھی ٹانکا کیجے اور کچھ اپنے گریباں میں بھی جھانکا کیجے بن کے منصف جو کٹہروں میں بلائیں سب کو اس ترازو میں ذرا خود کو بھی جانچا کیجے خود میں دعویٰ جو بڑائی کا لئے پھرتے ہیں یہ بھی فتنہ ہے ذرا اس کو بھی چلتا کیجے سب کو دیتے ہیں سبق آپ بھلے کاموں کا پہلے اس فن میں ذرا خود کو تو یکتا کیجے راستی پر ہیں فقط آپ غلط ہیں سارے اس تعصب میں حقیقت کو نہ دھندلا کیجے ہے توقع کہ محبت سے سبھی پیش آئیں خود محبت سے کوئی ایک تو اپنا کیجے اور کے نقص پہ جو اُگلے زباں تیری زہر اپنے حصے کا ذرا زہر بھی پھانکا کیجے برہمی ٹھیک ہے جاہل کی جہالت پہ مگر علم حاضر ہے ذرا خود کو تو بینا کیجے کاہے ابرک ہے گلہ رات کی تاریکی کا آپ کا کام ہے لفظوں سے اجالا کیجے اتباف ابرک
  4. نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے‘ وہ بار بار انگلی کی نوک سے آنسو صاف کرتا تھا اور شرمندگی سے دائیں بائیں دیکھتا تھا‘ میں اسے پچھلے پندرہ منٹ سے دیکھ رہا تھا ‘ اس کی زندگی طوفانوں میں گھری تھی‘ وہ تین سال کا تھا تو اس کی والدہ انتقال کرگئی ‘ والد نے دوسری شادی کرلی‘ سوتیلی ماں سوتیلی زیادہ تھی اور ماں کم لہٰذا جوانی تک گھر اس کےلئے گھر نہیں تھا‘ اس کا سارا بچپن ‘ سارا لڑکپن اور جوانی کا ایک لمبا حصہ محرومیوں میں گزرا‘ وہ معمولی معمولی خواہشوں کےلئے ترستا رہا‘ سکول میں اسے اچھے استاد اور ہمدرد دوست نہ ملے‘ اس نے ایف ایس سی کی کوشش کی لیکن ناکام ہوگیا‘ ایف اے میں اس کے نمبر اچھے نہ آئے‘ اس نے سپورٹس مین بننے کی کوشش کی لیکن نہ بن سکا‘ اس نے اداکاری‘ صدا کاری اور مصوری کی کوشش کی لیکن فیل ہوگیا‘ اس نے موسیقی سیکھنے کی کوشش کی لیکن اس میں بھی آگے نہ بڑھ سکا‘ بی اے میں وہ معمولی نمبروں سے پاس ہوا‘ اس نے ایم اے کیا تو اس میں بھی اس کی کوئی پوزیشن نہ تھی‘ وہ نوکریاں تلاش کرتا رہا‘ ہر جگہ درخواست دی‘ ہر ٹیسٹ میں بیٹھا‘ ہر جگہ انٹرویو دیا لیکن ناکام رہا‘ اس نے اپنا کاروبار شروع کیا وہ بھی نہ چل سکا‘ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کسی ناکام شخص کے حوالے کرنے کےلئے تیار نہیں تھے لہٰذا245 ممالک پر پھیلی اس دنیا میں اس کا کوئی دوست نہ تھا‘ وہ کتابیں پڑھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن آدھی سے زیادہ کتاب نہیں پڑھ سکتا‘ وہ آدھی فلم دیکھ کر اٹھ جاتا تھا اور کوئی گانا پورا نہیں سن سکتا تھا‘ وہ تبلیغی جماعت میں شامل ہوا لیکن راستے سے بھاگ آیا‘ وہ کبھی سگریٹ پینا شروع کردیتا تھا اور کبھی سگریٹ نوشی ترک کردیتا تھا‘ وہ کبھی مولوی بن جاتا تھا اور کبھی ڈانسروں کے ساتھ شامل ہوجاتا تھا اور وہ کبھی کسی درگاہ پر بیٹھ جاتا تھا اور کبھی رندوں اور جواریوں کی محفل کا حصہ بن جاتا تھا‘ اسے سمجھ نہیں آتی تھی وہ کیا ہے‘ وہ کیوں ہے اور اس نے زندگی میں کیا کرنا ہے ؟ اس کا کہنا تھا‘ وہ دنیا کا ناکام ترین شخص ہے! میں بڑے غور سے اس کی کہانی سنتا رہا‘ وہ بول بول کر تھک گیا تو میں نے اسے پانی کا گلاش پیش کیا اور اس سے پوچھا ” تم جانتے ہو دنیا میں کتنے موسم ہیں“ وہ ذرا سوچ کر بولا ” سردی‘ گرمی‘ بہار اور خزاں چار موسم ہیں“ میں نے پوچھا ” سردیوں میں کیا ہوتا ہے!“ اس نے خفگی سے میری طرف دیکھا اور ناراض لہجے میں بولا ” سردیوں میں سردی ہوتی ہے!“ میں نے مسکرا کر گردن ہلائی اور اس سے سوال کیا ” ہم سردیوں میں سردی سے بچنے کےلئے کیا کرتے ہیں“ وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگا‘ میں نے عرض کیا” ہم کوئلوں کی انگیٹھی جلا لیتے ہیں‘ ہم ہیٹر کا بندوبست کرتے ہیں ‘ ہم گرم کپڑے پہنتے ہیں‘ سویٹر ‘جرسیاں‘ کوٹ اور جیکٹس پہنتے ہیں‘ گردن کے گرد مفلر لپیٹ لیتے ہیں اور سر پر اونی ٹوپی پہن لیتے ہیں‘ ہم پاﺅں میں گرم جرابیں اور بند جوتے پہنتے ہیں اور کم سے کم باہر نکلتے ہیں‘ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں ؟“ میں اس کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ ذرا دیر رک کر بولا ” ہم سردی سے بچنے کےلئے کرتے ہیں“ میں نے انکار میں سر ہلایا اور آہستہ سے جواب دیا ” نہیں ہم جانتے ہیں سردیاں چند دنوں کی بات ہے اگر ہم نے یہ دو تین ماہ گزار لئے تو موسم کھل جائے گا اور ہم گرم کپڑوں کے بغیر باہرنکل سکیں گے“ وہ خاموش رہا‘ میں نے عرض کیا ” گرمیوں میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے ہم ٹھنڈے کپڑے پہنتے ہیں‘ کمروں میں پنکھے‘ روم کولر اور ایئر کنڈیشنر لگا لیتے ہیں‘ درختوں کے نیچے بیٹھتے ہیں اور سایوں میں چلتے ہیں‘ ہم دن میں دو دو تین تین بار غسل کرتے ہیں‘ شربت پیتے ہیں اور گرم دوپہروں میں باہر نہیں نکلتے‘ کیوں؟“ میں نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں‘ وہ خاموشی سے میری طرف دیکھتا رہا‘ میں نے دوبارہ عرض کیا ” موسم خزاں میں پودوں کے پتے گرجاتے ہیں‘ ساری گھاس جل جاتی ہے اور درخت ٹنڈ ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد بہار آتی ہے‘ گھاس کی کونپلیں نکلتی ہیں‘ شاخیں ہری ہوتی ہیں‘ ان پر پتے نکلتے ہیں اور پتوں کے ساتھ پھول کھلتے ہیں“ میں خاموش ہوگیا‘ اس نے کروٹ بدلی اور گرم آواز میں بولا ” لیکن سر ان موسموں کا میری کہانی کے ساتھ کیا تعلق ‘ جناب عالیٰ آپ بالکل لایعنی اور فضول بات کررہے ہیں‘ میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں اور آپ کچھ جواب دے رہے ہیں‘ مجھے آپ کی بالکل سمجھ نہیں آرہی“ میں نے قہقہہ لگایا اور نوجوان سے عرض کیا” میں دوباتیں ثابت کرنا چاہتا ہوں ہم لوگ موسم کی سختیاں اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوتا ہے یہ سردیاں‘ یہ گرمیاں اور یہ خزاں چند دنوں کی بات ہے اور اس کے بعد وقت بدل جائے گا‘ اگر ہم اس حقیقت سے واقف نہ ہوں تو تم یقین کرو ہم لوگ سردیوں میں جم جائیں یا پھر گرمیوں میں پگھل جائیں‘ تمہار پہلا مسئلہ یہ ہے تم وقت کی حقیقت سے واقف نہیں ہو‘ تم یہ نہیں جانتے تبدیل ہونا وقت کی فطرت ہے‘ جب تک زندگی اور کائنات قائم ہے وقت تبدیل ہوتا رہے گا‘ سردیاں گرمیوں میں ضرور تبدیل ہوں گی اور گرمیاں سردیوں میں ضرور ڈھلیں گی‘ شام کی صبح ضرور ہوگی اور صبح شام کے پردوں میں ضرور گم ہو گی‘ ناکامی کامیابی میں ضرور بدلے گی‘ کمال ضرور زوال پذیر ہوگا اور طاقت کمزور‘ کمزور طاقت اور اختیار بے اختیاری میں ضرور تبدیل ہوگا‘ خوشبو بدبو اور بدبو خوشبو میں ضرور تبدیل ہو گی اور دوسرا تم یہ نہیں جانتے دنیا کی کوئی طاقت موسموں کو نہیں بدل سکتی‘ دنیا کے سارے حکمران‘ سارے اختیارات اور ساری قوتیں مل کر سردیوں کو نہیں رو ک سکتیں‘ دنیا کا کوئی شخص گرمیوں کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا اور دنیا کی کوئی طاقت خزاں اور بہار کو نہیں روک سکتی‘ دنیا کا کوئی شخص ناکامی‘ مشکل‘ سختی اور بیماری سے نہیں بچ سکتا اور دنیا کا کوئی شخص سدا کامیاب ‘ ہمیشہ خوشحال‘ تامرگ صحت مند اور پوری زندگی سکھی نہیں رہ سکتا‘ وقت اور کیفیت کبھی یکساں نہیں رہتی“ وہ خاموشی سے سنتا رہا‘ میں نے عرض کیا ” ہم لوگ موسموں‘ وقت اور کیفیتوں کو تبدیل نہیں کر سکتے‘ ہم ان کے ساتھ صرف ایڈجسٹ کر سکتے ہیں‘ آندھی آئے تو ہمیں نیچے بیٹھ جانا چاہیے‘سردیاں ہوں تو آگ جلا کر سردی گزرنے کا انتظار کریں‘ گرمیاں آئیں تو ٹھنڈی جگہ بیٹھ جائیں اور ہلکے پھلکے کپڑے پہن لیں‘ خزاں آئے تو ٹنڈ منڈ درختوں کے ساتھ سمجھوتہ کرلیں اور بہار آئے تو چند دن کی بہار سے لطف اٹھا ئیں‘ ہمارے پاس وقت اور موسموں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا‘ اسی طرح ہم نے برے وقتوں ‘ ناکامیوں‘ خرابیوں ‘ بیماریوں اور پریشانیوں کے ساتھ بھی ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے‘ اگر ہماری ماں تین سال میں ہمیں چھوڑ گئی تو ہم اسے واپس نہیں لا سکتے چنانچہ ہم نے ماں کی کمی کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہے‘ ہمیں اچھے سکول‘ اچھے استاد اور اچھے کلاس فیلو نہیں ملے‘ ہم کسی کلاس میں اچھے نمبر نہیں لے سکے‘ ہمیں نوکری نہیں ملی‘ ہم بزنس میں ناکام ہوگئے اور ہماری شادی مرضی کے مطابق نہیں ہوئی تو ہم نے ان کمیوں کے ساتھ بھی ایڈجسٹ کرنا ہے‘ ہم نے کبھی اپنی خواہشوں پر کمبل دے دینا ہے اور کبھی اپنی حسرتوں کو سائے میں لٹا دینا ہے‘ ہم نے کبھی اپنی آرزوﺅں کو دو دو بار غسل دینا اور کبھی انہیں ہیٹر کے سامنے بٹھا دینا ہے‘ ہم نے کبھی آندھیوں میں زمین پر لیٹ کر وقت بدلنے کا انتظار کرنا ہے اور کبھی درختوں پر چڑھ کر صبح کی راہ تکنی ہے‘ ہم نے زندگی کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہے“ میں رکا اور ذرا دیر بعد بولا”ہم میں سے جو لوگ موسموں کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کرتے وہ جم جاتے ہےں یا پگھل جاتے ہےں“ میں خاموش ہو گیا‘ وہ سوچتا رہا اور سوچتے سوچتے بولا ” لیکن سر میں نے کب تک ایڈجسٹ کرنا ہے“ میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور ہنس کر جواب دیا ” جب تک تمہارے مقدر کی آندھی نہیں تھم جاتی‘ یاد رکھو دنیا کی کوئی سختی ساڑھے سات برس سے لمبی نہیں ہوتی اور دنیا کا کوئی شخص جس کیفیت میں پیدا ہوتا ہے اس کیفیت میں فوت نہیں ہوتا اور دنیا کا کوئی ناکام شخص پوری زندگی ناکام نہیں رہتا کیونکہ تبدیلی وقت کا مقدر بھی ہے اور فطرت بھی“۔
  5. بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی نہ وہ مِلتا ہے نہ مِلنے کا اِشارہ کوئی کیسے اُمّید کا چمکے گا سِتارہ کوئی حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبّت کرنا جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پُوچھا ہے کیا کہَیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی سب تعلّق ہیں ضرورت کے یہاں پر، مُحسنؔ نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی محسؔن نقوی
  6. یہ سال بھی اُداس رہا رُوٹھ کر گیا تجھ سے ملے بغیر دسمبر گذر گیا عُمرِ رَواں خزاں کی ہَوا سے بھی تیز تھی ہر لمحہ برگِ زرد کی صورت بکھر گیا کب سے گِھرا ہُوا ہُوں بگولوں کے درمیاں صحرا بھی میرے گھر کے دروبام پر گیا دل میں چٹختے چٹختے وہموں کے بوجھ سے وہ خوف تھا کہ رات مَیں سوتے میں ڈر گیا جو بات معتبر تھی وہ سر سے گزر گئی جو حرف سرسری تھا وہ دل میں اُتر گیا ہم عکسِ خونِ دل ہی لُٹاتے پھرے مگر وہ شخص آنسوؤں کی دھنک میں نکھر گیا محسن یہ رنگ رُوپ یہ رونق بجا مگر میں زندہ کیا رہوں کہ مِرا جی تو بھر گیا محسن نقوی
  7. Tujh per b afsoon daher ka- Chal jaye ga akhir تجھ پر بھی فسوں دہر کا ــ چل جائے گا آخر دُنیا کی طرح تو بھی ــ بدل جائے گا آخر پھیلی ہے ہر اِک سمت ـ ـ ـ حوادث کی کڑی دُھوپ پتھر ہی سہی ــ وہ بھی پگھل جائے گا آخر اَے میرے بدن ـ ـ ـ رُوح کی دولت پہ نہ اِترا یہ تیر بھی ــ ترکش سے نکل جائے گا آخر وہ صُبح کا تارہ ہے ـ ـ ـ تو پھر ماند بھی ہو گا چڑھتا ہُوا سُورج ہے ــ تو ڈھل جائے گا آخر دِل تُجھ سے بچھڑ کر بھی ـ ـ ـ کہاں جائے گا اَے دوست ؟ یادوں کے کھلونوں سے ــ بہل جائے گا آخر آوارہ و بدنام ہے محسن ـ ـ ـ تو ہمیں کیا؟؟ خُود ٹھوکریں کھا کھا کے ــ سنبھل جائے گا آخر شاعر: محسن نقوی
  8. قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیئے اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے اور محبت وہی انداز پرانے مانگے زندگی ہم ترے داغوں سے رہے شرمندہ اور تو ہے کہ سدا آئنہ خانے مانگے دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جانِ فرازؔ !!....مل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے احمد فرازؔ
  9. راستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی سائے سے مگر اس کو . . . . محبت بھی بہت تھی خیمے نہ کوئی میرے . . . مسافر کے جلائے زخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی سب دوست میرے منتظرِ پردہء شب تھے دن میں تو سفر کرنے میں دِقت بھی بہت تھی بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی پھولوں کا بکھرنا تو . . . . . مقدر ہی تھا لیکن کچھ اس میں ہواؤں کی سیاست بھی بہت تھی وہ بھی سرِ مقتل ہے کہ سر جس کا تھا شاہد اور واقفِ احوال . . . . عدالت بھی بہت تھی اس ترکِ رفاقت پہ . . . . پریشاں تو ہوں لیکن اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی خوش آئے تجھے . . . . . . شہرِ منافق کی امیری !!ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی
  10. معیار گِرتا نہ دوستــوں کا, نہ ہم بھی دشمن کی ڈھال ہـوتے ضعـیف دشــمـن پہ وار کــرتـــے، تو وقـت کـے ہم دجال ھـوتے نہـیں تھا اپنـا مِــزاج ایـســا، کہ ظــــــرف کھـو کـــر انا بـچـاتـے وگـــرنہ ایســے جواب دیتــے،کہ پھــر نہ پـیـدا ســوال ھـوتے ہــماری فطــرت کو جانتـا ہــے، تبھـی تو دشـمن یہ کہہ رہا ہے ہے دشمنی میں بھی ظرف ایسا،جو دوست ہوتے کمال ہوتے اسـے مـبــارک مـقـام اونچا، صـحـیـح حـقـیـقت ہمـیـں پتـہ ہــے ....بناتـے رشتوں کو ہم بھی سیڑھـی،تو آسمــاں کی مثال ہوتے
  11. یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو بدن مرا سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں برہنہ شہر میں ‌کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے وہ میرا دوست ہے سارے جہاں‌کو ہے معلوم دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے میں اپنی ذات میں نیلام ہو رہا ہوں قتیل .....غمِ حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے
  12. اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا مقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کا اب کوچ کرو یارو صحرا سے کہ سنتے ہیں صحرا میں اب آئندہ محمل نہیں آنے کا واعظ کو خرابے میں اک دعوت حق دی تھی میں جان رہا تھا وہ جاہل نہیں آنے کا بنیاد جہاں پہلے جو تھی وہی اب بھی ہے یوں حشر تو یاران یک دل نہیں آنے کا بت ہے کہ خدا ہے وہ مانا ہے نہ مانوں گا اس شوخ سے جب تک میں خود مل نہیں آنے کا گر دل کی یہ محفل ہے خرچہ بھی ہو پھر دل کا باہر سے تو سامان محفل نہیں آنے کا وہ ناف پیالے سے سرمست کرے ورنہ ہو کے میں کبھی اس کا قائل نہیں آنے کا
  13. Jannat malik

    تو میں بھی خوش ہوں

    تو میں بھی خوش ہوں کوئی اُس سے جا کے کہہ دینا اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کر تے ہوئے تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے میں مسکراتا ہوا آئینے میں اُبھروں گا وہ رو پڑے گی اچانک سنگھار کرتے ہوئے مجھے خبر تھی کہ اب لوٹ کر نہ آؤں گا سو تجھ کو یاد کیا دل پہ وار کرتے ہوئے یہ کہہ رہی تھی سمندر نہیں آنکھیں ہیں میں اُن میں ڈوب گیا اعتبار کرتے ہوئے بھنور جو مجھ میں پڑے ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے (وصی شاہ )
  14. مرے پہلو میں رہ کر بھی کہیں رُوپوش ہو جانا مجھے پھر دیکھنا اور دیکھ کر خاموش ہو جانا قسم ہے چشمِ ذیبا کی مجھے بھولے نہیں بھولا تجھے کلیوں کا ایسے دیکھ کر مدہوش ہو جانا تجھے یہ شہر والے پھر مرے بارے میں پوچھیں گے نظر سے مسکرانا اور پھر خاموش ہو جانا زمانہ سانس بھی لینے نہیں دیتا ہمیں لیکن ہمارے واسطے تم چین کی آغوش ہو جانا نہ مجھ میں وصفِ موسیٰ تھے نہ میں محوِ تکلم تھا مرا بنتا نہیں تھا اس طرح بے ہوش ہو جانا مرے زخموں مرے نالوں کا اکلوتا محافظ ہے مرے شانوں پہ تیرے ہجر کا بَردوش ہو جانا سو اب اس نازنیں کی عادتوں میں یہ بھی شامل ہے چمن میں رات کر لینا، وہیں گُل پوش ہو جانا
  15. مرے دل کی خطائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں خطاؤں پر سزائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں قیامت ہیں کہاں سے میں کہاں آیا کہاں سے دل کہاں پہنچا محبت کی ہوائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں نہیں معلوم کیا روزِ جزا پیش آنے والا ہے قیامت میں سزائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں کوئی جیتا ہے ان سے اور مرتا ہے کوئی ان پر لگاوٹ کی ادائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں علاجِ عشق سے اے چارہ گر تکلیف بڑھتی ہے مرے حق میں وہ دوائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں یہی کہتا ہے سُن سُن کر وہ اہلَ غم کے نالوں کو فقیروں کی صدائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں ادھر میری طبیعت بھی نہیں رکتی نہیں تھمتی اُدھر اُن کی صدائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں چلو رندو بڑھو آؤ پیو پھر فصلِ گل آئی یہ ساقی کی صدائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں کہیں ایسا نہ ہو بڑھ جاۓ پہلے سے جنوں میرا گھٹائیں بھی ہوائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں قیامت کے جو منکر ہوں وہ دیکھیں میری آنکھوں سے حسینوں کی ادائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں دمِ بے داد وہ اے نوحؔ دل میں یہ سمجھ رکھے ہماری بد دعائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں نوحؔ ناروی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  16. کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا زندگی سے کسی سمجھوتے کے باوصف اب تک یاد آتا ہے کوئی مارنے، مرنے والا اُس کو بھی ہم تیرے کُوچے میں گزار آئے ہیں زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا اُس کا انداز سُخن سب سے جُدا تھا شاید بات لگتی ہوئی، لہجہ وہ مُکرنے والا شام ہونے کو ہے اورآنکھ میں اِک خواب نہیں کوئی اِس گھر میں نہیں روشنی کرنے والا دسترس میں ہیں عناصر کے ارادے کس کے سو بِکھر کے ہی رہا کوئی بکھرنے والا اِسی اُمّید پہ ہر شام بُجھائے ہیں چراغ ایک تارا ہے سرِ بام اُبھرنے والا
  17. تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے پھر یوں ہوا کہ اک غیر کو دل سے لگا لیا اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے اے یاد یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں اے درد ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہو گئے سمجھا رہے تھے مجھ کو سبھی ناصحان شہر پھر رفتہ رفتہ خود اسی کافر کے ہو گئے اب کے نہ انتظار کریں چارہ گر کا ہم اب کے گئے تو کوئے ستم گر کے ہو گئے روتے ہوئے اک جزیرہ جاں کو فراز تم دیکھو تو کتنے شہر سمندر کے ہو گئے
  18. کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے کہاں ہو تم کہ یہ دل بےقرار آج بھی ہے وہ وادیاں وہ فضائیں کہ ہم ملے تھے جہاں میری وفا کا وہیں پر مزار آج بھی ہے نا جانے دیکھ کے کیوں ان کو یہ ہوا احساس کہ میرے دل پہ انہیں کا اختیار آج بھی ہے وہ پیار جس کے لیے ہم نے چھوڑ دی دنیا وفا کی راہ میں گھائل وہ پیار آج بھی ہے یقیں نہیں ہے مگر آج بھی یہ لگتا ہے میری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے نہ پوچھ کتنے محبت کے زخم کھائے ہیں کہ جن کو سوچ کر دل سوگوار آج بھی ہے کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے .....کہاں ہو تم کہ یہ دل بےقرار آج بھی ہے
  19. دعاؤں میں بسے لوگو سنو یہ رابطوں کی دنیا ہے رابطوں سے رشتے ہیں چاہتوں کے یہ سنگم خوشیوں کے یہ آنگن دوستی پیار کے یہ بندھن ہم کو یاد آئیں گے آنے والے سالوں میں کس کے سنگ ہنسنا ہے کس سے مل کے رونا ہے کب یہ اپنے بس میں ہے مگر آسماں کی جانب پھیلے ہاتھ کہتے ہیں دل سے دل کا ہر رشتہ معتبر دعا سا ہے دعاؤں میں بسے لوگوں جہاں بھی رہو سدا خوش رہو
  20. مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ سورج ہوں، میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ ہر چند راکھ ہو کے بکھرنا ہے راہ میں جلتے ہوئے پروں سے اڑا ہوں مجھے بھی دیکھ عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ بچھتی تھیں جس کی راہ میں پھولوں کی چادریں اب اس کی خاک گھاس کے پیروں تلے بھی دیکھ کیا شاخ باثمر ہے جو تکتا ہے فرش کو نظریں اٹھا شکیبؔ کبھی سامنے بھی دیکھ
  21. Urooj Butt

    ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ

    ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﻧﺼﯿﺐ ﻗﺮﺍﺭِ ﺟﺎﮞ، ﮨﻮﺱِ ﻗﺮﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﮐﯿﺎ، ﺗﺮﺍ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ . . ﺗﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﻣﮧ ﻭ ﺳﺎﻝ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺯﺧﻢ ﺩﯾﺌﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺮﯼ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﺗﮭﯽ ﺍﮎ ﺧﻠﺶ، ﺗﺮﯼ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ . . ﻧﮧ ﮔﻠﮯ ﺭﮨﮯ ﻧﮧ ﮔﻤﺎﮞ ﺭﮨﮯ، ﻧﮧ ﮔﺰﺍﺭﺷﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻭﮦ ﻧﺸﺎﻁِ ﻭﻋﺪﮦﺀ ﻭﺻﻞ ﮐﯿﺎ، ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ . . ﮐﺴﮯ ﻧﺬﺭ ﺩﯾﮟ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﮞ ﺑﮩﻢ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﺎﮐُﻞِ ﺧﻢ ﺑﮧ ﺧﻢ ﮐِﺴﮯ ﮨﺮ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺩﯾﮟ ﮐﮧ ﺷﻤﯿﻢِ ﯾﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ . . ﻭﮦ ﮨﺠﻮﻡِ ﺩﻝ ﺯﺩﮔﺎﮞ ﮐﮧ ﺗﮭﺎ، ﺗﺠﮭﮯ ﻣﮋﺩﮦ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﺮﮮ ﺁﺳﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﯿﺮ ﮨﻮ، ﺳﺮِ ﺭﮦ ﻏﺒﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ . . ﻭﮦ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﺎﮞ ﻧﺜﺎﺭ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ، ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻮﮔﻮﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ . . ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺍﮨﻞِ ﺟﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ، ﻭﮦ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺟﻮ ﺭﻧﮓ ﺗﮭﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮ ﺑﮧ ﮐﻮ، ﺳﺮِ ﮐﻮﺋﮯ ﯾﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ
×