Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'تجھ'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 5 results

  1. تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں تجھ سے خوشبو کے مراسم تجھے کیسے کہیں میری سوچوں کا اُفق تیری محبت کا فُسوں میرے جذبوں کا دل تیری عنایت کی نظر کیسے خوابوں کے جزیروں کو ہم تاراج کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اب کوئی اور نہیں میری تمنا کا دل اب تو باقی ہی نہیں کچھ جسے برباد کریں تیری تقسیم کسی طور ہمیں منظور نہ تھی پھر سرِ بزم جو آئے تو تہی داماں آئے چُن لیا دردِ مسیحائی تیری دلدار نگاہی کے عوض ہم نے جی ہار دیئے لُٹ بھی گئے کیسےممکن ہے بھلا خود کو تیرے سحر سے آزاد کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اس قدر سہل نہیں میری چاہت کا سفر ہم نے کانٹے بھی چُنے روح کے آزار بھی سہے ہم سے جذبوں کی شرح نہ ہو سکی کیا کرتے بس تیری جیت کی خواہش نے کیا ہم کو نِڈھال اب اسی سوچ میں گزریں گے ماہ و سال میرے تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں پروین شاکر
  2. دل کی تکلیف کم نہیں کرتے اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے جان جاں تجھ کو اب تیری خاطر یاد ہم کوئی دم نہیں کرتے دوسری ہار کی ہوس ہے سو ہم کو سر تسلیم خم نہیں کرتے وہ بھی پڑھتا نہیں ہے اب دل سے ہم بھی نالے کو نم نہیں کرتے جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے جون ایلیاء
  3. Tujh per b afsoon daher ka- Chal jaye ga akhir تجھ پر بھی فسوں دہر کا ــ چل جائے گا آخر دُنیا کی طرح تو بھی ــ بدل جائے گا آخر پھیلی ہے ہر اِک سمت ـ ـ ـ حوادث کی کڑی دُھوپ پتھر ہی سہی ــ وہ بھی پگھل جائے گا آخر اَے میرے بدن ـ ـ ـ رُوح کی دولت پہ نہ اِترا یہ تیر بھی ــ ترکش سے نکل جائے گا آخر وہ صُبح کا تارہ ہے ـ ـ ـ تو پھر ماند بھی ہو گا چڑھتا ہُوا سُورج ہے ــ تو ڈھل جائے گا آخر دِل تُجھ سے بچھڑ کر بھی ـ ـ ـ کہاں جائے گا اَے دوست ؟ یادوں کے کھلونوں سے ــ بہل جائے گا آخر آوارہ و بدنام ہے محسن ـ ـ ـ تو ہمیں کیا؟؟ خُود ٹھوکریں کھا کھا کے ــ سنبھل جائے گا آخر شاعر: محسن نقوی
  4. تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے پھر یوں ہوا کہ اک غیر کو دل سے لگا لیا اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے اے یاد یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں اے درد ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہو گئے سمجھا رہے تھے مجھ کو سبھی ناصحان شہر پھر رفتہ رفتہ خود اسی کافر کے ہو گئے اب کے نہ انتظار کریں چارہ گر کا ہم اب کے گئے تو کوئے ستم گر کے ہو گئے روتے ہوئے اک جزیرہ جاں کو فراز تم دیکھو تو کتنے شہر سمندر کے ہو گئے
  5. تجھ سے بچھڑوں تو تری ذات کا حصہ ہو جاؤں جس سے مرتا ہوں اسی زہر سے اچھا ہو جاؤں تم مرے ساتھ ہو یہ سچ تو نہیں ہے لیکن میں اگر جھوٹ نہ بولوں تو اکیلا ہو جاؤں میں تری قید کو تسلیم تو کرتا ہوں مگر یہ مرے بس میں نہیں ہے کہ پرندہ ہو جاؤں آدمی بن کے بھٹکنے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزا آتا ہے میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ فرشتہ ہو جاؤں وہ تو اندر کی اداسی نے بچایا۔۔۔۔۔۔۔ورنہ ان کی مرضی تو یہی تھی کہ شگفتہ ہو جاؤں احمد کمال پروازی
×