Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'ترے'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 4 results

  1. ترے خیال سے لَو دے اٹھی ہے تنہائی شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی اُنھیں بھی دیکھ جِنھیں راستے میں نیند آئی پُکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی ٹھہر گئے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لئے یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی یہ سانحہ بھی محبّت میں بارہا گزرا کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی دلِ فسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی جہاں بھی تھا کوئی فتنہ تڑپ کے جاگ اُٹھا تمام ہوش تھی مستی میں تیری انگڑائی کھُلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا وہ لوگ تھے، نہ وہ جلسے، نہ شہرِ رعنائی وہ تابِ درد وہ سودائے انتظار کہاں اُنہی کے ساتھ گئی طاقتِ شکیبائی پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصر بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی *************** ناصر کاظمی
  2. جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی یہ ہاتھ چُومے گئے ، پھر بھی بے گلاب رہے جو رُت بھی آئی ، خزاں کے سفیر ایسی تھی وہ میرے پاؤں کو چھُونے جھُکا تھا جس لمحے جو مانگتا اُسے دیتی ، امیر ایسی تھی شہادتیں مرے حق میں تمام جاتی تھیں مگر خموش تھے منصف ، نظیر ایسی تھی کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر تمام عُمر نہ اُڑتی ، اسیر ایسی تھی پھر اُس کے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم جُدائیوں کی گھڑی چشم گیر ایسی تھی بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھی ردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی کبھی نہ چاہنے والوں کا خوں بہا مانگا نگارِ شہرِ سخن بے ضمیر ایسی تھی
  3. وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی سے کسی کو مگر جدا نہ کرے سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے قتیل جان سے جائے پر التجا نہ کرتے
  4. دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں رقصِ مے تیز کرو، ساز کی لے تیز کرو سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں کچھ ہمیں کو نہیں احسان اُٹھانے کا دماغ وہ تو جب آتے ہیں، مائل بہ کرم آتے ہیں اور کچھ دیر گزرے شبِ فرقت سے کہو دل بھی کم دکھتا ہے، وہ یاد بھی کم آتے ہیں فیض احمد فیض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
×