Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'تنہائی'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 3 results

  1. اپنی تنہائی مِرے نام پہ آباد کرے کون ہوگا جو مُجھے اُس کی طرح یاد کرے دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھُلا در اِس کا وہ مُسافر اِسے ہر سمت سے برباد کرے اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہُوں میں روز اِک موت نئے طرز کی ایجاد کرے اتنا حیراں ہو مِری بے طلبی کے آگے وا قفس میں کوئی در خود میرا صیّاد کرے سلبِ بینائی کے احکام ملے ہیں جو کبھی روشنی چُھونے کی خواہش کوئی شب زاد کرے سوچ رکھنا، بھی جرائم میں ہے شامل اب تو وہی معصوم ہے، ہربات پہ جو صاد کرے جب لہو بول پڑے اُس کی گواہی کے خلاف قاضی شہر کچھ اِس بات میں ارشاد کرے اُس کی مُٹّھی میں بہت روز رہا میرا وجود میرے ساحر سے کہو اب مجھے آزاد کرے
  2. کیسے چھوڑیں اُسے تنہائی پر حرف آتا ہے مسیحائی پر اُس کی شہرت بھی تو پھیلی ہر سُو پیار آنے لگا رُسوائی پر ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں ، جاناں ! تیری تصویر کی زیبائی پر رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی قامتِ عشق کی رعنائی پر سطح سے دیکھ کے اندازے لگیں آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا بات ہو گی مرے ہرجائی پر خود کو خوشبو کے حوالے کر دیں پُھول کی طرز پذیرائی پر پروین شاکر
  3. ترے خیال سے لَو دے اٹھی ہے تنہائی شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی اُنھیں بھی دیکھ جِنھیں راستے میں نیند آئی پُکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی ٹھہر گئے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لئے یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی یہ سانحہ بھی محبّت میں بارہا گزرا کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی دلِ فسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی جہاں بھی تھا کوئی فتنہ تڑپ کے جاگ اُٹھا تمام ہوش تھی مستی میں تیری انگڑائی کھُلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا وہ لوگ تھے، نہ وہ جلسے، نہ شہرِ رعنائی وہ تابِ درد وہ سودائے انتظار کہاں اُنہی کے ساتھ گئی طاقتِ شکیبائی پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصر بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی *************** ناصر کاظمی
×