Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'تھا'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 17 results

  1. نہ کسی کی دسترس میں تھا نہ کسی کے خواب و خیال میں مگر ایک شخص سما گیا میری ذات کے در و بام میں نہ کسی بھی نظم کا شعر تھا نہ کسی بھی لفظ کا حرف تھا مگر ایسے لفظوں میں بُن گیا مجھے خاص و خاص بنا گیا نہ کسی کی روح کا سکون تھا نہ کسی کے دل کا قرار تھا مگر ایسا جادو چلا گیا مجھے اپنا عشق چڑھا گیا تھا وہ شخص کتنا عجیب تر تھا وہ شخص کتنا قریب تر مجھے چھوڑ کر تو چلا گیا مگر عشق کرنا سکھا گیا
  2. میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی
  3. تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئے غالب تمہارے سارے طرفدار مر گئے جذبوں کی وہ صداقتیں مرحوم ہو گئیں احساس کے نئے نئے اظہار مر گئے تشبیہہ وا ستعار ہ ور مزو کنایہ کیا پیکر تراش شعر کے فنکار مر گئے ساقی تری شراب بڑا کام کر گئی کچھ راستے میں، کچھ پسِ دیوار مر گئے تقدیسِ دل کی عصیاں نگاری کہاں گئی شَاید غزل کے سَارے گناہ گار مر گئے شعروں میں اب جہاد ہے، روزہ نماز ہے اُردو غزل میں جتنے تھے کفّار مر گئے اخبار ہو رہی ہے غزل کی زبان اب اپنے شہید آٹھ ،اُدھر چار مر گئے مصرعوں کو ہم نے نعرہ تکبیر کر دیا گیتوں کے پختہ کار گلوکار مر گئے اسلوب تحت اتنا گرجدار ہو گیا مہدی حسن کے حاشیہ بردار مر گئے تنقیدی اصطلاحوں کے مشتاق شہ سوار گھوڑوں پہ دوڑے آئے تھے سردار مر گئے ناز و ادا سے مچھلیاں اب ہیں غزل سرا تہمد پکڑ کے صاحبِ دستار مر گئے یا رب طلسمِ ہو ش رہا ہے مُشَاعرہ جن کو نہیں بُلایا، وہ غم خوار مر گئے بشیر بدر
  4. ﺁﺧﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﺟﻮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺎﻡ ﻭﺻﯽؔ ﻣَﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺧﻂ ﮐﻮ ﮐﻠﯿﺠﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﻭﺻﯽ شاہ۔۔ ﺩِﻝ ﮐﯽ ﭼﻮﮐﮭﭧ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺍِﮎ ﺩِﯾﭗ ﺟﻼ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﻮﭦ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﺳﺠﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻞ ﭘﮧ ﺍُﭨﮭﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺭﻭﭨﮫ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﮟ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺧﻔﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺟﺴﮯ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍِﮎ ﺩﻥ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﭼﯿﻦ ﻟﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﺟﻮ ﻃﻮﻓﺎﻥ ﺍُﭨﮭﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻟﻮﭨﮯ ﮔﺎ ﺿﺮﻭﺭ ﺍِﮎ ﺍﺳﯽ ﺁﺱ ﭘﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐُﮭﻼ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ
  5. بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی نہ وہ مِلتا ہے نہ مِلنے کا اِشارہ کوئی کیسے اُمّید کا چمکے گا سِتارہ کوئی حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبّت کرنا جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پُوچھا ہے کیا کہَیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی سب تعلّق ہیں ضرورت کے یہاں پر، مُحسنؔ نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی محسؔن نقوی
  6. وہ ثمر تھا میری دُعاؤں کا، اُسے کِس نے اپنا بنا لیا مِری آنکھ کِس نے اُجاڑ دی،مِرا خواب کِس نے چُرا لیا تجھے کیا بتائیں کہ دِلنشیں! تِرے عِشق میں، تِری یاد میں کبھی گفتگو رہی پُھول سے، کبھی چاند چھت پہ بُلا لیا مِری جنگ کی وہ ہی جیت تھی،مِری فتح کا،وہی جشن تھا میں گرا ، تو دَوڑ کےاُس نےجب ، مجھے بازوؤں میں اُٹھا لیا مِری چاند چُھونےکی حسرتیں،مِری خوشبُو ہونےکی خواہشیں تُو ملا، تو ایسا لگا صنم! مجھے جو طلب تھی، وہ پا لیا مِرے دشمنوں کی نظر میں بھی، مرا قد ، بڑا ہی رہا سدا مِری ماں کی پیاری دعاؤں نے،مجھے ذِلّتوں سے بچا لیا مجھے پہلے پہلے جو دیکھ کر تِرا حال تھا مجھے یاد ہے! کبھی جَل گئیں تِری رَوٹیاں، کبھی ہاتھ تُو نے جلا لیا مِری ڈائری،مِری شاعری،مِرے افتی ! پڑھ کے وہ رَو پڑی مِرے پاس آ کے کہا مجھے! بڑا روگ تُو نے لگا لیا
  7. مل گیا تھا تو اُسے خود سے خفا رکھنا تھا دل کو کچھ دیر تو مصروفِ دُعا رکھنا تھا میں نا کہتا تھا کے سانپوں سے اَٹے ہیں راستے گھر سے نکلے تھے تو ہاتھوں میں عصا رکھنا تھا بات جب ترکِ تعلق پہ ہی ٹھہری تھی تو پھر دل میں احساسِ غمِ یار بھی کیا رکھنا تھا دامن موجِ ہوا یوں تو نا خالی جاتا گھر کی دہلیز پہ کوئی تو دِیا رکھنا تھا کوئی جگنو تہہِ داماں بھی چھپا سکتے تھے کوئی آنسو پسِ مژگاں ہی بچا رکھنا تھا کیا خبر اُس کے تعاقب میں ہوں کتنی سوچیں ¿ اپنا انداز تو اوروں سے جدا رکھنا تھا چاندنی بند کواڑوں میں کہاں اُترے گی ¿ اِک دریچہ تو بھرے گھر میں کھلا رکھنا تھا اُس کی خوشبو سے سجانا تھا جو دل کو محسؔن اُس کی سانسوں کا لقب موجِ صبا رکھنا تھا (محسن نقوی) __________________
  8. وہ تم نہ تھے اک خیال تھا میری سوچ کا ہی کمال تھا وہ محبتیں وہ چاہتیں وہ الجھنوں کا ہے جال تھا میرے دل میں تھی جو رونقیں وہ تیرا ہی حسنِ جمال تھا جواب جس کا ملا نہیں وہ ایسا ہی اک سوال تھا وہ آج ملا تو یوں لگا یہی تو ہے وہ جس کا انتظار تھا اسے یاد کیسے نا کرے کوئی اُسے بھولنا تو مُحال تھا اب اس کی کیا میں مثال دوں وہ تو اپنی مثال آپ تھا
  9. ﯾﮩﺎﮞ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﮕﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﻭﺭ، ﮐﯿﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﻟﮩﺮ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮔﺰﺭﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﻟﻔﻆ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ، ﺍﻭﺭ، ﺍﺩﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﯿﺖ ﺟﺎﺗﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﮔﻢ ﮔﺸﺘﮧ ﺻﺪﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺍﭨﮭﻨﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩِ ﺻﺒﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﺰﺭ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺏ ﮐﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﮎ ﺷﻮﺭ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﭙﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺲ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﮐﮫ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺷﮏ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺟﻞ ﮐﺮ ﻓﻨﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﮐﯿﻨﭽﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻧﯿﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻇﻔﺮ، ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ، ﻭﺭﻧﮧ، ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺮﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ، ﯾﺎ ﺑﮭﻼ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ کو
  10. دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا کیا ملا آخر تجھے، سایوں کے پیچھے بھاگ کر اے دلِ ناداں، تجھے کیا ہم نے سمجھایا نہ تھا اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جو جس میں مخل زندگی میں اس قدر ہم نے سکوں پایا نہ تھا خوب روئے چھپ کے گھر کی چار دیواری میں ہم حال دل کہنے کے قابل کوئی ہمسایا نہ تھا ہو گئے قلاش جب سے آس کی دولت لٹی پاس اپنے، اور تو کوئی بھی سرمایہ نہ تھا وہ پیمبر ہو کہ عاشق، قتل گاہ شوق میں تاج کانٹوں کا کسے دنیا نے پہنایا نہ تھا صرف خوشبو کی کمی تھی غور کے قابل قتیل ورنہ گلشن میں کوئی بھی پھول مرجھایا نہ تھا
  11. ﮐﯿﺎ ﻋﺸﻖ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﺎﻋﺚِ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﯾﺎﺭﻭ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﮩﺮ ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺑﻦ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﻣﻞ ﮔﺌﮯ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺕ ﺟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﺳﺖِ ﺣﻨﺎﺋﯽ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺷﮩﻨﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﯽ ﻭﺟﮧِ ﺷﻨﺎﺳﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﭘﺎﯾﺎ ﻧﮧ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﻭﺍﺭﮔﯽ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﺻﺤﺮﺍ ﺳﻤﭧ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﮧ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﻭﮦ ﻣﺮﮮ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﭘﯿﮑﺮِ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﻮ ﺭﻭﺯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺪﮔﻤﺎﮞ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﻤﻨﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻗﺘﯿﻞؔ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﺮﺟﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ قتیل شفائی
  12. اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میں ہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی وعدے اور پھر دن گننا آنا تھا جانے والے کو جانے والا زندہ تھا دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا پیلے پتوں کو سہ پہر کی وحشت پرسا دیتی تھی آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس اک کوا زندہ تھا
  13. کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے ناصر کاظمی
  14. نہ جانے ظرف تھا کم یا انا زیادہ تھی کلاہ سر سے تو قد سے قبا زیادہ تھی رمیدگی تھی تو پھر ختم تھا گریز اس پر سپردگی تھی تو بے انتہا زیادہ تھی غرور اس کا بھی کچھ تھا جدائیوں کا سبب کچھ اپنے سر میں بھی شاید ہوا زیادہ تھی وفا کی بات الگ پر جسے جسے چاہا کسی میں حسن، کسی میں ادا زیادہ تھی فراز اس سے وفا مانگتا ہے جاں کے عوض جو سچ کہیں تو یہ قیمت ذرا زیادہ تھی احمد فراز
  15. اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میں ہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی وعدے اور پھر دن گننا آنا تھا جانے والے کو جانے والا زندہ تھا دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا پیلے پتوں کو سہ پہر کی وحشت پرسا دیتی تھی آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس اک کوا زندہ تھا
  16. جس نے ہنسایا اس نے رلانا تو تھا مجھے اس عشق نے یہ دن بھی دکھانا تو تھا مجھے میں جانتا تھا اندھیروں سے جنگ ہے سو خود کو اک چراغ بنانا تو تھا مجھے یہ مختصر بھی تھی بڑی مشکل بھی تھی مگر اس زندگی سے کام چلانا تو تھا مجھے اچھا ہوا جہاں سے الجھنے میں کٹ گیا یوں بھی وقت ہجر بتانا تو تھا مجھے اہل جہاں کی ضد میں جہاں دار میں بنا ان کو مقام عشق دکھانا تو تھا مجھے اچھا ہوا کہ تجھ سے ملاقات ہو گئی تجھ سے ملے بغیر بھی جانا تو تھا مجھے اپنے درد کا احساس تو تب ہوا جب اس نے یہ کہا بتانا تو تھا مجھے
  17. کچھ تو احساسِ زیاں تھا پہلے دل کا یہ حال کہاں تھا پہلے اب تو جھونکے سے لرز اٹھتا ہوں نشّۂ خوابِ گراں تھا پہلے اب تو منزل بھی ہے خود گرمِ سفر ہر قدم سنگِ نشاں تھا پہلے سفرِ شوق کے فرسنگ نہ پوچھ وقت بے قیدِ مکاں تھا پہلے یہ الگ بات کہ غم راس ہے اب اس میں اندیشۂ جاں تھا پہلے یوں نہ گھبراۓ ہوۓ پھرتے تھے دل عجب کنجِ اماں تھا پہلے اب بھی تو پاس نہیں ہے لیکن اس قدر دور کہاں تھا پہلے ڈیرے ڈالے ہیں بگولوں نے جہاں اُس طرف چشمہ رواں تھا پہلے اب وہ دریا، نہ وہ بستی، نہ وہ لوگ کیا خبر کون کہاں تھا پہلے ہر خرابہ یہ صدا دیتا ہے میں بھی آباد مکاں تھا پہلے اُڑ گۓ شاخ سے یہ کہہ کے طیور سرو ایک شوخ جواں تھا پہلے کیا سے کیا ہو گئ دنیا پیارے تو وہیں پر ہے جہاں تھا پہلے ہم نے آباد کیا ملکِ سخن کیسا سنسان سماں تھا پہلے ہم نے بخشی ہے خموشی کو زباں درد مجبورِ فغاں تھا پہلے ہم نے ایجاد کیا تیشۂ عشق شعلہ پتھّر میں نہاں تھا پہلے ہم نے روشن کیا معمورۂ غم ورنہ ہر سمت دھواں تھا پہلے ہم نے محفوظ کیا حسنِ بہار عطرِ گل صرفِ خزاں تھا پہلے غم نے پھر دل کو جگایا ناصر خانہ برباد کہاں تھا پہلے ناصر کاظمی
×