Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'تھے '.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 7 results

  1. عجب حالات تھے میرے عجب دن رات تھے میرے مگر میں مطمئن تھا اس لئے تم ساتھ تھے میرے مرے زر کے طلبگاروں کی نظریں ایسے اٹھتی تھیں کہ لاکھوں انگلیاں تھیں اور ہزاروں ہاتھ تھے میرے میں اک پتھر کا گرد آلود بت تھا ان کے مندر میں نہ دل تھا میرے سینے میں نہ کچھ جذبات تھے میرے کسی سے اور کیا تائید کی امید میں رکھتا وہی خاموش تھے جو محرم حالات تھے میرے میں جن شعلوں میں جلتا تھا تم بھی نہیں سمجھے مرا دل مختلف تھا ، مختلف صدمات تھے میرے مجھے مجرم بنا کر رکھ دیا جھوٹے گواہوں نے سبھی رد ہوگئے جتنے بھی الزامات تھے میرے تصور بن گیا تصویر آخر ایک دن اسی کا خوف تھا مجھ کو یہی خدشات تھے میرے
  2. وہ تم نہ تھے اک خیال تھا میری سوچ کا ہی کمال تھا وہ محبتیں وہ چاہتیں وہ الجھنوں کا ہے جال تھا میرے دل میں تھی جو رونقیں وہ تیرا ہی حسنِ جمال تھا جواب جس کا ملا نہیں وہ ایسا ہی اک سوال تھا وہ آج ملا تو یوں لگا یہی تو ہے وہ جس کا انتظار تھا اسے یاد کیسے نا کرے کوئی اُسے بھولنا تو مُحال تھا اب اس کی کیا میں مثال دوں وہ تو اپنی مثال آپ تھا
  3. دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا کیا ملا آخر تجھے، سایوں کے پیچھے بھاگ کر اے دلِ ناداں، تجھے کیا ہم نے سمجھایا نہ تھا اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جو جس میں مخل زندگی میں اس قدر ہم نے سکوں پایا نہ تھا خوب روئے چھپ کے گھر کی چار دیواری میں ہم حال دل کہنے کے قابل کوئی ہمسایا نہ تھا ہو گئے قلاش جب سے آس کی دولت لٹی پاس اپنے، اور تو کوئی بھی سرمایہ نہ تھا وہ پیمبر ہو کہ عاشق، قتل گاہ شوق میں تاج کانٹوں کا کسے دنیا نے پہنایا نہ تھا صرف خوشبو کی کمی تھی غور کے قابل قتیل ورنہ گلشن میں کوئی بھی پھول مرجھایا نہ تھا
  4. ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں بےاماں تھے، اماں کے تھے ہی نہیں ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر ہم تیری داستاں کے تھے ہی ںہیں ان کو آندھی میں ہی بکھرنا تھا بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں اب ہمارا مکان کس کا ہے؟ ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں ہو تیری خاکِ آستاں پہ سلام ہم تیرے آستاں کے تھے ہی نہیں ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں جون ایلیا
  5. کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے ناصر کاظمی
  6. جو مخالف تھے کبھی شہر میں دیوانوں کے آج مہمان ہی لوگ ہیں ویرانوں کے تم کو آنا ہے تو آ جاؤ، ابھی زندہ ہوں پھول مرجھائے نہیں ہیں ابھی گلدانوں کے شمع کو اور کوئی کام نہ تھا محفل میں رات بھر پَر ہی جلاتی رہی پروانوں کے ایک تہمت بھی اگر اور لگائی ہم پر راز ہم کھول کے رکھ دیں گے شبستانوں کے تجھ کو معلوم نہیں گیسوئے برہم کا مزاج روگ تجھ کو بھی نہ لگ جائیں پریشانوں کے
  7. سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے ہاں، جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی ہاں، ہم ہی کاربندِ اُصولِ وفا نہ تھے آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں بُھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے کیوں دادِ غم ہمیں نے طلب کی، بُرا کیا ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ تھے گر فکرِ زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم کیوں محوِ مدح خوبیِ تیغِ ادا نہ تھے ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا ورنہ ہمیں جو دکھ تھے ، بہت لادوا نہ تھے لب پر ہے تلخیِ مئے ایّام، ورنہ فیض ہم تلخیِ کلام پہ مائل ذرا نہ تھے
×