Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'تیرا'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 5 results

  1. نہیں خالی رقیب تیرا کوئی بھی وار گیا میں وہ شخص ہوں جو کائنات ہار گیا فصل گل میری زیست کی مرجھاگئی بس خزاں ہے جب سے موسم بہار گیا اک میں ہی نا بن سکا اس کا کبھی وہ میرا ہی رہا جس سمت میرا یار گیا سمجھ پایانہ میری پیار کی سچائی وہ اسے بتلانے میں دنیا سے میں بیمار گیا چین آیا نا مجھے بعد اسکے جانے کے اڑ گئی نیند میری میرا سب قرار گیا اے دنیا چھوڑ اب مجھے میرے حال پر مجھے تو چھوڑ میرا مالک و مختار گیا جڑوں سے کھود کے نکالا گیا ہے مجھکو چھڑایا مجھ سے پھر ہر ایک دوار گیا میری تو عید اسے دیکھنے سے ہوتی تھی بعد اسکے محرم کی طرح ہر تہوار گیا تباہی دیکھنے میری ایک شہر امڈ آیا بڑی ہی دور تک شاید میرا غبار گیا
  2. کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں صد شُکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں اگر حالات وہاں،دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچہء جاناں میں، کیا ایسے بھی حالات نہیں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا،وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے،اس جاں کی تو کوئی بات نہیں میدانِ وفا دربار نہیں ، یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں گر بازی عشق کی بازی ہے،جو چاہو لگا دو ڈر کیسا گرجیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں (فیض احمد فیض)
  3. :ایک مشہور مصنف نے اپنے مطالعے کے کمرےمیں قلم اٹھایا اور ایک کاغذ پر لکھا ٭٭٭ گزشتہ سال میں، میرا آپریشن ہوا اور پتا نکال دیا گیا، بڑھاپے میں ہونے والے اس آپریشن کی وجہ سے مجھے کئی ہفتے تک بستر کا ہو کر رہنا پڑا۔ ٭٭٭ اسی سال میں ہی میری عمر ساٹھ سال ہوئی اور مجھے اپنی پسندیدہ اور اہم ترین ملازمت سے سبکدوش ہونا پرا۔ میں نے نشرو اشاعت کے اس ادارے میں اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال گزارے تھے۔ ٭٭٭ اسی سال ہی مجھے اپنے والد صاحب کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔ ٭٭٭ اسی سال میں ہی میرا بیٹا اپنے میڈیکل کے امتحان میں فیل ہو گیا، وجہ اس کی کار کا حادثہ تھا جس میں زخمی ہو کر اُسے کئی ماہ تک پلستر کرا کر گھر میں رہنا پڑا، کار کا تباہ ہوجانا علیحدہ سے نقصان تھا۔ صفحے کے نیچے اس نے لکھا؛ آہ، کیا ہی برا سال تھا یہ مصنف کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ اُس کا خاوند غمزدہ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھا خلاؤں کو گُھور رہا تھا۔ اُس نے خاوند کی پشت کے پیچھے کھڑے کھڑے ہی کاغذ پر یہ سب کچھ لکھا دیکھ لیا۔ خاوند کو اُس کے حال میں چھوڑ کر خاموشی سے باہر نکل گئی۔ کچھ دیر کے بعد واپس اسی کمرے میں لوٹی تو اس نے ایک کاغذ تھام رکھا جسے لا کر اُس نے خاموشی سے خاوند کے لکھے کاغذ کے برابر میں رکھ دیا۔ خاوند نے کاغذ کو دیکھا تو اس پر لکھا تھا ٭٭٭ اس گزشتہ سال میں آخر کار مجھے اپنے پتے کے درد سے نجات مل گئی جس سے میں سالوں کرب میں مبتلا رہا تھا۔ ٭٭٭ میں اپنی پوری صحت مندی اور سلامتی کے ساتھ ساٹھ سال کا ہو گیا۔ سالوں کی ریاضت کے بعد مجھے اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ ملی ہے تو میں مکمل یکسوئی اور راحت کے ساتھ اپنے وقت کو کچھ بہتر لکھنے کیلئے استعمال کر سکوں گا۔ ٭٭٭ اسی سال ہی میرے والد صاحب پچاسی سال کی عمر میں بغیر کسی پر بوجھ بنے اور بغیر کسی بڑی تکلیف اور درد کے آرام کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ٭٭٭ اسی سال ہی اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو ایک نئی زندگی عطا فرما دی اور ایسے حادثے میں جس میں فولادی کار تباہ ہو گئی تھی مگر میرا بیٹا کسی معذوری سے بچ کر زندہ و سلامت رہا۔ آخر میں مصنف کی بیوی نے یہ فقرہ لکھ کر تحریر مکمل کی تھی کہ : "واہ ایسا سال، جسے اللہ نے رحمت بنا کر بھیجا اور بخیرو خوبی گزرا۔" ملاحظہ کیجیئے: بالکل وہی حواداث اور بالکل وہی احوال لیکن ایک مختلف نقطہ نظر سے۔۔۔۔ بالکل اسی طرح اگر، جو کچھ ہو گزرا ہے، اسے اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے جو اس کے برعکس ہوتا تو، ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شاکر بن جائیں گے۔ اگر ہم بظاہرکچھ کھو بیٹھے اسے مثبت زاویے سے دیکھیں تو ہمیں جو کچھ عطا ہوا وہ بہتر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ﴿٧٣﴾"اور بے شک تیرا رب تو لوگوں پر فضل کرتا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے"
  4. پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا ثابت ہوا کے لازم و ملزوم کچھ نہیں پھر یوں ہوا کہ راستے یکجا نہیں رہے وہ بھی انا پرست تھا میں بھی انا پرست پھر یوں ہوا کہ ہاتھ سے، کشکول گر گیا خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا. ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻟﺬﺕ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻦ ﮔﺌﯽ ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﻣﻮﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﻨﺎ ﮔﯿﺎ پهر یوں ہوا کہ زخم نے جاگیر بنا لی پهر یوں ہوا کہ درد مجھے راس آ گیا پھر یوں ہوا کہ وقت کر تیور بدل گئے پھر یوں ہوا کہ راستے یکسر بدل گئے پھر یوں ہوا کہ حشر کے سامان ہوگئے پھر یوں ہوا کہ شہر بیاباں ہوگئے پھر یوں ہوا کہ راحتیں کافور ہوگئیں پھر یوں ہوا کہ بستیاں بے نور ہوگئیں پھر یوں ہوا کہ کوئی شناسا نہیں رہا پھر یوں ہوا کہ درد میں شدت نہیں رہی پھر یوں ہوا کہ ہو گیا مصروف وہ بہت اور ہمیں یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی اب کیا کسی کو چاہیں کہ ہم کو تو ان دنوں خود اپنے آپ سے بھی محبت نہیں رہی پھر یوں ہوا کہ دل میں کسی کو بسا لیا پھر یوں ہوا کہ، خواب سجائے تمام عُمر ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻧِﮑﻠﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋُﻤﺮ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ، ﮨﻢ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺁﮔﺌﮯ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋُﻤﺮ پھر یوں ہوا کہ دکھ ہمیں محبوب ہو گئے پھر یوں ہوا کہ، دل سے لگائے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ اور کسی کے نہ ہو سکے پھر یوں ہوا کہ وعدے نبھائے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ بیٹھ گئے، راہ میں غیاث پھر یوں ہوا کہ وہ بھی نہ آئے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ گناہ کی طاقت نہیں رہی ہم جیسے کتنے لوگ بھی درویش ہوگئے
  5. کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے کہاں ہو تم کہ یہ دل بےقرار آج بھی ہے وہ وادیاں وہ فضائیں کہ ہم ملے تھے جہاں میری وفا کا وہیں پر مزار آج بھی ہے نا جانے دیکھ کے کیوں ان کو یہ ہوا احساس کہ میرے دل پہ انہیں کا اختیار آج بھی ہے وہ پیار جس کے لیے ہم نے چھوڑ دی دنیا وفا کی راہ میں گھائل وہ پیار آج بھی ہے یقیں نہیں ہے مگر آج بھی یہ لگتا ہے میری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے نہ پوچھ کتنے محبت کے زخم کھائے ہیں کہ جن کو سوچ کر دل سوگوار آج بھی ہے کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے .....کہاں ہو تم کہ یہ دل بےقرار آج بھی ہے
×