Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'تیری'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Premium Files
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 5 results

  1. یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے جالبؔ چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
  2. دل کی تکلیف کم نہیں کرتے اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے جان جاں تجھ کو اب تیری خاطر یاد ہم کوئی دم نہیں کرتے دوسری ہار کی ہوس ہے سو ہم کو سر تسلیم خم نہیں کرتے وہ بھی پڑھتا نہیں ہے اب دل سے ہم بھی نالے کو نم نہیں کرتے جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے جون ایلیاء
  3. تیری بانہیں ،ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے سب سے بڑھ کر، مری جاں !تو ہے ابھی میرے لیے زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی! آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی" رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہو گا عشق حیراں ہے سرِ شہرِ سبا کی ہو گا میرے قاتل! ترا اندازِ جفا کیا ہو گا! آج کی شب تو بہت کچھ ہے ، مگر کل کے لیے ایک اندیشہ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد رنگِ اُمید کھِلے گا کہ بکھر جائے گا! وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا! جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا خواب کا شہر رہے گا کہ اُجڑ جائے گا! "پروین شاکر"
  4. یہ دل روشن ہے تیری روشنی سے سراپا ان چراغوں کا تجھے حیرت سے تکتا ہے میری ویران حسرت کو وہی آباد کرتا ہے جو سایہ ساتھ رکھتا ہے، جو وعدے کو نبھاتا ہے محبت فرض اُن پر ہے جنہیں سونا نہیں آتا یہ حکمت اُن پہ واجب ہے جنہیں رونا نہیں اتا کسی تاریک گوشے میں، کہیں شعلہ بھڑکتا ہے پُجاری کی عقیدت سے خدا کا دل دھڑکتا ہے جہاں میں خواہشوں کے پھل تیری پہلی نظر سے ہیں نفس کی کاوشوں کے پھل تیری پہلی نظر سے ہیں وفاداری غلامی ہے، یہ مجھ کو راس آتی ہے ندامت کی اک ادا سے دل کو میرے کھینچ لاتی ہے مقدس تیرگی میں بس تجھے محسوس کرتا ہوں میں ہر پل روشنی میں بس تجھے محسوس کرتا ہوں مجھے معذور خوابوں سے یہی بیدار کرتی ہے سوا تیرے ہر اک شے بس مجھے بے زار کرتی ہے مجھے مسرور کرتی ہے، میری تلخی بُھلاتی ہے میرے محبوب موسم کو میرا اپنا بناتی ہے یہ اُڑتی بادلوں میں اور کبھی اطراف پھرتی ہے میرے اندر کی چنگاری فروزاں کرتی رہتی ہے عجب انصاف کرتی ہے، مُجھے عادل بناتی ہے تیری خوشبو مجھے سرشار رکھتی ہے (سہیل احمد )
  5. جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں ڈر کے ہم بھیڑ میں دیوار سے لگ جاتے ہیں ہجر کے پیڑ سے غم کا جو ثمر گرتا ہے یوں تیری یاد کے انبار سے لگ جاتے ہیں پہلے کیا کم تھے میری جاں پہ عذاب دم کیا خبر تھی نئے آزار سے لگ جاتے ہیں اک مدت ہوئی کہ وحشتوں کو جانا ہے اب تو ہر سینہ حب یار سے لگ جاتے ہیں آج ہم اپنی عداوت کو بھی یوں پرکھیں گے آج دشمن کے گلے پیار سے لگ جاتے ہیں جب مقدر میں ہی منزل نہ ہو تو ہم کو دو قدم رستے بھی دشوار سے لگ جاتے ہیں کاش مرہم ملے ہم کو کہیں ان زخموں کا زخم جو اپنے کی گفتار سے لگ جاتے ہیں ان کی تصویر کو سینے سے لگا کر مشعل ہم تخیل میں گلے یار سے لگ جاتے ہیں جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں ڈر کے ہم بھیڑ میں دیوار سے لگ جاتے ہیں
×