Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'تیرے'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 10 results

  1. درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد محسن نقوی دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد کوئی پیغام نہ دلدارِنوا تیرے بعد خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد لب پے اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد دھوپ عارض کی نہ زلفوں کہ گھٹا تیرے بعد ہجر کی رت ہے کہ محبس کی فضا تیرے بعد لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد پرچمِ تار گریباں کو ہوا تیرے بعد پیرہن اپنا نہ سلامت نہ قبا تیرے بعد بس وہی ہم ہیں وہی صحرا کی ردا تیرے بعد نکہت و نے ہے نہ دستِ قضا تیرے بعد شاخِ جاں پر کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد دل نہ مہتاب سے اجلا نہ جلا تیرے بعد ایک جگنو تھا چپ چاپ بجھا تیرے بعد درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد کونسے رنگوں کے بھنور کیسی حنا تیرے بعد اپنا خون میری ہتھیلی پے سجا تیرے بعد تجھ سے بچھڑا تو مرجھا کے ہوا برد ہوا کون دیتا مجھے کھلنے کی دعا تیرے بعد ایک ہم ہیں کہ بے برگ و نوا تیرے بعد ورنہ آباد ہے سب خلقِ خدا تیرے بعد ایک قیامت کی خراشیں میرے چہرے پہ سجیں ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد اے فلکِ ناز میری خاک نشانی تیری میں نے مٹی پہ تیرا نام لکھا تیرے بعد تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد یہ الگ بات ہے کہ افشاں نہ ہوا تو ورنہ میں نے کتنا تجھے محسوس کیا تیرے بعد ملنے والے کئی مفہوم پہن کر آئے کوئی چہرہ بھی نہ آنکھوں نے پڑھا تیرے بعد بجھے جاتے ہیں خد و خال مناظر افق پھیلتا جاتا ہے خواہش کا خلا تیرے بعد میرے دکھتی ہوئی آنکھوں سے گواہی لینا میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد سہہ لیا دل نے تیرے بعد ملامت کا عذاب ورنہ چبھتی ہے رگِ جاں میں ہوا تیرے بعد جانِ محسن میرا حاصل یہی مبہم سطریں شعر کہنے کا ہنر بھول گیا تیرے بعد ‏ ‏
  2. :کلام احمد فرازؔ تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو! کرّۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ ! رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
  3. دل نے تیرے بارے میں پوچھا تو بہت رویا وہ شخص جو پتھر تھا ٹوٹا تو بہت رویا یہ دل کہ جدائی کے عنوان پہ برسوں سے چپ تھا تو بہت چپ تھا رویا تو بہت رویا آسان تو نہیں اپنی ہستی سے گزر جانا اترا جو سمندر میں دریا تو بہت رویا جو شخص نہ رویا تھا تپی ہوئی راہوں میں دیوار کے سائے میں بیٹھا تو بہت رویا اک حرف تسلی کا اک حرف محبت کا خود اپنے لئے اس نے لکھا تو بہت رویا پہلے بھی شکستوں پر کھائی تھی شکست اس نے لیکن وہ تیرے ہاتھوں ہارا تو بہت رویا جو عہد نبھانے کی دی تھی دعا اس نے کل شام مجھے تنہا دیکھا تو بہت رویا
  4. منظر سمیٹ لائے ہیں جو تیرے گاؤں کے نیندیں چرا رہے ہیں وہ جھونکے ہواؤں کے تیری گلی سے چاند زیادہ حسیں نہیں کہتے سنے گئے ہیں مسافر خلاؤں کے پل بھر کو تیری یاد میں دھڑکا تھا دل مرا اب دور تک بھنور سے پڑے ہیں صداؤں کے داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں ہم نے مٹا دئیے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے جب تک نہ کوئی آس تھی، یہ پیاس بھی نہ تھی بے چین کر گئے ہمیں سائے گھٹاؤں کے ہم نے لیا ہے جب بھی کسی راہزن کا نام چہرے اتر اتر گئے کچھ رہنماؤں کے اُگلے گا آفتاب کچھ ایسی بلا کی دھوپ رہ جائیں گے زمین پہ کچھ داغ چھاؤں کے (قتیل شفائی)
  5. تیرے لہجے کی تلخی کو چھپا کر ساری دنیا سے میں جب تھک ہار کہ بیٹھی رقم کرنے کو کاغذ پہ قلم چل ہی نہیں پایا عجب سی کپکپاہٹ نے میرے ہاتھوں کو لرزایا تیری باتوں کی یادوں میں بہت گُم صُم سی ہو بیٹھی ذرا سی دیر میں گویا توازن اپنا کھو بیٹھی اِسی اک سوچ میں گُم تھی کہ جب سبھی احساس مردہ تھے تو پھر نجانے کیوں ؟؟ تیرے لفظوں کے تیروں نے مجھے گھاؤ دیئے گہرے اور اب کے حال ایسا ہے ڈھلے گی عمر یہ یونہی بھریں گے زخم بھی شاید مگر معلوم ہے مجھ کو تیرے لہجے کی زَد سے نکلنے کو میری یہ عمر تھوڑی ہے
  6. اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا جانے کیوں آج تیرے نام پہ رونا آیا یوں تو ہر شام اُمیدوں میں گزر جاتی ہے آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا کبھی تقدیر کا ماتم، کبھی دنیا کا گِلہ منزلِ عشق میں ہر گام پہ رونا آیا مُجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلہ نوحہ گری اِس قدر گردشِ ایام پہ رونا آیا جب ہُوا ذکر زمانے میں مسرت کا شکیل مُجھ کو اپنے دلِ ناکام پہ رونا آیا
  7. تیرے لہجے کا وہ اثر ہوتے دیکھا ہم نے لفظوں کو امَر ہوتے دیکھا حُسن یار کی تعریف میں ، اکثر گُونگوں کو سُخن وَر ہوتے دیکھا ننگے پاؤں رکھے ، خاک پہ جب خاک کو سنگ مَرمَر ہوتے دیکھا لمسِ لبِ شیریں کی قُدرت سے نِیم کو بھی قندِ ثمر ہوتے دیکھا پہلی نظر اور جنبشِ سرمژگاں دلوں میں وَا ، دَر ہوتے دیکھا بہکنے لگیں ، پارسا بھی یہاں صبر کو ، بے صبر ہوتے دیکھا اُس کا ہمسفر ہونے کی آرزو لئے مُقیم ، مُسافر دَر بدر ہوتے دیکھا لبوں کی نزاکت چُرائیں ، گُلاب آفتاب کو سایہ آبر ہوتے دیکھا شب مانگے ، سیاہیِ زُلفِ جاناں پلکیں اُٹھیں ، سحر ہوتے دیکھا سُریلی آواز کی نغمگی سُن کر سازوں کو ، بے سُر ہوتے دیکھا سُنہری رنگت پہ قیامت سیاہ تل ٹُکڑے بھی دل و جگر ہوتے دیکھا قاتل آنکھوں کی ، مست ادائیں مقتول کو بھی مُنکر ہوتے دیکھا تیری چاہت میں حسد مُجھ سے اَمرت احباب کو زہر ہوتے دیکھا وہ اِک شب کا مِلن تھا کرشمہ کھنڈرات کو ، شہر ہوتے دیکھا بے وفا لُوٹ کے جی گئے زندگی وفاداروں پہ ، جبَر ہوتے دیکھا پل میں ، بدلتی ہے قسمت یہاں وصالِ یار کو ، ہجَر ہوتے دیکھا.
  8. تیرے انتظار کی ریت پر کوئی لفظ میں نے لکھا نہ تھا کوئی حرف میں نے کہا نہ تھا کوئی خواب میں نے چُنا نہ تھا اسی انتظار کی ریت پر میری آرزوؤں کے گلاب تھے میری جستجو کے سراب تھے سبھی چاہتوں کے جواب تھے سبھی حسرتیں وہ کہاں گئیں تیری چاہتیں وہ کہاں گئیں میرے ہمنشیں ، میرے ہمسفر میں پلٹ کے شاید نہ آ سکوں اسی انتظار کی ریت پر میں بکھر گیا ہوں ہواؤں میں مجھے یاد رکھنا دعاؤں میں
  9. تیرے دل کی زمین ہی نہ ملی ورنہ ہم آسمان ہو جاتے تیرے قصّے میں ہم بھلا خود سے کس لیے بدگُمان ہوجاتے؟؟؟ تو نے دیکھا نہیں پلٹ کے ہمیں ورنہ ہم مہربان ہو جاتے ضبطِ غم نے بچا لیا ورنہ ہم کوئی داستان ہوجاتے چُپ نہ رہتے، بیان ہوجاتے تجھ سے گر بدگُمان ہوجاتے
  10. تیرے بھیداں توں صدقے واریاں لیکھا لگے کی تیری وڈیائی دا تک تک شان نوں جھکدیاں جائیدا خبرے کی کی توں کھیڈاں کھلاریاں، تیرے بھیداں خبرے کدوں دا راز پرانا اے خبرے کدوں توں سمجھیا جانا اے کنے چر دیاں نے انتزاریاں، تیرے بھیداں ڈب گئی سوچ، دنائیاں ہاریاں ہپھ کے سٹّ پائی قلم لکھاریاں گلاں ویکھ کے تیریاں نیاریاں، تیرے بھیداں جدوں لکّ تلاش دا ٹٹیا تیری موج تے سبھ کجھ سٹیا تیرے ہتھ نے گلاں ساریاں، تیرے بھیداں
×