Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'جاتے'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 5 results

  1. گرمیِ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لئے ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیال سے ہم شعلۂ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوۂ اربابِ وفا جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں قتیل شفائی
  2. یوں چھوڑ کے جاتے نہ مجھے بے سرو ساماں کر لیتے مری جاں یہ ستم اور زیادہبڑھتا ہے تری یاد سے غم اور زیادہ روتے ہیں کہیں بیٹھ کے ہم اور زیادہ یوں چھوڑ کے جاتے نہ مجھے بے سرو ساماں کر لیتے مری جاں یہ ستم اور زیادہ اس دل پہ ابھی آبلے پڑنے ہیں بہت سے یہ مٹی ابھی ہونی ہے نم اور زیادہ بے کار گزر جاتی ہے معمولی سی مہلت ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کم اور زیادہ اچھا ہے کہ چھپ چھپ کے سسکتے رہو ورنہ کھل جائے گا لوگوں پہ بھرم اور زیادہ فرحت عباس شاہ
  3. جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رُلائیں ممکن ہے کہ ہم آپ کو پھر یاد نہ آئیں ہم چھیڑ تو دیں گے ترا محبوب فسانہ کھنچ آئیں گی فردوس کی مدہوش فضائیں پھر تشنہ لبی زخم کی دیکھی نہیں جاتی پھر مانگ رہا ہوں ترے آنے کی دعائیں پھر بیت نہ جائے یہ جوانی، یہ زمانہ آؤ تو یہ اُجڑی ہوئی محفل بھی سجائیں پھر لوٹ کے آئیں گے یہیں قافلے والے اُٹھتی ہیں اُفق سے کئی غمناک صدائیں شاید یہی‌ شعلہ مری ہستی کو جلا دے دیتا ہوں میں اڑتے ہوئے جگنو کو ہوائیں اے کاش ترا پاس نہ ہوتا مرے دل کو اٹھتی ہیں پر رک جاتی ہیں سینے میں‌ صدائیں اک آگ سی بھر دیتا ہے رگ رگ میں تبسّم اس لطف سے اچھی ہیں حسینوں کی جفائیں معبود ہو اُن کے ہی تصّور کی تجلّی اے تشنہ لبو آؤ!‌ نیا دَیر بنائیں ہم سنگِ دریا پہ بے ہوش پڑے ہیں کہہ دے کوئی جبریل سے، بہتر ہے، نہ آئیں ہاں، یاد تو ہوگا تمہیں راوی کا کنارا چاہو تو یہ ٹوٹا ہوا بربط بھی بجائیں توبہ کو ندیم آج تو قربان کرو گے جینے نہیں دیتیں مجھے ساون کی گھٹائیں احمد ندیم قاسمی
  4. --- احمد فراز --- سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے کتنا آسان تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے اس کی وہ جانے اس پاس وفا تھا کہ نہ تھا تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
  5. جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں ڈر کے ہم بھیڑ میں دیوار سے لگ جاتے ہیں ہجر کے پیڑ سے غم کا جو ثمر گرتا ہے یوں تیری یاد کے انبار سے لگ جاتے ہیں پہلے کیا کم تھے میری جاں پہ عذاب دم کیا خبر تھی نئے آزار سے لگ جاتے ہیں اک مدت ہوئی کہ وحشتوں کو جانا ہے اب تو ہر سینہ حب یار سے لگ جاتے ہیں آج ہم اپنی عداوت کو بھی یوں پرکھیں گے آج دشمن کے گلے پیار سے لگ جاتے ہیں جب مقدر میں ہی منزل نہ ہو تو ہم کو دو قدم رستے بھی دشوار سے لگ جاتے ہیں کاش مرہم ملے ہم کو کہیں ان زخموں کا زخم جو اپنے کی گفتار سے لگ جاتے ہیں ان کی تصویر کو سینے سے لگا کر مشعل ہم تخیل میں گلے یار سے لگ جاتے ہیں جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں ڈر کے ہم بھیڑ میں دیوار سے لگ جاتے ہیں
×