Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'خوش'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 5 results

  1. پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہے جذبہ عشق سرِ دار مجھے کھینچتا ہے میں محبت کے مضافات کا باشندہ ہوں کیوں ترا شہرِ پُر اسرار مجھے کھینچتا ہے یہ بھی حیرت ہے عجب، خود مری تمثال کے ساتھ آئینہ بھی پسِ دیوار مجھے کھینچتا ہے دم بھی لینے نہیں دیتا ہے مسافت کاجنون پَا برہنہ وہ سرِ خار مجھے کھینچتا ہے پھر کوئی تیر ہدف کرتا ہے مشکیرہ کو پھر کوئی دستِ کماں دار مجھے کھینچتا ہے بولیاں جس کی لگے میں کوئی یوسف تو نہیں کس لئے مصر کا بازار مجھے کھینچتا ہے ہے کوئی گریہ کن حرف پسِ خیمہ جاں پھر کوئی نالہ آزار مجھے کھینچتا ہے تجھ کو معلوم ہے شاہدؔ بھی ہے مغرور بہت کیوں ترا حُسن انادار مجھے کھینچتا ہے
  2. خوش گذران شہر غم ، خوش گذراں گزر گئے زمزمہ خواں گزر گئے ، رقص کناں گزر گئے وادی غم کے خوش خرام ، خوش نفسان تلخ جام نغمہ زناں ، نوازناں ، نعرہ زناں گزر گئے سوختگاں کا ذکر کیا، بس یہ سمجھ کہ وہ گروہ صر صر بے اماں کے ساتھ ، دست فشاں گزر گئے زہر بہ جام ریختہ، زخم بہ کام بیختہ عشرتیان رزق غم ، نوش چکاں گزر گئے اس در نیم وا سے ہم حلقہ بہ حلقہ صف بہ صف سینہ زناں گزر گئے ، جامہ وراں گزر گئے ہم نے خدا کا رد لکھا نفی بہ نفی لا بہ لا! ہم ہی خدا گزیدگاں تم پہ گراں گزر گئے اس کی وفاکے باوجود اس کو نہ پا کے بد گماں کتنے یقیں بچھڑ گئے ، کتنے گماں گزر گئے مجمع مہ وشاں سے ہم زخم طلب کے باوجود اپنی کلاہ کج کیے ، عشوہ کناں گزر گئے خود نگران دل زدہ ، دل زدگان خود نگر! کوچہ ءِ التفات سے خود نگراں گزر گئے اب یہی طے ہوا کہ ہم تجھ سے قریب تر نہیں آج ترے تکلفات دل پہ گراں گزر گئے رات تھی میرے سامنے فرد حساب ماہ و سال دن ، مری سرخوشی کے دن، جانے کہاں گزر گئے کیا وہ بساط الٹ گئی، ہاں وہ بساط الٹ گئی کیا وہ جواں گزر گئے ؟ ہاں وہ جواں گزر گئے جون ایلیا
  3. Jannat malik

    تو میں بھی خوش ہوں

    تو میں بھی خوش ہوں کوئی اُس سے جا کے کہہ دینا اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کر تے ہوئے تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے میں مسکراتا ہوا آئینے میں اُبھروں گا وہ رو پڑے گی اچانک سنگھار کرتے ہوئے مجھے خبر تھی کہ اب لوٹ کر نہ آؤں گا سو تجھ کو یاد کیا دل پہ وار کرتے ہوئے یہ کہہ رہی تھی سمندر نہیں آنکھیں ہیں میں اُن میں ڈوب گیا اعتبار کرتے ہوئے بھنور جو مجھ میں پڑے ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے (وصی شاہ )
  4. یہ خوش نظری خوش نظر آنے کے لئے ہے اندر کی اداسی کو چھپانے کے لئے ہے میں ساتھ کسی کے بھی سہی ، پاس ہوں تیرے سب دربدری ایک ٹھکانے کے لئے ہے ٹوٹے ہوئے خوابوں سے اٹھائی ہوئی دیوار اِک آخری سپنے کو بچانے کے لئے ہے اس راہ پہ اک عمر گزر آئے تو دیکھا یہ راہ فقط لوٹ کے جانے کے لئے ہے رہ رہ کے کوئی خاک اڑا جاتا ہے مجھ میں کیا دشت ہے اور کیسے دِوانے کے لئے ہے تجھ کو نہیں معلوم کہ میں جان چکا ہوں تو ساتھ فقط ساتھ نبھانے کے لئے ہے تو نسلِ ہوا سے ہے بھلا تجھ کو خبر کیا وہ دکھ جو چراغوں کے گھرانے کے لئے ہے ( سعود عثمانی)
  5. دعاؤں میں بسے لوگو سنو یہ رابطوں کی دنیا ہے رابطوں سے رشتے ہیں چاہتوں کے یہ سنگم خوشیوں کے یہ آنگن دوستی پیار کے یہ بندھن ہم کو یاد آئیں گے آنے والے سالوں میں کس کے سنگ ہنسنا ہے کس سے مل کے رونا ہے کب یہ اپنے بس میں ہے مگر آسماں کی جانب پھیلے ہاتھ کہتے ہیں دل سے دل کا ہر رشتہ معتبر دعا سا ہے دعاؤں میں بسے لوگوں جہاں بھی رہو سدا خوش رہو
×