Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Search the Community

Showing results for tags 'خیال'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Categories

  • Islamic
  • WhatsApp Status
  • Funny Videos
  • Movies
  • Songs
  • Seasons
  • Online Channels

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 5 results

  1. ترا خیال بہت دیر تک نہیں رہتا کوئی ملال بہت دیر تک نہیں رہتا اداس کرتی ہے اکثر تمہاری یاد مجھے مگر یہ حال بہت دیر تک نہیں رہتا میں ریزہ ریزہ تو ہوتا ہوں ہر شکست کے بعد مگر نڈھال بہت دیر تک نہیں رہتا میں جانتا ہوں کہ سورج ہوں ڈوب جاؤں بھی تو مجھے زوال بہت دیر تک نہیں رہتا
  2. ترے خیال سے لَو دے اٹھی ہے تنہائی شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی اُنھیں بھی دیکھ جِنھیں راستے میں نیند آئی پُکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی ٹھہر گئے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لئے یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی یہ سانحہ بھی محبّت میں بارہا گزرا کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی دلِ فسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی جہاں بھی تھا کوئی فتنہ تڑپ کے جاگ اُٹھا تمام ہوش تھی مستی میں تیری انگڑائی کھُلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا وہ لوگ تھے، نہ وہ جلسے، نہ شہرِ رعنائی وہ تابِ درد وہ سودائے انتظار کہاں اُنہی کے ساتھ گئی طاقتِ شکیبائی پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصر بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی *************** ناصر کاظمی
  3. وہ تم نہ تھے اک خیال تھا میری سوچ کا ہی کمال تھا وہ محبتیں وہ چاہتیں وہ الجھنوں کا ہے جال تھا میرے دل میں تھی جو رونقیں وہ تیرا ہی حسنِ جمال تھا جواب جس کا ملا نہیں وہ ایسا ہی اک سوال تھا وہ آج ملا تو یوں لگا یہی تو ہے وہ جس کا انتظار تھا اسے یاد کیسے نا کرے کوئی اُسے بھولنا تو مُحال تھا اب اس کی کیا میں مثال دوں وہ تو اپنی مثال آپ تھا
  4. کچھ تو ہوا بھی سرد تھی ، کچھ تھا تیرا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی ، رات وہ پورے چاند کی چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی سب سے نظر بچا کہ وہ مجھ کو ایسے دیکھتا ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی دل کو چمک سکے گا کیا ، پھر بھی ترش کے دیکھ لیں شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا اب جو پلٹ کے دیکھئیے ، بات تھی کچہ محال بھی مری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا ، بھول گیا سوال بھی اس کی سخن طرازیاں مرے لئے بھی ڈھال تھیں اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی گاہ قریب شاہ رگ ، گاہ امید دائم و خواب اس کی رفاقتوں میں رات ، ہجر بھی تھا وصال بھی اس کے بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے جسم کی خواہش پہ تھے روح کے اور جال بھی شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا موج ہوائے کوئے یار ، کچھ تو مرا خیال بھی
×
×
  • Create New...