Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'ساتھ'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 4 results

  1. ﺑﮩﺖ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﭘﮭﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍَﻧﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﻓﻘﻂ ﺍِﮎ ﺳﺮﺳﺮﯼ ﺳﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﻦ ﺗﮭﺎ ﺫﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﮐﭽﮫ ﺧﺒﺮ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻓﻘﻂ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯﻣﻌﻠﻮﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ، ﮐﮧ ﺍِﺱ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﻮﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍِﺳﮯ ﺑﺎﻭﺭ ﮐﺮﺍﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ، " ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩِﻝِ ﻧﺎﺩﺍﮞ "! " ﻣﺤﺒﺖ ﻓﺮﺽ ﮨﻮ ﻧﮧ ﮨﻮ، ﻣﺤﺒﺖ ﻗﺮﺽ ﮨﮯ ﺗﻢ ﭘﺮ، ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﺎ، ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﮯ ﺩِﻝ ﮐﺎ، ﺟﺴﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ ﭼُﮑﺎﻧﺎ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺷﻮﺭ ﺭُﮐﻨﮯ ﺗﮏ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺟﺎﻧﺐ ﺧﺎﻣﺸﯽ ﮐﮯ ﭘﮭﯿﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﺗﮏ، ﺍِﺳﯽ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻗﺮﺿﮧ ﭼﮑﺎﻧﺎ ﮨﮯ "! ﺑﺎﻵﺧﺮ، ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﻧﮯ ، ﺍﭘﻨﮯ ﺩِﻝ ﮐﻮ ﺭﺍﻡ ﮐﺮ ﮈﺍﻻ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﯿﮟ ، ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﮨﺴﺘﯽ ﭘﺮ ﺩِﻝِ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﮈﺍﻻ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺧﺎﻣﺸﯽ ﺳﮯ ﺩِﻝ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﺮ ﮈﺍﻻ ﯾﮧ ﺩِﻝ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ، ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﭘﺮ ﯾﮧ ﻣﮩﺮِﯾﺎﺭ ﮐﯽ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﭘﮧ ﮨﺮ ﭘﻞ ﺷﺎﺩ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍِﺱ ﺳﮯ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺑﻮﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮨﯽ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ! " ﻣﺤﺒﺖ ﻗﺮﺽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ،ﮐﺴﯽ ﭘﮧ ﻭﺍﺭ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ، ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﺎﺭﻡ ! ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮨﺎﺭ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮨﺎﺭ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ !!!
  2. عُمر کا بھروسہ کیا، پَل کا ساتھ ہوجائے ایک بار اکیلے میں، اُس سے بات ہوجائے دِل کی گُنگ سرشاری اُس کو جِیت لے، لیکن عرضِ حال کرنے میں احتیاط ہوجائے ایسا کیوں کہ جانے سے صرف ایک اِنساں کے ساری زندگانی ہی، بے ثبات ہوجائے یاد کرتا جائے دِل، اور کِھلتا جائے دِل اوس کی طرح کوئی پات پات ہوجائے سب چراغ گُل کرکے اُس کا ہاتھ تھاما تھا کیا قصور اُس کا، جو بَن میں رات ہوجائے ایک بار کھیلےتو، وہ مِری طرح اور پھر جِیت لے وہ ہر بازی مجھ کو مات ہوجائے رات ہو پڑاو کی پھر بھی جاگیے ورنہ آپ سوتے رہ جائیں، اور مات ہوجائے
  3. کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں صد شُکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں اگر حالات وہاں،دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچہء جاناں میں، کیا ایسے بھی حالات نہیں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا،وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے،اس جاں کی تو کوئی بات نہیں میدانِ وفا دربار نہیں ، یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں گر بازی عشق کی بازی ہے،جو چاہو لگا دو ڈر کیسا گرجیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں (فیض احمد فیض)
  4. پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا ثابت ہوا کے لازم و ملزوم کچھ نہیں پھر یوں ہوا کہ راستے یکجا نہیں رہے وہ بھی انا پرست تھا میں بھی انا پرست پھر یوں ہوا کہ ہاتھ سے، کشکول گر گیا خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا. ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻟﺬﺕ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻦ ﮔﺌﯽ ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﻣﻮﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﻨﺎ ﮔﯿﺎ پهر یوں ہوا کہ زخم نے جاگیر بنا لی پهر یوں ہوا کہ درد مجھے راس آ گیا پھر یوں ہوا کہ وقت کر تیور بدل گئے پھر یوں ہوا کہ راستے یکسر بدل گئے پھر یوں ہوا کہ حشر کے سامان ہوگئے پھر یوں ہوا کہ شہر بیاباں ہوگئے پھر یوں ہوا کہ راحتیں کافور ہوگئیں پھر یوں ہوا کہ بستیاں بے نور ہوگئیں پھر یوں ہوا کہ کوئی شناسا نہیں رہا پھر یوں ہوا کہ درد میں شدت نہیں رہی پھر یوں ہوا کہ ہو گیا مصروف وہ بہت اور ہمیں یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی اب کیا کسی کو چاہیں کہ ہم کو تو ان دنوں خود اپنے آپ سے بھی محبت نہیں رہی پھر یوں ہوا کہ دل میں کسی کو بسا لیا پھر یوں ہوا کہ، خواب سجائے تمام عُمر ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻧِﮑﻠﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋُﻤﺮ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ، ﮨﻢ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺁﮔﺌﮯ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋُﻤﺮ پھر یوں ہوا کہ دکھ ہمیں محبوب ہو گئے پھر یوں ہوا کہ، دل سے لگائے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ اور کسی کے نہ ہو سکے پھر یوں ہوا کہ وعدے نبھائے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ بیٹھ گئے، راہ میں غیاث پھر یوں ہوا کہ وہ بھی نہ آئے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ گناہ کی طاقت نہیں رہی ہم جیسے کتنے لوگ بھی درویش ہوگئے
×