Jump to content

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

News Ticker

Search the Community

Showing results for tags 'محبت'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Islam
  • General Knowledge
  • Sports

Found 18 results

  1. محبت مت سمجھ لینا کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا محبت کا لبادہ پانیوں کے رنگ جیسا ہے محبت ساتھ پردوں میں نہاں ہو کر عیاں ہے، یہ حقیقت ہے اور اس کی خوشبوؤں کو ہم دھنک میں ڈھونڈ سکتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کو جس نے پایا ہے وہ اپنا آپ کھو بیٹھا یہ مل کر بھی نہیں ملتی کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا کہ کس کو چُھو لیا جائے خُدا وہ ہو نہیں سکتا محبت ایسا منتر ہے فنا جو ہو نہیں سکتا
  2. ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گے مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیں حیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم قدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرح بسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کو کہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم جو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہے اس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم کیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیں انہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا معلوم خدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئی اٹھائی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم ابھی تو فتنے ہی برپا کئے ہیں عالم میں اٹھائیں گے وہ قیامت کسی کو کیا معلوم جناب داغؔ کے مشرب کو ہم سے تو پوچھو چھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم
  3. ہم تُم تمام شُد تو،،،، محبّت تمام شُد حیرت کدہِ عشق سے، حیرت تمام شُد ہکلا رھا تھا دیکھ کے ظلم و ستم کو مَیں چیخا ہُوں اتنے زور سے ،، لُکنت تمام شُد بیٹے نے میرے بعد وصیّت میری پڑھی "اک خوابِ لامکاں پہ، وراثت تمام شُد" للکارتا ہوں چاروں طرف، دشمنوں کو مَیں نرغے میں گِھر گیا ہُوں تو دہشت تمام شُد دنیا ہزار سال،،،،، سناتی رہے تو کیا اک سانسِ آخری میں حکایت تمام شُد صدیاں گُزر گئی ھیں ترے انتظار میں اے مرگِ ناگہاں ! میری طاقت تمام شُد ایسا نہ ہو خدا سے جب اپنا حساب لُوں تب یہ پتہ چلے کہ،،،،،،، قیامت تمام شُد جاتا ہوں دشمنوں کی طرف ڈھونڈنے اُسے ہے شہرِ دوستاں میں،،،،،،، مروّت تمام شُد اُس نے کہا کہ جا ، مَیں اُٹھا، اور دِیا بُجھا جو رَہ گئی تھی باقی،،،،، وُہ عزّت تمام شُد سائے پہ کیا غرور کرے کوئی دوستو سُورج ہُوا غروب تو،،،قامت تمام شُد
  4. اظہار محبت

    کالج میں ایک لڑکے نے مجھ سے اظہار محبت کیا. اسے میں نے بہت سمجھایا لیکن اُسے ذرا اثر نہیں ہوا. وہ کٹر ٹھرکی تھا یا پھر اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ کوشش جاری رکھو، ایک نہ ایک دن مان ہی جائے گی. میں اُس کی باتیں سن کر ہنستی تھی، وہ دل میں خوش ہوتا تھا کہ ہنسی تو پھنسی، پر اُسے یہ کہاں معلوم تھا میری ہنسی کا مطلب ہے کہ ہنسوں تو کبھی نہ پھنسوں. آج پھر وہ چلا آیا تھا. اچھا تو تمھارا یہ دعوی ہے کہ تم محبت کرتے ہو مجھ سے، کیا ہوتی ہے محبت؟ کچھ معلوم ہے اس کے بارے میں. جس سے محبت ہو اس کے حقوق کا علم ہے تمھیں. یہ فرائض سرانجام دینے کے قابل ہو تم. اُس کے چہرے پے حیرانیوں کے سائے لہرانے لگے. اُسے ان گہری باتوں کا علم ہی کہاں تھا. وہ تو بس فلموں، ڈراموں کی آغوش میں جوان ہو کر ہزاروں نوجوانوں کی طرح اپنی فطری ضروریات کے ہاتھوں مجبور ہو کر محبت کا نام اپنی روح میں سمو چکا تھا. سچ میں جب سے تمھیں دیکھا ہے، میرا چین و سکون لٹ گیا ہے. ہر جگہ تم ہی دکھائی دیتی ہو ،میں سچی محبت کرتا ہوں، پلیز مان جاؤ نا. کیا مان جاؤں؟ میں نے بے نیازی سے پوچھا. تم بھی محبت کر لو مجھ سے، بہت خوش رکھوں گا تمھیں، ہر بات مانوں گا. اچھا میری ہر بات مانو گے. ہاں! ہر بات مانوں گا، تم نہیں جانتی تمھاری یہ عام سی آنکھیں میرے لیے کتنی خاص ہیں. لوگوں کو تو محبوبہ کی آنکھیں جھیل جیسی گہری لگتی ہیں، تم انھیں عام کہہ رہے ہو. آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ بناوٹی باتیں آپ کو پسند نہیں، یہ سب جھوٹی تعریفیں ہوتی ہیں، اس لیے سچ بتا رہا ہوں کہ چاہے یہ آنکھیں عام سی ہیں پر میرے لیے تو خاص ہیں. خاص کیوں ہیں؟ وجہ بتاؤ. کیونکہ ان سے ذہانت ٹپکتی ہے، جب آپ کے لب پھول برساتے ہیں تب یہ بھی پورا ساتھ دیتی ہیں، ایسا لگتا جیسے یہ بھی بول رہی ہوں.. اوہ! تو محبت کی پہلی سیڑھی چڑھ ہی گئے ہو تم. اچھا بتاؤ، میری ہر بات مانو گے؟ ہاں ہر بات.. تو پھر میری محبت اپنے دل سے نکال دو، اگر تم سچی محبت کرتے ہو مجھ سے تو میری یہ بات بھی مانو گے. اُس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا تھا جسے اندر ہی اندر جذب کرنے کی وہ ناکام کوشش کر رہا تھا. ٹھیک ہے آئندہ آپ نہیں دیکھو گی مجھے.. یہ کہہ کر وہ خاموشی سے چلا گیا. اس لیےکہ وہ مجھے یقین دلانا چاہتا تھا کہ واقعی مجھ سے سچی محبت کرتا ہے. میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی. میں نے دل میں سوچا کہ تم مجھے بیوقوف نہیں بنا سکتے. کافی دن گزر گئے، اُس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، کوئی کال نہ میسیج. پھر ایک دن وہ خود ہی میرے پاس چلا آیا. میں نے تمہاری محبت اپنے دل سے نکال دی ہے. اب تم میرے لیے ایک عام عورت ہو. لفظ عورت سن کر میں کھلکھلا کر ہنس پڑی.. پتہ میری محبت کیوں نکلی ہے تمہارے دل سے؟ کیونکہ یہ محبت کبھی تھی ہی نہیں، محبت کبھی دل سے نہیں نکلتی بشرطیکہ سچی ہو. محبوب کے ساتھ حقیقی پل تو دور کی بات، کبھی خیالوں میں بھی اس کا ہاتھ تک پکڑنا نصیب نہ ہو، اور نہ ہی وہ شدتوں کو جانتا ہو، پھر بھی دل سے محبت نہیں نکلتی. وہ شرمندہ سا ہوا. تمھیں کیا پتہ میں کتنا رویا ہوں؟ کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں؟ کتنا سوچا ہے؟ پھر میں نے خود کو سمجھایا کہ میں تمہاری بات مانوں گا، فریادی بن کر اب نہیں آؤں گا، اس لیے کہہ رہا ہوں محبت ختم ہو گئی. شادی تو ویسے بھی تمہارے ساتھ نہیں ہو سکتی. کیوں مجھے خارش ہے؟ میری رگ مزاح پھڑک اٹھی. پھر ہنستے ہوئے اس نے بتایا کہ ہمارے خاندان والے برادری سے باہر شادی نہیں کرتے. تو کیا تمھارے خاندان والے برادری سے باہر محبت کر لیتے ہیں؟ وہ چپ رہا، کیا جواب دیتا. خیر میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں، تم بہت اچھی لڑکی ہو، اگر تم میری محبت میں گرفتار ہو جاتیں تو میری نظروں میں اپنی اہمیت کھو دیتیں، اور ہم لڑکے واقعی ایسی لڑکیوں سے محبت تو خوب کرتے ہیں پر شادی نہیں. اب کے حیران ہونے کی باری میری تھی. میری پلاننگ کامیاب ہوئی تھی. وہ سچ مان رہا تھا. پر میں اس کی دوسری چال بھی سمجھ گئی. مرد کو بسس سیٹیسفیکشن چاہیے ہوتی ہے، چاہے ذہنی ہو یا جسمانی، جب اُسے یقین ہو گیا کہ میں واقعی ہاتھ آنے والی نہیں تو اُس نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا. وہ میرے ساتھ باتوں سے ذہنی تسکین چاہتا تھا، وقت اچھا گزارنا چاہتا تھا. اچھا دوستی کر کے کیا کریں گے؟ اچھے دوست کیسے ہوتے ہیں؟ میں نے اس سے پوچھا. ہم اپنی ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کیا کریں گے، میں آپ کو گفٹ دیا کروں گا، اکھٹے شاپنگ پر جائیں گے، خوب گھومیں پھریں گے، کھابے اڑائیں گے، دکھ سکھ کے ساتھی، بالکل اچھے دوست بنیں گے ہمیشہ ساتھ رہنے والے. محبت کی جگہ اب دوستی کا لفظ آ گیا تھا مگر ترجیحات اور مقاصد و معاملات وہی تھے. ایک لڑکا لڑکی کبھی دوست نہیں ہو سکتے، ہاں کلاس فیلو ہو سکتے ہیں، جب سٹڈی ختم ہوئی رابطہ ختم. لیکن دوستی تو وہ ہوتی جو مستقل رہے.محبت تم نہیں کرتی، دوستی پر تمھیں اعتراض ہے. اچھا منہ بولی بہن بن جاؤ. میں اتنی اچھی لڑکی کھونا نہیں چاہتا. میں بھی اتنی اچھی لڑکی گنوانا نہیں چاہتی. میں نے دل میں سوچا. یہ اس کا آخری حربہ تھا محبت اور دوستی میں دال نہ گلی تو منہ بولی بہن.. اچھا بھائی بہن بن کر کیا ہوگا؟ میں نے پوچھا دونوں ساتھ وقت گزارا کریں گے، اپنی ہر بات بتایا کریں گے، صبح صبح اکٹھے سیر کو جایا کریں گے، جاگنگ کریں گے، ٹینیس کھیلیں گے، بہت خوش رہیں گے دونوں. یہ زندگی بورننگ نہیں لگتی تمھیں جو گزار رہی ہو، تھوڑا سا بدلو تم خود کو. دیکھنا کتنی خوشیاں ملتی ہیں، سچی بھائی بہن والا رشتہ ہوگا، کوئی نقصان نہیں… اور اس دوران تم بہن لفظ کا سہارا لے کر مجھ سے اپنی ذہنی تسکین حاصل کرتے رہو، نظروں سے ہی میرے چہرے کو چھوتے رہو، ٹینس کھیلتے ہوئے میرے بدن کے اتار چڑھاؤ کو للچائی نگاہوں سے دیکھتے رہو، تمھارا وقت رنگین ہو جائے گا. میں خاموش نظروں سے کہہ رہی تھی، وہ کن اکھیوں سے دیکھتا ہوا جواب کا منتظر تھا.. سوری میری خوشیاں، کھابے، سیر، جاگنگ، زندگی کے رنگ، ٹویسٹ، قہقہے، دکھ سکھ کسی غیر مرد کے محتاج نہیں. میں اپنے پاپا کے ساتھ سیر کو جاتی ہوں. باپ کی شفقت بھری گفتگو بہت لطف دیتی ہے. میری ماں میری سب سے اچھی دوست ہے، میرے دکھ سکھ کی ساتھی ہے. میری سکھیاں کھابے اُڑانے میں لاجواب ہیں، اُن کے ساتھ میرا وقت بہت اچھا گزرتا ہے. میرے ٹیچرز میرے رہنما ہیں. اپنے بھائی کے ساتھ میں گھنٹوں باتیں کرتی ہوں، معصوم شرارتیں دو منٹ میں ناراض دو منٹ میں راضی، ایک دوسرے کے بنا ذرا وقت نہیں گزرتا، اس کے پیچھے بائیک پر بیٹھے ہوئے میں آزاد فیل کرتی ہوں، اس کے ساتھ شاپنگ کا جواب نہیں. میں بہت خوش ہوں. ایک نیا رشتہ بنا کر میں ان سب رشتوں کی مٹھاس نہیں کھونا چاہتی.. پتہ نہیں لڑکیوں کی حسین زندگی غیر مردوں سے ہی کیوں جڑی ہوتی ہے؟ خوبصورت خوابوں کے چکر میں عمر بھر کے لیے آنکھیں زخمی کروا لیتی ہیں. اتنا کہہ کر میں چلی آئی. اس کا ری ایکشن کیسا تھا؟ میں نے دیکھا نہیں، لیکن اسے ایک سبق ضرور مل گیا تھا. میں نے گھر آ کر سجدہ شکر ادا کیا اور آنکھ اشکبار ہو گئی. میرے اللہ تو مجھےایسے ہی ثابت قدم رکھنا، اس عہد کی پیداوار ہو کر بھی میرے قدم ذرا نہ ڈگمگائیں.
  5. کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے عجب کمال ہے اُس بے وفا کے لہجے میں "افتخار عارف" کوئی تو پھول کھلائے دُعا کے لہجے میں عجب طرح کی گھُٹن ہے ہوا کے لہجے میں یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں نہ جانے خلقِ خدا کون سے عذاب میں ہے ہوائیں چیخ پڑیں التجا کے لہجے میں کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے عجب کمال ہے اُس بے وفا کے لہجے میں یہی ہے مصلحتِ جبرِ احتیاط تو پھر ہم اپنا حال کہیں گے چھُپا کے لہجے میں
  6. سچ تو یہ ہے کہ جو اللہ کو واقعی اپنا آپ سونپ دے، اللہ کیسے اسے چھوڑ سکتا ہے؟؟؟ اللہ تو انکو بھی نہیں چھوڑتا جو اس سے دور بھاگتے پھرتے ہیں- بہانے دے دے کر انہیں بلاتا ہے- پھر جو سچ مچ سچے دل، روح، جسم و جان سے اپنا آپ سونپ دے تو اسے تو اللہ اور، اور، اور محبت سے تھام لیتا ہے، کیونکہ ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ پاک فرماتے ہیں کہ: "میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں- اور جب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہہ- اور جب وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو اسے اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں یاد کرتا ہوں- اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں- اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر جاتا ہوں-" (بخاری و مسلم) سو اللہ ہم سے دور نہیں، ہم اللہ سے دور ہیں- یہ ہم ہیں جو اپنی ناشکری، بے صبری، جلد بازی، نفس و انا کے حجابات کے دروں اللہ سے غافل ہیں، اللہ تو ہم سے قطعی غافل نہیں- اللہ پاک ہمیں توفیق دیں کہ ہم اسکی رحمتوں، اسکی محبتوں کو اپنی زندگی میں محسوس کر سکیں اور اسکے لئے اسکا شکر گزار ہو سکیں- اللھم آمین!
  7. ﺍﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ! ﺟﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﭽﮭﮍﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺕ ﮨﻮ، ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﺧﻮﺍﮦ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﻮ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺑﮭﺮ ﮨﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺮ ﮨﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ?? Ana....
  8. اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا جانے کیوں آج تیرے نام پہ رونا آیا یوں تو ہر شام اُمیدوں میں گزر جاتی ہے آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا کبھی تقدیر کا ماتم، کبھی دنیا کا گِلہ منزلِ عشق میں ہر گام پہ رونا آیا مُجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلہ نوحہ گری اِس قدر گردشِ ایام پہ رونا آیا جب ہُوا ذکر زمانے میں مسرت کا شکیل مُجھ کو اپنے دلِ ناکام پہ رونا آیا
  9. کون کہتا ہے محبت کی زباں ہوتی ہے یہ حقیقت تو نگاہوں سے بیاں ہوتی ہے وہ نہ آئیں تو ستاتی ہے خلش سی دل کو وہ جو آئیں تو خلش اور جواں ہوتی ہے رہروِ راہِ محبت کی بلا یہ جانے دن گزرتا ہے کہاں، رات کہاں ہوتی ہے گلشنِ زیست میں آتی ہے ایک ایسی بھی بہار پنکھڑی پھول کی جب نوکِ سناں ہوتی ہے روح کو شاد کرے دل کو جو پُر نور کرے ہر نظارے میں یہ تنویر کہاں ہوتی ہے حسنِ خودبیں نہ برا مان کہ یہ وحشتِ عشق بے نیازِ ہوسِ سود و زیاں ہوتی ہ
  10. یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے بچھڑ کے مجھ سے کبھی تونے یہ بھی سوچا ہے کہ ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختم وصل کا لمحہ ہے ، رائگاں نہ سمجھ کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے کچھ اور دیر نہ جھڑنا اداسیوں کے شجر کسے خبر کہ ترے سائے میں کون بیٹھا ہے یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے میں کس طرح تجھے دیکھوں ، نظر جھجکتی ہے ترا بدن ہے یہ کہ آئینوں کا دریا ہے ؟ میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہوا سا رہتا ہوں کبھی کبھی تونے مجھے ٹھیک سمجھا ہے مجھے خبر ہے کہ کیا ہے جدائیوں کا عذاب میں نے شاخ سے گل کو بچھڑتے دیکھا ہے میں مسکرا بھی پڑا ہوں تو کیوں خفا ہیں لوگ کہ پھول ٹوٹی ہوئی قبر پر بھی کھلتا ہے اسے گنوا کہ میں زندہ ہوں اس طرح محسن کہ جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتا ہے محسن نقوی
  11. یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو بدن مرا سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں برہنہ شہر میں ‌کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے وہ میرا دوست ہے سارے جہاں‌کو ہے معلوم دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے میں اپنی ذات میں نیلام ہو رہا ہوں قتیل .....غمِ حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے
  12. محبت

    ﺟﻮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭼﮭﯽ ﮨﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﭽﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺑﺲ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺍﺩﺍ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑِ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻋﻤﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﻗﻮﻓﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺫﺭﺍ ﺳﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﺴﻨﺪ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﻮ ﮨﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﻓﯿﺼﻠﻮﮞ ﭘﮧ ﮨﻢ ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﺮ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑِ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻭﻗﺖ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﺩﯾﮟ ﺻﺮﻑ ﻭﻗﺖ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﭽﺎﺋﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﺮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﯽ ﺭﮬﻨﮯ ﺩﯾﮟ . ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﺌﯿﮯ ... ﺟﻦ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯ ﻣﻨﻊ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮐﺎﻡ ﺍﻋﻼﻧﯿﮧ ﮐﺌﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻧﺠﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﻄﺎﺋﯿﮟ .. ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺝ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﭼﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﭩﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ .
  13. شاخِ مِژگانِ محبّت پہ سجا لے مجھ کو برگِ آوارہ ہُوں، صرصر سے بچا لے مجھ کو رات بھر چاند کی ٹھنڈک میں سُلگتا ہے بدن کوئی تنہائی کے دَوزخ سے نکِالے مجھ کو مَیں تِری آنکھ سے ڈھلکا ہُوا اِک آنسو ہُوں تو اگر چاہے، بِکھرنے سے بچا لے مجھ کو شب غنیمت تھی ، کہ یہ زخم نظارہ تو نہ تھا ڈس گئے صُبحِ تمنّا کے اُجالے مجھ کو میں مُنقّش ہُوں تِری رُوح کی دِیواروں پر تو مِٹا سکتا نہیں بُھولنے والے مجھ کو تہہ بہ تہہ موج ِ طلب کھینچ رہی ہے، مُحسنؔ کوئی گرداب ِ تمنّا سے نِکالے مجھ کو محسن نقوی
  14. ﻣﺤﺒﺖ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﮧ ﻋﻤﺮ ﺑﻬﺮ ﭼﻠﺘﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺗﻬﮏ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺭُﮎ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﺭﺯﻭ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻻ ﮐﺮ ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﻬﯽ ﺳﮯ ۔۔۔۔۔۔ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻤﻬﯽ ﮐﻮ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﭘﮩﺮﻭﮞ ﺗﻤﻬﺎﺭﯼ ﺟُﺴﺘﺠﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺯﺧﻢ ﺑﻬﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺭﻓﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮑﻮﮦ، ﮔِﻠﮧ ﮨﻮ ﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ۔۔۔۔۔۔ ﺭُﻭ ﺑﺮُﻭ ﮐﺮﺗﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﮧ ﻋﻤﺮ ﺑﻬﺮ ﭼﻠﺘﮯ
  15. ﯾُﻮﮞ ﺣﺴﺮﺗﻮﮞ ﮐﮯ .______ ﺩﺍﻍ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻮ ﻟﯿﮯ ﺧُﻮﺩ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ________ . ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻟﯿﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺗﮭﮯ ﮨﻢ ﺗﻮ ____ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻏﻢ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ________ ﺗﮭﮯ ﻭﮨﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮ ﻟﯿﮯ ﻣُﺮﺟﮭﺎ ﭼُﮑﺎ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ,____ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺩﻝ ﭘُﮭﻮﻝ ﮨﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ _______ ﺍﺳﮯ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﻟﯿﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯽ ,________ ﭼﮑﮯ ﺗﻮ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﭼُﭗ ﺳﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﮕﯽ ,,___ ﮨﮯ ﺍَﺟﯽ ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﯿﮯ
  16. میری محبت کے دونوں عالم تمام روشن ، تمام محکم , میں یاد کرنا بھی جانتا ہوں میں یاد انا بھی جانتا ہوں , نظر نظر میں ہے کامرانی قدم قدم پہ پے کامیابی , مگر کوئ مسکرا کے دیکھے تو ہار جانا بھی جانتا ہوں , مجھے سمندر کے پانیوں میں کسی کی خاطر تو ڈوبنا ہے , اگرچہ لہروں کے درمیان سے میں پار جانا بھی جانتا یوں
  17. کسی پیاسے کو اپنے حصّے کا پانی پلانا بھی مُحبت ہے بھنور میں ڈوبتے کو ساحلوں تک لے کے جانا بھی مُحبت ہے کسی کے واسطے ننھی سی قُربانی مُحبت ہے کہیں ہم، راز سارے کھول سکتے ہوں مگر پھر بھی کسی کی بے بسی کو دیکھ کر خاموش رہ جانا مُحبت ہے ہو دل میں دَرد، ویرانی مگر پھر بھی کسی کے واسطے جبرًا ہی ہونٹوں پر ہنسی لانا زبردستی ہی مُسکانا مُحبت ہے کہیں بارش میں سہمے، بھیگتے بلی کے بچے کو ذرا سی دیر کو گھر لے کے آنا بھی مُحبت ہے کوئی چڑیا جو کمرے میں بھٹکتی آن نکلی ہو تو اس چڑیا کو پنکھے بند کرکے راستہ باہر کا دِکھلانا مُحبت ہے کسی کے زخم سہلانا کسی روتے ہوئے کے دل کو بہلانا مُحبت ہے کہ میٹھا بول، میٹھی بات، میٹھے لفظ، سب کیا ہے؟ مُحبت ہے مُحبت ایک ہی--- بس ایک ہی انسان کی خاطر مگن رہنا ہمہ وقت اُس کی باتوں ، خُوشبوؤں میں ڈولنا کب ہے مُحبت صرف اُس کی زُلف کے بل کھولنا کب ہے مُحبت کے ہزاروں رنگ لاکھوں استعارے ہیں کسی بھی رنگ میں ہو یہ مجھے اپنا بناتی ہے یہ میرے دل کو بھاتی ہے---
  18. غیروں کو بَھلا سمجھے اور مجھ کو بُرا جانا سمجھے بھی تو کیا سمجھے، جانا بھی تو کیا جانا اِک عُمر کے دُکھ پائے، سوتے ہیں فراغت سے اے غلغلۂ محشر! ہم کو نہ جگا جانا مانگُوں تو سہی بوسہ، پر کیا ہے علاج اِس کا یاں ہونٹ کا ہل جانا، واں با ت کا پا جانا گو عُمر بسر اِس کی تحقیق میں کی ،تو بھی ماہیّتِ اصلی کو، اپنی نہ ذرا جانا کیا یار کی بد خُوئی، کیا غیر کی بد خواہی سرمایۂ صد آفت ، ہے دل ہی کا آ جانا کُچھ ،عرضِ تمنّا میں، شِکوہ نہ سِتم کا تھا میں نے تو کہا کیا تھا، اور آپ نے کیا جانا اِک شب نہ اُسے لائے ، کچھ رنگ نہ دِکھلائے اِک شورِ قیامت ہی نالوں نے اُٹھا جانا چِلمن کا اُلٹ جانا، ظاہر کا بہانہ ہے اُن کو تو بہر صُورت ، اِک جلوہ دِکھا جانا ہے حق، بطرف اِس کے، چاہے سَو سِتم کر لو اُس نے دِلِ عاشِق کو مجبُورِ وفا جانا انجام ہُوا اپنا ، آغازِ محبّت میں اِس شُغل کو جاں فرسا ایسا تو نہ تھا جانا مجرؔوح ہُوئے مائل کِس آفتِ دَوراں پر اے حضرتِ من!تم نے، دل بھی نہ لگا جانا میر مہدی مُجروحؔ
×